بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سوشل میڈیا نسل ِجدید کے بگاڑ کا سبب

سوشل میڈیا نسل ِجدید کے بگاڑ کا سبب

مولانا نثار احمد حصیر القاسمی

موجودہ تیز رفتار سائنسی ترقی اورجدیدٹیکنالوجی نے بے شمار جدید آلات کو جنم دیا اورحیران کن مشینریز کو معرض وجود میں لایاہے، جن کا تعلق انسانی زندگی کے کسی ایک شعبہ سے نہیں، بلکہ ہرشعبہ اورہرمیدان سے ہے۔ایسے ہی آلات میں سے ایک سماجی رابطے کے وسائل ہیں۔یہ وسائل انسان کو جوڑنے اورمربوط کرنے میں اہم رول ادا کررہے ہیں اورمعلومات کے خزانے پیش کررہے ہیں۔ چھوٹے بڑے آج اس سے استفادہ کررہے ہیں اوراس میں منہمک نظر آتے ہیں۔ ہرطرح کے لوگوں کی دلچسپی کا سامان یہاں موجود ہے، اس کا استعمال بڑے اورچھوٹے ہرکوئی کر رہا ہے بلکہ چھوٹے زیادہ کررہے ہیں، یہاں تک کہ بے شعور نادان بچے، جو ابھی شیر خواری کے مرحلے میں ہوتے ہیں، وہ بھی نہ صرف اسے استعمال کررہے ہیں، بلکہ اس میں انہماک رکھتے اوراس سے جڑے رہتے ہیں۔اس کی الفت ومحبت میں چھوٹے بڑے، بوڑھے جوان، عورت مرد، امیرو غریب، عالم وجاہل، لیڈر وعوام میں فرق نہیں ،ہرکوئی اپنی اپنی دلچسپی کے مطابق اسے استعمال کررہاہے۔یہ وسائل آج ساری دنیا میں پھیل گئے ہیں۔

اس نے جغرافیائی سرحدوں کو توڑدیا اورساری دنیا کو ایک بستی میں تبدیل کردیاہے۔ ہفتوں میں نہیں، بلکہ سکنڈوں میں لوگ مشرق ومغرب سے رابطہ کرلیتے اوراپنی بات دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچادیتے ہیں۔ اس میں ہردن ترقی بھی ہورہی ہے اور اس میدان میں سرگرم عمل ہزارہا سائٹس ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کررہی اوربہترسے بہتر خدمات پیش کرنے کی سعی کرہیں، تاکہ دوسروں کی بنسبت انہیں زیادہ شہرت حاصل ہو اورانہیں استعمال کرنے والوں کی تعداد میں روزافزوں اضافہ ہو۔ ان وسائل کے مثبت پہلو بھی ہیں اورمنفی بھی۔ اس سے جہاں علم ومعرفت کے دروازے کھلے اورمعلومات کا حصول آسان ہواہے، اسی طرح اس نے عریانیت وبے حیائی کا دروازہ بھی کھولا اوراباحت پسندی کو ہوا دیہے۔ آج بدکاریوں، جرائم اوراس جیسی منفی باتوں میں جو بے تحاشہ اضافہ ہواہے، اسی کی مرہون منت ہے۔دوسری طرف بعض لوگ اس کے ذریعہ بحث وتحقیق کے میدان میں استفادہ کررہے ہیں۔آج دنیا کے سارے کاروبار اسی سے جڑے ہوئے ہیں، دنیا کے سارے نظام کا انحصار اسی پر ہے۔

ان حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین اپنے معصوم بچوں اوربچیوں کو، اپنے شیرخواروں اورنوجوانوں کو اس کے مفید ومضراثرات سے آگاہ کریں۔ ان کی صحیح تربیت کریں، انہیں اسلامی تعلیمات سے آگاہ وروشناس کریں۔ صحیح تربیت اورمتوازن راہ نمائی کے اصول کا بنیادی مقصد انسان کو نیک وصالح بنانااورایسا مثالی فرد بشر تیار کرناہے جو اپنے پیغام اورمقصدِ تخلیق کو پورے طور پر روبعمل لاسکے۔ اسے اپنے نفس پر مکمل کنٹرول حاصل ہو اوروہ اپنے تصرفات اورنقل وحرکت کو صحیح راستے پر گام زن رکھے۔ وہ اخلاقی اقدار کا احترام کرے اوردوسروں کے لیے اسوہ ونمونہ بنے۔ وہ جس مقصد کے لیے جی رہایااس کی زندگی کا جو مقصد ہے وہ اس کی سچی تصویر ہو، اس کے اعمال اورحرکات اسی مقصد کی روشنی میں ہوں، ہمارے اسلاف اورصحابہ کرام  کا اسوہ ہمارے سامنے ہے۔ زلیخا نے جب حضرت یوسف علیہ السلام کو اپنے دامنِ فریب میں پھانسنا چاہا، اورسارے دروازے بند کرکے انہیں دعوت گناہ دی تو وہ اپنے مقصد سے نہیں ہٹے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کی عکاسی یوں کی ہے: اس عورت نے، جس کے گھر میں یوسف تھے، بہلاناپھسلانا شروع کیا کہ وہ اپنے نفس کی نگرانی چھوڑدے اوردروازے بند کرکے کہنے لگی:لو آجاؤ، یوسف نے کہا: اللہ کی پناہ،وہ میرا رب ہے اس نے مجھے بہت اچھی طرح رکھا ہے، بے انصافی کرنے والوں کا بھلا نہیں ہوتا۔اس عورت نے یوسف کا ارادہ کیا اوریوسف نے بھی ارادہ کیا اگر اپنے پروردگار کی دلیل نہ دیکھتے( تو گناہ میں مبتلاہوسکتے تھے)۔ (یوسف 24,23) وہ انسان تھے، مگر خوف الٰہی غالب تھا، اس لیے انہوں نے نفس کو قابو میں رکھا۔نفس پر جسے کنٹرول حاصل ہوتا ہے وہ دوسروں کے دامنِ فریب میں مبتلا نہیں ہوتا، وہ دنیوی لالچوں میں نہیں پڑتا، نہ مال ودولت اس کے قدم میں ارتعاش پیدا کرتاہے، نہ بھری جوانی رکھنے والی دوشیزگان کا حسن وجمال اور دنیا کی رعنائیاں اس کے عزم وثبات کو متزلزل کرتی ہیں۔ ہمارے دشمنان اسلام کے پاس بہت سے سامان ہیں جسے وہ تیار کرتے اورہمارے کمزور نفس مسلمانوں کے سامنے پیش کرتے اورہمارے ملکوں میں بھیجتے ہیں، جس کا مقصد ہمارے اخلاق کو سلب کرنا، ہمارے اقدار کو تباہ کرنا، ہماری ایمان پر ڈاکے ڈالنا، ہماری روح کو برباد کرنا اورہمارے ایمانی وجود کو بے جان کرکے تڑپتی لاشوں میں تبدیل کرنا، ہمارے تشخص پر سیاہی پھیرنا، اپنے اصل سرمائے سے تہی دست کرنا، اورپوری امت مسلمہ کو ذلت خواری میں مبتلاکرنا، ہمارے نوجوانوں کو مدہوش ومخمور کرنا، ہمارے بچوں کو لہوولعب، بے حیائی، بے راہ روی کا خوگر بناکر تعلیم اورتحقیق و جستجو سے دورکرنا اور غفلت میں پڑے رہنے کا عادی بنانا، ہماری دینی غیرت وحمیت پر پانی پھیرنا، ہمارے عقیدے کو بگاڑنا اورنونہالانِ اسلام کو اپنے سانچے میں ڈھالناہے۔
وہ اپنے اس مقصد میں صد فیصد کا م یاب ہیں۔ہم اپنے ملک، اپنے شہر اوراپنی گلی کوچوں میں اس کا مشاہدہ کررہے ہیں۔ہمارے نوجوان بچے بچیاں دشمنان اسلام کی نقالی نہ صرف کررہے ہیں بلکہ اس پر فخر کررہے ہیں۔وہ زندگی کے ہرشعبہ میں ان کے نقش قدم پر چل رہے ہیں۔ہمارے نوجوان تعلیم وثقافت اوردین وایمان سے رشتہ توڑ کر آوارگی میں مبتلا ہورہے ہیں، ان میں بے راہ روی عادتِ ثانیہ بن گئی ہے، ان کے اندر سے باہمی میل جول، رشتہ داروں اورعزیزوں سے ملنا جلنا بند ہوگیا، صلہ رحمی کا فقدان ہو چکاہے۔کوئی اپنے عزیزواقارب سے اب ملنا پسند نہیں کرتا کہ جو بھی فرصت کا وقت میسر آتا ہے اسے انہی وسائل کے استعمال میں صرف کرتا ہے اوراسی میں مگن رہتا ہے۔ بہت سے نوجوان تو ایسے ہیں کہ ان میں حرام کے اندر بے باکی وجرأت پیدا ہوگئی ہے اوروہ کھلے عام محرماتِ شرعیہ کے ارتکاب میں کوئی عار وحجاب محسوس نہیں کرتے۔

وہ دین داروں اورشرعی حدود کی پاس داری کرنے والوں کا مذاق اڑاتے، شرعی قوانین اوراسلامی تعلیمات پر آوازیں کستے اوربہت سے فرائض ومحرمات کا انکار کرکے یااسے اپنے لیے جائز سمجھ کر کفر تک کا ارتکاب کررہے ہیں۔ اپنے دین وایمان کو بیچ کر غیر مسلموں سے معاشقہ کرتے، ان سے شادی کرتے اوراسے اپنے لیے مباح وحلال سمجھتے اوراسلامی تعلیمات کو فرسودہ گردانتے ہیں۔ اعداءِ اسلام کی یلغار ہمارے کسی ایک شعبہ زندگی اورکسی ایک میدان میں نہیں، بلکہ ہر میدان میں ہے۔ عقیدہ وتعلیم سے لے کر سیاست ومعیشت سب ان کی یلغار کا شکار ہیں اورہم اسے خوشی خوشی گلے لگارہے اوراس پر شاداں وفرحاں ہیں۔

آج سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے اورپوری امتِ مسلمہ کا اولین فریضہ ہے کہ وہ گلے میں پڑے اس غلامی کے طوق کو اتار پھینکیں، اپنے ہاتھ وپاؤں کی بیڑیوں کو کاٹیں اوراس سے خود بھی آزادی حاصل کریں اوراپنے بچوں اوردیگر مسلمان بچوں کو بھی اس سے آزادی دلائیں۔ہمارا دین ومذہب ایک آفاقی مذہب ہے۔ اس کی تعلیمات انسانی زندگی کے تمام شعبوں میں راہ نمائی کرتی ہیں۔ زندگی کا کوئی ایسا گوشہ اورموڑ نہیں جہاں اسلامی تعلیمات موجود نہ ہوں۔ہمارا مذہب تعلیمات اورآداب واقدار سے زرخیز ہے۔ ان تعلیمات اورآداب واخلاق کے سہارے ہم بلندی حاصل کرسکتے ہیں۔ اس کے ذریعہ ہم علوم وفنون میں بھی بلندی حاصل کرسکتے ہیں اوردنیوی سارے میدانوں میں بھی، ہمیں انہی اسلامی تعلیمات کے ذریعہ کمال حاصل ہوسکتا ہے اوراسی کے ذریعہ ہمیں اس دنیا میں بھی سرخروئی حاصل ہوسکتی ہے اورآخرت میں بھی۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اوریہ کہ یہ دین ہی میرا راستہ ہے، جو بالکل سیدھا ہے، تو اسی راہ پر چلو اوردوسری راہوں پر مت چلو کہ وہ راہیں تم کو اللہ کی راہ سے جدا کردیں گی۔(الانعام 153)۔

مسلمانوں کے اخلاق قرآن مجید ہونا چاہیے، جیساکہ رسول اللہ کا اورآپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا تھا۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ کے اخلاق کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا:کان خلقہ القرآن․ آپ کے اخلاق سراپا قرآن تھے۔مسلمانوں کا سلوک، طرز زندگی، طریقہ کار اوراندازتعامل اسلام ہونا چاہے ،جس میں اسلام کی عکاسی ہوتی ہو، ان کی شریعت اوران کے احکام اللہ کی کتاب ہونی چاہیے، جسے ہم اپنی پوری زندگی میں نافذ کریں، ہماری زندگی دشمنان اسلام اورتمام غیرقوموں ومذہبوں کی زندگیوں سے ممتاز ہونی چاہیے، ہمارے ظاہر وباطن پر اسلام کی علامتیں، تقویٰ کی نشانیاں، مسلمانوں کی صفات ظاہر ونمایاں ہونی چاہییں۔

ہم قرآن اورقرآنی آداب وتعلیمات پر فخر کرنیوالے ہوں، ہمارا نمونہ واسوہ رسول اللہ اورآپ کے اصحاب ہونے چاہییں، جنہوں نے علم کی روشنی پھیلانے میں کوئی کسر باقی نہ رکھی اورساری دنیا کو علم ومعرفت کے نور سے منور کیا ،یہاں تک کہ ساری تہذیبیں اسلام کی دست نگر ہوگئیں۔ انہوں نے آداب واخلاق، تہذیب وثقافت، علم وہنر، تحقیق وجستجو کا گُر اسلام سے اپنایا اوراس میں لگے رہے، اورآج ہم اس سے دست کش ہوکر ذلیل وخوار ہوگئے ہیں۔ ہم اسلامی تعلیمات اوراس کے اخلاق وادآب سے اگر مسلح ہوں گے توہم ہر طرح کے منفی طرز زندگی اوراسلامی اقدار اوراس کی تعلیمات کے منافی باتوں کا مقابلہ کرسکیں گے، ورنہ ہم ان کے لائے ہوئے سیل رواں میں بہہ جائیں گے اورہمارا کوئی پرسان حال نہ ہوگا۔ہم اگر علم کی دولت سے آراستہ، قرآنی تعلیمات سے آشنا اورسنت نبوی سے راہ نمائی حاصل کرنے والے ہوں گے تو ہم قوم وسماج اورملک وملت کے لیے مفید وکارآمد اورفعال عنصر ہوں گے، مسلمان کی اصل شخصیت اگر محفوظ رہتی ہے، اس کا روحانی وفکری منبع وسرچشمہ صاف رہتااورغلاظتوں سے آلودہ وگدلا نہیں ہوتا، ہم اگر اپنی زندگی میں دین حنیف کو مضبوطی سے تھامے رہتے ہیں، اس کے اونچے اقدار واخلاق کو تھامے رہتے اورامت مسلمہ کے وجود میں اس کو راسخ کرتے ہیں تو اُمت مسلمہ کا وہ تشخص باقی رہے گا اوروہ مقصد برآئے گا جس کے لیے اس امت کو لایاگیاہے، پھر یہ امت خیر امت ثابت ہونے میں کام یاب ہوگی، جیساکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایاہے:تم بہترین امت ہو جو لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہو کہ تم نیک باتوں کا حکم کرتے ہو اوربری باتوں سے روکتے ہو اور اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہو۔(آل عمران 110)۔

اس طرح ہم اپنے سماج کو ترقی کی راہ پر گام زن کرسکتے ہیں، لوگوں کو تعمیر، صلاح، سچائی اورترقی وخوش حالی کی دعوت دے سکتے ہیں، جس کے بعد اس دنیا میں ہم الفت ومحبت، بھائی چارگی، میل ملاپ اورہم آہنگی کے ساتھ جی سکتے اورجینے کا سلیقہ دوسروں کو سکھا سکتے ہیں، مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ ہم کتاب وسنت کو اپنا مشعل راہ بنائیں، اس کی تعلیمات کو اپنائیں، اس کے احکام اوراس کی شریعت کی اتباع وپیروی کریں، کیوں کہ جو شخص اپنے آپ کو طاعت کی چادر سے ڈھک لیتاہے وہ اللہ تعالیٰ کے محفوظ قلعہ میں پناہ گزیں وفروکش ہوجاتا اوراس کی ایسی روشنی واُجالے میں داخل ہوجاتاہے جس میں داخل ہونے والا ہر کوئی مامون ومحفوظ ہوجاتاہے۔ آج ضرو رت اس بات کی ہے کہ والدین اورہرفرد ِمسلم جن پر چھوٹوں کی تربیت ونگرانی کی ذمہ داری ہے وہ ان جدید آلات کے مفاسد سے اپنے ماتحتوں کو آگاہ کریں، ان پر عقابی نگاہ رکھیں اورانہیں اسلام کی تعلیمات اوردینی معلومات سے آراستہ کریں کہ یہی انہیں راہ سے بھٹکنے اوردوسروں کے دامِ فریب میں پھنسنے سے روکنے والی چیزہے۔