بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

روزے کا مقصد

روزے کا مقصد

ضبط و تحریر: ابوعکاشہ مفتی ثناء الله خان ڈیروی
استاد ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف جامعہ فاروقیہ کراچی

حضرت مولانا عبیدالله خالد صاحب مدظلہ العالی ہر جمعہ جامعہ فاروقیہ کراچی کی مسجد میں بیان فرماتے ہیں۔ حضرت کے بیانات ماہ نامہ ”الفاروق“ میں شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے ،تاکہ”الفاروق“ کے قارئین بھی مستفید ہو سکیں۔ (ادارہ)

الحمدلله نحمدہ، ونستعینہ، ونستغفرہ، ونؤمن بہ، ونتوکل علیہ، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، ومن سیئات أعمالنا، من یھدہ الله فلا مضل لہ، ومن یضللہ فلا ھادي لہ، ونشھد أن لا إلہ إلا الله وحدہ لاشریک لہ، ونشھد أن سیدنا وسندنا ومولانا محمداً عبدہ ورسولہ، أرسلہ بالحق بشیرا ونذیرا، وداعیاً إلی الله بإذنہ وسراجاً منیرا․

أما بعد: فأعوذ بالله من الشیطٰن الرجیم، بسم الله الرحمن الرحیم․

﴿قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَکَّیٰ، وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہِ فَصَلَّیٰ، بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَیَاةَ الدُّنْیَا، وَالْآخِرَةُ خَیْرٌ وَأَبْقَیٰ،إِنَّ ہَٰذَا لَفِی الصُّحُفِ الْأُولَیٰ،صُحُفِ إِبْرَاہِیمَ وَمُوسَیٰ﴾․(سورة الاعلیٰ، آیت:19-14)

صدق الله مولانا العظیم․

میرے محترم بھائیو، بزرگو اور دوستو! میں کئی مرتبہ یہ بات عرض کر چکا ہوں کہ فرائض اسلام، جن میں نماز ، روزہ ، حج اور زکوٰة ان تمام فرائض کی اپنی الگ الگ شکلیں ، صورتیں اور خصوصیات ہیں، نماز کی شکل ، روزے جیسی نہیں ،روزے کی شکل حج جیسی نہیں، حج کی شکل زکوٰة جیسی نہیں، سب کی شکلیں الگ ہیں، جیسے ان تمام فرائض کی شکلیں اور صورتیں الگ الگ ہیں، ایسے ہی ان سب میں سے ہر ایک کی جو خصوصیت اور تاثیرہے ،وہ بھی الگ ہے ۔

چناں چہ ہم روزے رکھ کر آرہے ہیں، تو روزے کی جو شکل ہے وہ یہ ہے کہ آپ انتہائے سحر پر اپنا منھ بند کر لیں، اب نہ کھا سکتے ہیں، نہ پی سکتے ہیں او رکیا کھا اور پی نہیں سکتے؟ آپ، حرام تو کھا ہی نہیں سکتے، ساری زندگی نہیں کھا سکتے، حلال جو انتہائے سحر سے پہلے آپ کھااور پی رہے تھے، جیسے ہی انتہائے سحر ہوا، بلکہ اس سے بھی پہلے احتیاطاً سب چھوڑ دیا، اب نہیں کھائیں گے اور یہ جو ہمارے روزے کی شکل ہے، یہ افطار تک، غروب آفتاب تک رہے گی، کوئی کتنا زور لگا لے ،نہیں کھائیں گے، اکیلے ہوں، کوئی دیکھنے والا نہیں ہے، نہ بیوی ،نہ بچے، نہ دوست، کوئی نہیں، کمرے میں اکیلے ہیں، شدید پیاس لگی ہوئی ہے، فریج میں ٹھنڈے ٹھنڈے مشروبات موجود ہیں، لیکن ہم نہیں پیتے، اگر ہم کھا، پی لیں اور منھ پونچھ کر باہر آجائیں تو کسی کو کیا پتہ چلے گا؟ کسی کو پتہ نہیں چلے گا۔

شیطان ہمیں آمادہ کرتا ہے پی لو، کوئی دیکھنے والا نہیں، لیکن اندر سے آواز آتی ہے کہ الله دیکھ رہے ہیں۔

بس میرے دوستو! یہی روزے کا مقصد ہے، کہ ساری زندگی ہمارے اندر سے یہ آواز آئے، الله دیکھ رہا ہے، ہر سال رمضان کا پورا مہینہ یہ ہماری مشق کا ہوتا ہے کہ ہمارے اندر سے آواز آئے۔

اور میرے دوستو! یہ طے ہے،ہم سب جانتے ہیں کہ روزے کا جو اثر ہے وہ دو طرح سے ہے، ایک روزے کا اثر یہ ہے کہ ہم نے کھاناپینا چھوڑ دیا، تو ہمارا جسم کم زور ہو جاتا ہے۔

لیکن یاد رکھیں کہ روزے سے جسم کم زور ہو رہا ہوتا ہے تو روح طاقت ور ہو رہی ہوتی ہے، کھانا، پینا جسم کی خوراک ہے، روزہ روح کی غذا ہے، روح کو طاقت ملتی ہے اور ہم میں سے ہر ایک نے روح کی طاقت کا رمضان کے مہینے میں مشاہدہ بھی کیا ہے اور وہ مشاہدہ کیا ہے؟ آپ قرآن کریم کی تلاوت کی نیت سے بیٹھے، آپ نے گھڑی دیکھی کہ میرے پاس آدھا گھنٹہ ہے اور مثلاً آدھے گھنٹے میں میں ایک پارہ تلاوت کرتا ہوں، آپ بیٹھ گئے تلاوت کرنے، جیسے ہی آدھا گھنٹہ ہوا اور ایک پارہ مکمل ہوا، اندر سے آواز آئی تھوڑا سا اور پڑھ لو، یہ جو تھوڑا سا اور پڑھ لو کا جذبہ ہے، یہ جسم نہیں کہہ رہا ،جسم کا اس سے کوئی تعلق نہیں، یہ اندر سے روح کی آواز ہے، اس لیے کہ روح صحت مندہوتی ہے اور میں نے یہ بات آپ حضرات کو بار بار بتائی ہے کہ اگر کوئی آدمی خود اپنی روح کی کیفیت کو چیک کرنا چاہتا ہے تو بہت آسان ہے۔

اور یہ بات ہمارے ساتھ صبح شام ہوتی ہے کہ اگر آپ کا نماز کے لیے دل نہیں آمادہ ہو رہا، نماز پڑھنے کو جی نہیں چاہ رہا، مسجد آنے کو جی نہیں چاہ رہا، تلاوت کرنے کو جی نہیں چا رہا، دعا مانگنے کو جی نہیں چاہ رہا، آپ مسجد میں آگئے، لیکن ایک ٹانگ اوپر ایک نیچے، بس کسی طرح نماز ختم ہو اور جیسے ہی امام صاحب نے سلام پھیرا، ہم کسی کی رعایت کیے بغیر، لوگوں کے کندھے پھلانگتے ہوئے باہر نکل رہے ہیں، تو یاد رکھیں کہ یہ ساری کی ساری علامتیں ہیں کہ آپ کے اندر سے روح بہت کم زو رہوچکی ہے، اس کی تعبیر آپ یوں بھی کرسکتے ہیں کہ آپ کا ایمان کم زور ہو چکا ہے، اس کی فکر کریں، اس کی اصلاح کریں، اس کو کچھ قوت کی چیزیں فراہم کریں، جیسے آپ اپنے جسم کی کم زوری کی شکل میں، بخار ہو گیا، ملیریا ہو گیا، جسم کم زور ہو گیا، چلتے ہوئے چکر آرہے ہیں، تو سب کہتے ہیں یخنی پلاؤ، سیب کا جوس پلاؤ، تو کیا ہو گی؟ طاقت۔ بالکل اسی طرح کہ اگر آپ دیکھ رہے ہیں کہ نماز کے لیے طبیعت آمادہ نہیں ہے یا نماز میں دل نہیں لگ رہا یا تلاوت میں دل نہیں لگ رہا ،یادعا میں دل نہیں لگ رہا ،یا مسجد میں دل نہیں لگ رہا، تو فوراً آپ توبہ کریں۔

اب کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ طبیعت اس کم زوری کی وجہ سے توبہ کی طرف بھی نہیں آتی، توجیسے جسم کی بیماریوں میں بعض تلخ، کڑوی دوائیں پینی پڑتی ہیں، کئی کئی گھنٹے اس دوا کی وجہ سے منھ کڑوا رہتا ہے، لیکن ڈاکٹر حکیم کہتا ہے ضرور ی ہے، یہ نہیں پیو گے تو صحت نہیں ہو گی، آمادہ کریں، مجبور کریں اور یہ بھی یاد رکھیں کہ جب آپ اپنے آپ کو مجبور کرکے توبہ کریں گے، استغفار کریں گے، الله کے سامنے ندامت کے چند آنسو بہائیں گے، وہ بہت طاقت ور دوا ہے۔

اس لیے میری گزارش ہے کہ جیسے رمضان المبارک کے مہینے میں ہم سب نے، کسی نے کم، کسی نے زیادہ، کسی نے بہت کم ، کسی نے بہت زیادہ سب کی نوعتیں الگ الگ ہیں، لیکن ہم میں سے ہر ایک نے اپنے اندر یہ محسوس کیا کہ پورے سال ہم نے قرآن کی تلاوت نہیں کی تھی، اس رمضان میں کی، پورے سال ہم مسجد اس اہتمام سے نہیں آئے تھے جس طرح ہم رمضان میں آئے ہیں، پورے سال ہم نے خیر کے بہت سے کام نہیں کیے تھے، رمضان میں کیے ہیں، پورے رمضان ہم نے ذکر کا، نوافل کا اہتمام کیا ہے، یہ اس کی واضح دلیل ہے، علامت ہے کہ ہمارے ایمان کی کیفیت بہتر ہوئی ہے۔

تو بھائی! کون یہ نہیں چاہتا کہ اس کا ایمان ترقی کرے؟! الله تعالیٰ اسی کو فرما رہے ہیں ﴿قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَکَّیٰ﴾، تحقیق کام یاب ہو گیا جس نے اپنی اندرونی گندگیوں کو دور کر دیا، اپنے اندر کو پاک کرلیا۔

میرے دوستو! یہ بات ہمیشہ اپنے پیش نظر رکھیں کہ اندر کا معاملہ باہر کے معاملے سے بہت اہم ہے، یہ بے چارہ باہر والا جسم تو یہیں رہ جائے گا، پھول جائے گا، پھٹ جائے گا، گل جائے گا اور کیڑے مکوڑوں کی غذا بن جائے گا، مٹی ہوجائے گا، لیکن جواندر والی چیز ہے، روح ہے، روح کو فنا نہیں ہے، الله تعالیٰ فرمارہے ہیں ﴿قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَکَّیٰ﴾تحقیق کام یاب ہو گیا جس نے اپنے اندر کی کیفیات کو پاک کر لیا، ﴿ وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہِ ﴾ او راندر کی گندگی کو دور کرکے اس نے اپنے رب کا نام لیا: الله، الله، الله اکبر، الحمدلله۔ یہ سب کیا ہیں؟ یہ سب روح کی یخنی ہے، یہ وہی روح کے لیے سیب کارس ہے، جیسے جسم کو ان باہر والی چیزوں سے طاقت ملتی ہے، ایسے ہی الله ،الله کہنے سے روح کو طاقت ملتی ہے۔

الله تعالیٰ فرما رہے ہیں ﴿وَذَکَرَ اسْمَ رَبِّہِ﴾ اور وہ اپنے رب کا نام لیتا ہے ﴿فَصَلَّیٰ﴾ اور پھر وہ الله کی بندگی کرتا ہے، الله کی عبادت کرتا ہے ، نماز پڑھتا ہے﴿بَلْ تُؤْثِرُونَ الْحَیَاةَ الدُّنْیَا﴾ مگر تمہیں سمجھ نہیں آرہی ، تم اس کے باوجود دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو، مال، جائیداد، دکان، فلاں، فلاں، منع نہیں ہے، شریعت کی حدود میں سب کی اجازت ہے، لیکن حد سے تجاوز اور آخرت پر دنیا کو ترجیح دینا… اس کی اجازت نہیں۔

اور الله تعالیٰ کیا فرمارہے ہیں﴿وَالْآخِرَةُ خَیْرٌ وَأَبْقَیٰ﴾ یہ دنیا جس کو تم ترجیح دیتے ہو، اس کے مقابلے میں آخرت بہترین بھی ہے او رہمیشہ ہمیشہ باقی رہنے والی بھی ہے۔

دنیا تو باقی رہنے والی نہیں ہے، چاند، سورج، تارے سب ختم ہو جائیں گے، لیکن آخرت، وہاں کی نعمتیں، وہاں کی سہولتیں، وہ سب کبھی ختم ہونے والی نہیں تو اس لیے گزارش ہے، درخواست ہے، کہ ہم زیادہ سے زیادہ الله تعالیٰ کی طرف رجوع ہوں اور یہ جو پوری دنیا میں، خصوصاً جہاں ہم رہتے ہیں، ہمارے ملک میں، ہمارے شہر میں، یہ جو وبائی کیفیت ہے، اس کا حل، آپ مجھ سے زیادہ خبریں سنتے ہیں، پڑھتے ہیں کہ ابھی تک اس کا علاج کسی نے دریافت نہیں کیا۔

جب کہ ہمارے نبی صلی الله علیہ وسلم نے علاج بتایا ہے اور وہ علاج ہے، زیادہ سے زیادہ درود شریف کی کثرت، خوب درود پڑھیں اور درود کس طرح ہے، صلی الله علیہ وسلم اس میں درود بھی ہے، سلام بھی ہے۔

یہ ہر قسم کی بیماری میں، طاعون کی بیماری ہو، کسی بھی قسم کی وبائی امراض ہوں، کثرت سے درود کا اہتمام ہو، چلتے پھرتے، اٹھتے بیٹھتے، صلی الله علیہ وسلم پڑھتے رہیں۔

حضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب رحمہ الله کے بارے میں لکھا ہے: کہ ہندوستان میں ان کے زمانے میں طاعون آیا، تو انہوں نے اپنے متعلقین کو ہدایت کی کہ کثرت سے درود پڑھو، چناں چہ پورا ہندوستان متاثر ہوا، ہماری بستی (تھانہ بھون) متاثر نہیں ہوئی۔

آپ سے بھی درخواست ہے کہ الله کی طرف متوجہ ہوں اور یہ جو دنیا والے ہیں انہوں نے لوگوں کو خوف زدہ کیا، خوف نہ کریں، ہم مسلمان ہیں ، ہمارا ایمان ہے الله تعالیٰ پر، ہمیں خوب معلوم ہے کہ الله تعالیٰ نے ہماری زندگی او رموت لکھی ہوئی ہے، نہ ایک سیکنڈ پہلے، نہ ایک سیکنڈ بعد، تو ڈرنا کس بات سے؟ کوئی خوف کی ضرورت نہیں او رالله تعالیٰ نے نہ صرف زندگی اور موت لکھی ہوئی ہے بلکہ موت کا طریقہ بھی لکھا ہوا ہے، یہ ڈوب کر مرے گا، یہ جل کر مرے گا، یہ پیٹ کی بیماری میں مرے گا، یہ دل کی بیماری میں مرے گا، یہ گردے کی بیماری میں مرے گا، یہ ڈائریا کی بیماری میں مرے گا، سب لکھا ہوا ہے، تو بھائی جب سب لکھا ہوا ہے تو پھر پریشانی کی کیا بات ہے؟

اگر کسی کے لیے پیٹ کی بیماری میں مرنا لکھا ہوا ہے تو کیا وہ کرونا میں مرسکتا ہے؟ الله کے ہاں سب کچھ لکھا ہوا ہے تو اس لیے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں، خوف اپنے اوپرطاری نہ کریں اور الله کی طرف رجوع رہیں اور الله کے حبیب صلی الله علیہ وسلم پر درود وسلام کثرت سے بھیجیں، چلتے پھرتے، صلی الله علیہ وسلم ،صلی الله علیہ وسلم کا اہتمام کریں تو ان وباؤں سے سے بھی محفوظ رہیں گے اور یہ تو بہت چھوٹی سی بات ہے کہ وباؤں سے حفاظت ہو گی اور جو خیر ، برکتیں، عافیتیں، خوشیاں، الله تعالیٰ اس دنیا کی بھی اور آخرت کی بھی عطا فرمائیں گے وہ بہت زیادہ ہیں۔

الله تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق نصیب فرمائے۔

﴿رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا إِنَّکَ أَنتَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ، وَتُبْ عَلَیْنَا إِنَّکَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِیمُ﴾․