بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حُسن سلوک

حُسن سلوک

مولانا سحبان محمودؒ

بسم الله الرحمن الرحیم، الحمدلله وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی، أما بعد! حسن سلوک کا مطلب ہے نیکی اوراچھائی کا معاملہ کرنا او ربہترین سلوک سے پیش آنا، اسلام میں اس کی اس قد راہمیت ہے کہ سورہٴ نحل میں الله تعالیٰ نے عدل وانصاف کا حکم دینے کے بعد اسی کا حکم دیا ہے ، ارشاد ہے:﴿إِنَّ اللّہَ یَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ وَإِیْتَاء ذِیْ الْقُرْبَی﴾ (آیت:90) یعنی الله تعالیٰ حکم دیتا ہے عدل وانصاف کا او رحسن سلوک کا او ررشتہ داروں کو دینے کا … حسن سلوک کا تعلق سب سے پہلے ہر شخص کی اپنی ذات سے ہوتا ہے کہ الله تعالیٰ نے جسم وجان کی جو عظیم نعمت عطا فرمائی ہے اس کے ساتھ مقدور بھر اچھا معاملہ کیا جائے اورایسے طریقے اختیار نہ کیے جائیں جو جسم کو،جسم کے کسی عضو کو یا جسم کی توانائیوں اور صلاحیتوں کو نقصان پہنچانے والے ہوں، حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم نے تو عبادت میں بھی ایسی ریاضتوں اور مشقتوں کو پسند نہیں فرمایا جن کا انجام جسمانی قوتوں کی تباہی کی صورت میں ظاہر ہونے والا ہو، لا یعنی اور بے فائدہ کاموں میں جسم کو ہلکا ن کرنے کی کیسے اجازت ہو گی؟ ایسا کرنے والا درحقیقت جسم وجان کے ساتھ بدسلوکی کرنے والا اورالله تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہو گا…۔

پھر اپنے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا مرتبہ ہے اور قرآن کریم نے مختلف آیتوں میں اس کی بڑی تاکید بیان فرمائی ہے، سورہٴ بقرہ میں ارشاد ہے ﴿وَبِالْوَالِدَیْْنِ إِحْسَاناً﴾ (آیت:83) یعنی اپنے والدین کے ساتھ حسن ِ سلوک سے پیش آؤ۔ والدین کے اپنی اولاد پر اتنے عظیم اورکثیراحسانات ہوتے ہیں جن کو شمار بھی نہیں کیا جاسکتا، اس لیے اولاد کے حسن ِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار والدین کو ٹھہرایا گیا او ران کے ساتھ ادنیٰ سی بد سلوکی کو الله تعالیٰ نے گناہ عظیم قرار دیا۔ حتی کہ ان کو سخت یا تلخ لہجے میں کوئی بات کہنا بھی حرام کر دیا … پھر اپنے اہل وعیال کے ساتھ حسن سلوک کا درجہ ہے، کہ وہ کم زور ہونے اوراپنے سرپرست کے دست نگر اورمحتاج ہونے کی وجہ سے نہ اپنے حقوق کا مطالبہ کرسکتے ہیں اور نہ اس کو ناراض کرنا گوارا کرسکتے ہیں، اس لیے حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے بہت سی احادیث میں بڑی تاکید کے ساتھ ان سے حسن سلوک کا نہ صرف حکم دیا، بلکہ بدسلوکی کرنے والوں کو الله کے عذاب سے ڈرایا ہے … اس کے بعد اپنے قرابت داروں کے ساتھ درجہ بدرجہ حسن سلوک کا مرتبہ ہے۔ اور قرآن وحدیث میں اس کو بھی بڑے اہتمام اورتفصیل سے بیان کیا گیاہے، صحیح بخاری شریف میں حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے، فرمایا کہ جو قرابت داروں کے حق ادا نہ کرے گا یعنی بد سلوکی کرے گا وہ جنت میں نہ جائے گا۔ یعنی جنت میں اس کا داخلہ اس وقت تک رُکارہے گا جب تک اس کا یہ گناہ معاف نہ ہولے گا یا وہ اس گناہ سے پاک نہ ہو چکے گا۔ دوسری حدیث میں ہے کہ جس کو یہ پسند ہو اس کی روزی میں وسعت اور اس کی عمر میں برکت ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ رشتہ دارں کے ساتھ حسن سلوک کرے۔ پھر اپنے دوسرے متعلقین اورپڑوسیوں وغیرہ کے ساتھ حسن سلوک کا نمبر ہے اوراسلام میں اس کی بھی بڑی تاکید آئی ہے، اس کے بعد اپنے ہم مذہب، یعنی مسلمانوں کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ ہے، اسلام نے اس میں کسی قسم کی کوئی تفریق اورامتیاز کو بالکل برداشت نہیں کیا۔ کالے، گورے او رعرب وعجم کا امتیازجاہلیت کا ،بلکہ شیطان کا شاخسانہ قرار دیا اور ہر مسلمان کے ساتھ ادنی درجہ کا حسن سلوک اس کو ٹھہرایا کہ اس کے جان ومال او رعزت وآبرو کی حفاظت کی جائے، پھر عام انسانی برادری، حتی کہ جانوروں کے ساتھ بھی حسن سلوک کی تعلیم دی گئی ہے۔ اس سے معلوم ہو گیا کہ اسلام میں حسن سلوک کا دائرہ محدود نہیں ہے، بلکہ الله تعالیٰ کی تمام مخلوق کے ساتھ اس کی حیثیت کے مطابق اس کا تعلق ہے۔ حسن سلوک کا معاملہ رمضان المبارک میں تو اور بھی اہم ہو جاتا ہے، کیوں کہ یہ مبارک مہینہ، جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے، غم خواری، رواداری، ہم دردی او رباہمی تعاون کا مہینہ ہے، اس لیے اس وقت کو غنیمت سمجھ کر جہاں تک بن پڑے درجہ بدرجہ حسن سلوک پر عمل کرنا چاہیے، حسن سلوک صرف مالی امداد میں ہی منحصر نہیں ہے، بلکہ بدنی خدمت، اس کی حاجت روائی میں بھاگ دوڑ، حتی کہ بوقت ملاقات مسکرا کر دو باتیں کر لینا بھی حسن سلوک ہے، اور اخلاقی کمال تو یہ ہے کہ جو ہم سے بدسلوکی کرے تو ہم اس کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ وآخر دعوانا أن الحمدلله رب العالمین․