بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

دورِفاروقی کے گورنر سعید بن عامر جمحیؓ

دورِفاروقی کے گورنر سعید بن عامر جمحیؓ

مولاناڈاکٹرمحمدجہان یعقوب

 

سعید بن عامر جمحی؛ ان ہزاروں انسانوں میں سے ایک ایسا نوجوان تھا ،جو سردارانِ قریش کی دعوت پر حضورصلی الله علیہ وسلم کے ایک صحابی اور عاشق حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کی شہادت کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھنے کے لیے آیا تھا، جن کو قریش نے دھوکے سے گرفتار کرلیاتھا۔سعید بن عامر اپنی بھرپور جوانی کے بل پر لوگوں کو دھکیلتا ہوااور اپنا راستا بناتا ہوا ابوسفیان بن حرب اور صفوان بن امیہ جیسے قریشی سرداروں کے پہلو میں جاکھڑا ہوا،جو اِس مجمع میں نمایاں مقام پر کھڑے تھے۔ اِس طرح سعید بن عامر کو اس بات کا موقع ملا کہ وہ اس سارے منظر کو اچھی طرح دیکھ سکے ۔ سعید نے دیکھا کہ قریش کی عورتیں ،بچے اورجوان ؛سب زنجیروں میں جکڑے قیدی کو دھکیلتے ہوئے موت کے میدان کی طرف لارہے تھے، تاکہ اُسے قتل کرکے محمد( صلی الله علیہ وسلم )سے انتقام لے سکیں اور غزوہ ٴبدر میں مارے جانے والے اپنے رشتے داروں کا بدلہ چکا سکیں ۔ جب یہ لوگ قیدی کو دھکیلتے ہوئے اُس جگہ پہنچ گئے جہاں اسے قتل کیا جاناتھا تو سعید بن عامر لوگوں میں سے نکل کر کچھ اور آگے بڑھ گیا ،تاکہ قریب سے قیدی کو دیکھ سکے۔ اُس نے عورتوں اور بچوں کے شور اور چیخ پکار میں قیدی( حضرت خبیب رضی اللہ عنہ )کو دیکھاتواُن کے چہرے سے بلا کااطمینان ٹپک رہا تھا اور کسی قسم کے ڈر،خوف،افسوس وپشیمانی اور بے چینی واضطراب کے کوئی آثار نہیں تھے ۔اِس حالت کو دیکھ کرسعید بن عامر کے دل میں ایک عجیب سے احساس نے جنم لیا جسے وہ فوری طورپہ سمجھ نہ سکا۔

پھر اُس نے مجمع کے شور میں حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی پرسکون اور گونجتی ہوئی آواز سنی وہ کہہ رہے تھے : اگر تم لوگ چاہو تو قتل سے پہلے مجھے اتنی مہلت دے دو کہ اپنے رب کے حضور دورکعت نماز پڑھ لوں۔چناں چہ اُنھیں مہلت دے دی گئی ۔ سعید نے دیکھا کہ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ نے قبلہ رُخ ہوکر دورکعت نماز پڑھی ۔

اِس کے بعدسرداروں کی طرف رخ کرکے بولے: اللہ کی قسم! اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم میرے متعلق اِس بدگمانی میں مبتلا ہوجاوٴ گے کہ میں موت کے ڈر سے نماز لمبی پڑھ رہاہوں تو میں اطمینان کے ساتھ اور لمبی نماز پڑھتا۔

حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی موت کے وقت اللہ تعالیٰ سے اِس طرح محبت کااِظہار،اطاعت ِرسول صلی الله علیہ وسلم اور بے خوفی ؛سعید کے دل پر اپنا اثر دکھا رہی تھی اور وہ یہ سب دیکھ اور سن کر دل ہی دل میں بے چین ہورہا تھا۔ کچھ لوگوں نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی یہ بات سن کر جوش اور غصے میںآ کر آپ پر حملہ کردیا اور تلوار اور نیزوں کے وار کیے، جس سے آپ  کا ساراجسم زخمی ہوگیا اور اس سے تیزی سے خون بہنے لگا۔ آپ کی یہ حالت دیکھ کر مشرک سرداروں نے آپ سے کہا: کیا تم اِس بات کو پسند کروگے کہ اِس وقت محمد( صلی الله علیہ وسلم )تمہاری جگہ یہاں ہوتے اور تم اِس تکلیف اور مصیبت سے نجات پاجاتے؟

سعیدبن عامر،خبیب رضی اللہ عنہ کاجواب سننے کے لیے مزید آگے بڑھا اور اس نے آپ کی بے خوف، پرسکون اور پرجوش آواز سنی، حالاں کہ اُس وقت جسم سے بے تحاشا خون بہہ جانے کی وجہ سے آپاپنے جسم کو سنبھال بھی نہ پارہے تھے۔ سعید کو گونجتی ہوئی آواز میں جواب سنائی دیا،آپ رضی اللہ عنہ کہہ رہتے تھے:اللہ کی قسم!مجھے تو اتنا بھی گوارانہیں کہ میں امن وسکون کے ساتھ گھرمیں اپنے اہل وعیال میں رہوں اور محمدصلی الله علیہ وسلم کے پاوٴں کے تلوے میں ایک کانٹا بھی چبھ جائے۔

یہ جواب سنتے ہی مجمع میں شور اٹھا۔ لوگ چیخ چیخ کر کہنے لگے: مار ڈالو اِسے ۔ قتل کردواِسے ۔

پھر سعید کی آنکھوں نے یہ منظر بھی دیکھا کہ لوگ اپنے اپنے ہتھیار لے کر آپ رضی اللہ عنہ پر ٹوٹ پڑے اور زندہ ہی آپ کے جسم کے ٹکڑے ٹکڑے الگ کردیے ۔ سعید نے اس منظر کے ساتھ حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کی آواز اور آخری الفاظ سنے، وہ کہہ رہے تھے ۔ اے اللہ!اِ ن کفار کو ایک ایک کر کے گن، انھیں تباہی کا مزا چکھا اور اِن میں سے کسی کو بھی نہ چھوڑ۔

پھر انھوں نے آخری سانس لی اور شہید ہوگئے۔رضي اللہ تعالیٰ عنہ وأرضاہ!

اِس کے بعد قریش کے لوگ مکہ شہر لوٹ آئے۔واقعات کے ہجوم نے حضرت خبیب رضی اللہ عنہ کا واقعہ دلوں سے بھلا دیا ۔ لیکن نوجوان سعید بن عامر جمحی، حضرت خبیب کی مظلومیت اور اُن کے درد ناک قتل کے اس تکلیف دہ منظر کو ایک لمحے کے لیے بھی اپنے ذہن سے نہ بھلا سکا۔ وہ سوتا تو بھی وہ دردناک منظر دیکھتا اور جب ان کے آخری الفاظ سنتا تو خوف زدہ اور بے چین ہوکر اٹھ جاتا ۔ دن میں جاگتا تو خیالات کا دھارا اسی منظر اور انہی الفاظ کے گرد گھومتا رہتا، کبھی وہ چشم تصور سے دیکھتاکہ وہ دو رکعت نماز ادا کررہے ہیں ، کبھی دیکھتاکہ زندہ ان کے جسم کے ٹکڑے کیے جارہے ہیں ، کبھی دیکھتا کہ آپ بڑے جوش کے ساتھ محمد( صلی الله علیہ وسلم ) کے ساتھ اپنی محبت وعقیدت کا اظہار کررہے ہیں؛ اور جب سعید کو آپ کے آخری الفاظ اور قریش کے لیے بددعا یاد آتی تو اس کے پورے جسم پر لرزہ طاری ہوجاتا، اسے یوں محسوس ہوتا کہ ابھی آسمان سے کوئی بجلی گرے گی اور اسے بھسم کردے گی، یاکوئی چٹان اس پر گر پڑے گی … پھر یہ کیفیت آہستہ آہستہ بدلی اور وہ سوچنے لگا…کہ وہ شخصیت جس کے ساتھی اُس سے اس طرح ٹوٹ کر محبت کرتے اوراتنی زبردست عقیدت رکھتے ہیں،واقعی وہ سچا اوربرحق نبی ہے ۔ اس کا دین بھی سچا اور برحق ہے ۔ اور اس نبی کو حقیقتاً آسمانی مدد حاصل ہے ۔ جب یہ کیفیت دل میں پیدا ہوئی تو اللہ رب العزت نے سعید بن عامر کے دل کو اسلام کے لیے کھول دیا۔ وہ قریش کی مجلس میں پہنچا اور وہاں کھڑے ہوکر قریش اور ان کے گناہوں سے اپنی لاتعلقی و نفرت اوران کے جھوٹے خداؤں سے اپنی بے زاری کا اظہار کرتے ہوئے اپنے مسلمان ہونے کا کھلم کھلا اعلان کردیا۔ واضح رہے کہ حضرت سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کو کسی نے باقاعدہ اسلام کی دعوت نہیں دی تھی،بلکہ حضرت خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کی شہادت اُن کے اسلام میں داخلے اور ہدایت کا ذریعہ بنی۔یہ ایک شہید عاشقِ رسول صلی الله علیہ وسلم کی کرامت تھی کہ اُن کی شہادت کا منظر دیکھ کر ایک بدترین دشمن ِاسلام نے نہ صرف دل وجان سے اسلام قبول کیا،بلکہ دنیوی عیش وعشرت کے بدلے آخرت کا سودا کرتے ہوئے اپنی زندگی کو دین کے لیے وقف اور اپنی تمام جسمانی اور دلی خواہشات کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے تابع کردیا۔

اپنے قبولِ اسلام کا اعلان کرنے کے بعد ہجرت کرکے مدینہ منورہ اسلام کی پہلی مثالی ریاست چلے گئے اور مستقل حضور اقدس صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں رہنے لگے ۔ غزوہ ٴخیبر اور اس کے بعد کے تمام غزوات میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ شریک رہے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کے بعدحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اورحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ادوارمیں کھلی تلوار کی طرح ہر وقت دین کے پھیلانے میں مصروف رہے۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ دونوں خلفا حضرت سعید رضی اللہ عنہ کی سچائی اور تقویٰ کی وجہ سے ان کی نصیحتوں کو بہت غور اور توجہ سے سنتے تھے اور ان کی باتوں پر پورا پورا دھیان دیتے تھے ۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کے ابتدائی دو ر میں ایک مرتبہ حضرت سعیدرضی اللہ عنہ کی ملاقات خلیفہٴ وقت سے ہوئی تو نصیحت کرتے ہوئے فرمانے لگے ”: اے عمر! آپ کو نصیحت کرتاہوں کہ لوگوں کے بارے میں اللہ سے ڈرتے رہیے اور اللہ تعالیٰ کے بارے میں لوگوں سے کبھی نہ ڈریئے گااور یہ کہ آپ کی باتیں آپ کے کاموں سے مختلف نہ ہوں۔ بہترین بات وہی ہے جس کی تصدیق عمل سے ہوتی ہے ۔ اے عمر!دورونزدیک کے اُن تمام مسلمانوں پر اپنی توجہ ہمیشہ برابر رکھیے گا ،جن کی ذمے داری اللہ تعالیٰ نے آپ کے کندھوں پر ڈالی ہے اور ان سب کے لیے وہی سب کچھ پسند کیجیے گا جو آپ خو د اپنے لیے اور اپنے اہل وعیال کے لیے پسند کرتے ہیں اور حق کی راہ میں بڑے سے بڑے خطرے سے نہ گھبرایئے گااور اللہ کے دین کی خاطر کسی کی بھی پروا مت کیجیے گا۔“

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کی نصیحت سن کر فرمایا:”اے سعید!یہ سب کس کے بس کی بات ہے ؟“

عرض کی:” یہ آپ جیسے شخص کے بس کی بات ہے ،جس کو اللہ تعالیٰ نے امت محمدیہ( علی صاحبہا الف الف تحیة) کا ذمے دار بنایا ہے اورجس کے اور اللہ کے درمیان کوئی دوسراحائل نہیں ہے۔“

اس گفت گو کے بعدحضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اُن سے حکومتی کاموں میں تعاون کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے فرمایا: اے سعید!ہمتمہیں حمص شہر کا گورنر بنارہے ہیں۔ جواباً عرض کی:”اے عمر!میںآ پ کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کہ مجھے آزمائش میں مت ڈالیے ۔“

آپ کے اِس جواب سے خلیفہ نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:”اللہ تمہارا بھلا کرے، تم لوگ حکومت کی بھاری ذمے داریوں کا بوجھ میرے کندھوں پہ ڈال کر خود اس سے دور رہنا چاہتے ہو۔ اللہ کی قسم !میں تم(جیسے عابد وزاہد اور خداترس باصلاحیت شخص) کو ہرگز نہیں چھوڑ سکتا ۔“

پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے گورنری کا پروانہ ان کے سپرد کرتے ہوئے فرمایا:”کیا میں تمہارے لیے اس عہدہ کی کچھ تنخواہ نہ مقرر کردوں ؟ “

عرض کی: نہیں! امیر المومنین مجھے اِس کی ضرورت نہیں ہے، بیت المال سے جو وظیفہ مجھے ملتا ہے مجھے اور میرے اہل خانہ کو وہ کافی ہے۔ یہ کہہ کر حِمص روانہ ہوگئے۔ حمص کے لوگ اپنے گورنروں پر اعتراضات، نقطہ چینیاں اور شکایات کرنے میں مشہور تھے ۔کچھ عرصے بعد حمص شہر سے خلیفہ کے کچھ بااعتماد لوگوں کا ایک وفد مدینہ حاضر ہوا اور شہر کے حالات سے آگاہ کیا۔ حالات سن کر امیر الموٴمنین خوش اور مطمئن ہوئے اور فرمایا:”مجھے اپنے شہر کے فقرا اور حاجت مندوں کے نام لکھ کر دے دو ،تاکہ میں اُن کی ضروریات کا کچھ بندوبست کردوں۔“ وفد نے حاجت مندوں کے نام لکھ کر خلیفہ کو پیش کردیے،اس میں اور بہت سے ناموں کے ساتھ ایک نام سعید بن عامر رضی اللہ عنہ کا بھی لکھا ہوا تھا۔ یہ دیکھ کرخلیفہ نے حیرت سے پوچھا: سعید بن عامر؟

وفد نے جواب دیا :جی ہاں! سعید بن عامر ،ہمارے گورنر!

خلیفہ نے مزید حیران ہوکر پوچھا: کیاتمہارا گورنر فقیر اور حاجت مند ہے ؟

عرض کیا گیا :جی ہاں!امیرالموٴمنین! اللہ کی قسم کتنے ہی دن ایسے گزر جاتے ہیں کہ اُن کے گھر میں آگ نہیں جلتی۔

یہ سن کر حضرت عمر رضی اللہ عنہ رو پڑے اور دیر تک روتے رہے، حتیٰ کہ اُن کی داڑھی مبارک آنسووٴں سے ترہوگئی اور آنسو داڑھی سے ٹپک کر دامن کو بھگونے لگے، پھر اٹھے اور ایک ہزار دینارلا کر ایک تھیلی میں رکھ کر وفد کے لوگوں کے حوالے کرتے ہوئے فرمایا: ”سعید سے میرا سلام کہنا اور کہنا کہ امیر الموٴمنین نے یہ رقم تمہارے لیے بھیجی ہے، تاکہ آپ اس رقم سے اپنی ضروریات پوری کریں۔“

وفد واپس حمص پہنچا اور گورنر کی خدمت میں حاضر ہوا ۔امیر الموٴمنین کا سلام پہنچایا اور تھیلی اُن کی خدمت میں پیش کی۔ انھوں نے پوچھا: یہ کیاہے؟

عرض کیا گیا: امیرالموٴمنین نے ایک ہزار دینا رآپ کی ذاتی ضروریات کے لیے بھیجے ہیں۔

یہ سن کر تھیلی کو ہاتھ سے دُور ہٹاتے ہوئے اتنی زور سے” اناللہ وانا الیہ راجعون“ پڑھا جیسے کوئی مصیبت اُن پر نازل ہوگئی ہے ۔ ا ن کی یہ اونچی اورگھبرائی ہوئی آواز سن کر اُن کی اہلیہ گھبرا کر دروازے پر آئیں اور پریشانی سے پوچھا :سعید کیاہوا، کہیں امیر الموٴمنین  کا انتقال تو نہیں ہوگیا؟

بولے: ہماری آخرت کو تباہ کرنے کے لیے دنیاہمارے گھر میں گھس آئی ہے۔

اہلیہ بولیں: تو پھر فورا ًچھٹکارا حاصل کرلیں اس دنیا سے۔

حضرت سعید نے اسی وقت وہ رقم چھوٹی چھوٹی تھیلیوں میں رکھ کر غریب اور حاجت مند مسلمانوں میں تقسیم کردیں ۔

اس واقعے کے کچھ عرصہ بعد امیر المومنین حمص تشریف لائے اور شہریوں سے پوچھا : تم نے اپنے اس امیرکو کیسا پایا؟

شہر کے لوگوں نے حسبِ عادت خلیفہ کے سامنے اپنے امیر کی چار شکایتیں پیش کیں، جن میں سے ہر شکایت دوسری سے بڑی تھی۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے شہریوں کو اور سعید کو ایک جگہ اکٹھا کیا اور بات شروع کرنے سے پہلے دل میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی:اے اللہ!سعید کے متعلق میرے اچھے گمان میں کوئی کمی نہ آئے،کیوں کہ میں ان کے متعلق بہت ہی اچھا گمان رکھتا ہوں۔

پھر میں نے لوگوں سے دریافت کیا : تمھیں اپنے امیرسے کیا شکایت ہے۔

لوگوں نے بتایا: جب تک خوب دن نہ چڑھ آئے یہ گھر سے باہر نہیں نکلتے۔

خلیفہ نے سعید سے پوچھا :تم اِس شکایت کے متعلق کیا کہتے ہو؟

حضرت سعید نے عرض کی:”اے امیر المومنین !اللہ کی قسم!میں اس بات کو ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا مگر اب ظاہر کیے بغیر چارہ نہیں ہے ۔ صورتِ حال یہ ہے کہ میرے گھرمیں کوئی خادمہ نہیں ہے ،اس لیے صبح جلدی اٹھتا ہوں،گھر والوں کے لیے آٹاگوندھ کر ذرا انتظار کرتا ہوں،تاکہ اس کا خمیر اٹھ جائے، پھر روٹیاں پکاتا ہوں، اس کے بعد وضوکرتا ہوں اور پھر لوگوں کی ضرورت کے لیے باہر نکلتاہوں۔“

امیر المومنین نے لوگوں سے پوچھا :تمہاری دوسری شکایت کیاہے؟

بتایاگیا: یہ رات کے وقت کسی کو جواب نہیں دیتے ۔

خلیفہ نے پوچھا :سعید اس شکایت کے متعلق تم کیا کہتے ہو؟

فرمانے لگے:” اللہ کی قسم !میں اس بات کو بھی ظاہر کرنا نہیں چاہتا تھا، مگر اب مجبوری ہے ۔ میں نے دن کے اوقات ان لوگوں کے لیے اور رات کے اوقات اپنے رب کے لیے مخصوص کر رکھے ہیں۔“

امیرالمومنین فرماتے ہیں:میں نے لوگوں سے کہا کہ اپنی تیسری شکایت بیان کرو۔

اُنھوں نے کہا:یہ مہینے میں ایک دن گھر سے باہر نہیں نکلتے۔

امیر الموٴمنین نے حضرت سعید کی طرف دیکھا تو وہ بولے: ”امیر المومنین! میرے پاس کوئی خادم نہیں ہے اورجسم کے اِن کپڑوں کے علاوہ میرے پاس اور کوئی کپڑا بھی نہیں ہے ۔ میں مہینے میں ایک بار اِن کو دھوتا ہوں اور اِن کے خشک ہونے کا انتظار کرتا ہوں اور سوکھنے کے بعد دن کے آخری حصے میں پہن کر باہر آتاہوں ۔“ امیرالموٴمنین نے لوگوں سے چوتھی اور آخری شکایت پوچھی تو وہ بولے: اِن کو بار بار بے ہوشی کے دورے پڑتے ہیں اور یہ آس پاس سے بے خبر ہوجاتے ہیں ۔ امیرالموٴمنین نے حضرت سعید سے مخاطب ہو کر پوچھا :سعید اس شکایت کے بارے میں تم کیا کہتے ہو؟

حضرت سعید یہ شکایت سن کر تھوڑی دیر خاموش رہے،پھر رونے لگے اور روتے روتے بولے:” امیر الموٴمنین! میں خبیب بن عدی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے وقت موقع پر موجود تھا اور اُس وقت مشرک تھا ۔ میں نے قریش کو اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ لوگ تلواروں اورنیزوں سے ان کا جسم زخمی کررہے تھے، کاٹ رہے تھے اور ساتھ ساتھ پوچھتے جاتے تھے کہ آج تمہاری جگہ محمد( صلی الله علیہ وسلم )ہوتے او ر تم اِس تکلیف سے نجات پاجاتے؛ تو حضرت خبیب رضی اللہ عنہ اِس حالت میں بھی اُن کو جواب دے رہے تھے: اللہ کی قسم!مجھے تو یہ بھی گوارا نہیں کہ میں چین، سکون کے ساتھ اپنے اہل وعیال میں رہوں اور رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے تلووٴں میں ایک کانٹا بھی چبھ جائے ۔ اللہ کی قسم!امیرالمومنین جب وہ منظر مجھ کو یاد آجاتا ہے اور ساتھ ہی یہ خیال بھی آتا ہے کہ میں نے اس وقت ان کی مدد کیوں نہ کی؟ تو مجھے شدت سے اس بات کا خطرہ لاحق ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالی میری اِس کوتاہی کو ہرگز معاف نہ فرمائیں گے؛ بس یہ کیفیت آتے ہی مجھ پر بے ہوشی طاری ہوجاتی ہے اور میں اپنے گرد وپیش سے بے خبر ہوجاتا ہوں۔“

امیر الموٴمنین فرماتے ہیں: یہ سن کر میں نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا کہ اس نے سعیدرضی اللہ عنہ کے بارے میں میرے اچھے گمان کو غلط ثابت نہیں کیا۔