بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خلیفہ ٴ رابع سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ

خلیفہ ٴ رابع سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ

محترم عبدالرشیدطلحہ نعمانی

 

مدتِ دراز تک آغوشِ نبوت میں پرورش پانے والے،نبی پاک صلی الله علیہ وسلم کی دعوتِ اسلام پر سب سے پہلے صدائے لبیک بلند کرنے والے،خوف ناک اور جاں گسل حالات میں سفرہجرت کی رات فراش نبی کو اپنا بستر بنانے کی سعادت حاصل کرنے والے،غزوہ تبوک میں مملکتِ اسلامیہ کے دارالخلافہ مدینہ طیبہ میں نیابتِ نبی کے فرائض انجام دینے والے، فصاحت وبلاغت کے امام، علم وادب کے منبع،حکمت ودانائی کے مخزن،جرأت وشجاعت اور ذہانت وفطانت کے حسین امتزاج، جگرگوشہٴ رسول فاطمة الزھراء کے سرتاج، کمالِ تقویٰ اور غایتِ زہد کے باوجود خندہ رو اور شگفتہ مزاج، سطوت وحکومت، جاہ وحشمت اور سامان کروفر کی بہتات وفراوانی کے باوجود حلہٴ خسروی کے بجائے خرقہٴ درویشی کو زیب تن کرنے والے، تاجِ سروری کے مقابلہ میں عمامہٴ نبوی اور مسند جہاں بانی کی جگہ فرش خاکی کو پسند کرنے والے،خلیفہٴ رابع امیر المومنین سیدنا علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ،جو مختلف خصائل وفضائل کے حامل، متعدد محاسن واخلاق کے جامع اور کئی ایک کمالات وصفات کے حسین پیکر تھے، گویا ان کی ایک زندگی کئی زندگیوں کا خلاصہ ونچوڑ اور حیات کاہرشعبہ صفتِ کمال کا وہ نادر مرقع تھا، جس سے فضیلت وخصوصیت کے بے داغ خدوخال ابھر کر سامنے آتے تھے اور جس کے ہر کمال پر نظریں جم کر رہ جاتی تھیں۔ #
        زفرق تا بقدم ہر کجا کہ می نگرم
        کرشمہ دامنِ دل می کشد کہ جا ایں جا است

مختصر سوانحی خاکہ
آپ کا نام نامی علی، لقب حیدر و مرتضیٰ، کنیت:ابو الحسن اور ابو تراب ہے۔ آپ کی ولادت مشہور قول کے مطابق بعثت سے دس سال قبل شعب بنی ہاشم مکہ مکرمہ میں ہوئی، والدہ ماجدہ نے اپنے والد کے نام پر ”اسد“ نام رکھا، جسے بعد میں والد نے تبدیل کرکے ’علی‘ کردیا۔ آپ کا نسبی تعلق حضور صلی الله علیہ وسلم سے قریب ترہے، آپ کے والد ابو طالب اور حضور صلی الله علیہ وسلم کے والد ماجد حضرت عبد اللہ دونوں حقیقی بھائی ہیں۔پوراسلسلہ نسب اس طرح ہے:علی بن ابی طالب بن عبدالمطلب بن ہاشم بن عبدمناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی۔چوں کہ ابوطالب کی شادی اپنے چچا کی لڑکی سے ہوئی تھی، اس لیے حضرت علی  نجیب الطرفین ہاشمی اورآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی چچازاد بھائی تھے۔ آپ کابدن دوہرا، قدمیانہ، چہرہ روشن و منور، داڑھی گھنی اور حلقہ دار، ناک بلند، رخساروں پر گوشت، غلافی اور بڑی آنکھیں، پیشانی چوڑی، کاندھے بھاری، بازو اور کلائیاں گوشت سے بھری ہوئیں اورسینہ کشادہ تھا۔ (اسد الغابہ)

ابو طالب چوں کہ کثیر العیال اورمعاشی تنگی سے پریشان تھے، قحط وخشک سالی نے اس مصیبت میں اور بھی اضافہ کردیاتھا؛ اس لیے رحمةللعالمین صلی اللہ علیہ وسلم نے محبوب چچا کی عسرت سے متاثر ہوکر حضرت عباس  سے فرمایا کہ ہم کو اس مصیبت وپریشان حالی میں چچا کا ہاتھ بٹانا چاہیے؛چناں چہ حضرت عباس  نے حسب ارشاد جعفر کی کفالت اپنے ذمہ لی اور سرورکائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہِ انتخاب نے علی  کو پسند کیا؛چناں چہ وہ اس وقت سے برابر حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔(تاریخ اسلام)

عہدِ نبوت و خلافت میں کارہائے نمایاں
تقریباً دس سال کی عمر میں اللہ رب العزت نے معرفتِ حق اور پھر قبولِ حق کی دولتِ گراں مایہ سے سرفراز فرمایا۔پھر کیا تھا؟رات و دن سرورکائنات صلی الله علیہ وسلم کی معیتِ صادقہ میں گزرنے لگے، مشوروں کی مجلسوں میں، تعلیم وارشاد کے مجمعوں میں، کفار ومشرکین کے مباحثوں میں ،معبودِ حقیقی کی یادوں میں… غرضیکہ ہرقسم کی صحبتوں میں شرکت کی سعادت سے بہرور ہونے لگے، خود حضرت علی کا بیان ہے کہ میں محسنِ انسانیت صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے ایسے چلتا تھا جیسے اونٹ کا بچہ اونٹ کے پیچھے چلتا ہے۔

مدینہ طیبہ آنے کے بعد آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے حضرت علی کو دامادی کا شرف بخشا؛اس طرح جگر گوشہٴ نبی حضرت فاطمة الزھراء آپ کے نکاح میں آئیں۔آپ مدنی زندگی کے تمام غزوات میں،حضور صلی الله علیہ وسلم کے دست و بازو بنے رہے، غزوہ بدر، احد، خندق، بنی قریظہ اور حنین وغیرہ میں آپ نے عزم وہمت جرأت وشجاعت اور بے باکی وجواں مردی کے ایسے جوہر دکھلائے کہ اسد اللہ آپ کے نام کا جزولاینفک ہوگیا، ان کے علاوہ متعدد سرایابھی آپ کی ماتحتی میں بھیجے گئے، جنہیں آپ نے کام یابی کے ساتھ سرانجام دیا اور قدم قدم پر اسلام کی سربلندی واشاعت میں بھر پور حصہ لیا، صلح حدیبیہ کا معاہدہ آپ ہی نے تحریر کیا، معرکہٴ خبیر کی فتح وظفر مندی تو آپ ہی کے نام سے معنون ہے، اسی طرح مکہ پر چڑھائی کے وقت جاسوس کا خط لے کر جانے والی عورت کا پردہ بھی آپ ہی نے فاش کیا، غزوہ تبوک کے موقع پر آپ ہی نے جانشین نبی کے فرائض انجام دیے اور جب آں حضرت صلی الله علیہ وسلم اس دارِ فانی سے پردہ فرماگئے تو آپ کے غسل اور تجہیز وتکفین کی سعادت بھی آپ ہی کے حصہ میں آئی۔علاوہ ازیں خلفائے ثلاثہکے بابر کت زمانوں میں بھی آپ ان اکابر کے دست راست اور مشیرِ خاص رہے، وفاتِ نبی کے بعد بنو ہاشم خلافت کو اپنا حق سمجھنے لگے،حتی کہ روٴسائے قریش نے تو حضرت کو آگے آنے کا باصرار مشورہ دیا؛مگر حضرت علی نے دانائی اور دور اندیشی سے اس عظیم فتنہ کا خاتمہ فرمایا ۔عہد فاروقی میں ایران پر چڑھائی کے وقت آپ ہی نے حضرت عمر کو مدینہ نہ چھوڑنے کا صائب مشورہ دیا، ایک مرتبہ کسی شخص نے پیش رو خلفاء کے زمانہ میں پر امن حالات اور آپ کے زمانہ میں بپا شورش کا شکوہ کیا تو یوں ارشاد فرمایا کہ ہمیں مشورہ دینے والے تم ہو اور انہیں مشورہ دینے والے ہم تھے۔

مسند خلافت پر
حضرت عثمان کی وفات کے بعد تقریباً ایک ہفتہ تک مسندِ خلافت خالی رہی،کوئی بھی نام ور شخصیت بارِ حکومت اٹھانے کو تیار نہ ہوئی۔ ان حالات میں انصار ومہاجرین کے بزرگ جمع ہو کر آپ کے پاس تشریف لائے اور خلافت کے اس عظیم منصب کو(جس کے اُس وقت بلاشبہ آپ ہی حق دار تھے)قبول کرنے پر اصرار کیا، ابتداء ً آپ نے انکار کیا اور فرمایا کہ مجھے امیر بننے کے بہ نسبت وزیر بننا زیادہ پسند ہے؛ لیکن حالات کا بگاڑاور امت کا اجماع دونوں ہی آپ کی شخصیت پر جمع ہوگئے، تب آپ کی ہمت عالیہ نے 24/ذی الحجہ35ھ کو خلافت کی باگ ڈور سنبھالی اور پیش رو خلفاء کی سنت کے عین مطابق مسلمانوں کے مجمع سے خطاب فرمایا، جس میں حمد وثنا کے بعد ارشادفرمایا کہ مسلمانوں کی جان ہر چیز سے زیادہ قیمتی ہے، اس لیے تم سب متحد ومتفق ہوکر رہو، کیوں کہ حقیقی مسلمان وہی ہے جس کے زبان وہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے، اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرو، اس کے احکامات کی خلاف ورزی سے بچو، جہاں کہیں بھلائی کی بات دیکھو اسے قبول کرواورجہاں بدی نظر آئے اس سے پر ہیز کرو۔

جن حالات میں حضرت علی سر یر آرائے خلافت ہوئے وہ غیر معمولی قسم کے نہایت پر آشوب حالات تھے، ایک طرف قصاص عثمان کا سنگین مسئلہ درپیش تھاتو دوسری طرف حضر ت معاویہ کی معزولی نے ایک نئی شورش برپا کررکھی تھی، اس کے بعد بھی یکے بعد دیگرے سخت حالات آتے رہے؛ مگر عزم واستقامت کا یہ کو ہ ہمالیہ انتہائی جرأت وشجاعت کے ساتھ دیوانہ واران کا مقابلہ کرتا رہا، بالخصوص جنگ جمل اور جنگ صفین (جو مشاجرات صحابہ کے عنوان سے معنون ہے)میں جس دور اندیشی اور حکمت ودانائی سے کام لیا وہ واقعةً آپ ہی کا حق تھا۔

ان پریشان کن حالات کے باوجود حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اصلاحات کا کام جاری رکھا۔ آپ اپنے عاملوں کی نگرانی کرتے تھے۔ لوگوں کے ساتھ شفقت کے ساتھ پیش آتے تھے۔ بیت المال کے دروازے غریبوں کے لیے کھلے تھے۔ اس میں جو رقم آتی،آپ ضرورت مندوں میں تقسیم فرمادیتے تھے۔آپ خود بہت تجربہ کار جنگ آزما تھے۔ جنگی معاملات کو اچھی طرح سمجھتے تھے، چناں چہ خلیفہ بننے کے بعد آپ نے فوجی چھاوٴنیاں نہایت کثرت سے قائم کیں۔ایران کی طرف شورش اور بغاوت کی وجہ سے آپ نے اصطخرمیں ایک قلعہ بنوایا؛تاکہ خطرے کے وقت عورتوں اور بچوں کی حفاظت ہو سکے۔ جنگی تعمیرات کے سلسلے میں دریائے فرات پر پل بنوایا۔یمن میں اسلام کی روشنی آپ ہی کی کوششوں سے پھیلی تھی۔آپ کے خلیفہ بننے کے بعد ایران اور آرمینیہ کے نئے نئے مسلمان مرتد ہوگئے تو آپ نے ان کی سرکوبی فرمائی، چناں چہ ان میں سے اکثر نے توبہ کی اور مسلمان ہوگئے۔ اسی طرح خارجیوں کا قلع قمع کیا۔ سبائی گروہ میں سے کچھ آپ رضی اللہ عنہ کو خدا کہنے لگے تھے، آپ نے انہیں عبرت ناک سزائیں دیں اور ان کے گھروں کو ڈھادیا۔

آپ کی سیاسی خدمات پر ایک نظر
حضرت علی مرتضی کو اندرونی شورشوں اور خانگی جھگڑوں کو دبانے سے اتنی فرصت نہ مل سکی کہ وہ فتوحاتِ اسلامیہ کے دائرہ کو وسیع کرسکیں، تاہم آپ بیرونی امور سے کبھی غافل نہ رہے، چناں چہ سیستان اور کامل کی سمت میں بعض عرب خودمختار ہو گئے تھے، ان کو قابو میں کرکے قدم آگے بڑھایا اور38/ھ میں بعض مسلمانوں کو بحری راستہ سے ہندوستان پر حملہ کرنے کی اجازت دی، علاوہ ازیں انتظام مملکت میں حتی الوسع حضرت فاروق اعظم کے نقشِ قدم کی پیروی کی، اعمال کے محاسبے کا فاروقی نظام بحال کیا، رات کو شہروں کی گشت کا معمول بنایا، آپ سے پہلے جنگل سے کسی قسم کا مالی فائدہ نہیں لیا جاتا تھا، آپ کے عہد میں جنگلات کو بھی محاصل ملکی کے ضمن میں داخل کیا گیا، علاوہ ازیں حضرت علی نے مسلمانوں کی اخلاقی نگرانی کا بھی نہایت سختی کے ساتھ خیال رکھا،مجرموں کو عبرت انگیز سزائیں دیں، ایران اور آرمینیہ میں بعض نو مسلم عیسائی مرتد ہوگئے تھے، حضرت علی نے نہایت سختی سے ان کی سرکوبی کی، پھر خارجیوں اور ان سبائیوں کی بھی خوب خوب خبر لی، جنہوں نے حضرت علی کی شان میں شدتِ غلو سے کام لیا ان سب کے باوجود آپ ایک بڑے تجربہ کار جنگ آز ما تھے، جنگی امور میں آپ کو بھر پور بصیرت حاصل تھی، اس لیے اس سلسلہ میں آپ نے بہت سی فوجی اصلاحات کیں، جو آپ کی نکتہ سنجی اور دقیقہ رسی کی بین دلیل ہیں۔

ایک شبہ کا ازالہ
بعض وہ حضرات جو مزاجِ قدرت سے ناآشنا اور اسلام کی ہمہ گیر یت وجامعیت سے ناواقف ہیں وہ ناروا طریقے سے خلافت راشدہ کو دوحصوں میں تقسیم کرتے ہیں، پہلے دور کو اسلام کی ترقی وپیش قدمی اور دوسرے دور کوزوال وتنزلی سے تعبیر کرتے ہیں۔پہلے دور کا امام؛ صدیق اکبر اور فاروق اعظم کو مانتے ہیں، جب کہ دوسرے دور کی قیادت حضرت عثمان وعلی کے سپرد کرتے ہیں۔ مفکر اسلام علی میاں ندوی اس تقسیم کو سراسر جرأت و جسارت قراردیتے ہوئے ارقام فرماتے ہیں:

”میرے نزدیک یہ چاروں حضرات فرداً فرداً خلافتِ نبوی کا مظہر اتم اور مصداق کامل تھے، ذاتی فضائل ومناقب اور ان کی بنا پر تفاوتِ درجات کو الگ کرکے خلافتِ راشدہ کا مزاج اور اس کی روح ان میں سے ہر ایک میں بدرجہ اتم پائی جاتی تھی، میرے نزدیک اسلام کی زندگی میں پیش آنے والے تمام ادوار ومراحل کی نمائندگی خلافتِ راشدہ کے اس مختصر سے دور میں…جو 40 سال سے متجاوز نہیں۔۔۔۔ کردی گئی ہے اور ہر آنے والے ناگزیر دور کے لیے اس میں راہ نمائی کا سامان ہے۔

آغازِ کار اور اقبال وترقی کے زمانہ میں کس استقامت اور ایمان ویقین کا مظاہرہ کرنا چاہیے اس کی راہ نمائی ہم کو ابوبکر کی حیات طیبہ سے حاصل ہوتی ہے،عروج وشباب اور امن ونظام کے زمانہ میں کس استقامت اور ایمان ویقین کا مظاہرہ کرنا چاہیے اس کی راہ نمائی ہم کو فاروق اعظم کے دور خلافت سے ملتی ہے، مخالفتوں، شورشوں،فتنوں،بے نظمی اور انتشار کے وقت کس ثبات واستقامت،کس پا مردی اور دلیری اورکس ایمان ویقین کی ضرورت ہے اس کا نمونہ ہم کو حضرت عثمان اور حضرت علی کی زندگی میں ملتا ہے“۔

وفات
مورخین اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شہادت خوارج کے ہاتھوں ہوئی،یہ وہی گروہ ہے جو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں میں شامل تھا، بعد میں اس پارٹی میں اختلافات پیدا ہوگئے اور خوارج نے اپنی جماعت الگ بنا لی۔چناں چہ سترہ رمضان المبارک 40/ہجری بروزجمعہ، فجرکے وقت، خارجی عبدالرحمن بن ملجم مرادی اپنے دوساتھیوں کے ہمراہ جامع مسجدکوفہ پہنچا اورتینوں مسجدکے ایک کونے میں چھپ گئے۔جس وقت آپ نمازفجرکے لیے تشریف لائے تھے اس وقت ان میں سے ایک نے آپ پرپہلا وار کیااوراس کے بعدعبدالرحمٰن بن ملجم نے دوسرا وارکیا، یہ دیکھ کرتیسرا بھاگ کھڑاہوا۔اخیر میں صرف عبدالرحمن بن ملجم مرادی ہی پکڑاگیا۔

حضرت علی نے اپنے بھانجے اور حضرت ام ہانی کے بیٹے حضرت جعدہ کونمازپڑھانے کاحکم دیا،اس دوران سورج طلوع ہوچکاتھا،لوگ آپ کوزخمی حالت میں گھرلے گئے اورخارجی عبدالرحمن بن ملجم مرادی کوآپ کی خدمت میں پیش کیاگیاتوآپ نے اس بدبخت سے پوچھاکہ تجھے کس چیزنے مجھے مارنے پرآمادہ کیا؟خارجی عبدالرحمن بن ملجم مرادی نے آپ کے سوال کونظراندازکرتے ہوئے کہاکہ میں نے اس تلوارکوچالیس روزتک تیزکیااوراللہ تعالیٰ سے دعاکی کہ اس سے وہ شخص مارا جائے جوخلق کے لیے شرکاباعث ہو،آپ نے فرمایامیں دیکھ رہاہوں تواس تلوارسے ماراجائے گا۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کو وفات سے پہلے کچھ وقت مل گیا؛ جسے آپ نے اپنے بیٹوں کو وصیت کرنے میں صرف کیا۔ جا ں کنی کے اس عالم میں بھی آپ نے جوباتیں ارشاد فرمائیں، وہ آب زر سے لکھنے کے لائق ہیں۔آپ نے حسن اور حسین رضی اللہ عنہما کو بلوایا اور ان سے فرمایا: میں تم دونوں کو اللہ سے ڈرنے کی وصیت کرتا ہوں۔ دنیا کے پیچھے ہرگز نہ لگنا، خواہ دنیا تم سے بغاوت ہی کیوں نہ کر دے۔ جو چیز تمہیں نہ ملے،اس پر رونا نہیں۔ ہمیشہ حق بات کہنا، یتیموں سے شفقت کرنا، پریشان حالوں کی مدد کرنا، آخرت کی تیاری میں مصروف رہنا، ہمیشہ ظالم کے دشمن اور مظلوم کے حامی رہنا اور کتاب اللہ کے احکامات پر عمل کرتے رہنا۔ اللہ کے دین کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے مت گھبرانا۔

آپ رضی اللہ عنہ شدید زخمی حالت میں تھے، یہاں تک کہ 21/ویں رمضان المبارک کی شب کا دو تہائی گذرنے پر طبیعت زیادہ خراب ہو گئی اور اسی اثناء میں کلمہ شہادت کا ورد کرتے ہوئے اپنی جان خالق حقیقی کے سپرد کر دی۔﴿اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیہِ رَاجِعُون﴾․

رضي الله عنہ وأرضاہ