بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

دینی تعلیم اور سیکولر تعلیمی ادارے

دینی تعلیم اور سیکولر تعلیمی ادارے

ڈاکٹر ساجد خاکوانی

دینی تعلیمی مدارس کا آغاز محسن انسانیت صلی الله علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ معلم انسانیت نے صفہ کے چبوترے پر اصحاب صفہ کی تعلیم وتربیت کا آغاز کیا، یہ وہ اصحاب رسول تھے جو اپنے گھر بار چھوڑ کر حصول تعلیم کے لیے اس تعلیمی ادارے کے طلبہ بنے اور انتہائی نامساعد حالات میں بھی بھوک اور افلاس سے مقابلہ کرتے ہوئے علوم وحی کے حصول میں سرگرم عمل رہے۔ ”صفہ“ کا سلسلہ خلافت راشدہ میں بھی جاری رہا او رحضرت عمر کے زمانے میں”گشتی تعلیمی ادارے“ وجود میں آئے، چند علمائے دین اور اونٹنی پر دھرا سامان خواندگی پر مشتمل یہ ”قافلہ تعلیم“ قبیلہ قبیلہ مطلقاً ان پڑھ او رجاہل افراد کو تلاش کرتااور لازمی تعلیم کے طور پر قرآن مجید کے چند حصے حفظ کراتا اور لکھنے پڑھنے کی ضروری تربیت بھی فراہم کرتا۔ دینی تعلیم کے اس ادارے نے امت مسلمہ کا عروج اور زوال دیکھا، مسلمانوں کی آزادی اور دور غلامی دیکھا اور عرب وعجم کے چہروں سے بھی آشنائی حاصل کی، لیکن کسی نہ کسی طرح اپنا وجود برقرار رکھا اور آج تک یہ ادارہ کسی نہ کسی شکل میں موجود ہے اور اپنا جواز بھی پیش کر رہا ہے۔

جب کہ سیکولر تعلیمی ادارے مغربی نو آبادیاتی دور غلامی کی پیداوار ہیں۔ سیکولر تعلیمی اداروں کا موجد لارڈ میکالے تھا، جس نے یہ تعلیمی ادارے اس لیے بنائے کہ آزاد قوم کے نوجوانوں کو ”آداب غلامی“ سکھلائے جاسکیں۔ گورے سام راج نے بڑی چابک دستی سے رزق کے دروازے صرف ان لوگوں کے لیے کھولے رکھے جو انہیں کے قائم کردہ سیکولر تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل تھے۔ یورپی استعمار نے ان سیکولر اداروں سے وہ سرنگوں قیادت پیدا کی جس نے محض انگریزی زبان کے تفوق سے بدیسی حکم رانوں سے قربت جمائی اور ان کے احکامات کو اس سر زمین پر جاری وساری کیا۔ یہ ادارے آج تک اسی تہذیب وثقافت کے علم بردار ہیں اور آزادی کی فضا بھی ان غلامانہ اداروں کا کچھ بھی بھلا نہیں کرسکی۔ جب تک ان سیکولر اداروں کا انتظام وانصرام خود گورے کے ہاتھ میں تھا تو ان کا معیار اس لیے بہتر تھا کہ گوروں کو مہیا ہونے والی افرادی قوت دور آزادی کی پروردہ تھی جب کہ آزادی کے بعد آج اس نظام پر وہ لوگ مسلط ہیں، جو دور غلامی کے تربیت یافتہ ہیں، چناں چہ آج کے سیکولر تعلیمی ادارے جس طرح کی پس ماندہ سے پس ماندہ تر ذہنیت اور اخلاقیات سے عاری نوجوان فراہم کر رہے ہیں اوراس کے نتیجے میں معاشرہ جس طرح تنزل کی طرف گام زن ہے وہ نوشتہ دیوار ہے، جو چاہے پڑھ لے۔

دینی مدارس اور سیکولر تعلیمی اداروں میں ایک خاص فرق یہ بھی ہے کہ دینی تعلیمی اداروں نے غلامی کو ذہنی طور پر قبول نہیں کیا ،انہوں نے اپنا جدا گانہ تشخص برقرار رکھا، اس کے مقابلے میں سیکولر تعلیمی ادارے مغربی یورش کے ہر حملے کے آگے سپر ڈالتے چلے گئے، چناں چہ وہ ”گورے“ نہ بن سکنے کی شرمندگی میں اپنی اصل حقیقت سے ہمیشہ منھ ہی چھپاتے رہے۔ دور غلامی سے آج تک اس طبقے نے انگریزوں کے سے سو طرح کے رنگ ڈھنگ اپنائے، لیکن یہ جب بھی گوروں کے سامنے گئے احساس ندامت ہی لے کر پلٹے، جب کہ دینی مدارس نے اپنی مقامی تہذیب وثقافت کو دندان سخت جان سے دبائے رکھا اور کتنے ہی معاشی ومعاشرتی ،سخت سے سخت تر وار سہتے رہے، لیکن اپنی اصل سے جڑے رہے او راپنی پہچان سے دست بردار نہ ہوئے۔ اس رویے نے انہیں تاریخ کے کچھ ایام میں تنہا بھی کر دیا ، لیکن اس نقصان نے انہیں کسی بھی بڑے خسارے سے محفوظ رکھا، کیوں کہ آزادی کا ایک خطیر خزانہ ان کے پہلوئے ملبوس میں موجود تھا۔

دینی مدارس اور سیکولر تعلیمی اداروں میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ سیکولر دینی ادارے چوں کہ غلامی کی پیداوار ہیں، اس لیے ان کے فارغ التحصیل نوجوان ”نوکری“ کی تلاش میں رہتے ہیں ، لڑکپن سے ابتدائے شباب تک غلامی کے آداب سے روشناس نسل خود کچھ کرنے کے قابل نہیں رہتی اور اعلی سے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے بعد بھی کسی آقا کی تلاش ان کے سر میں سمائی رہتی ہے، جس کی نوکری سے ان کا پیٹ وابستہ ہوتا ہے۔ ایسے نوجوانوں سے سڑکیں او ربازار بھرے پڑے ہیں جن کے پاس لمبی لمبی ڈگریاں ہیں، لیکن جب تک آقا میسر نہ آئے ان کی غلامانہ تعلیم بے فائدہ ہے۔ اس کے مقابلے میں دینی مدرسے کا کوئی طالب علم بے کار نظر نہیں آئے گا، شاید اس لیے کہ ان کے دہنوں میں رزق حلال کے لیے تگ ودو کو عبادت قرار دیا گیا ہے ،خواہ وہ کسی بھی درجے کی محنت ومشقت ہو، چناں چہ اس آسمان نے بڑے بڑے جید علمائے کرام کو حصول رزق حلال کے لیے طرح طرح کی مزدوریاں کرتے دیکھا، لیکن کسی کے آگے ہاتھ پھیلا کر نوکری کا منتظر رہنا ان کے تعلیمی منہج کے خلاف تھا۔

سیکولر تعلیمی اداروں نے تعلیم جیسے شیوہ انبیاء علیہم السلام کو کاروبار کی شکل دے دی ہے۔ سیکولر ازم نے استاد کو باپ کے درجے سے گرا دیا ہے اور شاگرد کو بیٹے کے مقام سے محروم کر دیا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچی ہے کہ استاد نے دکان دار کی شکل اختیار کر لی ہے اور شاگرد کی حیثیت بازار میں گاہک کی سی ہو چکی ہے۔ یہ تاریخی حقیقت ہے، دینی مدارس کے باعث ہی امت مسلمہ نے غلامی کا طوق اتار پھینکا ہے اور آزادی کے سفر میں ارتقا بھی انہیں اداروں کا مرہون منت رہے گا۔گزشتہ ایک صدی سے دینی تعلیم اداروں نے سیکولرازم کے وار سہے ہیں او راپنا دفاع کرتے رہے ہیں اورآج تک اپنا وجود جواز باقی رکھے ہوئے ہیں، جب کہ سیکولر تعلیم ادارے اپنا جواز کھو چکے ہیں او رانہوں نے قوم کو پژمردہ، مفلوج، ذہنی پس ماندہ، اغیار سے شکست خوردہ اور مایوس کن افرادی قوت فراہم کی ہے۔ سیکولر تعلیمی اداروں کا اخلاقی انحطاط اب ایک جھٹکا بھی سہ جانے کے قابل نہیں رہا۔ آزادی کے بعد غلامی کی اس باقیات کو بھی جڑ سے اکھیڑ پھینکنا چاہیے کہ جب تک دور غلامی کی یہ نشانیاں موجود ہیں ہمارے ہاں روشن خیال قیادت کا فقدان ہی رہے گا۔

قائداعظم نے اپنی زندگی میں صر ف ایک ہی کمیشن بنایا تھا، تعلیمی کمیشن ۔ اس کمیشن کی سفارشات آج بھی تشنہ تکمیل ہیں۔ الله کرے کہ امت مسلمہ کو بیدار مغز قیادت میسر آئے، تاکہ غلامی کے منحوس سائے چھٹ سکیں اورپاکستان پوری امت کو اور پوری دنیا کو ایک شان دار قیادت فراہم کرسکے۔ آمین !