بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حُسن کردار کی اہمیت

حُسن کردار کی اہمیت

عبید اللہ خالد

 

اسلام نے معاشرے کی صلاح وفلاح اور آخرت کی کام یابی وکام رانی کے لیے سیرت وکردار کے حُسن کو بڑی اہمیت دی ہے۔ اسلام برائیوں سے روکتا اور اچھائیوں کا حکم دیتا ہے اور یہی سیرت وکردار کا حسن اور پاکیزگی ہے کہ آدمی اچھے کام کرے اور بُرے کاموں سے رک جائے۔ حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم کی پوری زندگی سیرت وکردار کے حسن اور خوب صورتی سے عبارت او رمزین تھی۔ آپ کی نبوت سے پہلے کی زندگی ہو یا نبوت کے بعد کی زندگی، مکی زندگی ہو یا مدنی زندگی، انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی زندگی ہر ایک میں سیرت کی پاکیزگی اور کردار کا حسن نمایاں نظر آتا ہے، چناں چہ جب آپ پر سب سے پہلی وحی نازل ہوئی اور آپ ام المؤمنین حضرت خدیجة الکبری رضی الله عنہا کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے آپ کو تسلی دیتے ہوئے آپ کے حسن کردار کا تذکرہ کیا اور فرمایا کہ :

”الله تعالیٰ آپ کو ہرگز رسوا نہیں کر ے گا، آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، کم زوروں اور ضعیفوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، محتاجوں کو مال کما کر دیتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں، مصیبت اور آفت زدہ لوگوں کی مدد ومعاونت کرتے ہیں۔“ ان سب اوصاف وصفات کے آپ نبوت سے پہلے حامل تھے اور آپ کے جانی دشمن بھی آپ کی امانت، دیانت، صداقت اور شرافت کے قائل تھے۔ مخالفت اور دشمنی کے باوجود انہوں نے آپ کے پاکیزہ اور اجلے دامن کی طرف انگلی اٹھانے کی جراء ت نہیں کی بلکہ آپ کے شرف وکمال کی گواہی دی ہے۔ چناں چہ حضرت ابوسفیان اسلام لانے سے قبل ایک مرتبہ شام گئے اور ہر قل نے آپ صلی الله علیہ وسلم کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے ان سے سوالات کیے، ہرقل نے پوچھا کہ نبوت والی بات سے پہلے تم ان کو جھوٹ سے متہم کرتے تھے ؟ابوسفیان نے کہا ، نہیں۔ ایک سوال یہ کیا کہ کیا وہ عہد شکنی کرتے ہیں؟ ابوسفیان نے کہا ، نہیں۔ ایک سوال یہ کیا کہ وہ تمہیں کس چیز کا حکم دیتے ہیں؟ ابوسفیان نے کہا کہ وہ کہتے ہیں الله تعالیٰ کی عبادت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراؤ اور تمہارے آباء واجداد جو کچھ کہتے تھے اس کو چھوڑدو اور وہ ہمیں نماز، راست گوئی، پاک دامنی اور صلہٴ رحمی کا حکم کرتے ہیں۔ یہ ابوسفیان کا بیان ہے جو اسلام لانے سے پہلے آپ کے جانی دشمن تھے اور وہ ہر قل کے پوچھنے پر آپ کے حسن کردار اور پاکیزہ سیرت کی شہادت وگواہی دے رہے ہیں۔

اسی طرح صحابہ کرام رضوان الله تعالیٰ علیہم اجمعین بھی عمدہ واعلی اخلاق وصفات کے مالک اور حسین وپاکیزہ کردار کے حامل تھے ۔انہوں نے الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے اور اپنے آپ کو آپ صلی الله علیہ وسلم کی سیرت وکردار کے مطابق ڈھالنے کی پوری پوری کوشش کی ہے۔ آپ صلی الله علیہ وسلم کی تعلیم وتربیت بھی یہی تھی کہ انسان اپنے آپ کو عمدہ کردار کا مالک بنائے، اچھے اور نیک کاموں کو اختیار کرے اور بُرے کاموں سے رک جائے۔

چناں چہ ایک روایت میں آتا ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا، چار چیزیں ایسی ہیں کہ اگر وہ تم میں پائی جائیں تو دنیا کے فوت ہونے اور نہ ہونے کا تمہیں غم نہیں ہونا چاہیے، ایک ، امانت کی حفاظت کرنا، دوسری سچی بات کہنا، تیسری اخلاق کا اچھا ہونا اور چوتھی کھانے میں احتیاط وپرہیز اختیار کرنا۔ (شعب الایمان للبیہقی)

الله تعالیٰ ہمیں نیک کردار کا حامل بنائے اور رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

وما توفیقي الا بالله علیہ توکلت وإلیہ أنیب․