بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سنت کا معنی و مفہوم

سنت کا معنی و مفہوم

ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب نوّر الله مرقدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہلسنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے ۔ آمین۔ (ادارہ)

فاحشہ اور ظلم سے مراد
فاحشہ کا اطلاق ان گناہوں پر ہوتا ہے جو بندوں کے حقوق میں کوتاہی کی بنا پر صادر ہوتے ہیں اور ظلم کا اطلاق ان گناہوں پر ہوتا ہے، جو اللہ تعالی کے حقوق میں کوتاہی کی بنا پر ہوتے ہیں۔(بحرالعلوم، اٰل عمران، ذیل آیت:135) یا فاحشہ سے کبیرہ اور ظلم سے گناہ صغیرہ مراد ہیں۔

﴿فاستغفروا اللہ لذنوبھم﴾…استغفار نام ہے ندامت قلب کا اور آئندہ نہ کرنے کے عزم کا، اگر زبان پر استغفراللہ کا ورد جاری ہو، مگر دل بدستور لذت گناہ میں ڈوبا ہو تو ایسا استغفار مستحق استغفار ہے۔ (تفسیر قرطبی، اٰل عمران ذ،یل آیت :135)

مغفرت کا اختیار صرف اللہ ہی کے پاس ہے
﴿ومن یغفرالذنوب إلا اللہ﴾:سے مشرکین اور نصاری کی تردید ہو گئی، جو مغفرت کا اختیار کسی صنم و بت اور راہب کو دے کر اس سے مغفرت طلب کرتے ہیں، بالخصوص نصاری نے مغفرت کا اختیار صرف عیسی علیہ السلام اور ان کے نائبوں کو دے رکھا ہے۔(تفسیر أبی السعود، اٰل عمران، ذیل آیت:135) انجیل میں ہے:

”جس طرح باپ نے مجھے بھیجا ہے میں تمہیں بھیجتا ہوں، یہ کہہ کر ان کو پھونکا اور ان سے کہا روح القدس ! جن کے گناہ تم بخشو، ان کے بخشے گئے ہیں اور جن کے گناہ تم قائم رکھو ، ان کے قائم رکھے گئے ہیں۔ (یوحنا:2:21/24)

﴿قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِکُمْ سُنَنٌ فَسِیْرُواْ فِیْ الأَرْضِ فَانْظُرُواْ کَیْْفَ کَانَ عَاقِبَةُ الْمُکَذِّبِیْنَ، ہَذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَہُدًی وَمَوْعِظَةٌ لِّلْمُتَّقِیْنَ، وَلاَ تَہِنُوا وَلاَ تَحْزَنُوا وَأَنتُمُ الأَعْلَوْنَ إِن کُنتُم مُّؤْمِنِیْن، إِن یَمْسَسْکُمْ قَرْحٌ فَقَدْ مَسَّ الْقَوْمَ قَرْحٌ مِّثْلُہُ وَتِلْکَ الأیَّامُ نُدَاوِلُہَا بَیْْنَ النَّاسِ وَلِیَعْلَمَ اللّہُ الَّذِیْنَ آمَنُواْ وَیَتَّخِذَ مِنکُمْ شُہَدَاء وَاللّہُ لاَ یُحِبُّ الظَّالِمِیْن، وَلِیُمَحِّصَ اللّہُ الَّذِیْنَ آمَنُواْ وَیَمْحَقَ الْکَافِرِیْنَ،أَمْ حَسِبْتُمْ أَن تَدْخُلُواْ الْجَنَّةَ وَلَمَّا یَعْلَمِ اللّہُ الَّذِیْنَ جَاہَدُواْ مِنکُمْ وَیَعْلَمَ الصَّابِرِیْنَ، وَلَقَدْ کُنتُمْ تَمَنَّوْنَ الْمَوْتَ مِن قَبْلِ أَن تَلْقَوْہُ فَقَدْ رَأَیْْتُمُوہُ وَأَنتُمْ تَنظُرُونَ﴾․ (سورہٴ آل عمران:143-137)

ہوچکے ہیں تم سے پہلے واقعات، سو پھرو زمین میں اور دیکھو کہ کیا ہوا انجام جھٹلانے والوں کا۔ یہ بیان ہے لوگوں کے واسطے اور ہدایت اور نصیحت ہے ڈرنے والوں کو۔ اور سست نہ ہو، نہ غم کھاؤ اور تم ہی غالب رہوگے اگر تم ایمان رکھتے ہو۔ اگر پہنچا تم کو زخم تو پہنچ چکا ہے ان کو بھی ایسا ہی اور یہ دن باری باری بدلتے رہتے ہیں ہم ان کو لوگوں میں اور اس لیے کہ معلوم کرے اللہ جن کو ایمان ہے اور کرے تم میں سے شہید اور اللہ کو محبت نہیں ظلم کرنے والوں سے۔ اور اس واسطے کہ پاک صاف کرے اللہ ایمان والوں کو اور مٹا دیوے کافروں کو۔ کیا تم کو خیال ہے کہ داخل ہو جاؤ گے جنت میں اور ابھی تک معلوم نہیں کیا اللہ نے جو لڑنے والے ہیں تم میں اور معلوم نہیں کیا ثابت قدم رہنے والوں کو؟ اور تم تو آرزو کرتے تھے مرنے کی اس کی ملاقا ت سے پہلے، سو اب دیکھ لیا تم نے اس کو آنکھوں کے سامنے۔

تفسیرقرآن و حدیث میں سنت کا تصور
﴿قد خلت من قبلکم سنن﴾:تم سے پہلے واقعات (قانون قدرت) کے گزر چکے ہیں۔

لغت میں ”سنة“ طریقے کو کہتے ہیں، خواہ وہ طریقہ اچھا ہو یا برا، (لسان العرب، والمصباح المنیر، مادہ سنت) قرآن کریم میں عموماً اس لغوی معنی میں استعمال ہوا ہے، یعنی تم سے پہلے قانون قدرت کے طریقے کے مطابق نافرمانوں کا انجام گزر چکا ہے۔ اہل علم کی اصطلاح میں سنت دو مفہوموں میں منقسم ہے، فقہاء کے ہاں اس کا اطلاق امور مستحبہ پر ہوتا ہے، محدثین اور اصولیین کے نزدیک ہر وہ قول و فعل اور تقریر جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہوئی ہے اسے سنت کہتے ہیں۔

علامہ ابن اثیر جزری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لغت میں سنت طریقے کو کہتے ہیں اور شریعت میں اس سے مراد وہ امر ہے جس کا حکم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا ہو یا اس سے منع کیا ہو، اس لیے مآخذ شریعت میں قرآن اور سنت کا ذکر کیا جاتا ہے، حدیث شریف میں ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں بھول جاتا ہوں، تاکہ اسے سنت بنا دوں، یعنی مجھ پر نسیان طاری کر دیا جاتا ہے، تاکہ میں لوگوں کو ”صراط مستقیم“ سیدھی راہ کی طرف لاؤں اور ان پر واضح کروں جب نسیان طاری ہو تو کیا کریں؟“۔ (نہایة2/410,409)

اس سے معلوم ہوا سنت کی اصطلاحی تعریف علماء کی خود ساختہ نہیں، بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودا ت سے واضح ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک حدیث میں بیان فرمایا: ”فعلیکم بسنتی وسنة الخلفاء الراشدین المھدیّین“․(سنن ابی داؤد، رقم الحدیث:4607)

بعض منکرین حجیت حدیث نے سنت کے لغوی معنی ،جو قرآن میں عموماً مستعمل ہے، کو فطرت کا مترادف قرار دے کر وہ امور مراد لیے ہیں، جن کے اپنانے اور ترک کرنے پر انسان کی طبع سلیم انسان کو آمادہ کرتی ہے اور اسی آڑ میں سنت اصطلاحی کو نظر انداز کر کے حجیت حدیث کو مشکوک بنانے کی کوشش کی گئی چناں چہ اس فکر کے ایک علم بردار لکھتے ہیں۔

قرآن مجید دین کی آخری کتاب ہے، دین کی ابتدا اس کتاب سے نہیں، بلکہ ان بنیادی حقائق سے ہوئی جو اللہ تعالی نے روزِ ازل سے انسانی فطرت میں ودیعت کر رکھے ہیں، اس کے بعد وہ شرعی احکا م ہیں جو وقتاً فوقتاً انبیاء کی حیثیت سے اور بالآخر سنت ابراہیمی کے عنوان سے بالکل متعین ہو گئے۔ (یعنی امورِ فطرت) پھر لکھتے ہیں۔

سنت قرآن کے بعد نہیں، بلکہ قرآن سے مقدم ہے۔ (میزان ص:47، طبع2014،جاوید احمد غامدی۔) (کیوں کہ فطرت ازل سے ہے) پھر ان صاحب کی مزعومہ سنت، یعنی امورِ فطرت میں کمی بیشی کا سلسلہ جاری رہتا ہے، کبھی سنتیس چالیس بنتی ہیں۔(ماہ نامہ اشراق:مئی،1998ء) کبھی ستائیس(میزان:14) نسخ کا یہ سلسلہ تا حال جاری ہے۔

اباحت پسندیہ متجد دین دین کی بنیادی اصطلاحات کو نیا مفہوم دے کر، اس کے بطن سے من پسند افکار اور نتائج حاصل کرنا چاہتے ہیں اور چودہ سو سالہ امتِ مسلمہ کے عظیم علمی ورثے کو مشکوک بنا کر ناقابلِ اعتماد ٹھہرانا چاہتے ہیں، تاکہ یہ امت اپنے ماضی سے کٹ کر حال کے استعمار سے وابستہ ہو جائے اور عالمی منظر نامے پر شیطانی سیاست کا کوئی حریف باقی نہ رہے، اس لیے یہ اسلام کے اجتماعی نظم کو سیاسی اسلام سے تعبیر کرتے ہیں۔

غزوہ احد میں عارضی شکست کے موقع پر تسلی
غزوہ احد میں اہل ایمان وقتی اور عارضی طور پر شکست سے دوچار ہوئے، بعض صحابہ کرام کی خطائے اجتہادی سے منظر نامے کی تبدیلی نے انہیں جھنجھوڑ کے رکھ دیا، ستر صحابہ کرام رضی الله عنہم کے لاشے بکھر ے پڑے تھے، بہت سے صحابہ کرام، خود سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم زخموں سے چور تھے، منافقین کے چہروں سے خوشیاں پھوٹ رہی تھیں اور مشرکین جشن منا رہے تھے، اس غم ناک اور افسردہ ماحول میں جب حوصلے شکست کھانے لگے، ہمتیں پست ہونے لگیں تو ندائے ربانی نے آکر ٹوٹے ہوئے دلوں کو جوڑ دیا، پژ مردہ جسموں میں حیات کی روح پھونک دی:﴿ولا تھنوا ولا تحزنوا وانتم الاعلون إن کنتم مومنین﴾․

غلبے کی پیشن گوئی
﴿وانتم الاعلون﴾ میں غلبے کی پیشن گوئی کی ہے۔ علامہ قرطبی رحمہ اللہ کی تفسیر سے معلوم ہوتا ہے یہ پیشن گوئی حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کے ساتھ خاص تھی، چناں چہ وہ لکھتے ہیں۔

”احد کے بعد جب بھی عہد رسول میں کوئی غزوہ پیش آیا، فتح مسلمانوں کے ہاتھ رہی، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر وہ لشکر فتح یاب ہوا جس میں کوئی ایک صحابی ہوتے۔“

اور اگر اس پیشن گوئی کو عام رکھا جائے تو پھر یہ غلبہ من حیث المجموع سچے ایمان کے ساتھ مشروط ہے، جہاں کہیں کافروں کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوئے ہیں اس میں امت کی یہ ہی کمزوری پنہاں تھی۔

علامہ رازی رحمہ اللہ نے اس سے اخروی درجات کی بلندی مراد لی ہے۔ یعنی اگر تم دین اسلام پر قائم رہے تو اللہ تعالی تمہیں آخرت میں بلند درجات کی ضمانت دیتا ہے۔(تفسیر کبیر ،آل عمران، ذیل آیت:139) اگرچہ دنیا میں فتح یا شکست سے واسطہ پڑاہو، مومن کو فتح ملی تو شکر ادا کرتا ہے، شکست ہو تو صبر کرتا ہے، شکرو صبر دونوں اخروی درجات کا ذریعہ ہیں۔

فتح و شکست کی حکمتیں
﴿ان یمسسکم قرح…﴾ اس آیت میں مسلمانوں کو تسلی دی گئی ہے کہ آج اگر تمہیں زخم پہنچاہے تو وہ بھی تم سے بدر کے موقع پر گہرا گھاوَ کھا چکے ہیں، اس کے بعد دنیا کے ایک تکوینی اصول کی طرف اشارہ فرمایا:﴿ تلک الایام نداولھا بین الناس﴾ لوگوں میں زمانہ گردش میں رہتا ہے، ایمان کی بنیاد پر اگر مسلمان ہمیشہ کامران رہیں اور کفر کی بنیاد پر کافر مسلسل مار کھاتا چلا جائے تو یہ حکمت کے خلاف ہے، دنیا کو دارالامتحان بنایا ہے، اس کا تقاضا یہ ہے عروج و زوال ، فتح و شکست کے عارضی احوال مختلف گروہوں میں بدلتے رہیں، اللہ تعالیٰ نے اس کی چند حکمتوں کی طرف اشارہ فرمایا:
1..اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مخلص اہل ایمان کو دنیا کے سامنے ظاہر کرتا ہے، منافقین کا پردہ چاک کر تا ہے۔
2..کسی کو غازی بنا کر ثواب بخشتا ہے اور کسی کو شہید بنا کر اپنی خاص نعمتوں سے نوازتا ہے۔
3..اہل ایمان میں دنیا کی محبت کے اثرات مٹاتا ہے اور کافروں کی شان و شوکت کے غرور کو توڑتا ہے۔
4..اس کے ذریعے جہاد کا سچا جذبہ رکھنے والوں کو منظر عام پر لے آتا ہے اور کافروں کی تکالیف پر رضا بالقضا کی عملی تصویر بننے والوں کو نمونہ بنا کر دکھاتا ہے۔

﴿وَمَا مُحَمَّدٌ إِلاَّ رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِہِ الرُّسُلُ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَی أَعْقَابِکُمْ وَمَن یَنقَلِبْ عَلَیَ عَقِبَیْْہِ فَلَن یَضُرَّ اللّہَ شَیْْئاً وَسَیَجْزِیْ اللّہُ الشَّاکِرِیْنَ، وَمَا کَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلاَّ بِإِذْنِ اللہ کِتَاباً مُّؤَجَّلاً وَمَن یُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْیَا نُؤْتِہِ مِنْہَا وَمَن یُرِدْ ثَوَابَ الآخِرَةِ نُؤْتِہِ مِنْہَا وَسَنَجْزِیْ الشَّاکِرِیْنَ، وَکَأَیِّن مِّن نَّبِیٍّ قَاتَلَ مَعَہُ رِبِّیُّونَ کَثِیْرٌ فَمَا وَہَنُواْ لِمَا أَصَابَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَمَا ضَعُفُواْ وَمَا اسْتَکَانُواْ وَاللّہُ یُحِبُّ الصَّابِرِیْنَ، وَمَا کَانَ قَوْلَہُمْ إِلاَّ أَن قَالُواْ ربَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِیْ أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وانصُرْنَا عَلَی الْقَوْمِ الْکَافِرِیْنَ، فَآتَاہُمُ اللّہُ ثَوَابَ الدُّنْیَا وَحُسْنَ ثَوَابِ الآخِرَةِ وَاللّہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ، یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوَاْ إِن تُطِیْعُواْ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ یَرُدُّوکُمْ عَلَی أَعْقَابِکُمْ فَتَنقَلِبُواْ خَاسِرِیْن، بَلِ اللّہُ مَوْلاَکُمْ وَہُوَ خَیْْرُ النَّاصِرِیْنَ﴾․(سورہٴ آل عمران:150-144)

”اور محمد تو ایک رسول ہے، ہو چکے اس سے پہلے بہت رسول، پھر کیا اگر وہ مر گیا یا مارا گیا تم پھر جاؤ گے الٹے پاؤں ؟!اور جو کوئی پھر جائے گا الٹے پاؤں تو ہر گز نہ بگاڑ ے گا اللہ کا کچھ۔ اوراللہ ثواب دے گا شکرگزاروں کواور کوئی مر نہیں سکتا بغیر حکم اللہ کے، لکھا ہوا ہے ایک وقت مقرر اور جو کوئی چاہے گا بدلہ دنیا کا دیویں گے ہم اس کو دنیا ہی میں اور جو کوئی چاہے گا بدلہ آخرت کا اس میں سے دیویں گیہم اس کو اور ثواب دیں گے احسان ماننے والوں کو۔اور بہت نبی ہیں جن کے ساتھ ہو کر لڑے ہیں بہت خدا کے طالب، پھر نہ ہارے ہیں کچھ تکلیف پہنچنے سے اللہ کی راہ میں اور نہ سست ہوئے ہیں اور نہ دب گئے ہیں اور اللہ محبت کرتا ہے ثابت قدم رہنے والوں سے اور کچھ نہیں بولے ،مگریہی کہا کہ اے رب ہمارے! بخش ہمارے گناہ اور جو ہم سے زیادتی ہوئی ہے ہمارے کام میں اور ثابت قدم رکھ قدم ہمارے اور مدد دے ہم کو قوم کفار پر۔ پھر دیا اللہ نے ان کو ثواب دنیا کا اور خوب ثواب آخرت کا اور اللہ محبت رکھتا ہے نیک کام کرنے والوں سے۔ اے ایما ن والو! اگر تم کہا مانو گے کافروں کا تو وہ تم کو پھیر دیں گے الٹے پاؤں، پھر جا پڑو گے تم نقصان میں۔ بلکہ اللہ تمہارا مدد گار ہے اور اس کی مددسب سے بہتر ہے۔

شانِ نزول
غزوہ احد میں جب مشرکین نے بے خبری میں عقب میں پلٹ کر حملہ کیا تو اہل اسلام اس ناگہانی افتاد سے گھبرا گئے، اس افراتفری میں مشرکین کے چند لشکری حضور صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچ کر آپ کو زخمی بھی کر گئے، اتنے میں کسی نے یہ ڈھنڈورا بھی پیٹ دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم شہید ہو گئے ہیں، یہ سننا تھا کہ صحابہ کرام کا جوش و جذبہ ماند پڑ نے لگا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نہیں رہے، لڑنے کا کیا فائدہ؟ غلبے کا ولولہ سرد ہو گیا، کچھ منافقین ارتدادی مہم شروع کرتے ہوئے ہانکنے لگے اب سابقہ دین پر لوٹ آؤ۔اس آیت سے وہ غلط فہمیاں جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی شہادت سے پیدا ہونے لگیتھیں دور ہو گئیں، حضور صلی اللہ علیہ وسلم جنس بشر میں افضل البشر ہیں، بہرحال انہوں نے اس دنیا سے رخصت ہونا تھا اور اللہ کا دین قیامت کے لیے باقی رہنا ہے، لہذادین سے تعلق نبی کے موجود ہونے کے ساتھ مشروط نہیں ہونا چاہیے، اس موقع پر اس غلط فہمی کا ازالہ ضروری تھا،وگرنہ یہ غلط فہمی کئی فتنوں کا باعث بنتی،جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہوئے تو صحابہ کرام کے اوسان خطا ہو گئے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مغلوب الحال ہو کر اعلان فرمایا جو شخص یہ کہے گا کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہو گئے میں اس کی گردن اڑا دوں گا، اس موقع پر حضرت ابو بکر صدیق تشریف لائے، خطبہ دیا، پھر آیت پڑھی :﴿وما محمد إلا رسول قد خلت من قبلہ الرسل﴾ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں ایسا معلوم ہوا کہ میں نے یہ آیت حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی تلاوت سے قبل سنی ہی نہ تھی۔ ( صحیح بخاری، ابن کثیر)

نیز اس آیت میں وعید ہے ان لوگوں کے لیے جو جہادکے حکم کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یا آپ کے صحابہ کرام کے ساتھ مخصوص سمجھتے ہیں، یہ کلمہ عام ہے، تا قیامت جاری رہے گا۔

چناں چہ ان کی مکمل کوشش ہوتی ہے کہ حضرت عیسیٰ کی وفات کو الٹی سیدھی باتوں سے ثابت کیا جا سکے، سو ایک قادیانی مفسر اس عقیدے کے تحفظ کے لیے یوں تفسیر کرتا ہے۔

”جب کسی انسان کے متعلق کہا جائے ”خلا“ تو اس سے مراد اس کی موت ہوتی ہے، چناں چہ لسان العرب میں ابن الاعرابی کا قول منقول ہے ”خلا فلان“إذا مات اور یہ ظاہربھی ہے، کیوں کہ انسان کا گزر جانا یہی ہے کہ وہ اس عالم سے دوسرے عالم کی طرف انتقال کر جائے اور اس کا دروازہ موت ہی ہے اور یہاں خلت کے مقابلے پر مات اور قتل لا کر صاف بتا دیا کہ جن کے خلا کا ذکر ہے ان کا گزر جانا بذریعہ موت یا قتل ہی ہوا ہے…

پس ”خلت من قبلہ الرسل“ سے ثابت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے رسول بذریعہ موت یا قتل گزر چکے اور اگر کوئی تیسری صورت بھی گزر جانے کی قدخلت میں شامل ہوتی تو ضرور تھا کہ اس کا ذکر بھی خلت کے مقابلے پر کر دیا جاتا۔“(بیان القرآن، محمد علی لاہوری، آل عمران، ذیل آیت:144)

قادیانی مفسر کی غلط بیانی
یہی غلط بیانی یہ کہ: انسان کے متعلق کہا جائے ”خلا“ تو اس سے مراد اس کی موت ہوتی ہے۔“ لسان العرب میں یہ دعویٰ مذکور ہی نہیں، بلکہ خلا کے مختلف معانی بیان کرتے ہوئے یہ ذکر بھی کیا کہ خلا سے موت بھی مراد ہوتی ہے، قرآن کریم میں:﴿وإن من امة إلاخلا فیھا نذیر﴾ اب ذرا قادیانی بتائیں نذیر سے انسان مراد ہے یا نہیں؟ اگر انسان مراد ہے تو پھر یہاں خلا کا ترجمہ موت سے کریں گے؟!اسی طرح قرآن کریم میں منافقوں کے بارے میں آتا ہے ﴿واذا خلوا إلی شیٰطینہم﴾( البقرة:14)کیا یہاں یہ ترجمہ کریں گے جب منافقین مر کر اپنے شیطانوں کے پاس جاتے ہیں؟ لسان العرب اور نہایة میں ایک اثر کا حوالہ دیا ہے، حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تزوجت امراَة قد خَلاَ منھا“ای کبرت ومضی معظم عمرھا“․( لسان العرب، مادة خلا، النھایة فی غریب الحدیث والاثر، ابن الاثیر الجزری، مادة خلا) (یعنی میں نے ایسی عورت سے شادی کی، جس کی عمر کا بڑا حصہ، یعنی جوانی کا، گزرچکا تھا) اس میں خلا کا لفظ ہے، کیا اس کا ترجمہ قادیانی خود ساختہ اصول کی بنا پر یوں کریں گے ”میں نے ایسی عورت سے شادی کی کہ وہ مر چکی تھی؟!“

مرزا قادیانی کا اپنے ہی موقف کے خلاف عقیدہ
حضرت عیسی علیہ السلام کی وفات کو تو ثابت کرنے کے لیے کہتے ہیں تمام انبیاء موت یا قتل سے دو چار ہو کر اس دنیا سے گزر چکے، مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بابت اپنے اس عقیدے کو مجہول جانتے ہیں، ان کے متعلق قادیانیوں نے لکھا ہے حضرت موسی علیہ السلام زندہ آسمانوں میں موجود ہیں۔ چناں چہ ایک جگہ لکھتا ہے:بل حیاة کلیم اللہ ثابت بنص القرآن الکریم․(کلیم اللہ کی زندگی قرآن کریم کے نص سے ثابت ہے)۔ (حمامة البشریٰ:روحانی خزائن7/221)

دوسرے مقام پر حضرت عیسی علیہ السلام اور حضرت موسی علیہ السلام کے مابین موازنہ کرتے ہوئے لکھتاہے:
”إن عیسیٰ علیہ السلام لا نبی اللہ کانبیاء اٰخری، إن ھو إلاخادم شریعة النبی المعصوم الذی حرم اللہ علیہ المراضع، حتی اقبل علی ثدی امہ، وکلمہ ربہ علی طور سینین، وجعلہ من المحبوبین، ھذا موسی فتی اللہ الذی اشارہ اللہ فی کتابہ إلی حیاتہ فرض علینا أن نؤمن أنہ فی السماء، ولم یمت، ولیس من المیتین“․
ترجمہ: عیسی صرف نبیوں کی طرح خدا کا ایک نبی ہے اور وہ اس نبی معصوم کی شریعت کا ایک خادم ہے،جس پر تمام دودھ پلانے والیاں حرام کر دی گئی تھیں ،یہاں تک کہ اپنی ماں کی چھاتیوں تک پہنچایا گیا اور اس کا خدا کوہ سینا میں اس سے ہم کلام ہوا اور اس کو پیارا بنایا، یہ وہی موسیٰ مردِ خدا ہے جس کی نسبت قرآن میں اشارہ ہے کہ وہ زندہ ہے او رہم پر فرض ہو گیا کہ ہم اس پر ایمان لائیں کہ وہ زندہ آسمان میں موجود ہے اور مُردوں میں سے نہیں ہے۔

اس سے معلوم ہوتا ہے مرزا قادیانی کو حضور صلی الله علیہ وسلم سے ضد تھی، آپ صلی الله علیہ وسلم نے جس کی وفات کی خبر دی اسے زندہ ثابت کر رہا ہے اور جس کی حیات کی خبر دی اسے مردہ ثابت کرتا ہے۔

خُلُوَّ کا مادہ، معنی اور مفہوم
خلو کا مادہ زمان ومکان دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ (لسان العرب، مادہ خلو)

﴿قدخلت من قبلہ الرسل﴾: زمانے کے لیے آیا، یعنی مضت من قبلہ الرسل․ یہ گزرنا عام ہے ،خواہ موت کے ذریعے سے یا شہادت کے ذریعے سے یا رفع سماوی کے ذریعے سے۔ اس آیت کریمہ میں ﴿أفان مأت أو قتل﴾ میں معتاد طریقوں سے گزر جانے کا تذکرہ ہے، غیر معتاد طریقہ، یعنی رفع سماوی اس سے مستثنیٰ ہے، اس کی تفصیل اٰل عمران کی آیت نمبر55 کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔

سابقہ انبیاء علیہم السلام کا تذکرہ جہاد
﴿وکأین من نبی قاتل معہ ربیون کثیر﴾: اس آیت میں صحابہ کرام کو تسلی دی گئی ہے کہ تم سے پہلے انبیاء کے ساتھ الله والوں کی جماعت مل کر کفار کے خلاف برسرِ پیکار رہی ہے، فما وھنوا ان کے دل میں ذرا برابر بھی کم زوری نہیں آئی، وماضعفوا نہ ہی ان کے جسم اور ظاہری حالت پر کم زوری کا اثر تھا، وما استکانوا نہ ہی وہ دشمن سے مغلوب ہو کر اس کے سامنے گڑ گڑائے۔انہوں نے صبر سے کام لیا ۔الله تعالیٰ نے سرفراز فرمایا۔

مذکورہ آیات سے حاصل ہونے والے فوائد
1..کوئی رسول اپنی قوم میں ہمیشہ ہمیشہ نہیں رہتا ،اس لیے ہر اُمتی کو چاہیے کہ وہ اس دین کو مضبوطی سے تھامے رہے، جسے رسول لے کر آئے ہیں۔(احکام القرآن للقرطبی، اٰل عمران، ذیل آیت:144)
2..جہاد وقتال اس امت کی خصوصیت نہیں، بلکہ اس سے پہلے انبیاء علیہم السلام اپنے رفقاء کے ساتھ یہ فرائض انجام دیتے رہے ہیں۔
3..جہاد وقتال کی راہوں پر چلنے والوں کو الله تعالیٰ نے اپنی زبان سے ”الله والے“ کے لقب سے نوازا ہے۔
4..نیکی پر چلتے ہوئے کسی گھمنڈ یا خود پسندی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ اپنی کمی کوتاہیوں پر نظر رکھتے ہوئے، استغفار میں مصروف رہنا چاہیے۔
5..موت کا وقت مقررہے، اس سے پہلے آسکتی ہے نہ بعد میں، اس لیے موت کے خوف سے جہاد سے جی نہیں چرانا چاہیے۔
6..کافروں کے مادی اسباب دیکھ کر دل میں ان کا خوف آجانا یا ان کے مقابلے پر نہ آنا یا ان سے گڑ گڑا کر اظہار عاجزی کرنا الله والوں کی شان نہیں ہے، الله والوں پر کافروں کے مادی، عسکری آلات واسباب کا ذرہ برابر بھی اثر نہیں ہوتا اور نہ وہ اس وجہ سے کافروں سے سرنگوں ہوتے ہیں۔
7..کافروں کی باتوں میں آکر دینی اسباب کو نظر انداز مت کرنا، اگر ایسا کرو گے تو وہ تمہیں دھیرے دھیرے کفر تک لے جاکر خائب وخاسر کر دیں گے۔
8..دین کا کام احکام شریعت پر عمل کسی شخصیت کو مدار بنا کر نہیں کرنا چاہیے، بلکہ الله اور اس کے رسول کی تعلیمات کی بنا پر اسے اختیار کرنا چاہیے، تاکہ اگر وہ شخصیت دنیا سے رخصت ہو جائے تو ہمارے اعمال متاثر نہ ہوں۔

﴿سَنُلْقِیْ فِیْ قُلُوبِ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ الرُّعْبَ بِمَا أَشْرَکُواْ بِاللّہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ سُلْطَاناً وَمَأْوَاہُمُ النَّارُ وَبِئْسَ مَثْوَی الظَّالِمِیْنَ، وَلَقَدْ صَدَقَکُمُ اللّہُ وَعْدَہُ إِذْ تَحُسُّونَہُم بِإِذْنِہِ حَتَّی إِذَا فَشِلْتُمْ وَتَنَازَعْتُمْ فِیْ الأَمْرِ وَعَصَیْْتُم مِّن بَعْدِ مَا أَرَاکُم مَّا تُحِبُّونَ مِنکُم مَّن یُرِیْدُ الدُّنْیَا وَمِنکُم مَّن یُرِیْدُ الآخِرَةَ ثُمَّ صَرَفَکُمْ عَنْہُمْ لِیَبْتَلِیَکُمْ وَلَقَدْ عَفَا عَنکُمْ وَاللّہُ ذُو فَضْلٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ، إِذْتُصْعِدُونَ وَلاَ تَلْوُونَ عَلَی أحَدٍ وَالرَّسُولُ یَدْعُوکُمْ فِیْ أُخْرَاکُمْ فَأَثَابَکُمْ غَمَّاً بِغَمٍّ لِّکَیْْلاَ تَحْزَنُواْ عَلَی مَا فَاتَکُمْ وَلاَ مَا أَصَابَکُمْ وَاللّہُ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ، ثُمَّ أَنزَلَ عَلَیْْکُم مِّن بَعْدِ الْغَمِّ أَمَنَةً نُّعَاساً یَغْشَی طَآئِفَةً مِّنکُمْ وَطَآئِفَةٌ قَدْ أَہَمَّتْہُمْ أَنفُسُہُمْ یَظُنُّونَ بِاللّہِ غَیْْرَ الْحَقِّ ظَنَّ الْجَاہِلِیَّةِ یَقُولُونَ ہَل لَّنَا مِنَ الأَمْرِ مِن شَیْْء ٍ قُلْ إِنَّ الأَمْرَ کُلَّہُ لِلَّہِ یُخْفُونَ فِیْ أَنفُسِہِم مَّا لاَ یُبْدُونَ لَکَ یَقُولُونَ لَوْ کَانَ لَنَا مِنَ الأَمْرِ شَیْْء ٌ مَّا قُتِلْنَا ہَاہُنَا قُل لَّوْ کُنتُمْ فِیْ بُیُوتِکُمْ لَبَرَزَ الَّذِیْنَ کُتِبَ عَلَیْْہِمُ الْقَتْلُ إِلَی مَضَاجِعِہِمْ وَلِیَبْتَلِیَ اللّہُ مَا فِیْ صُدُورِکُمْ وَلِیُمَحِّصَ مَا فِیْ قُلُوبِکُمْ وَاللّہُ عَلِیْمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ، إِنَّ الَّذِیْنَ تَوَلَّوْاْ مِنکُمْ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّہُمُ الشَّیْْطَانُ بِبَعْضِ مَا کَسَبُواْ وَلَقَدْ عَفَا اللّہُ عَنْہُمْ إِنَّ اللّہَ غَفُورٌ حَلِیْمٌ﴾ (سورہٴ آل عمران:155-151)

”اب ڈالیں گے ہم کافروں کے دلوں میں ہیبت ،اس واسطے کہ انہوں نے شریک ٹھہرا لیا الله کا، جس کی اس نے کوئی سند نہیں اتاری اور ان کاٹھکانہ دوزخ ہے اور وہ برا ٹھکانہ ہے ظالموں کا۔ اور الله تو سچا کر چکا تم سے وعدہ، جب تم قتل کرنے لگے ان کو اس کے حکم سے، یہاں تک کہ جب تم نے نامردی کی اور کام میں جھگڑا ڈالا اور نافرمانی کی بعد اس کے کہ تم کو دِکھا چکا تمہاری خوشی کی چیز، کوئی تم میں سے چاہتا تھا دنیا او رکوئی تم میں سے چاہتا تھا آخرت، پھر تم کو پلٹ دیا ان پر سے، تاکہ تمہیں آزما وے اور وہ تو تم کو معاف کرچکا اور الله کا فضل ہے ایمان والوں پر، جب تم چڑھے چلے جاتے تھے اور پیچھے مڑ کر نہ دیکھتے تھے کسی کو اور رسول پکارتا تھا تم کو تمہارے پیچھے سے، پھر پہنچا تم کو غم، عوض میں غم کے، تاکہ غم نہ کیا کرو اس پر جو ہاتھ سے نکل جائے اور نہ اس پر کہ جو کچھ پیش آئے اور الله کو خبر ہے تمہارے کام کی، پھر تم پر اتاراتنگی کے بعد امن کو، جو اُونگھ تھی کہ ڈھانپ لیا اس اُونگھ نے بعضوں کو تم میں سے، اور بعضوں کو فکر پڑ رہا تھا اپنی جان کا،خیال کرتے تھے الله پر جھوٹے خیال جاہلوں جیسے، کہتے تھے جو کچھ بھی کام ہے ہمارے ہاتھ میں ہے، تو کہہ سب کام ہے الله کے ہاتھ، وہ اپنے جی میں چھپاتے ہیں جو تجھ سے ظاہر نہیں کرتے، کہتے ہیں اگرچہ کچھ کام ہوتا ہمارے ہاتھ تو ہم مارے نہ جاتے اس جگہ۔ تو کہہ اگر تم ہوتے اپنے گھروں میں البتہ باہر نکلتے جن پر لکھ دیا تھا مارا جانا اپنے پڑاؤ پر اور الله کو آزمانا تھا جو کچھ تمہارے جی میں ہے اور صاف کرنا تھا اس کو جو تمہارے دل میں ہے اور الله جانتا ہے دلوں کے بھید، جو لوگ تم میں سے ہٹ گئے جس دن لڑیں دو فوجیں، سو ان کو بہکا دیا شیطان نے، ان کے گناہ کی شامت سے او ران کو بخش چکا الله، الله بخشنے والا اور تحمل والا ہے۔

غزوہ احد کے چند واقعات
﴿سنلقی في قلوب الذین﴾:الله تعالیٰ نے مشرکوں کے دلوں میں بوجہ شرک رعب ڈال دیا تھا، یہی وجہ ہے باوجود پلٹ کر حملے کے بعد مدینہ کا رخ نہیں کیا،بلکہ مکہ کی جانب دوڑ لگائی، عقلی تناظر میں تو یہی مصیبت کا لمحہ ایسا تھا کہ مدینہ پر دھاوا بول کر اپنا رعب بٹھالیا جاتا، لیکن ! مسلمانوں نے باوجود الم وغم کے عالم میں آٹھ میل دور حمراء الاسد تک مشرکین کا تعاقب کیا۔(سیرت ابن ھشام، غزوہ احد) او رکسی طرح مشرکوں کو محسوس نہیں ہونے دیا کہ ہم شکست خوردہ ہیں یا ہم میں لڑنے کی طاقت نہیں رہی، اہل ایمان کا لشکر جب طاعت ِ الہٰی کا پیکر بن کر کافروں کے سامنے آئے گا الله تعالیٰ کافروں کے دلوں میں اپنے دین کے جانثاروں کا رعب ڈال دے گا، یہ وعدہ عام ہے ، غزوہ احد کے ساتھ خاص نہیں۔ (جاری)