بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سب سے زیادہ یقینی شے

سب سے زیادہ یقینی شے

مولانا عبدالماجد دریا آبادی

آپ کے تعلقات اگر وسیع ہیں تو اور اگر نہیں وسیع ہیں تو بھی اب تک آپ تک آپ کے کتنے دوست اور عزیز، آپ کی نظروں کے سامنے اس دنیا سے کوچ کرچکے ہیں؟ کیسے توانا تن درست جوان، کیسے کیسے کسرتی پہلوان، کیسے کیسے نو عمر ونازک اندام نونہال، کیسے کیسے ہنستے کھیلتے، جن کی موت کبھی آپ کے وہم وگمان میں بھی نہآتی ہوگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے چل بسے ہیں۔ نامور علماء جن کے علم وفضل کی شہرت سے ملک کی فضا گونج رہی تھی، ممتاز مصنفین جن کے قلم کی ایک ایک سطر کے لیے شوق وعقیدت کی آنکھیں کھلی رہتی تھیں، مشہور سرداران قوم ، جن کے ہر نقش قدم کو آنکھوں سے لگانے کے لیے لاکھوں کروڑوں منتظر رہتے تھے،مقتدر بزرگان دین، جن کے زہد وتقویٰ پر انسانیت کو ناز تھا، پلیتن، جو رستم وسہراب کا نام روشن کیے ہوئے تھے، محبت کرنے والے شوہر، جاں نثار کرنے والی بیوی، مامتا کی ماری ماں، سعادت مند فرزند، خدمت گزار بیٹی،جگری دوست، ان سب کے بے سامان وگمان یک بیک اٹھ جانے کی دردناک او رجگر خراش مثالیں کثرت سے آپ کی نظر سے گزر چکی ہیں۔

پھر یہ کیا ہے؟ یہ سب کچھ جاننے کے بعد، یہ سب کچھ سمجھنے کے بعد، یہ سب کچھ دیکھنے کے بعد بھی آپ بدستور اسی طرح غفلت، بے فکری اور بے حسی میں پڑے ہوئے ہیں! آپ زبان سے اقرار کرتے ہیں کہ موت کا کوئی وقت مقرر نہیں، ہر جگہ ، ہر وقت، ہر لمحہ، ہر گھڑی، ہرانسان کو موت کا نہ ٹل سکنے والا پیام پہنچ سکتا ہے۔ لیکن اپنے دل میں ،اپنی موت کو، آپ کبھی، اپنے قریب نہیں پاتے ہیں! موت جب آن پہنچتی ہے تو نہ جوان کو چھوڑتی ہے، نہ بوڑھے کو، نہ بچے کو، نہ نیک کو، نہ بد کو، نہ تن درست کو، نہ بیمار کو، دوسروں کی مثالیں دیکھ دیکھ کر مجبوراً آپ کو یہ کلیہ قائم کرنا پڑتا ہے، لیکن اس کلیہ سے اپنی ذات گرامی، اپنے وجود عزیز، اپنی جان شیریں کو آپ ہمیشہ مستثنیٰ کر لیتے ہیں! فلاں امتحان، فلاں سال پاس کریں گے، فلاں سال تک اتنا روپیہ جمع کر لیں گے، فلاں سال لڑکے کی شادی کریں گے، ۔ فلاں سال فلاں سفر کریں گے، فلاں سال فلاں عہدہ سے پنشن لیں گے، فلاں سال اس قدر جائیداد خریدیں گے۔ فلاں سال کاروبار سے اتنا نفع حاصل کریں گے۔

موت او رپھر” بے وقت “ موت کی گرم بازاری آپ ہر وقت دیکھتے ہیں او رپھر آپ کا ذہن ہر وقت اسی قسم کے منصوبے باندھتا رہتا ہے۔

قریب آرہا ہے وہ وقت، جب آپ دوسروں کے مکان پر نہیں، دوسرے آپ کے مکان پر تعزیت کے لیے جمع ہوں گے، جب آپ کا بے حس وحرکت برف سا ٹھنڈا جسم، کھڑے تخت پر غسل کر لیے پڑا ہو گا، جب آپ اس درجہ بے بس ہو جائیں گے کہ خود بے کسی اور بے بسی کوبھی آپ پر رحم آجائے گا،جب آپ کے بچے بلبلا بلبلا کر آپ کو پکاریں گے اور آپ اشارہ تک نہ کرسکیں گے، جب آپ کی پیاری بیوی آپ کے غم میں روتے روتے دیوانی ہو جائے گی۔ اور آپ اس کا ایک آنسو بھی نہ خشک کر سکیں گے۔جب آپ کے بوڑھے والدین بچھاڑیں کھا کھا کر گریں گے اور آپ انہیں مطلق تسلی نہ دے سکیں گے، جب آپ کا جسم چارپائی پر ڈال کر اٹھایا جائے گا۔ جب دوسرے آپ پر نماز جنازہ پڑھیں گے، جب آپ ایک تنگ وتاریک گڑھے میں ڈال دیے جائیں گے،جب آپ ہزاروں من مٹی کے نیچے دبے ہوں گے، قریب آرہا ہے وہ وقت، بہت قریب آگئی ہے وہ گھڑی، آن پہنچی ہے، وہ نہ ٹلنے والی ساعت، آپ اپنی”دلچسپ وشگفتہ“ مجلسوں میں ”پرلطف“ جلسوں میں کبھی بھی اس وقت کو، جب ان چہچہوں اور قہقہوں پر محض افسوس ہی افسوس ہو گا، یاد کر لیتے ہیں؟