بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

سال نوکاپیغام

سال نوکاپیغام

مفتی محمد عبدالله قاسمی

محرم الحرام اسلامی کیلنڈرکاپہلامہینہ ہے،یہ آپ صلی الله علیہ وسلم اورصحابہ کرام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کے واقعہ ہجرت کی یادگارہے،تیرہ سالہ مکی دورمسلمانوں کے لیے بڑاپرآشوب اورمہیب دورتھا،مصائب کے ہجوم اورستم گاریوں کے تلاطم نے مسلمانوں کی زندگی کواجیرن کررکھاتھا، کفارمکہ کے لرزہ خیزمظالم کے شعلے مسلمانوں کے صبروتحمل کے خرمن کوآگ لگارہے تھے،ان کے ظلم وجبرکی چکی میں ضعیف مسلمان پس رہے تھے،تیرہ سال تک مکہ میں نبوت کابادل پیہم برستارہااوراسلام کی تخم ریزی کی جاتی رہی؛ لیکن وہاں کی سرزمین بنجر اورغیرصالح ثابت ہوئی ،چناں چہ معدودے چندلوگوں کے سواکوئی اسلام میں داخل نہیں ہوا،ایسے زہرہ گدازاورشکیب رباحالات میں اللہ تبارک وتعالی نے صحابہ کرام کومکہ سے ہجرت کرنے کاحکم دیا۔

اسلامی تاریخ کے جلو میں بے شمارایسے تاریخ سازواقعات موجودتھے جن میں سے کسی ایک کواسلامی تقویم کی بنیادبنایا جاسکتاتھا،رحمة للعالمین صلی الله علیہ وسلم کی ولادت باسعادت ایک انقلاب آفریں واقعہ تھا،جس سے گلستان انسانیت میں بہارآئی اورظلمت وتاریکی چھٹ گئی،آپ صلی الله علیہ وسلم کی بعثت سے توحید وایمان کی روشنی جلوہ گرہوئی اورکفروشرک کی بساط لپیٹ دی گئی۔فتح مکہ کاواقعہ تاریخ اسلام کے گلشن میں گل سرسبدکی حیثیت رکھتاہے، جس کی مہک آج تک دل ودماغ کوعطربیزکرتی ہے ،مکہ کی فتح صرف مسلمانوں کی ظاہری فتح نہیں تھی ،بلکہ یہ سارے عرب میں اسلام کے پھیلنے اورمسلمانوں کی غلبہ کی تمہیدتھی،یہ صرف محدود خطے پرمسلمانوں کی بالادستی نہیں تھی ،بلکہ حق کے مقابلے میں باطل طاقتوں کی شکست اورپسپائی تھی ،لیکن عہدفاروقی میں صحابہ کرام …جن میں سے ہرفردگلستان انسانیت کاگل سرسبداورنوع انسانی کے لیے باعث شرف وافتخار تھا…نے اجتماعی غوروخوض سے واقعہ ہجرت پراسلامی تقویم کادارومداررکھا،چناں چہ میمون بن مہران کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمرفاروق کے سامنے ایک خط پیش کیا گیا،جس میں شعبان کامہینہ درج تھا،آپ نے فرمایا:کونسا شعبان ؟سال گزشتہ کایا سال رواں کایاآئندہ سال کا؟لوگوں کے لیے کسی سن کی تعیین کروتاکہ ان کومعلوم رہے۔ (فتح الباری :7/268)بعض تاریخی روایتوں سے معلوم ہوتاہے کہ حضرت ابوموسی اشعری  ،جویمن کے گورنرتھے، نے حضرت عمرفاروق کولکھاکہ ہمارے نام آپ کی طرف سے ایسی دستاویزات آتی ہیں جن پرتاریخیں درج نہیں ہوتی ہیں،حضرت عمرنے صحابہ کرام کوجمع کیااوران سے مشورہ طلب کیا،بعض صحابہ نے یہ رائے دی کہ بعثت سے سن کاآغازہو،بعض صحابہ کرام نے کہا:ہجرت حق اورباطل کے درمیان فرق کرنے والی ہے ،لہٰذااسی سے تاریخ کاآغازکیا جائے،جب واقعہ ہجرت سے اسلامی سال کاآغازکرنے پراتفاق ہوگیاتوتعیین ماہ پرمشاورت ہوئی،کسی نے کہاکہ ماہ رجب سے اسلامی سال کاآغازکیا جائے،بعض حضرات نے رمضان المبارک سے سال کاآغازکرنے کی تجویزپیش کی ،حضرت عثمان غنی نے فرمایاکہ محرم سے سال کی ابتداکی جائے،کیوں کہ وہ محترم مہینہ ہے،اسی مہینے میں لوگ سفرحج سے واپس ہوتے ہیں،حضرت عمرفاروق  اوردیگراکابرصحابہ نے اس بات پراتفاق کرلیااورماہ محرم سال کاپہلامہینہ قرارپایا،حالاں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے 27/صفرکومکہ سے ہجرت فرمائی،بعض حضرات نے یہ توجیہ پیش کی ہے کہ بیعت عقبہ ثانیہ جودراصل واقعہٴ ہجرت کی تمہیداوراس کامقدمہ ہے ماہ ذی الحجہ میں پیش آئی،اس مہینے کے بعدپہلاچاندمحرم ہی کانظرآیااوراسی مہینے میں سرکاردوعالم صلی الله علیہ وسلم نے ہجرت کاارادہ فرمالیاتھا۔

واقعہ ٴ ہجرت میں امت مسلمہ کے لیے بہت سے سبق آموزاورعبرت آموزپہلوہیں،سال نوکے موقع پران کااستحضارکرنااوران کواپنی عملی زندگی میں برتناازحدضروری ہے، مدینہ منورہ ہجرت کرنے سے قبل مسلمانوں کے جو دگرگوں حالات تھے ان پرایک نظردوڑائیے! قیدوبندکی صعوبتیں،آہ وکراہ اوردردوالم کی حکایتیں،خاک وخون کے فسانے ،سلسلہ وارمصیبتوں کاہجوم ،ستم گاریو ں کاتلاطم… یہ وہ نمایاں نقوش ہیں جن سے تیرہ سالہ مکی زندگی کامرقع تیارہوتاہے،لیکن کیامسلمانوں نے طاغوتی طاقتوں کے سامنے ہتھیارڈال دیے ؟ کیاصحابہ کرام نے حالات سے مجبورہوکرشکست اورذلت وناکامی کوگلے لگالیا؟کیافرزندان توحید نے بتان آزری کے علم برداروں کے سامنے اطاعت وفرماں برداری ،تسلیم ورضااورخودسپردگی کانمونہ پیش کیا؟نہیں اورہرگزنہیں!بلکہ وہ خوف ناک اورجاں گسل حالات میں حق پرثابت قدم رہے اوران کے پائے ایمان میں ذرابرابرلغزش نہیں آئی،کفارمکہ کی مسلسل چیرہ دستیوں اورظالمانہ کارروائیوں سے ان کے دلوں میں ایمان ویقین کی دبی ہوئی چنگاری فرو کیاہوتی؛بلکہ شعلہ جوالہ بن گئی ،تیزوتندآندھی اورخوف ناک تھپیڑوں سے ان کاسفینہ عمل ڈوبانہیں ؛بلکہ مسلسل اپنے منزل مقصود کی جانب محو سفر رہا،مشرکین مکہ کے بیش بہاانعامات اورپرکشش ترغیبات نے انہیں متاثر نہیں کیا ؛بلکہ انہوں نے حقارت سے ٹھکراکرسیم وزرکے پرستاروں کوحیرت زدہ کردیا،دشمنان اسلام کے تیروتفنگ اورشمشیروسنان سے گوان کے جسم چھلنی اورلہولہان ہوگئے ؛لیکن انہوں نے اپنے دین وایمان پرکسی قسم کی آنچ نہیں آنے دی ،حق کی سربلندی کی خاطرانہوں نے جان کانذرانہ توپیش کردیا؛لیکن باطل کے سامنے جھکنا لمحہ بھرکے لیے گوارانہیں کیا۔کیا دنیا دین وحق کی خاطر ایسی قربانی ،جگرکاوی ،جان نثاری ،وفاشعاری کی مثال پیش کرسکتی ہے ؟کیاکسی مذہب کے پیروکاریہ دعوی کرسکتے ہیں کہ ہمارے اسلاف نے دین کے لیے ایسے فدائیانہ کارنامے اورسرفروشانہ کوششیں کی ہیں ؟جب صحابہ کرام خدائی امتحان میں کھرے اترے اورابتلاآزمائش کی چقماق نے ان کے ایمان ویقین کوفولادکی طرح سخت اورمضبوط بنادیا،آتش وآہن کی بارش نے ان کے ارادے کوصلابت وکرختگی اوران کے حوصلوں کوطاقت وقوت دی ،تواللہ تبارک وتعالی نے ان کو ہجرت کے چندسالوں کے بعد دنیاکی امامت وقیادت عطاکی اورپوری دنیاان کے سامنے سرنگوں ہوگئی ،شاہان عجم کے تاج زرنگاراوران کے ہیرے جواہرات صحابہ کرام  کے قدموں میں آگئے،قیصروکسری کے دربارکی چمک دمک ان خرقہ پوشوں کے رعب ودبدبہ سے ماندپڑگئی،بزم کافری کے نقیب ان سادہ لوح مسلمانوں کے نام سے تھرانے اورکانپنے لگے اورپوری دنیا پرمسلمان چھاگئے اورسارے عالم میں ان کومرجعیت عام اورمقتدایانہ حیثیت حاصل ہوگئی ۔

آج عالمی سطح پرمسلمانوں کے احوال کاجائزہ لیاجائے توکم وبیش مکی زندگی کانقشہ نظرآتاہے،فلسطین میں معصوم بچوں کاخون بہایاجارہاہے، عورتوں پر دست درازی کی جارہی ہے،بوڑھوں اورکمزوروں کو ستایاجارہاہے ، نوجوانوں کو پابہ زنجیرپس دیوارزنداں کیا جارہاہے،آتش وآہن کی بارش سے وہاں کی فلک بوس عمارتوں کوپیوندخاک کیا جارہاہے، غزہ پٹی میں محصورمسلمان علاج ومعالجہ اوردیگربنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، اورسخت قیدوبندکی زندگی گزاررہے ہیں،مسجداقصی… جومسلمانوں کاقبلہٴ اول ہے اورانبیاء ورسل کامسکن ومدفن ہے، جہاں ملائکہ مقربین بھی عقیدت واحترام میں آہستہ پرمارتے تھے ،جہاں کبھی تکبیروتہلیل اورتسبیح وتحمید کے روح پرورزمزمے گونجتے تھے ، اورجس کی فرش پر مقدس ہستیاں سجدہ ریز ہوتی تھیں … آج اس میں دھتکاری یہودی قوم کے منحوس فوجیوں کے غلیظ اوربدبودارنعرے تعفن پھیلاتے ہیں،یہود بے بہبودکے قدم انبیاء ورسل کے نقش ہائے پاکو روندرہے ہیں ،آج یہ بابرکت مسجد اپنوں کی بے گانگی اوربے رخی پر ماتم کناں ہے،وہاں کے درودیوار صہیونیوں کے دل دوزمظالم پرنوحہ کناں ہیں،وہاں کے منبر ومحراب مسلمانوں کی بے بسی اورلاچاری پر مرثیہ خواں ہیں اورعالم اسلام کے سربراہوں کی مجرمانہ خاموشی پرشکوہ سنج ہیں،کچھ یہی حال برماکے مسلمانوں کابھی ہے،وہاں بدھسٹوں کی طرف سے مسلمانوں کاقتل عام کیاجارہاہے،مسلمانوں کی شہریت منسوخ کرکے ان کوجلاوطن ہونے پرمجبورکیا جارہاہے،وہاں مسلمانوں کے ساتھ دوسرے درجہ کے شہریوں جیساسلوک کیاجاتاہے،اگرکوئی مسلمان گھربناناچاہے یاشادی کرناچاہے توسرکاری ادارے سے باقاعدہ اجازت لیناضروری ہے،ان سنگین حالات سے مجبوراورپریشان ہوکرلاکھوں مسلمان برماسے ہجرت کرکے دوسرے ممالک کارخ کررہے ہیں اوران کاکوئی پرسان حال نہیں ہے،ہندوستانی مسلمانوں کاحال بھی کچھ حوصلہ افزااورقابل اطمینان نہیں ہے ،یہاں دشمنان اسلام اورفرقہ پرست طاقتیں اسلام اورمسلمانوں کوزک پہنچانے کے لیے متحد ہوگئی ہیں ، اسلامی تہذیب وثقافت سے میل نہ کھانے والی چیزوں کو مسلمانوں پر زبردستی تھوپاجارہاہے، یوگا، سوریہ نمسکار جیسی خالص ہندوانہ تہذیب کو اختیارکرنے کے لیے مسلمانوں کو مجبور کیا جارہاہے ، گھر واپسی جیسے دل آزارنعروں کے ذریعہ مسلمانوں کے مذہب کو بدلنے کی کوششیں کی جارہی ہیں ،گاؤ ذبیحہ پر بابندی عائدکی جاچکی ہے ،بے قصور مسلم نوجوانوں کوبے جاالزامات لگاکرپس دیوارزنداں کیا جارہاہے ،مسلمانوں سے رائے دہندگی کا حق چھیننے کی سازش کی جارہی ہے ، چہارسو مسلم دشمنی کا بیج بویاجارہاہے ۔

واقعہٴ ہجرت
جس کواسلامی تقویم کانقطہٴ آغازقراردیاگیاہے … عصرحاضرمیں زخم خوردہ امت مسلمہ کے لیے تریاق اورمرہم کی حیثیت رکھتاہے،واقعہٴ ہجرت مظلوم اورستائے ہوئے مسلمانوں کے لیے امیدکی کرن ہے،ہرسوچھائی ہوئی تاریکی میں صبح نوکی بشارت ہے ، واقعہٴ ہجرت میں مسلمانوں کے لیے یہ پیغام ہے کہ دشمنان اسلام کی طرف سے پیداکردہ مشکلات سے مایوس اورناامیدہونے کی ضرورت نہیں ہے،دشمنان اسلام شمع اسلام کوبجھانے کی لاکھ کوششیں کرلیں اسلام ہمیشہ سربلندرہے گا،یہ لوگ اسلام اورمسلمانوں کے خلاف لاکھ سازشوں کے جال بن لیں وہ اسلام اورمسلمانوں کابال بیکانہیں کرسکتے ،لیکن ایسے جاں گسل اورمہیب دورمیں یہ ضروری ہے کہ مسلمان خدائے وحدہ لاشریک لہ سے اپناتعلق مضبوط کریں، اپنے قیمتی سرمایہ ایمان وتوحیدکی حفاظت کریں،قرآن وسنت کی تعلیمات وہدایات کومضبوطی سے تھامیں، اعمال صالحہ :نماز ، روزہ ،زکاة وغیرہ کی ادائیگی میں سستی وسہل انگاری کامظاہرہ نہ کریں،اپنے اخلاق وکردارکے بام ودرکوگلشن سیرت کے عطربیزپھولوں سے مہکائیں،اپنی اوراپنی اولادکی زندگی کوشریعت کے رنگ میں رنگنے کامضبوط عزم کریں،غیرمسلموں میں دعوت دین اوراشاعت اسلام… جوامت محمدیہ کاامتیازہے،اورکام یابی وکامرانی کی شاہ کلیدہے… کرنے کاپختہ ارادہ کریں، حکم ران طبقہ سے دردمندانہ گزارش ہے کہ وہ خداکے لیے اپنے ذاتی مفادات کے خول سے باہرآئیں،عیش کوشی اورلذت پسندی کوچھوڑکرفلسطینی مسلمانوں کے تحفظ کے لیے ٹھوس اقدامات کریں، اگرمسلمان ان باتوں پرعمل کرنے کے لیے تیارہوتے ہیں توان شا ء اللہ ہرسوچھائی ہوئی ذلت ونکبت دورہوگی اوراس طرح مسلمان اپنے کھوئے ہوئے وقارکوبحال کرسکتے ہیں۔