بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

 سود میں پوشیدہ شرعی، اخلاقی اور معاشی خرابیاں

 سود میں پوشیدہ شرعی، اخلاقی اور معاشی خرابیاں

مولانا ندیم احمد انصاری

سود کا مطلب محض یہ نہیں کہ کسی کو روپیہ دینے کے بعد وقتِ مقررہ پر بدلے میں کچھ اضافے کے ساتھ وصول کیا جائے ،بلکہ یہ بھی سود ہے کہ آپ بغیر کسی شرط کے کچھ قرض دیں اور اس کے باعث قرض دار سے کسی قسم کی رعایت یا فائدہ حاصل کریں۔ اس کی تفصیل مقامی علماسے معلوم کرلی جائے،ہمارا مقصد صرف اس ناپاک شے کی شناعت وناپاکی کی طرف محض توجہ دلانا ہے، خصوصاً ان حضرات کو جو ذرا ذرا سی مشکل پر خود بھی اس عظیم ترین گناہ میں ملوث ہوتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کا مشورہ دیتے ہیں۔

سود صرف دینی حیثیت سے ہی برا نہیں، بلکہ اس کا اثر انسان کے اخلاق وکردار پر بھی پڑتا ہے۔ اس سے ہم دردی اور بہی خواہی جو کہ انسانیت کا جوہر ہے اور جس کی تاکید قرآن وحدیث میں بھی آئی ہے، سود اس کو مٹا کر اس کی جگہ خود غرضی اور خالص منفعت پرستی سکھاتا ہے۔ اپنے نفع کی خاطر انسان دوسروں کی عزت وآبرو ہی نہیں،بلکہ جان ومال سے بھی کھیل جاتا ہے۔ غرض یہ کہ انسانیت کا یہ عظیم جوہر اس سے بالکل چھن جاتا ہے اور اسلام سب سے زیادہ اسی جوہر کو پیدا کرنا چاہتا ہے۔ قرآن وحدیث میں دوسروں کے ساتھ ہم دردی، بھلائی اور کسی غرض اور ریا کے بغیر ان کی اعانت کی تاکید کی گئی ہے۔ سودی کاروبار معاشی حیثیت سے بھی غریبوں کے لیے انتہائی تباہ کن ہے، اس کی خرابی کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ کسی مقام پر سیلاب وغیرہ کی وجہ سے جب فصل وغیرہ تباہ ہوجاتی ہے تو سودی کاروبار کرنے و الے ایسے وقت میں بھی اس کا فائدہ اٹھاتے ہیں اور موقع پاکر زیادہ سے زیادہ غلہ جمع کرکے بعض تاجر غریبوں اور کم آمدنی والے لوگوں کو تکلیف میں مبتلا کرتے ہیں، جب کہ عام آدمی کے پاس دو وقت کا کھانا بھی نہیں میسر ہوتا۔(ماخوذ از اسلامی فقہ)

عربی میں سود کو ربااور انگریزی میں Interestکہتے ہیں۔ جس کے معنی ہیں راس المال، یعنی اصل سرمایے پر جو اضافہ حاصل کیا جاتا ہے، وہ ربا ہے،لیکن شریعت میں خاص قسم کی بڑھوتری کے لیے یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔(مفردات القرآن) اصطلاحِ شریعت میں مالی لین دین کے معاملے میں ایسا مالی اضافہ، جس کا دوسرے فریق کی طرف سے کوئی عوض نہ ہو، ربا کہلاتا ہے۔ (فتاویٰ عالمگیری)

اسلام میں سود کی سخت ممانعت وارد ہوئی ہے۔ قرآن مجید میں اسے حرام قرار دیا گیا ہے اور اس کی حرمت پر امت کا اجماع واتفاق ہے۔ (الفقہ الاسلامی وادلتہ)ارشادِ الٰہی ہے:﴿الَّذِینَ یَاْکُلُونَ الرِّبَا لَا یَقُومُونَ إِلَّا کَمَا یَقُومُ الَّذِی یَتَخَبَّطُہُ الشَّیْطَانُ مِنَ الْمَسِّ، ذَلِکَ بِاَنَّہُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَاَحَلَّ اللَّہُ الْبَیْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا﴾․جو لوگ سود کھاتے ہیں، وہ (قیامت میں) اس شخص کی طرح اٹھیں گے جسے شیطان نے چھو کر پاگل بنادیا ہو، یہ اس لیے ہوگا کہ انھوں نے کہا تھا: بیع بھی تو سود ہی کی طرح ہوتی ہے، حالاں کہ اللہ تعالیٰ نے بیع (خرید وفروخت) کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام قرار دیا ہے۔(سورة البقرہ)

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ آیت میں سود کھانے کا ذکر ہے اور اس سے مراد مطلقاً سود لینا اور اس کا استعمال کرنا ہے، خواہ کھانے میں استعمال کرے یا لباس میں یا مکان اور اس کے فرنیچر وغیرہ میں،لیکن اس کو کھانے کے لفظ سے اس لیے تعبیر کیا کہ جو چیز کھائی جائے اس کی واپسی کا کوئی امکان نہیں رہتا، بہ خلاف دوسری ضرورتوں کے استعمال کے کہ اس چیز کو واپس لیا دیا جا سکتا ہے، اس لیے مکمل قبضہ اور تصرف کو کھا جانے کے لفظ سے تعبیر کیا جاتا ہے اور نہ صرف عربی زبان میں، بلکہ اردو ، فارسی وغیرہ زبانوں کا بھی یہی محاورہ ہے۔ (معارف القرآن،بتغیر) جیسے اگر کوئی کسی کی رقم لے کر واپس دینے کا نام نہ لے تو کہتے ہیں،یہ میری رقم کھا گیا۔

قرآن مجید میں فرمایا گیا:﴿یَمْحَقُ اللَّہُ الرِّبَا وَیُرْبِی الصَّدَقَاتِ وَاللَّہُ لَا یُحِبُّ کُلَّ کَفَّارٍ اَثِیمٍ﴾اللہ تعالیٰ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے اور اللہ ہر اس شخص کو ناپسند کرتا ہے جو ناشکرا اور گنہگار ہو۔(سورة البقرہ)مزید فرمایا:﴿فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَاْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللّہِ وَرَسُولِہِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَکُمْ رُءُ وْسُ اَمْوَالِکُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ﴾ اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اگر تم ایسا نہ کروگے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے اعلانِ جنگ سن لو اور اگر تم (سود سے) توبہ کروتو تمھارا اصل سرمایہ تمھارا حق ہے، نہ تم کسی پر ظلم کرو، نہ تم پر ظلم کیا جائے۔(سورة البقرہ)

احادیث میں بھی سود کی حرمت پرکثرت سے روایات وارد ہوئی ہیں۔ رسول اللہ حضرت محمد صلی الله علیہ وسلم نے سود لینے والے، دینے والے، لکھنے والے اور اس کا گواہ بننے والے؛ (سب پر) لعنت فرمائی ہے، (گناہ میں) یہ سب برابر ہیں۔(بخاری، مسلم)آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سود کے 73 درجے ہیں، ان میں سب سے کم درجہ اس گناہ کی طرح ہے کہ کوئی آدمی اپنی ماں کے ساتھ نکاح کرے (جو کہ جائز ہی نہیں یعنی زنا کرے)۔ (ابن ماجہ) ایک حدیث میں حضرت نبیِ اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: چار لوگوں کا اللہ نے خود پر ذمّے لیا ہے کہ انھیں جنت میں داخل نہیں کرے گا اور نہ اس (جنت)کی نعمتوں کا مزا چکھائے گا؛ ان میں ایک سود کھانے والا بھی ہے۔ (الترغیب للمنذری) ایک حدیث میں فرمایا: جب قوم سود میں مبتلا ہوتی ہے، وہ خود پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کو حلال کرلیتی ہے۔ (ایضاً)ایک حدیث میں فرمایا: سود کا ایک درہم، جسے (سود) جانتے ہوئے آدمی کھالے،چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے بھی برا ہے۔ (ایضاً) ایک روایت میں ہے کہمعراج کی رات حضرت نبیِ اکرم صلی الله علیہ وسلم خون سے بھری ہوئی ایک نہر پر سے گذرے، جس کے بالکل بیچ میں ایک آدمی کھڑا تھا اور اس نہر کے کنارے پر ایک دوسرا آدمی پتھر لیے کھڑا تھا۔ نہر کے اندر والا آدمی جب نہر سے باہر نکلنے کے لیے آگے بڑھتا، تو وہ کنارے والا آدمی اس کے منھ پر ایک پتھر ڈال دیتا اور پھر اس کی جگہ اسے لوٹا دیتا۔ یہ سلسلہ برابر جاری تھا۔ حضرت نبیِ اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرشتوں سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ یہ آدمی جو نہر کے اندر ہے، سود کھانے والا ہے۔(بخاری)معراج کی رات میں حضرت نبی ِاکرم صلی الله علیہ وسلم نے دیکھا کہ کچھ لوگ ہیں، جن کے پیٹ کمروں کی طرح ہیں اور ان میں سانپ پھر رہے ہیں، جو باہر سے نظر آرہے ہیں، حضرت نبی ِاکرم صلی الله علیہ وسلم نے حضرت جبریل امین علیہ السلام سے ان کے بارے میں پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ یہ لوگ سود کھانے والے ہیں۔ (ابن ماجہ) ایک حدیث میں نبیِ اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:سود جتنا چاہے (ظاہر میں) بڑھ جائے،لیکن اس کا انجام ہمیشہ قلت وکمی کی طرف ہوتا ہے۔(ایضاً)