بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سلام… اسلام کا اہم شعار

سلام… اسلام کا اہم شعار

مولانا عمران الله قاسمی

 

اسلام سراپا امن وسلامتی اور عافیت کا مذہب ہے، دنیا وآخرت کی مکمل فلاح وکام رانی اسی بابرکت دین سے وابستہہے ،سراپا امن وسلامتی سے عبارت اس دین برحق کی یہ امتیازی خصوصیت ہے کہ وہ اپنے ماننے والوں پر کبھی شدت وتنگی اور جبروتشدد کو روا نہیں رکھتا ہے، بلکہ ہر ممکن آسانی اور سہولت کا طریقہ اپناتا ہے، چناں چہ اس نے اپنے ماننے والوں کو زندگی کے ہر شعبہ سے متعلق احکامات سے آگاہ کیا ہے، اسلام جہاں اپنے ماننے والوں کو اعتقادات وعبادات کی تعلیم دیتا ہے، وہیں معاملات، معاشیات اوراقتصادیات کے آداب اور طریقے بھی بتلاتا ہے، غرض کوئی گوشہ نہیں ہے جس کے متعلق اسلام کے زریں احکامات دارد نہ ہوئے ہوں، باہمی اتحاد، آپس کے میل ملاپ او رایک اچھے معاشرے کی تشکیل کے لے ربط باہمی انتہائی ناگزیر ہے، اس لیے قرآن کریم نے متعدد مقامات پر اس کی اہمیت پر زور دیا او رایک دوسرے سے ملتے وقت کا طریقہ ادب بھی بتلایا ہے کہ جب دو مسلمان آپس میں ملاقات کریں تو حکم باری تعالیٰ کے بموجب آپس میں سلام کریں، یہ باہمی محبت والفت پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔

سلام کو رواج دینے کی فضیلت
سلام ایک اسلامی شعار ہے، جو آپس میں محبت پیدا کرکے بہت سی معاشرتی بیماریوں کو ختم کر دیتا ہے، سلام اظہار محبت و مودت اور رقت قلبی پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ اس کی وجہ سے غیظ وغضب سے بھرپور آنکھیں شرمگیں اور دشمن کا آہنی دل بہت جلد موم ہو جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ احادیث میں اس کی فضیلت واہمیت پر کافی روشنی ڈالی گئی ہے اور اس کے رواج پر جنت میں داخلہ کی بشارت بھی سنائی گئی ہے۔ ارشاد نبوی ہے:

”حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے! تم لوگ جنت میں داخل نہ ہوگے جب تک ایمان نہ لے آؤ اور تم مومن نہیں بن سکتے،جب تک آپس میں محبت نہ کرنے لگو، کیا میں تم کو ایسی بات نہ بتلا دوں جب تم اس کو کرنے لگو گے تو تمہارے درمیان محبت پیدا ہو جائے گی؟ اپنے مابین سلام کو عام کرو۔“ (جامع الترمذی)

مذکورہ روایت میں حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم نے قسم کھا کر اس بات کا یقین دلایا کہ جنت میں داخلہ ایمان پر معلق ہے اور کمال ایمان باہمی ہم دردی محبت ومودت پر معلق ہے، جب تک باہمی الفت وہم دردی نہ ہو، ایمان کامل نہیں ہوسکتا، پھر ایک عجیب پیرایہ میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے باہمی ہم دردی، الفت ومحبت کے پیدا کرنے کا ایک عمدہ طریقہ بھی بتلایا کہ اپنے درمیان سلام کو رواج دو، اس سے محبت پیدا ہو گی، اس روایت کی رو سے جنت میں داخلہ بالواسطہ سلام کے رواج دینے پر مبنی ہے۔

ایک اور روایت میں ارشاد نبوی صلی الله علی صاحبہ وسلم ہے:
”حضرت عبدالله بن سلام رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم مدینہ تشریف لے آئے تو لوگ سیلاب کی طرح تیزی سے آپ صلی ا لله علیہ وسلم کے پاس جمع ہونے لگے اور ہر طرف سے یہ آواز سنائی دے رہی تھی کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم تشریف لے آئے تو میں بھی لوگوں کی بھیڑ میں وہاں پہنچگیا، تاکہ آپ کو دیکھ لوں، جب آپ کا چہرہ میرے سامنے ظاہر ہو ا تو میں نے پہچان لیا کہ آپ صلی الله علیہ و سلم کا چہرہ کسی جھوٹے کا چہرہ نہیں ہے اور سب سے پہلے جو بات آپ نے ارشاد فرمائی وہ یہ ہے کہ :”اے لوگو!اسلام کو پھیلاؤ اور کھانا کھلاؤ او رنماز پڑھا کرو ایسے وقت میں جب کہ لوگ سو رہے ہوں ، تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔“ (جامع الترمذی)

مدینہ طیبہ پہنچنے کے بعد آپ صلی الله علیہ وسلم نے جو سب سے پہلی تقریر کی، اس میں تین باتوں کا خاص اہتمام فرمایا، جن میں سب سے پہلے سلام کو رواج دینا ہے کہ جس سے بھی ملاقات ہو اس کو سلام کیا جائے، چاہے جان پہچان کا ہو یانہ ہو، ہر ایک کو سلام کرے، اس سے آپس میں محبت اور تعلق پیدا ہوتا ہے اور دوسرا کام لوگوں کو کھانا کھلانا ہے، مہمانوں، غریبوں اور ضرورت مندوں، اپنوں، اجنبیوں کو کھانا کھلانا اور تیسرا کام یہ ہے کہ تم اس حالت میں نماز پڑھو جب لوگ غفلت کی نیند سو رہے ہوں، یہ یکسوئی کی عبادت الله کو بہت پسند ہے، یہ تینوں ایسے خوش نصیبی کے کام ہیں جن کے سبب سلامتی کے ساتھ جنت میں داخلہ نصیب ہو گا، سلام کی اہمیت وفضیلت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ جنت میں سلام بکثرت سننے کو ملے گا۔ متعدد آیات میں سلام کے سننے کا مضمون وارد ہوا ہے۔

ارشاد باری تعالی ٰ ہے:
ترجمہ:”سلام بولنا ہے پرورگار رب رحیم کی طرف سے۔“ (سورة یس)

ایک اور جگہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ:”اور نہیں سنیں گے وہاں فضول اور لغوبات، مگر ہر طرف سے سلام ہی سلام کی آواز آئے گی۔“ (واقعہ:25)

مذکورہ آیات میں اہل جنت کے لیے بھی سلام کا تذکرہ ہے، جو اس کی فضیلت واہمیت کو بتلاتا ہے۔

سلام میں پہل کرنے کی فضیلت
سلام چوں کہ ایک متبرک اور دعائیہ کلمہ ہے، سلام کرنے والا اپنے ساتھی کو یہ اطمینان دلاتا ہے کہ تم میرے ہاتھ پیر، اعضا وجوارح، حتی کہ زبان سے بھی جانی ومالی ہر اعتبار سے مامون ہو، گویا سلام اظہار ہم دردی کے ساتھ ادائے حق بھی ہے کہ سلام کرنے والا اپنے مومن بھائی کے لیے خیر وبقا کی دعا کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ ملاقات کے وقت سلام میں پہل کرنے والے کے لیے احادیث میں بہت فضیلت وارد ہوئی ہے۔

ارشاد نبوی صلی الله علی صاحبہ وسلم ہے:
”حضرت ابو امامہ رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگوں میں الله رب العزت کی رحمت کے قریب وہ شخص ہے جو سلام میں پہلے کرے۔“ (مشکوٰة المصابیح)

ایک اور روایت میں نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے: حضرت ابو امامہ رضی الله عنہ سے مروی ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا گیا: یا رسول الله! جب دو آدمی ملاقات کریں تو ان میں سے کون سلام میں پہل کرے؟ تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے جواب میں ارشاد فرمایا:” جو ان دونوں میں الله کی رحمت کے سب سے زیادہ قریب ہے۔“ (جامع الترمذی)

مطلب یہ ہے کہ جس آدمی کو الله تعالیٰ کی رحمت سے قرب حاصل کرنا ہو اور رحمت خدا وندی سے زیادہ حصہ چاہتا ہو، وہ ملاقات کے وقت سلام میں پہلے کرے، وہ دوسرے کی بہ نسبت الله تعالیٰ کی رحمت کے زیادہ قریب ہو گا، دونوں روایات میں ابتدا بالسلام کو رحمت سے قرب حاصل کرنے کا سبب بتلایا گیا ہے، جس سے سلام کی اہمیت وفضیلت ظاہر ہوتی ہے، اسی طرح ایک روایت میں ارشاد ہے :” البادی بالسلام بریٴ من الکبر“ (سلام میں ابتدا کرنے والا کبر سے بری ہے) یہ روایت بھی سلام کی فضیلت کو بتلاتی ہے۔

سلام کرنے کا اجروثواب اور جواب کا طریقہ
سلام کو رواج دینے کے بارے میں بڑی فضیلت آئی ہے، ماقبل کی تمام روایات سلام کی فضیلت کو بتلاتی ہیں، ایک اور روایت میں سلام کی فضیلت اور اس پر اجروثواب کا مضمون وارد ہے۔

”حضرت عمران بن حصین رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے ”السلام علیکم“ کہا اور بیٹھ گیا، آپ صلی ا لله علیہ وسلم نے اس کا جواب دیا اور فرمایا: اس کے لیے دس نیکیاں ہیں، پھر دوسرا آدمی آیا اور اس نے ”السلام علیکم ورحمة الله“ کہا آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس کو جواب دینے کے بعد فرمایا: اس کے لیے بیس نیکیاں ہیں، پھر ایک اور آدمی آیا، اس نے: ”السلام علیکم ورحمة الله وبرکاتہ“ کہا تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا اور فرمایا: اس کے لییتیس نیکیاں ہیں۔“ (جامع الترمذی)

مذکورہ روایت میں حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ہر شخص کے لیے ثواب کی ایک مقدار مقرر فرمائی اور جس شخص نے جس قدر اچھے انداز میں سلام کیا، آپ صلی الله علیہ وسلم نے اسی کے بقدر اس کے لیے نیکیوں کی تعیین فرمائی۔ معلوم ہوا کہ سلام کرنے والے کا اجروثواب اس کے طریقہ سلام پر موقوف ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ اپنے ملنے والے کو اچھی طرح سلام کرے، تاکہ زیادہ سے زیادہ نیکیوں کا مستحق ہوسکے اور رہا جواب دینے والے کا معاملہ؟ تو یاد رہے کہ سلام کرنا مسنون ہے، مگر اس کا جواب دینا واجب ہے اور قرآن کریم کے فرمان کے مطابق جواب یا تو سلام کے ہی مقدار او رمعیار کا ہو، یعنی اس کے مثل ہو یا پھر اس سے بہتر ہو، قرآن کریم میں الله تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے :

ترجمہ:” جب تمہیں سلام کیا جائے توتم اس سے بہتر سلام کرو یا اس کو لوٹا دو۔“ (النساء:86)

اس آیت کے بموجب جواب سلام سے عمدہ اور بہتر ہونا چاہیے، جواب دینے والے کو اپنے انداز، طریقے اور الفاظ کے ذریعہ جواب کو عمدہ بنانا ضروری ہے، اگر اتنا نہ کرسکے تو کم از کم اسی قدر جواب دے دے جن الفاظ کے ساتھ اس کو سلام کیا گیا ہے، سلام کے جواب کے سلسلہ میں صاحب روح المعانی نے نہایت عمدہ طریقہ بتلایا ہے، فرماتے ہیں:

”یعنی ایسے سلام کے ساتھ جواب دو جو اس سلام سے بہتر ہو، جو تم کو کیاگیا ہے، بایں طور کہ تم کہو:”وعلیکم السلام ورحمة الله“ اگر مسلمان بھائی نے صرف اول پر اکتفا کیا ہو، اور برکاتہ بھی بڑھا دو، اگر اس نے دونوں کو جمع کر دیا ہو اور یہ سلام کے الفاظ کی انتہا ہے ( اگر کوئی وبرکاتہ بھی سلام میں کہہ دے) تو جواب میں اسی پر اکتفا کافی ہو گا، اضافے کی ضرورت نہیں۔“ (روح المعانی)

سلام کرنا مسنون ہے، مگراس کا جواب دینا واجب ہے اور قرآن کے فرمان کے مطابق جواب عمدہ ہونا چاہیے، جیسا کہ اس کا طریقہ اوپر بیان کیا گیا ہے، آج کل جواب دینے میں بڑی کوتاہی سے کام لیا جاتا ہے، جو قرآن کریم کے فرمان کی کھلی خلاف ورزی ہے، جس سے جس قدر بھی ممکن ہو احتیاط لازم ہے۔

سلام کے آداب اور اس کے مواقع
احادیث شریفہ میں سلام کے مواقع اور اس کے آداب بکثرت وارد ہوئے ہیں،جن کا لحاظ کرنا انتہائی ضروری ہے:
جب دو آدمی آپس میں ملاقات کریں تو بات چیت شروع کرنے سے پہلے سلام کریں۔ (جامع الترمذی) راستہ چلنے والا بیٹھے ہوئے کو سلا م کرے۔ (جامع الترمذی) سورای پر چلنے والا پیدل چلنے والے کو سلا م کرے۔ (جامع الترمذی) کم تعداد والی جماعت بڑی تعداد کو سلام کرے۔ (جامع الترمذی) چھوٹا بڑے کو سلام کرے۔ (جامع الترمذی) گھر میں داخلہ کی اجازت سے قبل سلام کرے۔ جب سلام کرے تو زور سے سلام کرے، تاکہ مخاطب سن لے، اشارہ وغیرہ سے سلام نہ کرے۔

یہ مذکورہ تمام وہ آداب ہیں جوروایات سے ثابت ہیں، اس کے علاوہ اور بھی بہت سے آداب ہیں، سلام کرتے وقت جن کا خیال رکھنا نہایت ضروری ہے۔ مثلاً کوئی شخص کسی کام میں مشغول ہو اور یہ اندازہ ہو کہ سلام کرنے سے اس کے کام میں خلل واقع ہو گا تو ایسی صورت میں اس کو سلام کرنا درست نہیں، بلکہ اس کے فارغ ہونے کا انتظار کرنا چاہیے، مثلاً کوئی آدمی نماز میں مشغول ہے یا ذکر کر رہا ہے یا وعظ ونصحیت میں مشغول ہے یا خطبہ وتقریر سن رہا ہے یا قرآن کریم کی تلاوت کر رہا ہے یا اذان دے رہا ہے یا قاضی ومفتی کسی فیصلے یا مسئلہ بتانے میں مشغول ہے یا کھانے پینے میں مصروف ہے یا قضائے حاجت یا پیشاب کرنے میں مشغول ہے یا غسل خانہ میں ہے، یا وضو کر رہا ہے یا دعا مانگ رہا ہے یا اسی طرح کسی اور کام میں مصروف ہے تو ایسے آدمی کو سلام کرنا مکروہ ہے، اگر کوئی اس حالت میں ان لوگوں کو سلام کرے تو ان پر جواب دینا واجب نہیں۔ (آداب وملاقات)

مذکورہ تمام باتیں روایات احادیث سے ثابت ہیں، ایک روایت میں اس طرح کا مضمون بیان کیا گیا ہے کہ سلام اس انداز سے کیا جائے جس سے دوسرے کو تکلیف نہ ہو اور اس کو کسی طرح کا حرج واقع نہ ہو، ارشاد گرامی ہے:
”حضرت مقداد بن اسود رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم رات کو تشریف لاتے تو اس طرح آہستہ سے سلام کرتے کہ سونے والے نہ جاگتے او رجاگنے والے اس کو سن لیتے۔“

مذکورہ روایت میں آپ صلی الله علیہ وسلم کا طرز عمل تمام امت کے لیے ایک بہترین نمونہ ہے، جو سلام کرنے والے کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ سلام کرتے وقت اپنے مخاطب کے حالات کی رعایت رکھنا انتہائی ضروری ہے۔

سلام جو اتنی فضیلت واہمیت کا حامل ہے اور قرآن کریم نے جس کا امر فرمایا ہے، اسی طرح نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے بھی اپنی تعلیمات میں اس پر نہایت زور دیا ہے، اس سے غفلت برتنا کسی طرح مناسب نہیں، اس میں کوتاہی برتنا سنت نبوی صلی الله علی صاحبہاوسلم کی خلاف ورزی اور خود کو ثواب سے محروم رکھنا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ اس شعار دین کو زیادہ سے زیادہ رواج دے کربار گاہ ایزدی میں تقرب حاصل کرے۔