بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

درد کا حد سے گزرنا ہے، دوا ہو جانا

درد کا حد سے گزرنا ہے، دوا ہو جانا

مولانا نور عالم خلیل امینی

 

الله پاک نے اپنی زندہ جاوید کتاب میں معجزانہ اور بلیغ اسلوب میں فرمایا ہے کہ مومنوں کی صفات میں سے یہ ہے کہ وہ اپنے رب پر بھروسا کرتے ہیں، بڑے بڑے گناہوں اور بد کاریوں سے بچتے ہیں، غصے کے وقت لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں، اپنے رب کی بات مانتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، دین ودنیا کے معاملات میں آپس کے مشورے کے بعد ہی کوئی قدم اٹھاتے ہیں، ہمارے عطا کردہ رزق سے خرچ کرتے ہیں اور جب ظلم وجور کا شکار ہوں تو انتقام لیتے ہیں:

” اور جو کچھ الله کے یہاں ہے بہتر ہے اور باقی رہنے والا ہے، واسطے ایمان والوں کے، جو اپنے رب پر بھروسا رکھتے ہیں اور جو لوگ کہ بچتے ہیں بڑے گناہوں سے اور بے حیائی سے او رجب غصہ آوے تو وہ معاف کر دیتے ہیں او رجنہوں نے کہ حکم مانا اپنے رب کا اور قائم کیا نماز کو اور کام کرتے ہیں مشورے سے آپس کے او رہمارا دیا کچھ خرچ کرتے ہیں اور وہ لوگ کہ جب ان پر ہووے چڑھائی تو وہ بدلہ لیتے ہیں۔“ (الشوریٰ:36 تا39 ،ترجمہ شیخ الہند)

آیت کریم میں ”ینتصرون“ کا لفظ آیا ہے۔ یہ لفظ انتہائی بھرپور معنی کا حامل ہے، اس کے معنی کا م یابی، فوز وفلاح، غلبہ وفتح مندی، انتقام، دوسروں کی نصرت ومدد اور حق وانصاف کی مدافعت وغیرہ ہے، لہٰذا آیت کا مطلب ہو گا کہ جب اہل ایمان کو ظلم وتعدی سے سابقہ ہوتا ہے تو اس سے بھرپور انداز میں نمٹتے ہیں، کام یابی حاصل کرتے ہیں، ظالموں پر فتح پاتے ہیں، غلبہ وسربلندی کوروبہ عمل لاتے ہیں، الله کی مدد سے ظالموں سے انتقام لیتے ہیں، کیوں کہ الله کی سنت ہے کہ وہ مظلوموں کی مدد کرتا ہے، ظلم وجور کا نشانہ بننے والوں کا ساتھ دیتا ہے اور فتح مندی وغلبے کے ذریعے ان کی اشک شوئی او رخبر گیری کرتا ہے۔

یہ آیت موجودہ حالات میں مسلمانوں کے لیے بڑی بشارت کی حامل ہے، اس وقت ساری دنیا میں ہمیں ظلم وجور کا سامنا ہے، لا محدود ظلم وتعدی کا ہمیں شکار بنایا جارہا ہے، ہمیں پیہم اور بغیر کسی وقفے کے جسمانی وذہنی عذاب میں مبتلا رکھا جارہا ہے، ہمیں ہرطرف سے گھیرا جارہا ہے، ہمارا پیچھا کیا جارہا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ مظلومی کی یہ صورت حال ہمارا مقدر اورہمارا نصیبہ ہے۔ یہ صورت حال ہم میں سے بہت سے لوگوں کے لیے مایوسی اور احساس محرومی کا باعث بنی ہوئی ہے۔ بہت سے مسلمان زبان حال وزبان قال دونوں سے یہ کہنے لگے ہیں :﴿متیٰ نصر اللہ﴾الله کی مدد کب آئے گی؟) اس کے جواب میں سنت الله گویا یہ پکار کے کہہ رہی ہے :” الا ان نصر الله قریب“ (ہاں سنو! الله کی مدد آیا چاہتی ہے ۔) بلاشبہ الله کی یہ سنت رہی ہے کہ وہ ظلم کا لازماً ازالہ کرتا رہا ہے، باغیوں ، سرکشوں، گردن فرازوں، ظلم وجور کے ناخداؤں اور غرور وتکبر وسربیت کے”رب اعلیٰ“ سب سے بڑا خدا ہونے کا دعوی کرنے والوں کو مٹاتا اور اپنے عدل وانصاف کے قانون محکم کے ذریعے انہیں ان کے منطقی انجام بد تک پہنچاتا رہا ہے ۔ وہ آخرت سے پہلے دنیا میں ان کی بھرپور اور کھلم کھلا رسوائی وجگ ہنسائی کا انتظام کرتا رہا ہے، اس کی سنت ڈھیل دینے کی رہی ہے، لیکن چھوڑ دینے اوربالکل طرح دینے کی نہیں رہی ہے، لیکن ہم انسان ضعیف البنیان اور اسی خدائے عالم الغیب کے بقول عجلت پسند جو پیدا کیے گئے ہیں، تو ہم زندگی کے تمام مسائل کے حوالے سے” عجلت پسند“ او رجلد بازا واقع ہوئے ہیں۔ ہم انتظار کرنے اور آہستہ روی کے قائل نہیں، ہم تو بس یہ چاہتے ہیں کہ ہر کام ہماری خواہش کے مطابق اورہماری چاہت کے بقدر اور ہماری بے حساب تمنا کے معیار پر، ہمارے مقرر کردہ وقت پر ہی ضرور ہو جایا کرے، ورنہ ہماری بے تابی دیدنی ہوتی ہے۔

بہر صورت ہم اس وقت ظلم وجور کی ہر نوع کا شکا رہیں، لیکن یہی صورت حال ہماری فتح مندی، ہمارے غلبے، ہماری بھرپور کام رانی وشادمانی کا یقینی پیام بھی ہے۔ ہم خدائے لم یزل کے دست قدرت کے طفیل ظالموں سے ضرور بدلہ لیں گے، ہم حق وعدل کے لیے ضرور کام یاب ہوں گے، کیوں کہ ہم اس کے سچے نمائندے اور واحد علم بردار ہیں۔آیت کریمہ صاف طور پر بتاتی ہے کہ الله پاک کا مظلوم، مومنوں سے فتح مندی اور غلبہ دینے کا یہ وعدہ ہے۔ آیت صرف یہی نہیں بتاتی کہ یہ حقیقت رونما ہو کے رہے گی، بلکہ وہ یہ بھی بتاتی ہے کہ مظلوم مومنوں کے لیے یہ محکم وعدہٴ الہٰی ہے، جو بہر صورت پورا ہو کے رہتا ہے، خواہ ظالموں کو پسند ہو یا ناپسند، ان کے نہ چاہنے سے کچھ نہیں ہو گا، انہیں اپنے ظلم کا تلخ مزہ چکھنا ہو گا اور مظلوموں کو ان سے انتقام دلایا جائے گا، یہ اسی دنیا میں ہو گا، اسی آسمان کے نیچے اور اسی زمین کے اوپر ہو گا اور آخرت کا عذاب تو اپنی جگہ ہے ہی، جو اس سے زیادہ شدید اور کماً وکیفاً ناقابل تصور حد تک رسوا کن اور تکلیف دہ ہو گا۔ (العیاذ بالله)

ایک مرتبہ اور آیت کے الفاظ کو ذہن نشین کر لیجیے:﴿والذین اذا اصابھم البغی ھم ینتصرون﴾․(الشوریٰ)
ترجمہ:” وہ لوگ کہ جب ان پر ہووے چڑھائی تو وہ بدلہ لیتے ہیں۔“

یعنی وہ اس آبروکا بدلہ لیتے ہیں جو اُن سے چھین لی گئی تھی، اس عزت کا بدلہ لیتے ہیں جس سے انہیں محروم کر دیا گیا تھا، اس زمین کا بدلہ لیتے ہیں جو ان سے ہڑپ کر لی گئی تھی، اس امن او رچین کا بدلہ لیتے ہیں، جس کے لیے ان کو ترسایا گیا تھا، اس ظلم کا بدلہ لیتے ہیں جو ان پر ڈھایا گیا تھا، خود داری کی اس زندگی کا بدلہ لیتے ہیں، جس سے ان کو تہی مایہ کر دیا گیا تھا، اور اس وطن کا بدلہ لیتے ہیں،جس سے ان کو نکالا گیا تھا۔

لیکن اس کے لیے صرف ایک شرط ہے اور وہ ہے ”ایمان“ کی شرط جو بڑی کڑی، اہم او رکٹھن شرط ہے، کیوں کہ اس شرط پر پورا اترنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ اس کو دعوی ، ریا کاری، سینہ زوری، فخرومباہات کے سرمایوں، قوت بازو، دھوکا دہی، حیلہ سازی، بہانہ بازی اور ظاہر کی تاب ناکی اور باطن کی تیرگی کے ساتھ حاصل نہیں کیا جاسکتا، حقیقت یہ ہے کہ ایمان کا واقعی وجود ہی ایک انسان کے ہر درد کی شافی دوا اور ہر مسئلے کا مکمل اورکافی حل ہے۔ ایمان سے بڑا مسیحا اس دنیا میں کوئی نہیں ۔ اس سے بڑا سہارا اور ہر مشکل کے بھنور کا مضبوط کنارا دنیا میں دست یاب نہیں۔ اس اکسیر کے بعد کسی فارمولے کی ضرورت نہیں او راس ماسٹر کی (شاہ کلید) کے بعد کسی کلید کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس کے ہوتے ہوئے انسان کو کسی ہتھیار کی ضرورت نہیں، وہ زندگی کے ہر معرکے میں بے تیغ لڑ کر اس کو مکمل طور پر سرکرسکتا ہے، اس کے بغیر انسان، کائنات کی ایک کٹی ہوئی پتنگ ہے، ہر سہارے کے باوجود بے سہارا ہے ، ہر شفقت کے باوجود، حالات کی ستم ظریفی اور حوادث زمانہ کی تیز دھوپ کا نشانہ ہے۔

آیت میں جو بشارت ہے، وہ محض نام کے مسلمانوں اور صرف مردم شماری کے فارم پر عبدالعزیز اور عبدالوکیل درج شدہ لوگوں کے لیے نہیں، جو اپنے عمل وکردار میں فرعون ، ہامان، نمرود، ہٹلر، چنگیز، ہلاکو، بش، راون، ابوجہل، ابولہب اور جو اپنے خدا بے زار کرتوتوں کے ذریعے شیطان کو شرمندہ کر دینے والے انسان ہوں۔ آیت میں غلبہ وفتح مندی کا الہی وعدہ ”ایمان“ رکھنے والوں کے لیے ہے، ایمان کے تقاضوں پر عمل کرنے والوں کے لیے ہے، فواحش ومعاصی سے گریزاں رہنے والوں کے لیے ہے، اقامت ِ صلوٰة پر کار بند رہنے والوں کے لیے ہے، تمام او امرونواہی میں اپنے رب کی ماننے والوں کے لیے ہے، غصے کو پی جانے والوں اور لوگوں کو ممکن حد تک معاف کر دینے والوں کے لیے ہے، الله پر توکل کرنے والوں کے لیے ہے، جو یقین رکھتے ہیں نصرت وہزیمت، عزت وذلت صرف اسی رب ذوالجلال کے ہاتھ میں ہے، نیز یہ وعدہ ان لوگوں کے لیے ہے جو دشمنان خدا کا پیچھا کرنے کے حوالے سے خدائے بے نیاز کا حکم ضرور مانتے ہیں، وہ کسی ”تکلیف“ اور ”بے آرامی“ کی وجہ سے دشمنوں کا پیچھا کرنے میں پیچھے نہیں رہتے اور آرام وراحت کی طلب میں کسی چانس کو اور صحیح موقع کو ہاتھ سے جانے نہیں دیتے، وہ پیچھا کرنے کی راہ میں تلوے میں چھبے ہوئے کسی ”کانٹے“ کو نکالنے کی بھی فکر نہیں کرتے، بلکہ باغیان خدا اور عاصیان رب دوجہاں کے تلوے بھی اسی طرح کے کانٹوں او ران کے جسم وذہن بھی اسی طرح کی بے آرامی اور فکر مندی سے دو چار ہیں، لیکن وہ سرمایہ ”ایمان“ سے تہی مایہ ہونے کے باوجود اور الله سے کسی ثواب کی امید سے یکسر محرومی کے باوصف اگر ایک لمحے کے لیے بھی مومنوں کا پیچھا کرنے سے غافل رہنے او راس میں توقف کرنے یا سانس لینے کے قائل نہیں تو بھلا اہل ایمان کے لیے ذرا بھی ”وقفہٴ استراحت“ کی گنجائش کیوں کر ہو سکتی ہے؟! الله تعالیٰ کا ارشاد ہے:

”او رہمت نہ ہارو، ان کا پیچھا کرنے سے، اگر تم بے آرام ہوتے ہو تو وہ بھی بے آرام ہوتے ہیں، جس طرح تم ہوتے ہو او رتم کو الله سے امید ہے، جوان کو نہیں۔“ (النساء:104، ترجمہ: شیخ الہند)

ہم بعض مرتبہ الله تعالیٰ کی نشانیوں پر غور کرنے، قرآن میں ذکر کردہ اس کی عبرت خیز سچی داستان ہائے قوم وملل کو پڑھنے، تاریخ کے اشارات کو سمجھنے، الہٰی وعدہ اور وعیدوں کوا حاطہ فکر وتامل میں لانے او رمجاہدین ومحسنین پر کیے گئے انعامات کو مستحضر رکھنے سے غافل رہتے ہیں، ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ الله پاک مجاہدین کی نصرت رعب کے ذریعے کرتا رہا ہے، تائید غیبی سے انہیں تقویت دیتا رہا ہے اور کائنات کی ہر چیز میں پوشیدہ اپنے ”سپاہیوں“ کے ذریعے ان کی مدد کرتا رہا ہے۔ کائنات کی ہر شے اس کا ”سپاہی“ ہے، خاموش ہو یا جامد ہو یا بڑھنے والی، زندہ ہو یا مردہ، چھوٹی ہو، یا بڑی، معمولی ہو یا غیر معمولی۔

ہاتھی والے ابرہا او راس کے فوجیوں کو خدائے ذوالجلال نے آخر پرندوں کی کنکریوں او رپتھروں کی بارش سے، جس طرح تباہ کر دیا تھا، رہتی دنیا تک کے لیے اس نے واقعے کو وحی متلو کی شکل میں زندہ پائندہ کر دیا ہے، تاکہ دنیا والے ہمیشہ اس سے عبرت حاصل کرتے رہیں اور اگر توفیق ہو تو اس کے کھلے اور چھپے ”سپاہیوں“ سے خوف کھاتے رہیں۔ آئیے! ہمارے ساتھ آپ بھی اس چھوٹی سی سورة کی تلاوت کیجیے او راپنے ایمان کو تازہ اوریقین کو صیقل اور رب کی بے حساب قدرت کا کچھ اندازہ کیجیے:
”کیا تونے دیکھا! کیا، کیا تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ؟ کیا نہیں کر دیا ان کا داؤ غلط اور بھیجے ان پر اڑتے جانور ٹکڑیاں ٹکڑیاں، پھینکتے تھے ان پر پتھریاں کنکر کی ،پھر کر ڈالا ان کو جیسے بھس کھایا ہوا۔“ (سورہٴ فیل:1 تا5، ترجمہ شیخ الہند)

اصحاب الفیل کا قصہ ذہن میں تازہ کرلیجیے۔ ”شاہ حبشہ“ کی طرف سے ”یمن“ میں ایک حاکم ”ابرہا“ نام کا تھا۔ اس نے دیکھا کہ سارے عرب کعبہ کا حج کرتے ہیں تو اس کے سینے میں حسد کی آگ بھڑک اٹھی کہ عرب والوں کو یہ سعادت حاصل ہے کہ لوگ دنیا سے کھینچے چلے آتے ہیں ، ایسا ہم عیسائیوں کے لیے کیوں نہیں؟ اس نے چاہا کہ لوگ کعبہ کو چھوڑ کر ہمارے پاس جمع ہوا کریں، اس کی تدبیر اس کے ذہن میں یہ آئی کہ عیسائیت کے نام پر ایک عالی شان گرجا بنایا جائے، جس میں ہر طرح کے تکلفات اور راحت ودلکشی کے سامان ہوں، اس طرح لوگ اصلی اور سادہ کعبہ کو چھوڑ کر اس مکلف اور مرصّع ”کعبہ“ کی طرف آنے لگیں گے او رمکہ کا حج چھوٹ جائے گا،چناں چہ ”صنعاء“ جو یمن کا بڑا شہر ہے، میں اپنے مصنوعی کعبہ کی بنیاد رکھی اورخوب دل کھول کر روپے خرچ کیے، اس پر بھی لوگ ادھر متوجہ نہ ہوئے۔ عربوں کو خصوصاً قریش کو جب اس کی خبر ہوئی، سخت ناراض ہوئے، کسی نے غصے میں آکر وہاں پاخانہ کر دیا، ابرہا چراغ پا ہو گیا، اس نے جھنجھلا کر کعبہ شریف پر فوج کشی کردی، بہت سا لشکر او رہاتھی لے کر اس ارادے سے چلا کہ کعبہ کو منہدم کر دے، اس وقت حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم کے دادا حضرت عبدالمطلب قریش کے سردار او رکعبہ کے متولی اعظم تھے، ان کو ابرہا کے اس ارادے کی خبر ہوئی، تو اہل مکہ سے فرمایا ”لوگوں! اپنا بچاؤ کر لو، کعبہ جس کا گھر ہے وہ خود اس کو بچالے گا۔“ ابرہا نے راستہ صاف دیکھ کر یقین کر لیا کہ کعبہ کا منہدم کر دینا کوئی مشکل کام نہیں، کیوں کہ ادھر سے کوئی مقابلہ کرنے والا نہ تھا، جب وادی”محسر“(جو کہ مکے کے قریب جگہ ہے ) پہنچا تو سمندر کی طرف سے سبز اور زرد رنگ کے چھوٹے جانوروں کی ٹکڑیاں نظر آئیں، ہر ایک کی چونچ اور پنجوں میں چھوٹی کنکریاں تھی، ان عجیب وغریب پرندوں کے غول کے غول کنکریاں لشکر پر برسانے لگے، خدا کی قدرت وہ کنکرکی پتھریاں بندوق کی گولی سے زیادہ کام کرتی تھیں، جس کے لگتیں، ایک طرف سے گھس کر دوسری طرف کو نکل جاتیں او رایک عجیب طرح کا زہریلا مادہ چھوڑ جاتی تھیں، بہت سے تو اپنے جگہ ہلاک ہو گئے، جو بھاگے وہ دوسری بڑی بڑی تکلیفیں اٹھا کر مرے۔