بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سود کی مذمت وممانعت

سود کی مذمت وممانعت

مولانا محمد احمد حافظ

﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَأْکُلُواْ الرِّبَا أَضْعَافاً مُّضَاعَفَةً وَاتَّقُواْ اللّہَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ، وَاتَّقُواْ النَّارَ الَّتِیْ أُعِدَّتْ لِلْکَافِرِیْنَ﴾․ (آل عمران:131-130)
ترجمہ:”اے ایمان والو!کئی گنا بڑھا چڑھا کر سود مت کھاؤ اور الله سے ڈرو،تا کہ تمہیں فلاح حاصل ہو اور اس آگ سے ڈرو، جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔“
تحقیق لغات
﴿لاَ تَأْکُلُوا﴾… الأکل… کھانا تناول کرنے کے معنیٰ میں ہے ، جیسے کہا جاتا ہے:﴿أکلت النارُ الحطبَ﴾ یعنی آگ نے ایندھن کو جلا ڈالا۔
الرِّبَا… راس المال پر جو بڑھوتری لی جائے وہ ربوٰ کہلاتی ہے۔
﴿أَضْعَافاً مُّضَاعَفَةً﴾ کے معنی ہیں کسی چیز کو دو چند کر دینا۔ کفار عرب میں ڈبل سود یعنی سود مرکب یا سود درسود لینے کا رواج موجود تھا اور یہ سود کی بدترین صورت ہے، اس لیے یہاں ذکر کیا ہے وگرنہ سنگل سود یا سود ِ مفرد بھی اسی طرح حرام ہے جس طرح سود ِ مرکب !
﴿ وَاتَّقُوا﴾… تقویٰ… اس کے اصل معنیٰ نفس کو ہر اس چیز سے بچانے کے ہیں جس سے گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو، کبھی لفظ تقویٰ اور خوف ایک دوسرے کے معنی میں بھی بولا جاتا ہے۔
خلاصہ تفسیر
سابقہ آیات میں غزوہ بدر اور غزوہ احد کا ذکر چل رہا تھا۔ امام رازی رحمہ الله آیت مذکور کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ جنگ احد کے موقع پر مکہ کے مشرکین نے سود پر قرضے لے کر جنگ کی تیاری کی تھی، اس لیے کسی مسلمان کے دل میں بھی یہ خیال ہو سکتا تھا کہ مسلمان بھی جنگ کی تیاری میں یہی طریقہ اختیارکریں۔ اس آیت میں انہیں خبر دار کر دیا گیا کہ سود پر قرض لینا حرام ہے۔ یہاں سود کو کئی گناہ، بڑھا کر کھانے کا جو ذکر ہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ کم شرح پر سود کی اجازت ہے، بلکہ اس وقت چوں کہ سودی قرضوں میں بہ کثرت یہی ہوتا تھا (اور اب بھی ایسا ہوتا ہے ) کہ سود اصل سے کئی گناہ بڑھ جاتا تھا ،اس لیے ایک واقعے کے طور پر یہ بات بیان کی گئی ۔ (توضیح القرآن)
جاہلی زمانے کا دستور
جاہلیت عرب میں سود خوری کا عام طور پر طریقہ یہ تھا کہ ایک خاص میعاد معین کے لیے اُدھار سود دیاجاتا تھا اور جب وہ میعاد آجاتی اورقرض دار اس کی ادائیگی پر قادر نہ ہو پاتا تو اس کو مزید مہلت اس شرط پر د ی جاتی تھی کہ سود کی مقدار بڑھا دی جائے، اسی طرح اگر دوسر ی معیاد پر بھی قرض کی ادائیگی نہ ہوتی تو سود کی مقدار مزید بڑھا دی جاتی۔ اس لیے آیت میں ﴿ أَضْعَافاً مُّضَاعَفَةً﴾ فرما کر اس دور کے مروجہ دستو رکی مذمت فرمائی۔ (معارف القرآن)
سود کے مروجہ طریقوں پر غو رکیا جائے تو یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ جب سود خوری کی عادت پڑ جائے پھر وہ سود تنہا سود نہیں رہتا ،بلکہ ﴿أَضْعَافاً مُّضَاعَفَةً﴾( بڑھوتری سرمایہ برائے بڑھوتری) ہو جاتا ہے، کیوں کہ جو رقم سود سے حاصل ہو کر سود خور کے مال میں شامل ہوتی ہے اب اس سود کی زائد رقم بھی سود پرچلی جائے گی تو سود مضاعف ہو جائے گا اور یہی سلسلہ آگے چلا تو سود مضاعف در مضاعف ہو جائے گا۔
سود خوری انسان کو بے رحم بنا دیتی ہے
زیر درس آیات کے اسباق میں غزوہ احد کا ذکر چل رہا تھا۔ درمیان میں اچانک سود خوری کی ممانعت فرمائی، صرف ممانعت نہیں فرمائی، بلکہ تقوی اختیار کرنے او راس آگ سے بچنے کی تاکید فرمائی جو خصوصی طور پر کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ دراصل سود خوری کا گناہ ایسا خطرناک ہے جو انسان کو خالص دنیا دار بنا دیتا ہے۔ سود خوروں کے دلوں میں تقوی اور خوف خدا باقی نہیں رہتا۔ مال زیادہ ہو جانا ہی سود خور کا مطمع نظر ہوتا ہے۔ مخلوق خدا پر رحم کھانے کا جذبہ ختم ہوجاتا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب کوئی شخص کسی کو قرض دے تو قرض دار کو مہلت دے، اس کے لیے آسانی اور سہولت پیدا کرے، مگر سود خور نہ صرف یہ کہ قرض دار کو کسی قسم کی سہولت نہیں دیتا، بلکہ اپنی رقم پر پورا پورا سود وصول کرتا ہے، خواہ قرض دار فاقے کرے یا اپنا مال واسباب بیچ کر سود خور کا سود پورا کرے۔ اسی لیے فرمایا گیا کہ الله سے ڈرو اور بڑھا چڑھا کر سود مت لو، اس لیے کہ اس میں انسانیت کی بربادی ہے۔
سود انسان کو اطاعت وبندگی سے دور کرتا او ربزدلی پیدا کرتا ہے
یہاں سود خوری سے بچنے کا خصوصی ذکر اس غزوے کے ذیل میں فرمانے کا ایک مقصد اس طرف بھی اشارہ کرنا ہے کہ سود خور جہاد کا حوصلہ نہیں کرسکتا۔ وہ اپنے حرام مال کی وجہ سے دین اسلام کے عائد کردہ ایمانی تقاضے پورے کرنے سے عاجز رہتا ہے، اس لیے کہ مال حرام کی نحوست یہ ہے کہ وہ انسان کو اطاعت الہٰی سے دور کرتا ہے اور ایسے اعمال میں لگا دیتا ہے جو شیطان کو خوش کرنے والے ہوتے ہیں ۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے:
﴿الَّذِینَ یَأْکُلُونَ الرِّبَا لَا یَقُومُونَ إِلَّا کَمَا یَقُومُ الَّذِی یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَٰلِکَ بِأَنَّہُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبَا﴾․(سورة البقرة، آیت:275)
”جو لوگ سو دکھاتے ہیں وہ (قیامت کے دن جب ) اٹھیں گے تو اس شخص کی طرح اٹھیں گے جسے شیطان نے چھو کر پاگل بنا دیا ہو، یہ اس لیے ہو گا کہ انہوں نے کہا تھا کہ بیع بھی تو سود کی طرح ہوتی ہے۔“
حکیم الامت حضرت تھانوی کے تین اہم نکتے
﴿لَا تَأْکُلُوا الرِّبَا﴾… جنگ احد میں سود کی ممانعت کا ذکر بظاہر بے تعلق معلوم ہوتا ہے، مگر شاید یہ مناسبت ہو کہ اوپر﴿إِذْ ہَمَّت طَّآئِفَتَانِ مِنکُمْ أَن تَفْشَلا﴾(آل عمران:122) میں جہاد کے موقع پر نامردی دکھلانے کا ذکرہوا تھا اور سو دکھانے سے نامردی پیدا ہوتی ہے دوسبب سے۔
ایک یہ کہ مال حرام کھانے سے توفیق طاعت کم ہوتی ہے اور بڑی طاعت جہاد ہے۔
دوسرا یہ کہ سود لینا انتہائی بخل پر دلالت کرتا ہے، کیوں کہ سود خور چاہتا ہے کہ اپنا مال جتنا دیا تھالے لے اوربیچ میں کسی کا کام نکلا، یہ بھی مفت نہ چھوڑے، اس کا علیحدہ معاوضہ وصول کرے۔ تو جس کو مال میں اتنا بخل ہو کہ خدا کے لیے کسی کی ذرہ بھر ہم دردی نہ کر سکے وہ خدا کی راہ میں جان کب دے سکے گا؟!
ابوحیان نے لکھا ہے کہ اس وقت یہود وغیرہ سے مسلمانوں کے سودی معاملات اکثر ہوتے رہتے تھے، اس لیے ان سے قطع تعلقات کرنا مشکل تھا، چوں کہ پہلے لا تتخذوا بطانة کا حکم ہو چکا ہے۔ اور احد کے قصہ میں بھی منافقین یہود کی حرکات کو بہت دخل تھا، اس لیے متنبہ فرمایا کہ سودی لین دین ترک کرو، ورنہ اس کی وجہ سے خواہی نخواہی ان ملعونوں سے تعلقات قائم رہیں گے، جو آئندہ نقصان اٹھانے کا سبب ہوں گے۔“ (تفسیر بیان القرآن)
حضرت شیخ الہند  کا ایک لطیف نکتہ
معالم القرآن میں حضرت مولانا عبدالحمید سواتی رحمة الله علیہ اس آیت کے ضمن میں لکھتے ہیں:
”غزوہ احد میں مسلمانوں کو بڑا نقصان اٹھانا پڑا۔ خود حضور علیہ الصلوٰة والسلام کو بڑی جسمانی تکلیف اٹھانا پڑی، سر مبارک زخمی ہوا ، دانت مبارک شہید ہوا، ستر صحابہ شہید ہوگئے او ربہت سے زخمی ہوئے۔ اس واقعہ کے درمیان سود کے تذکرہ کے متعلق مولانا عبیدالله سندھی  فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنے استاد حضرت مولانا شیخ الہند سے دریافت کیا کہ حضرت!… غزوہ احد کے واقعہ کے درمیان حرمت سود کی آیت کا کیا محل ہے؟ … تو فرمایا بعض اوقات ربط آیت کو سمجھنے کے لیے بڑے تدبر کی ضرورت ہوتی ہے ، بات دراصل یہ ہے کہ غزوہ احد میں جب مسلمانوں کو شکست ہو گئی تو ان کے دلوں میں جذبہ انتقام بھڑک اٹھا، چناں چہ بعض روایات میں آتا ہے کہ مسلمانوں نے عہد کیا کہ اگر آئندہ ہم کفار پر غالب آئے تو ان سے دو ہرا انتقام لیں گے۔کافروں نے ہمارے شہداء کے ساتھ بڑی تذلیل کا کام کیا ہے، ان کے چہرے مسخ کیے، لہٰذا ہم بھی ان سے سخت انتقام لیں گے۔ اسی جذبہ انتقام کو کم کرنے کے لیے الله تعالیٰ اس آیت سود کو غزوہ احد کے واقعہ میں لائے ہیں۔ جس طرح سود انسان کا اخلاق بگاڑتا ہے اسی طرح جذبہ انتقام بھی بد اخلاقی پیدا کرتا ہے۔ لہٰذا الله تعالیٰ نے اہل ایمان کو متنبہ فرمایاکہ وہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھیں، کیوں کہ سود او رانتقام ایک ہی قبیل سے ہیں اور ان کے سبب اصل مقصد سے توجہ ہٹ جاتی ہے۔“
سود کفر تک لے جاتا ہے
﴿وَاتَّقُواْ النَّارَ الَّتِیْ أُعِدَّتْ لِلْکَافِرِیْنَ﴾… تفسیر مظہری میں حضرت قاضی ثناء الله پانی پتی رحمة الله علیہ لکھتے ہیں:
”میں کہتا ہوں ظاہر یہ ہے کہ (النار کی صفت) یعنی﴿أُعِدَّتْ لِلْکَافِرِیْنَ﴾تخصیص کے لیے ہے۔ جو آگ کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے وہ الگ ہے، جو گناہ گار مومنوں کے لیے تیار کی گئی ہے وہ الگ ہے۔ اس توضیح پر آیت میں اسی طرف اشارہ ہو گا کہ سو دکھانے سے دل میں اتنی قساوت پیدا ہو جاتی ہے جو اکثر کفر تک لے جاتی ہے۔
اس توضیح کی تائید تفسیر مدارک کی اس صراحت سے ہوتی ہے کہ حضرت امام ابوحنیفہ رحمہ الله فرماتے تھے کہ قرآن میں یہ حد سے زیادہ خوف ناک آیت ہے کہ الله تعالیٰ نے اہل ایمان کو اس آگ سے ڈرایا ہے جو کافروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ مقصد یہ ہے کہ اگر اہل ایمان بھی کافروں والے کام کریں گے، کفر، شرک، بدعت او رمعاصی میں مبتلا ہوں گے تو وہ بھی دوزخ کی آگ سے بچ نہیں سکیں گے۔
سود خور کے خلاف الله تعالیٰ کا کھلا اعلان جنگ
سود کی شناعت وقباحت معمولی نہیں ہے۔ قرآن مجید میں تو الله تعالیٰ نے صاف فرما دیا ہے کہ سود خو رکے خلاف میرا او رمیرے رسول کا کھلا اعلان جنگ ہے۔ الله تعالیٰ نے کسی گناہ پر اس قدر جلال آمیز عتاب کا اعلان نہیں فرمایا۔ ارشاد ہے:﴿یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّہَ وَذَرُوا مَا بَقِیَ مِنَ الرِّبَا إِن کُنتُم مُّؤْمِنِینَ ، فَإِن لَّمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِّنَ اللَّہِ وَرَسُولِہِ﴾ (البقرہ)
”اے ایمان والو! الله سے ڈرو اور جو بھی سود کا بقایا ہے اس کو چھوڑ دو اگر ایمان والے ہو، پھر اگر تم ایسا نہ کروگے تو اعلان سن لو جنگ کا الله اوراس کے رسول کی طرف سے۔“
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”سود خوری کے ستر حصے ہیں ان میں سے ادنیٰ او رمعمولی ایسا ہے جیسے اپنی ماں کے ساتھ زنا کرنا۔“
ایک دوسری حدیث شریف میں ہے:
حضرت جابر رضی الله عنہ نے بیان کیا کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے لعنت فرمائی سود لینے او رکھانے والے پر اور سود دینے اور کھانے والے پر اور سودی دستاویز لکھنے والے پر او راس کے گواہوں پر،آپ نے فرمایا کہ (گناہ کی شرکت میں ) سب برابر ہیں۔
حضرت ابن مسعود رضی الله عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”جس قوم میں زنا اور سو دکا ظہور ہوا اس قوم نے یقینا الله کا عذاب اپنی جانوں پر اتار لیا۔“ (مجمع الزوائد)
یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں اہل ایمان کو خصوصی تاکید کے ساتھ سود سے بچنے کی ممانعت فرمائی۔
موجودہ سودی نظام معیشت کی ہمہ گیری
اس وقت پوری دنیا میں سرمایہ دارانہ سودی معیشت کا غلبہ ہے۔ اس نظام معیشت کی زمام کار یہودی ساہوکاروں کے ہاتھوں میں ہے۔ عالمی اقتصادی نظام میں سود خون کی طرح گردش کر رہا ہے۔ یہ سودی نظام معیشت نہ صرف یہ کہ کفار کے اندر رائج ہے، بلکہ مسلم خطوں میں بھی پورے طمطراق کے ساتھ جاری وساری ہے۔ ہماے اپنے ملک میں، جو اسلام کے نام پر حاصل کیا گیا ، سودی معیشت رائج ہے۔ بینک لوگوں کے اموال جمع کرتے ہیں او رجمع شدہ اموال کو سودی قرضوں کے طو رپر بڑے بڑے سیٹھوں، سرمایہ داروں اور سودی کاکاروبار کرنے والے ساہوکاروں کو دیتے ہیں۔ حکومتیں عوام کی فلاح وبہبود کے نام پر عالمی سرمایہ دارانہ مالیاتی اداروں سے بھاری بھر کم قرضے لیتی ہیں، پھر بمع سود واپس لوٹاتی ہیں۔ قرضوں کے ساتھ دیا جانے والا سود عوام سے مختلف ظالمانہ ٹیکسوں کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔ اس طرح محض چند افراد نہیں یا چند ادارے نہیں، بلکہ بینکوں کے تمام کھاتے دار اس سودی معیشت کے چکر کا حصہ بن جاتے ہیں۔ صورت حال یہ ہے کہ عام آدمی کے لیے بھی سود کے جال سے بچنا محال ہوچکا ہے۔ اس طرح وہ حدیث ثابت ہوچکی ہے جس میں آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایک وقت ایسا آئے گا جب عام امت اس میں ملوث ہو کر رہے گی۔