بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حقوق اولاد

حقوق اولاد

پروفیسر محمدیونس جنجوعہ

تھوڑا سا غور کریں تو انسان آسانی سے یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ بچوں کو ان کے فرائض یاد دلانا واقعتا بہت ضروری ہے، مگر اس سے بھی اہم تر یہ ہے کہ بڑے اپنے فرائض کی ادائی میں کماحقہ، دلچسپی لیں او ربچوں کی تربیت اس نہج پر کریں کہ عمر کے ساتھ ساتھ بچے خود بخود اپنے فرائض سے آگاہ ہوتے جائیں او راپنے والدین کی مثال سامنے رکھتے ہوئے فرائض کی ادائی میں چستی او رمستعدی کا مظاہرہ کریں ، ویسے بھی حقوق وفرائض کا عمل دو طرفہ ہے، ایک فریق کا رویہ دوسرے فریق کو متاثر کرتا ہے، اگر والدین اپنے فرائض کی ادائی میں چوکس ہوں تو ان کی اولاد بڑی حد تک فرض شناس اور ذمہ دار ہوگی۔ اگر ایک باپ گھر میں سگریٹ نوشی کرتا ہے تو یہ بری عادت ہے اور صحت کے لیے بھی نقصان دہ ہے، لیکن اس کا بھیانک پہلو یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت میں بھی کوتاہی کا ارتکاب کر رہا ہے، کیوں کہ خود تمباکو نوشی کرنے والا اپنے بیٹے کو اس سے باز رہنے کی نصیحت کیسے کرسکتا ہے؟ اور اگر کرے بھی تو اس کا اثر کیا ہو گا؟ اب اگر بچہ بڑا ہو کر سگریٹ نوشی کا عادی ہو جائے تو اس باپ کو بیٹے کی تربیت میں خامی سے کیسی بری الذمہ قرار دیا جاسکتا ہے ؟ یہی حال بے نماز، رشوت خور، جھوٹبولنے والے ، وعدہ خلافی کرنے والے، گالم گلوچ اور بد زبانی کرنے والے ، روزے نہ رکھنے والے اور زکوٰة نہ دینے والے والدین کا ہے۔ اگرچہ یہ گناہ ذاتی نوعیت کے ہیں، لیکن اولاد کے حق میں ان کی تاثیر متعدی ہو جاتی ہے۔

بچے اپنے والدین کو جس رویے او رجن مشاغل میں دیکھیں گے ، وہ ان سے کیسے متاثر نہ ہوں گے؟ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ والدین بچوں کو زبانی وعظ ونصیحت بھی کریں، مگر اہم بات یہ ہے کہ وہ ان کے سامنے اپنی شخصیت کا نمونہ پیش کرکے واضح کریں کہ کیا چیز پسندیدہ ہے؟ اور کیا چیز ناپسندیدہ؟ کون سے کام کرنے کے ہیں؟ اور کون سے اجتناب کرنے کے قابل ہیں ؟ اس طرح بڑی حد تک توقع کی جاسکتی ہے کہ بچے ہمہ گیر تربیت پائیں اور اچھے شہری او راچھے مسلمان ثابت ہوں، چناں چہ اس تحریر کا مدعا یہ ہے کہ بڑے اپنے فرائض سے واقف ہو کر ان کی ادائی کے سلسلے میں چوکس ہوں، جب کہ اولاد کو فرائض کی ادائی کا احساس دلانا بھی ضرور ی ہے، مگر وہ اس کے بعد کی بات ہے۔

جیسا کہ ذکر ہوا کہ والدین کو حسن عمل اورحسن اخلاق کی عملی مثال پیش کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے، اس کے لیے اپنے فرائض کو ہر وقت ذہن میں مستحضر رکھنا لازم ہے، یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ اولاد کی تربیت بہت بڑی ذمہ دار ی ہے، کیوں کہ اچھی، صالح او رنیک اولاد صدقہ جاریہ کے درجے میں آتی ہے او راس کے نیک اعمال کا ثواب والدین کو بھی ملتا رہتا ہے، چاہے وہ وفات بھی پا جائیں، اسی طرح اگر ماں باپ نے اپنی اولاد کی تربیت میں کوتاہی کی ہو گی تواولاد کی برائیوں کا گناہ بھی والدین کو لگاتار ملتا رہے گا، اگر چہ وہ فوت بھی ہو جائیں، پس مسئلے کی اہمیت کو سامنے رکھتے ہوئے آئیے! حقوق اولاد ،یعنی والدین کے فرائض کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

میاں بیوی کو الله تعالیٰ سے نیک اور سعادت مند اولاد مانگنی چاہیے، جیسا کہ حضرت زکریا کی دعا قرآن مجید میں منقول ہے:﴿رب ھب لی من لدنک ذریة طبیة﴾ عقیقہ لڑکے کی طرف سے دو بکرے اور لڑکی کی طرف سے ایک بکرے کی قربانی کو کہا۔

رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ بچے کا اچھا نام رکھنا بھی ایک حق ہے، ایسا نام جو کسی اچھی شخصیت کے نام پر ہو یا اچھے معنی رکھتا ہو، نام بے تکا او ربے معنی نہ ہو کہ بچہ بڑا ہو کر اپنے نام کو وجہ سے شرمندگی محسوس کرے، مثلاً محمد بوٹا، پیراں دتہ، اروڑہ، گھسیٹا ،علی بخش عباد علی وغیرہ۔

رسول الله صلی الله علیہ وسلم کے پسندیدہ نام عبدالله اور عبدالرحمن ہیں، یعنی وہ نام جس میں الله کا بندہ ہونے کا مفہوم نکلتا ہو، انبیاء علیہم السلام اور صحابہ کرام رضی الله عنہم کے ناموں پر نام رکھنا بھی پسندیدہ ہے۔ آدمی اپنے بچہ کو سب سے پہلا تحفہ نام کا دیتا ہے، اس لیے چاہیے کہ اس کا اچھا نام رکھے۔

اب بچے کی تربیت کا آغاز ہوتا ہے، جسمانی نشو ونما کے لیے بچے کو اپنے وسائل کے اندر رہتے ہوئے اچھی غذا اور خوراک جو حلال اورجائز طریقے سے کمائی گئی ہو، مہیا کرنے کا بندوسبت کیا جائے، بچہ تو معصوم ہے، اس کو تو جو ملے گا کھالے گا، مگر والدین خصوصاً والد کا یہ بڑا اہم فرض ہے کہ وہ روزی کمانے کے جائز ذرائع اختیار کرے، یہ تربیت اولاد کا ایک لازمی تقاضا ہے، رزق حلال سے پرورش پانے والے بچے عموماً صاف ستھرے اخلاق وکردار کے مالک، والدین کے فرماں بردار ، بزرگوں کا احترام کرنے والے اور راست روہوتے ہیں، جب بچہ بولنے کا آغاز کرے تو سب سے پہلے اسے کلمہ طیبہ سکھایا جائے۔ حضرت عبدالله بن عباس رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے بچوں کی زبان سے سب سے پہلے لا الہ الا الله کہلواؤ اور موت کے وقت ان کو اس کلمہ لا الہ الا الله کی تلقین کرو۔

جس طرح پیدائش کے بعد پہلی آواز بچے کے کان میں جو ڈالی جاتی ہے ، وہ اذان کے الفاظ ہیں، اسی طرح جب اس کی گفت گو کا آغاز بھی کلمہ توحید سے ہو گا تو اس کا اس کے قلب وذہن پر اثر ضرور ہو گا۔ آج کے مغرب زدہ دور میں مسلمان بچوں کو زیادہ سے زیادہ انگریزی الفاظ سکھانے کی کوشش کی جاتی ہے، جس سے بچے کے ذہن پر اس زبان کی برتری غالب ہو کر اسے مغربی اقدار سے قریب اور اسلامی اقدار سے دور کرنے لگتی ہے۔ بچے کا سب سے پہلا مدرسہ ماں کی گود ہوتی ہے، اگر ماں پاکیزہ اخلاق وکردار کی مالک ، سادگی پسند، مشرقی اقدار وروایات کی شائق او راسلامی تعلیمات پر عمل کرنے والی ہو گی، تو بچہ یہی باتیں خود بخود سیکھ جائے گا۔ اس کے برخلاف اگر ماں فیشن کی دل دادہ، موسیقی کی شوقین ، بے پردگی کی عادی اور اسلامی روایات سے نفور ہو گی، تو بچہ بھی انہیں اقدار کو پسند کرے گا اور اپنائے گا، لہٰذا بچے کی تربیت میں ماں کا کردار باپ سے بھی زیادہ تاثیر رکھتا ہے۔ علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے :”اے مسلمان عورت! تو بتول(حضرت فاطمہ رضی الله عنہا) کا کردار اپنا کر زمانے کی آنکھوں سے مستور زندگی گزار، پھر دیکھ تیری گود میں بھی حسین (رضی الله عنہ) پرورش پائے گا۔“