بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

دستر خوان نبوی صلی الله علیہ وسلم

دستر خوان نبوی صلی الله علیہ وسلم

محترم سید عاصم محمود

حضرتعمرو ابن ابی سلمہ سے روایت ہے کہ میں لڑکپن میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے ہاں زیر تربیت تھا۔ کھانے کے وقت میرا ہاتھ پوری پلیٹ میں چکر کھایا کرتا تھا۔آپ صلی الله علیہ و سلم نے فرمایا:”بسم الله پڑھو اور دائیں ہاتھ سے کھاؤ اور قریب سے کھاؤ“ یعنی پلیٹ کا جوکنارہ تمہارے سامنے ہے، وہیں سے کھاؤ، ساری پلیٹ میں ہاتھ کو نہ گھماؤ۔ عمرو ابن ابی سلمہ  کی یہ حرکت بظاہر ایک معمولی بات تھی، لیکن اس کے باوجود آپ صلی الله علیہ وسلم نے ان کو نصیحت کی او رکھانے کے ضروری آداب بتائے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ معمولی معمولی باتوں میں بھی آن حضور صلی الله علیہ و سلم کو لوگوں کی تعلیم وتربیت کا کتنا خیال رہتا تھا۔ یاد رہے کہ حضرت عمروبن ابی سلمہ ام المؤمنین ام سلمہ کے پہلے شوہرابوسلمہ کے پہلے لڑکے تھے۔ آپ صلی الله علیہ و سلم اولاد کی طرح ان کی تربیت کا خیال رکھتے تھے۔

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ و سلم نے کبھی کھانے پر نکتہ چینی نہیں کی۔ اگر خواہش ہوئی تو کھا لیا او راگرناپسند ہوا تو چھوڑ دیا۔ یعنی اصل چیز زندگی کے لیے کھانا ہے، نہ کہ کھانے کے لیے زندگی۔ اس لیے جس کے سامنے زندگی کا اعلیٰ نصیب العین ہو، وہ کھانے پینے کی چیزوں میں میخ نکالتا ہے اور نہ بات بات پر گھر والوں کو ٹوکنے اور ان سے الجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ایک مرتبہ صحابہ کرام نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ہم کھاتے ہیں۔ سیری نہیں ہوتی۔ آنحضور صلی الله علیہ سلم نے فرمایا”شاید تم لوگ الگ الگ کھاتے ہو؟“ صحابہ نے عرض کیا جی ہاں۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا”مل کر کھانا کھایا کرو اور الله تعالیٰ کے نام کا بھی ذکر کرو، تمہارے کھانے میں برکت ہوگی۔“

ایک دفعہ ایک صحابی نے آپ صلی الله علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ آپس میں محبت بڑھانے کا عملی طریقہ کیا ہے؟ آپ صلی الله علیہ و سلم نے انتہائی حکیمانہ اور بلیغ مشورہ دیا”مل جل کر کھایا کرو“ ایک ہی دسترخوان پر مل جل کر کھانا محبت بڑھانے کا واقعی بہترین طریقہ ہے۔ بڑے سے بڑا دشمن بھی اگر ایک وقت کا کھانامشترکہ دسترخوان پر بیٹھ کر کھا لے تو دشمنی کا جذبہ ماند پڑ جاتا ہے۔

حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”جس کے ہاتھ میں چکنائی ہو گی، وہ اسے دھوئے بغیر سو گیا اوراسے کوئی نقصان پہنچا تو وہ اپنے آپ ہی کو ملامت کرے۔“ یعنی کھانے سے فارغ ہونے کے بعد ہاتھ دھولینا ضروری ہے۔ خصوصاً جب کہ ہاتھ میں چکنائی لگی ہوئی ہے۔ آداب طعام کی ان نفاستوں کے علاوہ آن حضور صلی الله علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے مطالعے سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے ہاں کھانے کا کوئی ایسا اہتمام نہ تھا کہ روزانہ معمولاً کو ئی غذا آپ کے دسترخوان پر ہوتی۔ زندگی کے دوسرے شعبوں میں جس طرح آپ صلی الله علیہ وسلم نے سادگی کو اپنا شعار بنایا، ان کا دسترخوان بھی سادگی کی مثال تھا۔ لذیذ، مرغن اور پُرتکلف کھانوں سے ہمیشہ اجتناب فرمایا اور ہمیشہ سادہ غذائیں استعمال کیں۔

حضرت انس سے روایت ہے کہ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے تمام عمر چپاتی نہیں کھائی۔ علامہ ابن حجر اس حدیث کے ضمن میں فرماتے ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کا چپاتی نہ کھانا حرمت کی بنا پر نہ تھا۔ بلکہ باریک اور پتلی روٹی عموماً عیش پرستوں کی غذا ہوتی ہے۔ اس لیے آپ صلی الله علیہ وسلم نے عمر بھر اس سے اجتناب کیا۔ آپ صلی ا لله علیہ وسلم اکثر زمین پرد سترخوان بچھا کر کھانا کھایا کرتے۔ بالعموم گھٹنوں کے بل یا اکڑوں بیٹھ کر کھانا کھاتے۔ سہارا یا ٹیک لگا کر کھانا نہ کھاتے۔ کھانے میں عجلت سے کام لیتے اور فرماتے میں اس طریقے سے کھانا کھاتا ہوں، جیسے غلام اپنے آقا کے سامنے۔ کھانا تین انگلیوں سے کھاتے۔ بسم الله سے شروع کرتے اور خدا کی حمدوثنا پر ختم فرماتے۔

کھانے کے معاملے میں حضور صلی الله علیہ وسلم کی عادت یہ تھی کہ جو حلال غذا سامنے رکھ دی جاتی۔ آپ صلی الله علیہ و سلم اسے تناول فرمالیتے اور اسے رد نہ فرماتے او ر نہ کبھی غیر موجود چیز کے طلب میں تکلف فرماتے۔ البتہ اگر طبعاً کوئی چیز غیر مرغوب ہوتی تو اسے نہ کھاتے، نہ کسی کھانے کے مزے دار نہ ہونے کی شکایت فرماتے۔ دسترخوان پر آپ صلی الله علیہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ جو چیز سامنے رکھی ہوتی اسے کھانا شروع کرتے، ادھر ادھر ہاتھ نہ بڑھاتے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس کی ممانعت فرمائی ہے کہ دوسروں کے سامنے رکھے ہوئے کھانوں پر ہاتھ چلایا جائے۔ عموماً بھوک رکھ کر کھانا کھاتے۔ فرمایا کرتے ”مومن کی شان یہ ہے کہ وہ غذا کم کھایا کرے۔“ بعض چیزوں سے آپ صلی الله علیہ وسلم کو زیادہ رغبت تھی۔ ان میں سے چند ایک درج ذیل ہیں۔

گوشت
حدیث کی کتابوں سے پتہ چلتا ہے کہ حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم نے بھیڑ، بکری، دنبہ، اونٹ، گائے، خرگوش، مرغ، بیٹر او رمچھلی کا گوشت کھایا ہے۔ دست کا گوشت آپ صلی الله علیہ وسلم کو بہت پسند او رمرغوب تھا۔ حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو دست کا گوشت فی نفسہ  چنداں مرغوب نہ تھا، بلکہ امر واقعہ یہ ہے کہ چوں کہ کئی کئی روز تک گوشت دستر خوان پر نہ ہوتا تھا۔ اس لیے جب کبھی مہیا ہو جاتا تو آپ صلی الله علیہ وسلم کی یہ خواہش ہوتی کہ جلد پک کر تیار ہو جائے۔ چوں کہ دست کا گوشت جلد گل جاتا ہے۔ اس لیے آپ صلی الله علیہ وسلم اسی کو پسند فرماتے تھے۔ لیکن دوسری روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ علاوہ اس خوبی کے دست کا گوشت آپ صلی الله علیہ وسلم کو دوسرے حصوں سے زیادہ مرغوب تھا۔

ثرید
نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کو ثرید بہت مرغوب تھا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم اسے نہایت شوق سے تناول فرماتے اور اس کی تعریف کرتے۔ثرید بنانے کی ترکیب یہ تھی کہ روٹی کے ٹکڑے گوشت کے شوربے میں توڑ دیے جاتے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم دوسرے کھانوں پر اس کو فضیلت دیتے تھے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعری کی روایت ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا ”مرد تو بہتکامل انسان بنے، عورتوں میں مریم بنت عمران اور آسیہ فرعون کی بیوی کامل انسان ہوئیں اور عائشہ  کو عورتوں پر ایسی فضیلت وفوقیت ہے جیسے ثرید کو دوسرے کھانوں پر“۔

پنیر، حلوہ، شہد
حضرت عبدالله بن عمر کی روایت ہے کہ تبوک کے موقعہ پر حضور صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں پنیر پیش کیا گیا تو آپ صلی الله علیہ و سلم نے چھری طلب کی او راس سے بسم الله پڑھ کر پنیر کاٹا۔ حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ آنحضور صلی الله علیہ وسلم کو حلوہ اور شہد مرغوب طبع تھے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ شہد میں لوگوں کے لیے شفا ہے۔ اسی لیے وہ زیادہ پسند تھا۔ اس حدیث میں جس حلوے کا ذکر ہے وہ چھوہاروں کو دودھ میں پکاکر تیار کیا جاتا تھا۔

چھوہارا
چھوہارا آپ صلی الله علیہ وسلم کو بہت پسند تھا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا جس گھر میں چھوہارانہ ہو، اس کے رہنے والے بھوکے ہیں۔ یوسف بن عبدالله بن سلام  فرماتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ آنحضور صلی الله علیہ وسلم کے دست مبارک میں جوکی روٹی کا ایک ٹکڑا تھا۔ آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس پر چھوہارا رکھا اور فرمایا یہ اس کا سالن ہے۔

دودھ
آپ ا دودھ کو بہت زیادہ پسند فرماتے تھے۔ کبھی خالص نوش فرماتے، کبھی اس میں پانی ملا لیتے۔ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے چودہ سو سال پہلے جن غذاؤں کی افادیت بتائی۔آج کی سائنس نے اس پر تحقیق کرکے ثابت کر دیا ہے کہ زندگی کی تن درستی کے لیے اسلام نے جن غذاؤں کی نشان دہی کی ہے وہ صحت او رحیات کے لیے لازمی ہیں۔ اب ہمارا بھی یہ فرض ہے کہ ہم اتنا کھائیں، جس سے زندگی کے دن آرام اورآسائش سے گزر سکیں۔ جینے کے لیے کھانا چاہیے، نہ کہ کھانے کے لیے جینا چاہیے۔