بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

خشیت الہٰی

الله تعالیٰ کی ذات بہت بڑی ہے، وہ کسی کی محتاج نہیں جب کہ پوری دنیا ا س کی محتاج اور پیدا کردہ ہے۔ اس نے زمین وآسمان پیدا کیے، سورج، چاند اور ستارے تخلیق فرمائے، آگ، ہوا اور پانی پیدا فرمایا، سمندر، دریا اور پہاڑوں کو وجود بخشا، جنات او رانسانوں کو عدم سے وجود عطا کیا اور حضرت انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف بخشا، دنیا کی چھوٹی بڑی چیزوں کو زندگی عطا کی، اور اس عالم فانی کو خوب صورتی، کشش اور زیب وزینت سے مزین اور روشن کیا۔ کائنات کی تخلیق انسان کے لیے کی اور انسان وجنات کو اپنی عبادت وبندگی کے لیے پیدا فرمایا کہ اس عالم رنگ وبومیں وہ اپنے خالق او رخالق ارض وسماء کی اطاعت وعبادت کو اپنا شعار بنائیں، اس کے احکامات پر عمل پیرا ہوں او راس کی رضا مندی اور خوش نودی کے حصول کو اپنی حیات مستعار کا مقصد بنا لیں۔ یہ کام وہ انسان کرسکتا ہے جس کے دل میں الله تعالیٰ کی بڑائی اور بزرگی موجود ہو، وہ الله تعالیٰ کی ذات سے خوف وخشیت رکھتا ہو او رآخرت کی ہولناکیوں اور مصائب ومشکلات کا استحضار اور ایقان رکھتا ہو تب وہ الله تعالیٰ کے احکام بجالائے گا، گناہوں اور معاصی کے ارتکاب سے اپنے آپ کو بچائے گا، لوگوں کے حقوق غصب نہیں کرے گا ، امانت میں خیانت سے اجتناب کرے گا، چوری ، ڈاکہ، ناپ تول میں کمی اور دوسروں کا حق نہیں مارے گا۔ بندوں کے حقوق بھی ادا کرے گا اور الله تعالیٰ کے حقوق کی بجا آوری کی بھی پوری پوری کوشش کرے گا، تو ایسا شخص کام یاب وکام ران ہے۔ قرآن مجید میں ایسے شخص کے بارے میں الله تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:﴿وأما من خاف مقام ربہ ونھی النفس عن الھوی ، فإن الجنة ھی المأویٰ﴾ یعنی ”جو شخص (دنیا میں ) اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا ہو گا ( کہ قیامت، آخرت اور حساب کتاب پر اس کا ایمان مکمل ہو ) اور نفس کو (حرام) خواہش سے روکا( یعنی اعتقاد صحیح کے ساتھ عمل صالح بھی کیا ہو گا) سو جنت اس کا ٹھکانہ ہو گا“۔

بہرحال ا لله تعالیٰ کا خوف وخشیت اعما ل صالحہ بجا لانے اور اعمال سیئہ سے اجتناب کرنے کی بنیا دہے کہ اس کی وجہ سے انسان اچھے اعمال کرتا ہے اور بُرے اعمال سے اپنے آپ کو بچاتا ہے۔ اگر الله تعالیٰ کا خوف وخشیت نہ ہو تو معاشرہ حیوانیت اور درندگی کا مظاہرہ کرتا ہے، انسان، انسان کے خون کا پیاسا بن جاتا ہے، دوسروں کے حقوق غصب کرتا ہے او راپنے اوپر عائد کردہ حقوق بجالانے میں سستی، غفلت اور کاہلی کا ارتکاب کرتا ہے۔ خوف الہی سے متعلق ایک روایت میں آپ صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ” ہر وہ بندہٴ مومن جس کی آنکھوں سے خدا کے خوف میں آنسو نکلیں، اگرچہ وہ آنسو مکھی کے سر کے برابر ( یعنی بہت معمولی مقدار میں ) ہی کیوں نہ ہوں اور پھر وہ آنسو بہہ کر اس کے چہرے پر پہنچیں تو الله تعالیٰ اس پر دوزخ کی آگ حرام کر دے گا“۔ (سنن ابن ماجہ)

اللّٰھم اجعل وساوس قلبي خشیتک وذکرک واجعل ہمتي وھواي فیما تحب وترضیٰ․ اللّٰھم إني أعوذبک من علم لا ینفع، ومن قلب لا یخشٰی، ومن نفس لا تشبع، ومن دعوة لا یستجاب لہا․

الله تعالیٰ ہمیں صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے او راپنی مبارک ذات کے خوف وخشیت سے ہمارے قلوب کو معمور ومنور فرمائے۔ آمین!

Leave a Reply