بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

رجوع إلی الله کی ضرورت

رجوع إلی الله کی ضرورت

ضبط و تحریر: ابوعکاشہ مفتی ثناء الله ڈیروی
استاد ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف جامعہ فاروقیہ کراچی

حضرت مولانا عبیدالله خالد صاحب مدظلہ العالیٰ ہر جمعہ جامعہ فاروقیہ کراچی کی مسجد میں بیان فرماتے ہیں۔ حضرت کے بیانات ماہ نامہ ”الفاروق“ میں شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے ،تاکہ”الفاروق“ کے قارئین بھی مستفید ہو سکیں۔ (ادارہ)

الحمدلله نحمدہ، ونستعینہ، ونستغفرہ، ونؤمن بہ، ونتوکل علیہ، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، ومن سیئات أعمالنا، من یھدہ الله فلا مضل لہ، ومن یضللہ فلاھادي لہ، ونشھد أن لا إلہ إلا الله وحدہ لاشریک لہ، ونشھد أن سیدنا وسندنا ومولانا محمداً عبدہ ورسولہ، أرسلہ بالحق بشیرا ونذیرا، وداعیاً إلی الله بإذنہ وسراجاً منیرا․

أما بعد: فأعوذ بالله من الشیٰطن الرجیم، بسم الله الرحمن الرحیم․

﴿قُلِ اللَّہُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَن تَشَاء ُ وَتَنزِعُ الْمُلْکَ مِمَّن تَشَاء ُ وَتُعِزُّ مَن تَشَاء ُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاء ُ﴾․ (سورہ آل عمران:26) صدق الله مولٰنا العظیم․

میرے محترم بھائیو،بزرگو اور دوستو! ہجری سال کا اختتام ہونے والا ہے اور نیا اسلامی سال ہمارے سامنے ہے، سرورکائنات جناب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی ہجرت کو 1440ھ سال ہو گئے اور چند دنوں میں 1441 واں سال شروع ہو جائے گا، 1440 سال کی تاریخ کا اگر مطالعہ کیاجائے، تو اس میں ایک بہت بڑا زمانہ وہ ہے، جو مسلمانوں کے عروج کا زمانہ ہے، حالاں کہ اس وقت بھی دنیا میں بہت بڑے بڑے طاغوت اوربہت بڑی بڑی طاقتیں، کافر مشرک حکومتیں اور حکم ران موجود تھے۔

سرور کائنات جناب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے بارے میں ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں، آپ صلی الله علیہ وسلم کے بعد اب کوئی نبی اور رسول نہیں آئے گا اور اگر کوئی اس کا دعویٰ کرے تو وہ کافر ہے، مرتد ہے: ”قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: لا تقوم الساعة حتی تلحق قبائل من امتی بالمشرکین… وأنہ سیکون فی أمتی ثلاثون کذابون کلھم یزعم أنہ، نبی، وأنا خاتم النبیین لانبی بعدی“․(سنن الترمذی، کتاب الفتن، باب لا تقوم الساعة حتی یخرج کذابون، رقم:2219)

ہمارایہ عقیدہ ہے کہ قرآن آخری کتا ب ہے اور قرآن سے پہلے جو کتب سماویہ ہیں وہ منسوخ ہو گئیں، ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ آپ صلی الله تعالیٰ علیہ وسلم کا لایا ہوا دین اور آپ صلی الله علیہ وسلم کی لائی ہوئی شریعت تاقیامت چلے گی، چناں چہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی شریعت کے آنے کے بعد تمام سابقہ شریعتیں منسوخ ہو گئیں:قال الله تبارک وتعالی: ﴿وَمَن یَبْتَغِ غَیْرَ الْإِسْلَامِ دِینًا فَلَن یُقْبَلَ مِنْہُ وَہُوَ فِی الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِینَ﴾․(آل عمران:85)

الله تعالیٰ نے بہت واضح بہت آسان اور سہل انداز میں اعلان فرما دیا ہے: ﴿الْیَوْمَ أَکْمَلْتُ لَکُمْ دِینَکُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِی وَرَضِیتُ لَکُمُ الْإِسْلَامَ دِینًا﴾ (سورة المائدہ:3)دین مکمل ہو گیا، اس میں کوئی کسر ،اس میں کوئی نقص، اس میں کوئی ضعف ،اس میں کوئی کم زوری باقی نہیں اورایک کامل اور مکمل دین تا قیامت ہے۔ کم زوری اگر ہے تو وہ مجھ میں ہے، کم زوری اگر ہے تو وہ امت میں ہے دین میں کوئی کم زوری نہیں، قرآن میں کوئی کم زوری نہیں، شریعت میں کوئی کم زوری نہیں، دین اسی طرح مکمل او رمضبوط ہے جیسے آپ صلی الله علیہ وسلم چھوڑ کر گئے، الله تعالیٰ کے وعدے جو آپ صلی الله علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں تھے، الله تعالیٰ کے وہ وعدے، آج بھی اسی طرح سے ہیں۔

چناں چہ آپ صلی الله علیہ وسلم کا فرمان ہے:

”خیر القرون قرنی“ سب سے بہترین زمانہ میرا زمانہ ہے، سب سے بہترین صدی میری صدی ہے:”قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: خیر الناس قرنی ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم ثم الذین یلونہم“․(مسند احمد، رقم:3594)

چناں چہ علماء نے یہاں ایک بڑا علمی اور دلچسپ لطیفہ بھی ذکر کیا ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا”خیر القرون قرنی“ تمام زمانوں میں سب سے بہترین زمانہ قرنی، میرا زمانہ ہے، علماء فرماتے ہیں کہ آپ دیکھ لیجیے، صدیق کے آخر میں قاف ہے اور قرنی کے شروع میں قاف ہے، عمر کے آخر میں را ہے اور ”قرنی“ کا دوسرا حرف ”را“ ہے اور عثمان کا آخری حرف”ن“ ہے اور قرنی کا تیسرا حرف”ن“ ہے اور علی کا آخری حرف”ی“ ہے اور قرنی کا آخری حرف بھی ”ی“ ہے۔

آپ صلی الله علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کا جو زمانہ ہے وہ اس کائنات کا سب سے بہترین زمانہ ہے، سب سے اعلیٰ، وہ بہترین کیوں ہے ؟ کیا ان کے پاس ایٹمی میزائل تھے؟ کیا ان کے پاس سائنس اور ٹیکنالوجی تھی یا ان کے پاس دنیا جہاں کے خزانے تھے؟ کچھ بھی نہیں تھا، نہ کے برابر۔

بنو قریظہ کے خلاف جب آپ صلی الله علیہ وسلم نے فوج کشی فرمائی، تو تین ہزار صحابہ اور صرف 36 گھوڑے ہیں، گھوڑے کتنے ہیں؟ 36۔(الکامل لابن أثیر، ذکر غزوہ بنی قریظہ:2/127) حضرت فاروق اعظم رضی الله عنہ بیت المقدس فتح کرنے کے لیے جارہے ہیں تو کیسے جارہے ہیں ؟ ایک اونٹ ہے، دو سوار ہیں، ایک حضرت فاروق اعظم ہیں اور ایک ان کا غلام ہے اور دمشق کا فاصلہ مسجد نبوی سے، مدینہ منورہ سے ،24 یا26 دن کا ہے۔

سرور کائنات جناب رسول الله صلی الله علیہ وسلم اس دنیا سے رخصت ہو رہے ہیں، تو حضرت عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں کہ اس رات میں چراغ میں ڈالنے کے لیے تیل نہیں تھا۔

یہ وہ زمینی حقیقت ہے جس کو مسلمان نہیں جانتا، یہ وہ زمینی حقیقت ہے جس کو آپ صلی الله علیہ وسلم اس امت کے لیے چھوڑگئے اور آپ صلی الله علیہ وسلم جس امت کو چھوڑ کر گئے تھے اور جس کی تربیت کی تھی، وہ مال وزر کے حوالے سے نہیں تھی ، اسباب دنیا کے حوالے سے نہیں تھی، وہ تربیت فرمائی تھی کہ تم الله تعالیٰ پر اپنا ایمان جتنا قوی او رمضبوط رکھو گے اور یہی ترجمہ ہے” لاإلہ الله محمد رسول الله“،لا إلہ إلا الله کا کیا مطلب ہے؟ الله سے جڑو اور محمد رسول الله کا کیا مطلب ہے؟ محمد رسول الله سے جڑو۔

تو اگر تم الله اور اس کے رسول سے جڑے رہوگے، تمہارا ایمان کامل ا لله پر ہو گااور تم محمد رسول الله صلی ا لله علیہ وسلم کے سچے عاشق او رمتبع ہو گے تو دنیا کی کوئی طاقت تمہیں کچھ نہیں کرسکتی۔ اور یہ کوئی افسانہ نہیں، یہ ایک حقیقت ہے اور یہ حقیقت ایک دن ، ایک مہینہ ، ایک سال ، ایک صدی کی نہیں، بلکہ صدیوں اسلام کا جھنڈا اس دنیا میں بلند رہا۔

مسلمان مخلوق کی طرف نہیں گئے، تلوار بھی مخلوق ہے، نیزہ بھی مخلوق ہے، تیر کمان بھی مخلوق ہے۔

یہیآپ صلی الله علیہ وسلم کی کامل اتباع ہے، سمجھ میں آئے یا نہ آئے، ہماری عقل ناقص ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم کی اتباع کرنی ہے تو سوائے کام یابی کے اور کچھ نہیں، سوائے عزت کے او رکچھ نہیں۔

چناں چہ غزوہ بدر ہمارے سامنے ہے۔313 صحابہ ہیں، صحابہ کرام رضوان الله علیہم اجمعین رمضان المبارک سن2 ہجری میں،جب غزوہ بدر ہوا تو آپ کیا سمجھتے ہیں کہ صحابہ کی تعداد 313 تھی، نہیں ، صحابہ کرام کی تعداداس سے زیادہ تھی، آپ صلی الله علیہ وسلم نے اختیار دیا، چناں چہ مدینہ منورہ میں جو مسلمان تھے وہ سب نہیں گئے ، آپ صلی الله علیہ وسلم کفار کے قافلے کے تعاقب کے لیے نکلے تھے، بعدمیں صورت حال تبدیل ہو گئی اور جنگ کی نوبت آگئی،آپ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ رضوان الله علیہم اجمعین 313 تھے اور ادھر سے جو لشکر آیا، وہ ایک ہزار تھا اور کیل کانٹے کے ساتھ لیس اور بہت زبردست قسم کے جنگ جو۔(الکامل لابن اثیر، ذکر غروة بدر الکبریٰ:2/86)

مدینہ میں جو یہود کا ٹولہ تھا، وہ مسلمانوں کے الله تعالیٰ کی طرف رجوع کا مذاق اڑاتا تھا، وہ مسلمانوں کے الله کی طرف ہاتھ اٹھانے کا مذاق اڑاتاتھا، سرورکائنات جناب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے جنگ کے موقع پر اس کا اہتمام کیا، حضرت صدیق اکبر رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ غزوہ بدر کے موقع پر ساری رات آپ صلی الله علیہ وسلم رو رو کر الله سے دعائیں کر رہے تھے:” ونزل فی العریش ومعہ ابوبکر وھو یدعو ویقول: اللھم إن تھلک ھذہ العصابة من أھل الإسلام لا تعبد فی الأرض، اللھم انجزلی ما وعدتنی ولم یزل حتی سقط رداؤہ فوضعہ علیہ ابوبکر ثم قال لہ کفاک مناشدتک ربک فإنہ سینجزلک ماوعدک․“ (الکامل لابن أثیر، ذکر غزوة بدر الکبری:2/87)

تو یہ سازشیں ہیں کہ نہیں، ایٹم بم سے ہو گا، ٹینک سے ہو گا، جیٹ طیاروں سے ہو گا، اسباب اختیار کرنے سے ہر گز منع نہیں کیا گیا۔

﴿وَأَعِدُّوا لَہُم مَّا اسْتَطَعْتُم﴾․(سورة الانفال:60) جتنی تمہاری استطاعت ہو کفار کے خلاف تیاری کرو، لیکن بھروسہ اس پرنہ ہو، بھروسہ الله پرہو۔

﴿قُلِ اللَّہُمَّ مَالِکَ الْمُلْکِ تُؤْتِی الْمُلْکَ مَن تَشَاء ُ وَتَنزِعُ الْمُلْکَ مِمَّن تَشَاء ُ وَتُعِزُّ مَن تَشَاء ُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاء ُ﴾․(آل عمران:26) ”سب الله کے ہاتھ میں ہے“۔

بادشاہوں کے بادشاہ، کائنات کے مالک، وہ جس کو چاہیں تخت دیں او رجس سے چاہیں لے لیں۔ ہے نا ہمارے سامنے، وزیراعظم، اسیر اعظم، اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، وزیراعظم، جاہ وجلال، لشکر آگے پیچھے چل رہے ہیں ،بچے بے چارے ایمبولینس کے اندر، وزیراعظم صاحب جارہے ہیں، ایمبولینس ہسپتال نہیں جاسکتی، مائیں ،گاڑیوں میں مر جاتی ہیں، وزیراعظم صاحب کا قافلہ جارہا ہے، آپ کی گاڑی ہسپتال نہیں جاسکتی، سب ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟ اور پھر کیا ہوتا ہے؟ سب کے سامنے ہے۔

”خیر القرون“ اسلام کا جو ابتدائی زمانہ ،میں نے عرض کیا کہ وہ مہینوں اور سالوں پر نہیں ہے، صدیوں پر محیط ہے، کیوں ہے؟ اس لیے ہے کہ مسلمان الله کی طر ف رجوع تھا، الله کے احکامات پر عمل کرتا تھا، الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم کی کامل اتباع کرتا تھا، اسلام کا جھنڈا بلندتھا اور جب مسلمان نے اسلام سے منھ موڑ لیا اور اپنے حبیب صلی الله علیہ وسلم سے منھ موڑ لیا، تو پھر الله نے بھی ہم سے منھ موڑ لیا۔

اب سوائے ذلت ، سوائے شکست کے ہمارے پاس کیا ہے؟ آج کشمیر کے مسلمان جیل میں ہیں، 25،26 دن ہو گئے ہیں، عورتیں ، بچے، بوڑھے بیمار مریض القلب اور معذور ہیں، یہ کیسی خوف ناک مظلومیت ہے۔

لیکن میرے دوستو! یاد رکھیں کہ شام میں گزشتہ چھ سات سال میں لاکھوں مسلمان ذبح کیے گئے، ہماری پیشانی پر بل نہیں آیا، ہمارے ناشتے کھانے متاثر نہیں ہوئے، ہماری زندگی میں کوئی فرق نہیں آیا، لاکھوں عورتیں، معصوم نوزائدہ بچے ذبح ہو رہے ہیں، لیبیا میں کیا ہوا؟ عراق میں کیا ہوا؟ افغانستان میں کیا ہوا؟ یہ سب ہمارے سامنے ہے۔

پوری دنیا میں اگر خون بہتا ہے تو مسلمان کا بہتا ہے، پوری دنیا میں اگر کسی عورت کی چادر چھینی جاتی ہے، کھینچی جاتی ہے تو مسلمان عورت کی۔

آج جو کچھ ہو رہا ہے یہ ایک عذاب ہے اور اجتماعی توبہ کرنے کی ضرورت ہے ، اجتماعی استغفار کرنے کی ضرورت ہے ۔

الله تعالیٰ کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے، آج2019ء میں بھی الله کا وہ وعدہ، جو سرورکائنات جناب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں تھا، آج بھی وہ اسی طرح ہے، ہم ٹھیک ہو جائیں، ہم اپنا رخ درست کریں، ہماری نظریں نہ صرف یہ کہ غیر الله کی طرف جاتی ہیں، بلکہ طاغوت کی طرف جاتی ہیں، امریکی بیڑہ آئے گا، وہ ہمارا بیڑہ پار کرے گا، إنالله وإنا إلیہ راجعون․

الله کی طرف رجوع ہوں، آج ہم کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کے لیے غم زدہ ہیں، میرے دوستو! گزارش ہے کہ ہم سب سجدوں میں دعائیں کریں، ان کے لیے صلاة الحاجت پڑھ کر دعائیں کریں کہ الله تعالیٰ ان کے مردوں کی بھی حفاظت فرمائے، ان کی عورتوں کی بھی حفاظت فرمائے، ان کی بچیوں کی بھی حفاظت فرمائے، ان کے بچوں کی بھی حفاظت فرمائے اور انہیں اپنی طر ف رجوع اور انابت کی توفیق نصیب فرمائے۔

اگر الله کی مدد ان کے ساتھ ہوجائے تو ان کو نہ دائیں دیکھنے کی ضرورت ،نہ بائیں دیکھنے کی ضرورت۔

الله تعالیٰ ہم سب کو عمل کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین!