بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

ذکرِ الہٰی

ذکرِ الہٰی

مولانا احمد سعیدؒ

حدیث قدسی نمبر(1)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ جناب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ الله تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے ابن آدم !فجر کی نماز اور عصر کی نماز کے بعد تھوڑی سی دیر کے لیے میرا ذکر کیا کرو تو میں دونوں نمازوں کے درمیانی وقت کے لیے تجھ کو کفایت کروں گا۔ (ابونعیم، جامع صغیر)
دونوں نمازوں کے درمیان کا وقت یعنی دن بھر اور یہ جو فرمایا کفایت کروں گا اس کا مطلب یہ ہے کہ تیری تمام ضرورتوں اور حاجتوں کی کفایت کرلوں گا۔

حدیث قدسی نمبر(2)
ابن عباس رضی الله عنہ کی روایت میں ہے کہ نبی کریم ا نے فرمایا: الله تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ اے ابن آدم! تو مجھ کو خلوت میں اگر یاد کرے گا تو میں بھی تجھ کو خلوت میں یاد کروں گا او راگر تو کسی جماعت میں میرا ذکر کرے گا تو میں تیرا تذکرہ ایک ایسی جماعت میں کروں گا جو اس جماعت سے بہتر ہوگی جس میں تونے مجھے یاد کیا تھا۔ (بزاز) یعنی ملائکہ کی جماعت یا ارواح مقدسہ۔

حدیث قدسی نمبر(3)
حضرت ابوہریر، رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں، فرمایا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے: الله تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: جب میرا بندہ مجھے یاد کرتا ہے او راس کے دونوں ہونٹ میرے ذکر سے ہلتے ہیں اور حرکت کرتے ہیں تو میں اس کے پاس ہی ہوتا ہوں۔ (ابن ماجہ، ابن حبان)

حدیث قدسی نمبر(4)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کی روایت میں ہے ،الله تعالیٰ فرماتا ہے: اے ابن آدم! اگر تونے میرا ذکر کیا تو میرا شکر ادا کیا، اگر تونے مجھ کو بھلا دیا تو تونے میرا کفرکیا۔ (طبرانی)

حدیث قدسی نمبر(5)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ روایت کرتے ہیں، فرمایا نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے کہ الله تعالیٰ کے کچھ فرشتے ہیں ،جو مختلف راستوں میں اہل ذکر کو تلاش کرتے ہیں او رجب کہیں وہ کسی قوم کو ذکر الہٰی میں مشغول پاتے ہیں تو ایک دوسرے کو آواز دے کر بلاتے ہیں کہ آؤ !جس چیز کو تم تلاش کر رہے ہو وہ یہاں موجود ہے، تمام فرشتے اس مجلس کو اپنے پروں سے گھیر لیتے ہیں اور آسمان سے دنیا تک اوپر تلے ان کا اجتماع ہوتا ہے۔

پھر الله تعالیٰ ان فرشتوں سے سوال کرتا ہے(حالاں کہ وہ سب کچھ جانتا ہے) میرے بندے کیا کہہ رہے تھے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں الہٰی! تیری پاکی، تیری بڑائی، تیری حمد او رتیری بزرگی بیان کر رہے تھے۔ الله تعالیٰ فرماتا ہے کیا ان بندوں نے مجھ کو دیکھا ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں نہیں، خدا کی قسم! تجھ کو دیکھا تو نہیں۔ ارشاد فرماتا ہے کہ اگر مجھ کو دیکھ لے توپھر کیا حال ہو؟ فرشتے عرض کرتے ہیں اگر تجھ کو دیکھ لیں تو اور بھی زیادہ تیری تسبیح او رتیری بزرگی کا اظہار کریں۔ پھر ارشاد ہوتا ہے یہ بندے کیا چیز طلب کر رہے ہیں؟ فرشتے عرض کرتے ہیں آپ سے جنت مانگ رہے تھے ارشاد ہوتا ہے کہ کیا جنت کو انہوں نے دیکھا ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں نہیں، خدا کی قسم! انہوں نے جنت کو نہیں دیکھا۔ ارشاد ہوتا ہے اگر جنت کو دیکھ لیں تو ان کی کیا حالت ہو؟ فرشتے عرض کرتے ہیں اگر وہ جنت دیکھ لیں تو اس کی طلب اور اس کی رغبت اور اس کی حرص بہت زیادہ کریں۔

پھر ارشاد ہوتا ہے کہ یہ بندے کس چیز سے پناہ مانگتے تھے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں دوزخ کی آگ سے پناہ مانگ رہے تھے۔ ارشاد ہوتا ہے کیا انہوں نے آگ کو دیکھا ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں خدا کی قسم! انہوں نے دوزخ کی آگ کو نہیں دیکھا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے اگر وہ آگ کو دیکھ لیں تو کیا کیفیت ہو؟ فرشتے عرض کرتے ہیں اگر آگ کو دیکھ لیں تو ان کا ڈر اور خوف اوربھی زیادہ ہو جائے اور دوزخ سے اور زیادہ بھاگیں۔ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ میرے ملائک! میں تم کو گواہ بناتا ہو کہ میں نے ان کی مغفرت کر دی۔

اس بات کو سن کر ان فرشتوں میں سے ایک فرشتہ عرض کرتا ہے فلاں شخص ان ذکر کرنے والوں میں سے نہیں ہے وہ تو اپنی کسی ضرورت اورحاجت کو آیا تھا، ان ذکر کرنے والوں کو دیکھ کر ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ ارشاد ہوتا ہے یہ ذکر کرنے والے اس مرتبے کے لوگ ہیں کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بھی محروم نہیں ہوتا۔ ( بخاری)

حدیث قدسی نمبر(6)
دوسری روایت میں یوں آیا ہے، الله تعالیٰ کے چلنے پھرنے والے فرشتوں کا ایک گروہ ایسا بھی ہے جن کا او رکچھ کام سوائے اس کے نہیں کہ وہ ذکر الہٰی کی مجالس کو تلاش کرتے پھریں اور جب کوئی مجلس ان کو ذکر کی مل جاتی ہے تو ان مجلس والوں کے ساتھ مل کر بیٹھنا شرو ع کر دیتے ہیں، یہاں تک کہ ان فرشتوں کی جگہ سے آسمان تک جو خلاہے اس کو اپنے پروں سے بھر دیتے ہیں، پھر جب مجلس ختم ہو جاتی ہے اور لوگ منشتر ہو جاتے ہیں تو یہ فرشتے آسمانوں پر چڑھ جاتے ہیں ۔نبی کریم صلی الله علیہ وسلم فرماتے ہیں، پھر الله تعالیٰ ان فرشتوں سے دریافت کرتا ہے (حالاں کہ وہ بندوں کے حال سے بہت زیادہ باخبر ہے) فرشتو! تم کہاں سے آئے ہو؟ فرشتے عرض کرتے ہیں ہم تیرے بندوں کے پاس سے آئے ہیں، جو زمین پر تیری پاکی، تیری بڑائی، تیری توحید اور تیری حمد بیان کر رہے تھے او رتجھ سے کچھ مانگ رہے تھے اور سوال کر رہے تھے۔ ارشاد ہوتا ہے مجھ سے کیا مانگ رہے تھے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں آپ سے جنت مانگ رہے تھے۔ ارشاد ہوتا ہے کیا انہوں نے میری جنت کو دیکھا ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں اے پروردگار! نہیں دیکھا۔ ارشادہوتا ہے اگر وہ میری جنت کو دیکھ لیں تو ان کا کیا حال ہو؟

پھر فرشتے عرض کرتے ہیں او رتجھ سے پناہ بھی چاہ رہے تھے۔ ارشاد ہوتا ہے مجھ سے کس چیز کی پناہ طلب کرتے تھے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں تیری آگ سے۔

ارشاد ہوتا ہے کہ کیا انہوں نے میری آگ کا معائنہ کیا ہے؟ فرشتے عرض کرتے ہیں اے رب! نہیں، آگ کو دیکھا نہیں۔ ارشاد ہوتا ہے اگر آگ کو دیکھ لیں تو ان کی کیا کیفیت ہو؟ پھر فرشتے عرض کرتے ہیں الہٰی! تجھ سے بخشش بھی طلب کر رہے تھے، ارشاد ہوتا ہے میں نے ان کی مغفرت کر دی۔ جو چیز مانگ رہے تھے، وہ ان کو دے دی اور جس چیز سے پناہ مانگ رہے تھے اس سے ان کو پناہ دے دی۔ جناب نبی کریم صلی الله علیہ وسلم فرماتے ہیں اس اعلان کو سن کر فرشتے عرض کرتے ہیں اے پروردگار! ان لوگوں میں فلاں بندہ بھی تھا، جو بڑا خطا کار ہے، وہ تو راستے سے گزر رہا تھا، ان کو بیٹھا دیکھ کر وہ بھی بیٹھ گیا۔ ارشاد ہوتا ہے میں نے اس کی بھی مغفرت کر دی۔ جن لوگوں میں وہ آکر بیٹھ گیا تھا یہ ایسی جماعت ہے کہ ان کے پاس بیٹھنے والا بھی محروم نہیں رہتا۔ (مسلم)

مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کے جس اجتماع میں خدا کا ذکر ہوتا ہو، جنت ودورخ کی کیفیت بیان کی جاتی ہو، وہاں فرشتے جمع ہو جاتے ہیں اور یہ جو فرمایا کہ آسمان دنیا، یعنی پہلے آسمان تک پہنچ جاتے ہیں، اس سے مراد کثرت ہے کہ بہت زیادہ تعداد میں جمع ہو جاتے ہیں، فرشتوں سے جان بوجھ کر دریافت کرنے کی وجہ یہ ہے کہ فرشتے تخلیق آدم کے وقت تعجب کر رہے تھے او رکہتے تھے جب ہم تسبیح او رتقدیس کرتے ہیں تو پھر اور مخلوق پیدا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ اس لیے ان کو گواہ بنایا جاتا ہے، تاکہ وہ یہ بات جان لیں کہ وہ نفس کی خواہشات سے پاک ہو کر جو کچھ کرتے ہیں انسان نفسانی خواہشات میں الجھ کر بھی وہی کرتا ہے۔

حدیث قدسی نمبر(7)
ابن عمر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ الله تعالیٰ فرماتا ہے: جس شخص کو میرے ذکر نے اس قدر مشغول رکھا کہ وہ مجھ سے کچھ سوال نہ کرسکا تو میں ایسے بندے کو مانگنے والوں سے زیادہ دیتا ہوں۔ (بخاری، بیہقی، بزاز)
یعنی ہر وقت ذکر میں لگا رہتا ہے او را س کو اتنی فرصت نہیں ملتی کہ اپنی حاجت اور ضرورت مجھ سے طلب کرے تو میں اس کو سوال کرنے والوں سے زیادہ یتاہوں۔

حدیث قدسی نمبر(8)
الله تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جس کو میرے ذکر نے اتنی مہلت نہ دی کہ وہ مجھ سے اپنی حاجت طلب کرے تو میں اس کے سوال کرنے سے پہلے ہی اس کی حاجت پوری کر دیتا ہوں۔ (ابونعیم، دیلمی)

حدیث قدسی نمبر(9)
حضرت ثوبان رضی الله عنہ کی روایت میں ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے حضرت حق کی خدمت میں عرض کی اے پرورد گار! کیا تم مجھ سے قریب ہے، جو میں تجھ کو چپکے سے پکاروں، یا فاصلے پر ہے، جو تجھ کو زور سے پکاروں؟ اے پرورد گار !میں تیری آواز کے حسن کاا حساس کرتا ہوں، لیکن تجھ کو دیکھتا نہیں۔ تو کہاں ہے؟ الله تعالیٰ نے ارشاد فرمایا میں تیرے دائیں بائیں آگے پیچھے موجود ہوں، اے موسی! جب بھی کوئی بندہ مجھے یاد کرتا ہے تومیں اس کا ہمنشین ہوتا ہوں اور جب مجھ کو کوئی بندہ پکارتا ہے تو میں اس کے پاس ہوتا ہوں۔ (دیلمی)

حدیث قدسی نمبر(10)
حضرت عمر رضی الله عنہ کی روایت میں ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام نے حضرت حق تعالیٰ سے عرض کیا: اے رب! میں جاننا چاہتا ہوں کہ تو اپنے بندوں میں سے کس شخص سے محبت کرتا ہے تاکہ میں بھی اس سے محبت کروں؟ الله تعالیٰ نے ارشاد فرمایا اے موسی! جب تم کسی بندہ کو دیکھو کہ وہ میرا ذکر بکثرت کرتا ہے تو سمجھ لو میں نے اس کو توفیق عنایت کی ہے اور وہ میری ہی اجازت سے میرا ذکر رہا ہے او رمیں اس سے محبت کرتا ہوں اورجب تم کسی بندہ کو دیکھو کہ وہ میرا ذکر نہیں کرتا تو سمجھ لو کہ میں اس کو اپنی یاد سے روک دیا ہے اور میں اسے ناراض ہوں۔ (دار قطنی، ابن عساکر)

یعنی ذاکر میرا محبوب اور غافل میرا مبغوض ہے۔

حدیث قدسی نمبر(11)
ابن عباس رضی الله عنہ کی روایت میں ہے کہ ا لله تعالیٰ نے حضرت داوؤد علیہ السلام پر وحی نازل کی: اے داود! ظالم امراء اور حکام کو مطلع کردو کہ وہ میرا ذکر نہ کیا کریں، کیوں کہ میرا قاعدہ یہ ہے کہ جب کوئی میراذکرکرتا ہے تو میں بھی اس کا ذکر کرتا ہوں اور ان ظالموں کا ذکر میرے نزدیک یہ ہے کہ میں ان پر لعنت کروں۔( دیلمی، ابن عساکر)
مطلب یہ ہے کہ یہ ظالم امیر او رحاکم میری لعنت کے مستحق ہیں، اس لیے اگر یہ میرا ذکر کریں گے تو ان کوئی فائدہ نہیں ہو گا، کیوں کہ میں تو ان کو لعنت ہی کے ساتھ یاد کروں گا۔

حدیث قدسی نمبر(12)
حضرت انس رضی الله عنہ کی روایت میں ہے، قیامت کے دن الله تعالیٰ فرمائے گا: جس نے مجھے کسی دن یاد کیا ہو یا کسی مقام پر مجھ سے ڈرا ہو اس کو آگ سے نکال لوں۔ (ترمذی، بیہقی)

حدیث قدسی نمبر(13)
حضرت ابن عباس رضی الله عنہ کی روایت میں ہے، الله تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اگر کوئی بندہ مجھے خلوت میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اسے خلوت میں یاد کرتا ہوں او رجب کوئی بندہ کسی جماعت میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو ایسی جماعت میں یاد کرتا ہوں جو اس کی جماعت سے بہتر اور بڑی ہوتی ہے۔

حدیث قدسی نمبر(14)
حضرت عمارہ بن زعکرة رضی الله عنہکی روایت میں ہے کہ میرا کامل بندہ وہ ہے جو مجھ کو اس حالت میں یاد کرتا ہے جب کہ وہ اپنے دشمن سے ملاقات کرتا ہے۔ (ترمذی)

دشمن سے مراد شیطان ہے، اس سے ملاقات کرنے کا مطلب یہ ہے کہ شیطان اس کو بہکا رہا ہو اور وہ میرا ذکر کرتا ہو او رمراد یہ ہے کہ کفار سے مقابلہکے وقت میرا ذکر کرتا ہو۔

حدیث قدسی نمبر(15)
الله تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ تم مجھ کو فرماں برداری او راطاعت کے ساتھ یاد کرو ،میں تم کو مغفرت کے ساتھ یاد کروں گا ۔جو شخص فرماں بردار ہے او رمجھ کو یاد کرتا ہے تو میرے لیے ضروری ہوتا ہے کہ میں بھی اس کو یاد کروں اور اس کی مغفرت کروں اور جو بندہ مجھ کو یاد کرتا ہے درآں حالے کہ وہ میرا نافرمان ہوتا ہے تو میرے لیے یہ ضروری ہوتا ہے کہ میں اس کو غصہ اور خفگی کے ساتھ یاد کروں ۔(دیلمی، ابن عساکر)

حدیث قدسی نمبر(16)
حضرت معاذ بن انس کی روایت میں ہے، الله تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ کوئی بندہ جب مجھ کو اپنے جی میں یاد کرتا ہے تو میں اس کو عام ملائک کی جماعت میں یاد کرتا ہوں او رجب کوئی بندہ مجھ کو کسی جماعت میں یاد کرتا ہے تو میں اس کا ذکر مقربین فرشتوں میں کرتا ہوں ۔ (طبرانی)

حدیث قدسی نمبر(17)
حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ کی روایت میں ہے، الله تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ جب کوئی شخص مجھ کو اپنے دل میں یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو اپنے دل میں یاد کرتا ہوں او رجب کوئی شخص کسی جماعت میں مجھے یاد کرتا ہے تو میں بھی اس کو ایسی جماعت میں یاد کرتا ہوں جو اس بندے کی جماعت سے تعداد میں بھی زیادہ ہو تی ہے او رپاکیزگی میں بھی زیادہ ہوتی ہے۔ (ابن شاہین)

حدیث قدسی نمبر(18)
حضرت ابن عباس کی روایت میں ہے، الله تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: اے آدم کے بیٹے! اگر تو مجھ کو یاد کرے گا تو میں تجھ کو یاد کروں گا۔ اگر تو مجھ کو فراموش کر دے گا او ربھلا دے گا تب بھی میں تجھ کو یاد کروں گا اور اگر تو میری اطاعت اختیار کرلے او رمیرا مطیع ہوجائے تو پھر جہاں تیرا جی چاہے جا اوراطمینان کے ساتھ مخلی بالطبع ہو کر چل پھر۔
تو مجھ سے دوستی کرے گا تو میں بھی تجھ کو دوست رکھوں گا۔ اگر تو مجھ سے صاف دل کے ساتھ ملے گااور میری طرف جھکے گا تو میں بھی صفائی کے ساتھ تیری جانب متوجہ ہوں گا۔ میں تو تیری طرف متوجہ ہوتا ہوں، مگر تو میری طرف سے اعراض کرتا ہے اور رو گردانی کرتا ہے، جب تو اپنی ماں کے پیٹ میں تھا تو میں نے تیرے لیے غذا کا انتظام کیا، میں ہمیشہ تیری اصلاح کی تدبیر کرتا رہا اور میرے ارادے میں تدبیر کا تجھ میں نفاذ ہوتا رہا ،پھر جب میں نے تجھ کو دنیا کی طرف نکالا تو تونے گناہ او رمعاصی کی کثرت اختیار کی اور میری نافرمانی شروع کر دی ،کیا جو شخص تجھ پر احسان کرے اس کا بدلہ یہی ہوا کرتا ہے؟!(ابونصر، رافعی) ارادے کا نفاذ کا مطلب یہ ہے کہ میرے ارادے او رتدبیر سے تیری پرورش ہوتی رہی۔

حدیث قدسی نمبر(19)
حضرت انس رضی الله عنہ کی روایت میں ہے، الله تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :جو غصے اور غضب کے وقت مجھے یاد کرے گا میں بھی غصے اورغضب کے وقت اسے یاد کروں گا اور نافرمانوں کو جس طرح مٹاتا اور برباد کرتا ہوں اس کو برباد نہ کروں گا۔ (دیلمی)

حدیث قدسی نمبر(20)
عمروبن الجموح کی روایت میں ہے ،الله تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے بندوں میں سے میرے دوست او رمیری مخلوق میں سے میرے ولی وہ لوگ ہیں جو میری یاد کے شوق میں میرا ذکر کیا کرتے ہیں او ران کی وجہ سے میں ان کا ذکر کیا کرتا ہوں ۔ (حکیم ابونعیم)

یعنی اس شوق میں میرا ذکر کرتے ہیں کہ میں بھی ان کا ذکر کروں گا۔

حدیث قدسی نمبر(21)
حضرت ابو سعید خدری رضی الله عنہ کی روایت میں ہے، فرمایا رسول الله صلی علیہ وسلم نے: الله تعالیٰ قیامت میں فرمائے گا: آج کے دن اہل کرم اور ذی شرافت حضرات کو میدان حشر کے لوگ جان لیں گے اور آج یہ معلوم ہو جائے گا کہ حقیقی شرفاء کو ن ہیں؟ لوگوں نے دریافت کیا یا رسول الله! وہ کون لوگ ہوں گے ،آپ صلی الله علیہ سلم نے ارشاد فرمایا: مسجدوں میں مجلس ذکر کے شرکاء۔ (احمد، ابویعلی)

حدیث قدسی نمبر(22)
حضرت ابو ذر رضی الله عنہ سے مرفوعا روایت ہے کہ الله تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: عقل مند شخص کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی زندگی کے اوقات کو تین حصوں میں تقسیم کرے، ایک حصے میں اپنے رب سے مناجات کیا کرے او رایک حصے میں اپنے نفس کا محاسبہ کیا کرے او رایک حصہ کو کھانے پینے وغیرہ کے لیے مقرر کرے۔ (ابن حبان) مناجات یعنی ذکر الہٰی او رخدا تعالیٰ سے دعا اور نفس کا محاسبہ یہ ہے کہ اپنے اعمال پر غور کرے۔

حدیث قدسی نمبر(23)
حضرت انس رضی الله عنہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جب کوئی قوم الله کا ذکر کرنے کے لیے جمع ہو جاتی ہے تو ایک پکارنے والا آسمان سے ان کو پکار کر کہتا ہے: کھڑے ہو جاؤ، تمہاری مغفرت کر دی گئی او رتمہاری خطائیں نیکیوں سے بدل دی گئیں۔ (ابن شاہین)