بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سلام کی اہمیت اور اس کے آداب

سلام کی اہمیت اور اس کے آداب

مولانا ابوجندل قاسمی

ملاقات کے وقت ”السلام علیکم“ اور وعلیکم السلام“ کی تعلیم رسول الله صلی ا لله علیہ وسلم کی نہایت مبارک تعلیمات میں سے ہے او راسلام کا شعار ہے، اسلام سے قبل دنیا کی تمام متمدن قوموں اور گروہوں میں ملاقات کے وقت پیار ومحبت یا جذبہٴ اکرام وخیر اندیشی کا اظہار کرنے اور مخاطب کو مانوس ومسرور کرنے کے لیے کوئی خاص کلمہ کہنے کا رواج رہا ہے اور آج بھی ہے، ہمارے ملک ہندوستان میں ہندو ملاقات کے وقت ”نمستے یا نمسکار“ کہتے ہیں، کچھ پرانے قسم کے کم پڑھے لکھوں کو ”رام رام“ کہتے ہوئے بھی سنا ہے ، یورپ کے لوگوں میں صبح کی ملاقات کے وقت ”گڈ مارنگ“(صبح بخیر) اور شام کی ملاقات کے وقت ”گڈ ایوننگ“(شام بخیر) او ررات کی ملاقات کے وقت ”گڈ نائٹ“ (شب بخیر) وغیرہ کہنے کا رواج ہے، رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی بعثت کے وقت بھی عربوں میں ملاقات کے وقت اسی طرح کے کلمات کہنے کا رواج تھا۔

سنن ابی داؤد میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے صحابی حضرت عمران بن حصین رضی الله عنہ کا یہ بیان مروی ہے کہ :”ہم لوگ اسلام سے پہلے ملاقات کے وقت آپس میں :” انعم الله بک عینا“ (خدا آنکھوں کو ٹھنڈک نصیب کرے) اور ”انعم صباحاً“ (تمہاری صبح خوش گوار ہے ) کہا کرتے تھے۔ جب ہم لوگ جاہلیت کے اندھیرے سے نکل کر اسلام کی روشنی میں آگئے تو ہمیں اس کی ممانعت کر دی گئی۔ (مشکوٰة شریف) یعنی اس کے بجائے ہمیں ”السلام علیکم“ کی تعلیم دی گئی۔

آج بھی کوئی غور کرے تو واقعہ یہ ہے کہ محبت وتعلق اور اکرام و خیر اندیشی کے اظہار کے لیے اس سے بہتر کوئی کلمہ سوچا نہیں جاسکتا۔ ذرا اس کے معنی کی خصوصیات پر غور کیجیے ! یہ نہایت جامع دعائیہ کلمہ ہے، اس کا مطلب یہ ہے کہ الله تعالیٰ آپ کو ہر طرح کی سلامتی نصیب فرمائے۔ یہ اپنے سے چھوٹوں کے لیے شفقت و رحمت اور پیار ومحبت کا کلمہ بھی ہے او ربڑوں کے لیے اس میں اکرام وتعظیم بھی ہے۔

الغرض ملاقات کے وقت کے لیے ”السلام علیکم“ سے بہتر کوئی کلمہ نہیں ہوسکتا، اگر ملنے والے پہلے سے باہم متعارف اور شناسا ہیں او ران میں محبت واخوت یا قرابت کا کوئی تعلق ہے، تو اس کلمے میں اس تعلق اور اس کی بنا پر محبت ومسرت او راکرام وخیر اندیشی کا پورا اظہار ہے او راگر پہلے سے کوئی تعارف او رتعلق نہیں ہے تو یہ کلمہ ہی تعلق، اعتماد اور خیر سگالی کا وسیلہ بنتا ہے او را س کے ذریعہ گویا ہر ایک دوسرے کو اطمینان دلاتا ہے کہ میں تمہارا خیراندیش اور دعا گوہوں اور میرے او رتمہارے درمیان ایک روحانی رشتہ اور تعلق ہے، اسی وجہ سے نبی کریم صلی الله علیہ و سلم نے اس کی بڑی تاکید فرمائی اور بڑے فضائل بیان فرمائے۔ (معارف الحدیث)

سلام کی فضلیت
حضرت ابوہریرہ رضی ا لله عنہ سے مروی ہے کہ حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”تم جنت میں نہیں جاسکتے تاوقتیکہ پورے مومن نہ ہو جاؤ اور یہ نہیں ہو سکتا جب تک کہ تم میں باہم محبت نہ ہو جائے، کیا میں تمہیں وہ عمل نہ بتادوں ، جس کے کرنے سے تمہارے درمیان محبت ویگانگت پیدا ہو جائے؟ (اور وہ یہ ہے کہ ) سلام کو آپس میں خوب پھیلاؤ۔“ (مسلم وترمذی شریف)

اس حدیث سے صراحتاً معلوا ہوا کہ ایمان جس پر داخلہٴ جنت کی بشارت اور وعدہ ہے ،وہ صرف کلمہ پڑھ لینے کا او رعقیدہ کا نام نہیں ہے، بلکہ وہ اتنی وسیع حقیقت ہے کہ اہل ایمان کی باہمی محبت ومودّت بھی اس کی لازم شرط ہے او ررسول الله صلی الله علیہ وسلم نے بڑے اہتمام کے ساتھ بتلایا ہے کہ ایک دوسرے کو سلام کرنے او راس کا جواب دینے سے یہ محبت ومودت دلوں میں پیدا ہوتی ہے۔

یہاں یہ بات قابل لحاظ ہے کہ کسی عمل کی خاص تاثیر تب ہی ظہور میں آتی ہے جب اس عمل میں روح ہو، نماز، روزہ، حج اور ذکر الله جیسے اعمال کا حال بھی یہی ہے، بالکل یہی معاملہ سلام اور مصافحہ کا بھی ہے کہ اگر یہ دل کے اخلاص او رایمانی رشتہ کی بنا پر صحیح جذبے سے ہوں تو پھر دلوں سے کدورت نکلنے او رمحبت ومودّت کا رس پیدا ہوجانے کا بہترین وسیلہ ہے، لیکن آج ہمارا ہر عمل بے روح ہے۔ (معارف الحدیث)

تین چیزوں پر جنت کی بشارت
حضرت عبدالله بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما سے روایات ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”لوگو! خداوند رحمن کی عبادت کرو اور بندگان خدا کو کھانا کھلاؤ اور سلام کو خوب پھیلاؤ، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“ (ترمذی شریف)

اس حدیث شریف میں حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم نے جن تین چیزوں پر جنت کی بشارت دی ہے، ان میں سے ایک ”السلام علیکم“ اور ”وعلیکم السلام“ کو ( جو اسلامی شعار ہے ) اور الله تعالیٰ اور رسول الله صلی ا لله علیہ وسلم کے تعلیم فرمائے ہوئے ( دعائیہ کلمہ کو ) پھیلانا اور اس کو ایسا رواج دینا ہے کہ اسلامی دنیا کی فضا اس کی صداؤں سے معمور ہو جائے۔

سلام کی اہمیت
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم میں سے کسی کی اپنے کسی مسلمان بھائی سے ملاقات ہو تو چاہیے کہ اس کو سلام کرے، اگر اس کے بعد کوئی درخت یا کوئی دیوار یا کوئیپتھر ان دونوں کے درمیان حائل ہو جائے (اور تھوڑی دیر کے لیے ایک دوسرے سے غائب ہو جائے) اور اس کے بعد پھر سامنا ہو تو پھر سلام کرے۔“ (ابوداؤد شریف)

اس حدیث شریف سے اندازہ کیاجاسکتا ہے کہ مذہب اسلام نے ”سلام“ کی کتنی اہمیت بیان فرمائی ہے کہ دو مسلمان بھائیوں کو چند سیکنڈ اور تھوڑی سی دیر بھی الگ الگ ہو جانے کے بعددوبارہ ملنے پر سلام کرنے کا حکم دیا ہے۔

حضرت عبدالله بن عمر کا واقعہ
سلام کی اہمیت کا اندازہ اس واقعہ سے بھی لگایا جاسکتا ہے جو امام مالک رحمہ الله نے ”مؤطا“ میں او رامام بیہقی رحمہ الله نے ”شعب الایمان“ میں حضرت ابی بن کعب رضی الله عنہ کے صاحب زادے طفیل کے حوالہ سے نقل کیا ہے، وہ فرماتے ہیں کہ:

میں حضرت عبدالله بن عمر رضی الله عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا، ان کا طریقہ تھا کہ وہ ہمیں ساتھ لے کر بازار جاتے اور جس دکان دار، کباڑئیے اور فقیر ومسکین کے پاس سے گزرتے اس کو بس سلام کرتے ( اور کسی بھی قسم کی خرید وفروخت کیے بغیر واپس آجاتے) ایک دن میں ان کی خدمت میں حاضرہوا تو معمول کے مطابق مجھے ساتھ لے کر بازار جانے لگے، میں نے عرض کیا کہ آپ بازار جا کر کیا کریں گے؟ نہ تو آپ کسی دکان پر کھڑے ہوتے ہیں، نہ کسی چیز کا سودا کرتے ہیں، نہ بھاؤ ہی کی بات کرتے ہیں اور بازار کی مجلسوں میں نہیں بیٹھتے ہیں( پھر آپ بازار کس لیے جائیں گے؟) یہیں بیٹھیں، باتیں ہوں اور ہم استفادہ کریں، حضرت ابن عمررضی الله عنہما نے فرمایا کہ:

”ہم تو صرف اس غرض اور اس نیت سے بازار جاتے ہیں کہ جو سامنے آجائے اس کو سلام کریں“۔ (مشکوٰة)

ایک حدیث شریف میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ”سلام“ کرنے کو مسلمان کا حق بتلایا ہے، اس سے بھی ”سلام“ کی اہمیت معلوم ہوتی ہے، حدیث شریف مندرجہ ذیل ہے : ”حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:

ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پر چھ حقوق ہیں اور وہ یہ کہ : جب ملاقات ہو تو سلام کرے ، دوسرے جب وہ مدعو کرے تو اس کی دعوت قبول کرے (بشرطیکہ کوئی شرعی عذر او رمانع نہ ہو)، تیسرے جب وہ نصیحت (یا مخلصانہ مشورہ) کا طالب ہو تو اس سے دریغ نہ کرے، چوتھے جب اس کو چھینک آئے اور ”الحمدلله“ کہے تو یہ اس کو ”یرحمک الله“ کہے، پانچویں جب بیمار ہو تو اس کی عیادت کرے، چھٹے جب وہ انتقال کر جائے تو اس کے جنازے کے ساتھ جائے۔“ (مسلم شریف)

سلام الله کا عطیہ
حدیث شریف سے ثابت ہے کہ ”سلام“ الله کا ایک عظیم عطیہ ہے، ظاہر ہے کہ احکم الحاکمین کے اس عطیہ کی جتنی قدر کی جائے، کم ہے اور اس کی قدر یہی ہے کہ آپس میں ”سلام“ کو خوب رواج دیا جائے، چناں چہ بخاری شریف میں ہے کہ:
جب الله تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا تو الله تعالیٰ نے ان سے فرمایا: جاؤ اور وہ فرشتوں کی جو جماعت بیٹھی ہے اس کو سلام کرو اور وہ فرشتے جوجواب دیں اس کو سننا:”فانھا تحیتک وتحیة ذریتک“․

اس لیے کہ وہ تمہارا اور تمہاری اولاد کا سلام ہو گا، چناں چہ حضرت آدم علیہ السلام نے جاکر سلام کیا”السلام علیکم“ تو فرشتوں نے جواب میں کہا:”وعلیکم السلام ورحمة الله “ فرشتوں نے لفظ ”رحمة الله“ بڑھا کر جواب د یا۔ (بخاری شریف)

حضرت ابن مسعود رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
”سلام“الله کے ناموں میں سے ایک نام ہے،جس کو الله تعالیٰ نے زمین پر اتارا ہے، پس تم اس کو اپنے درمیان خوب رواج دو، پس بے شک مسلمان آدمی جب کسی قوم کے پاس سے گزرے اور ان کو سلام کرے تو سلام کرنے والے شخص کو ان کے اوپر ایک درجہ فضیلت حاصل ہو گئی، کیوں کہ اس نے ان کو الله کا یہ نام یاد دلایا او راگر وہ اس کو جواب نہ دیں تو اس کو وہ ذات جواب دیتی ہے جوان سب سے بہتر اور پاکیزہ ہے۔“(مرقاة شرح مشکوٰة)

غرض یہ کہ”سلام“ الله تعالیٰ کی عظیم نعمت اور قیمتی عطیہ ہے، اگر ذرا غور کریں تو یہ اتنی بڑی نعمت ہے کہ جس کا کوئی حد وحساب نہیں، اب اس سے زیادہ ہماری بدنصیبی کیا ہو گی کہ اس اعلیٰ ترین کلمہ کو چھوڑ کر ہم اپنے بچوں کو ”گڈمارننگ“ اور”گڈایوننگ“ سکھائیں؟ اور دوسری قوموں کی نقالی کریں؟ اس نعمت کی اس سے زیادہ ناقدری اور ناشکری اور کیا ہو سکتی ہے؟

”سلام“ کے الفاظ او راس کا اجروثواب
افضل طریقہ یہ ہے کہ ملاقات کے وقت پوراسلام”السلام علیکم ورحمة الله وبرکاتہ“ کہا جائے، اگرچہ صرف ”السلام علیکم“ کہہ دینے سے بھی سلام کرنے کی سنت ادا ہو جائے گی، لیکن تین جملے بولنے میں زیادہ اجروثواب ہے۔

جیسا کہ حضرت عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم ایک مرتبہ مجلس میں تشریف فرما تھے کہ ایک شخص حضور صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا:”السلام علیکم“ آپ نے اس کے سلام کا جواب دیا، پھر وہ مجلس میں بیٹھ گیا تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”دس“ (یعنی اس بندے کے لیے اس کے سلام کی وجہ سے دس نیکیاں لکھی گئیں) پھر ایک اور آدمی آیا، اس نے کہا:”السلام علیکم ورحمة الله“ آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا ، پھر وہ آدمی بیٹھ گیا، تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:” بیس“ (یعنی اس کے لیے بیس نیکیاں لکھی گئیں) پھر ایک تیسرا آدمی آیا، اس نے کہا”السلام علیکم ورحمة الله وبرکاتہ“ آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا اور وہ مجلس میں بیٹھ گیا، تو آپ صلی الله علیہ نے فرمایا:”تیس“ (یعنی اس کے لیے تیس نیکیاں ثابت ہو گئیں)۔ (ابوداؤد شریف)

الله تعالیٰ کا یہ کریمانہ قانون ہے کہ اس نے ایک نیکی کا اجر اس آخری اُمت کے لیے دس نیکیوں کے برابر مقرر کیا ہے، قرآن پاک میں بھی فرمایا گیا:”من جاء بالحسنة فلہ عشر امثالھا․“ (سورة انعام:160)

یعنی جو شخص نیک کام کرے گا، اس کو کم سے کم اس کے دس حصے ملیں گے، یعنی ایسا سمجھا جائے گا گویا وہ نیکی دس بار کی اورنیز ایک ایک نیکی پر جس قدر ثواب ملتا، دس حصہ ویسے ثواب کے ملیں گے۔ (بیان القرآن)

واضح رہے کہ”سلام“ کا جواب دینے والا بھی اسی حساب سے اجروثواب کا مستحق ہوگا، یعنی”وعلیکم السلام“ کہنے پر دس نیکیاں اور”ورحمة الله“ کے اضافہ پر بیس نیکیاں اور ”وبرکاتہ“ کے اضافہ پر تیس نیکیاں ملیں گی۔

اس حدیث شریف سے سلام کے الفاظ بھی معلوم گئے کہ کن الفاظ سے سلام کرنا چاہیے، الفاظ کو بگاڑ کر سلام نہیں کرنا چاہیے۔ بعض لوگ اس طرح سلام کرتے ہیں کہ سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا الفاظ کہے، اس لیے پوری طرح واضح کرکے الفاظ بولنے چاہییں۔

امام نووی رحمہ الله نے فرمایا، افضل طریقہ یہ ہے کہ جمع کے صیغہ کے ساتھ اس طرح سلام کیا جائے:”السلام علیکم ورحمة الله وبرکاتہ“ چاہے مخاطب ایک ہی ہو اور جواب دینے والا ان الفاظ سے جواب دے:”وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاتہ“ یعنی شروع میں و اؤ عطف بھی لائے ۔ سلام کے کم سے کم الفاظ”السلام علیکم“ ہیں او راگر کوئی شخص ”السلام علیک“ یا”سلام علیک“ کہہ دے تو بھی سنت ادا ہو جاتی ہے اورجواب کے کم سے کم الفاظ ”وعلیکم السلام”وعلیک السلام“ ہیں اور بغیر واؤ کے ”علیکم السلام“ کہنا بھی درست ہے۔ (مرقاة شرح مشکوٰة)