بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حقوق العباد کی پاس داری کیجیے!

حقوق العباد کی پاس داری کیجیے!

محترم عطاء الرحمن

اسلام میں عبادات کے علاوہ جتنے قوانین ہیں، ان سب کا مقصد خدا کی زمین پر امن کاقیام ہے، تاکہ ہر شخص بے خوف وخطر زندگی کے لمحات پُرسکون طریقے سے گزار سکے اور آرام کے ساتھ الله تعالیٰ کی طرف متوجہ ہو کر اخروی زندگی کی آسائش کے لیے تیاری کرسکے اور اس بلند ترین مقصد کو حاصل کرنے کا واحد ذریعہ اسلامی نظام کا نفاذ ہے۔ آپ اسلام میں معاملات کی تعلیم دیکھیں او رمعاملات کے اصول وضوابط ملاحظہ فرمائیں۔ آپس میں لین دین کے اسلام نے ایسے زریں اصول مقرر کیے ہیں کہ جھگڑے کی نوبت ہی نہ آئے، مثلاً آج کل تو زمانہ تحریر کا ہے، لیکن چودہ سو سال قبل دنیا کا سب کاروبار صرف زبانی ہوتا تھا، سب سے پہلے قرآن پاک نے اس طرف توجہ دلائی اور لکھنے لکھانے، دستاویز مہیا کرنے کا اصول مقرر فرمایا کہ جب آپس میں ادھار کا معاملہ کیا جائے تو اس کی میعاد ضرور مقرر کی جائے، اس معیاد معین کو لکھ لیا جائے اور صرف دستاویز کی تحریر کو کافی نہ سمجھا جائے، بلکہ اس پر دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہ بھی مقرر کر لیے جائیں، وہ دو گواہ مسلمان اور ثقہ وعادل ہوں، صحیح گواہی سے انکار او راس کو چھپانا بھی گناہ قرار دیا گیا او رفقہائے کرام نے معیاد کے ابہام کو بھی ناجائز قرار دیا۔ میعاد مہینہ او رتاریخ کے ساتھ معین کی جائے۔ یہ سب اصول محض اس لیے مقرر کیے گئے، تاکہ نوبت نزاع تک نہ پہنچ جائے، اس طریقے پر عمل کرنے سے اول تو نزاع ہو گا نہیں، اگر کچھ ہو گیا تو عدالت کے ذریعے بسہولت انصاف میسر ہو جائے گا، اسی لیے دستاویز پر گواہوں کی تعیین او ران کے لیے شرائط کو ضروری قرار دیا گیا، تاکہ گواہ سچ بولنے والے ہوں، جھوٹے نہ ہوں، عدالت صحیح فیصلہ کرنے پر بسہولت قادر ہوسکے۔ یہ اصول سورہٴ بقرہ کے انتالیسویں رکوع، تیسرے پارہ میں مذکور ہیں، اسی طرح کے اصول وقوانین کے بیان میں کتب فقہ بھری ہوئی ہیں۔

اب آپ معاشرت کا جائزہ لیں تو ہر کسی کے حقوق اس انداز سے متعین ہیں کہ اگر وہ حقوق صحیح طور پر ادا کیے جائیں تو ہر گھر امن وسکون کا گہوارہ بن جائے۔ آج جتنے فسادات اور لڑائی جھگڑے ہو رہے ہیں، سب حقوق کی پامالی او رہماری بد کرداری کا نتیجہ ہیں، اسلام میں عورت کے حقوق دیکھیں تو اسلام نے عورت کو پورے کنبہ او رگھر کی ملکہ بنا دیا ہے، اس کی روٹی، کپڑا اورمکان کی تمام تر ذمہ داری خاوند کے سپرد کرکے، امور خانہ داری بچوں کی پرورش وتربیت کا اس کو منتظم بنا دیا ہے اور اس کام کو سرانجام دینے کے لیے قدرت نے جو صلاحیتیں عورت کو ودیعت کی ہیں، وہ مرد میں نہیں ہیں، اس کے لیے آپ اس گھر کو دیکھیں جس میں صرف مرد ہی رہتے ہوں ، عورت نہ ہو۔

عورت کی عزت وناموس کے تحفظ کے لیے شریعت نے اس کو چادر وچاردیوار میں رہنا لازم قرار دیا ہے، تاکہ بازاروں اور دفتروں میں جاکر یہ کھلونا نہ بن جائے اور ہر قسم کی تذلیل سے اس کو تحفظ مل جائے، بچوں کی تربیت وپرورش میں چوں کہ اکثر حصہ شریعت نے عورت ہی کا رکھا ہے اوراس کے لیے اس میں قدرت نے بے پناہ صلاحیتیں رکھی ہیں، اس لیے سرکاردو عالم صلی الله علیہ وسلم کے ارشاد گرامی کے مطابق ماں کا حق باپ سے مقدم ہے، جیسا کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ سب سے زیادہ لائق اطاعت کون ہے؟ تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیری ماں! سائل نے تین مرتبہ سوال کیا اور آپ صلی الله علیہ وسلم نے یہی جواب ارشاد فرمایا۔ چوتھی مرتبہ پھر سائل نے سوال کیا توآپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: تیرا باپ۔ (الادب المفرد للبخاري)

اسی طرح شریعت نے عورت کے ذمے خاوند کے حقوق طے کر دیے کہ وہ اپنے خاوند کی اطاعت کرے، اس کی خدمت اپنے لیے باعث فخر تصور کرے، اس کے ساتھ اس طرح پیش آئے کہ خاوند جب باہر سے تھکا ماندہ گھر میں آئے تو اس کو دیکھ کر اسے خوشی محسوس ہو، پھر دونوں کی اطاعت اولاد پر لازم کر دی کہ اگر والدین بظاہر ظلم بھی کریں تو اولاد برداشت کرے، ان کے سامنے کوئی ایسا کلمہ منھ سے نہ نکالے، جس سے ان کو اذیت ہو۔ غرضیکہ ذہنی وجسمانی ہر لحاظ سے والدین آرام وراحت سے رہیں، اولاد کی طرف سے ان کو کسی قسم کا گزند نہ پہنچے۔ والدین کا ذمہ یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کے اچھے نام رکھیں اور دینی تعلیم سے ان کو روشناس کرائیں، تاکہ وہ حقوق معلوم کرکے ہر کسی کے حقوق ادا کرنے والے بن جائیں، ان کو اپنی نافرمانی سے بچانے کی امکانی حد تک کوشش کریں اور ان کو اس قابل بنائیں کہ وہ دنیا کی زندگی اچھے طریقہ سے گزار سکیں، دینی ومعاشی لحاظ سے ان کی زندگی پُرسکون بن جائے۔

اگر شریعت کے راہ نما اصولوں کو مدنظر رکھ کر یہ ذمہ داری پوری کریں تو اولاد کے روشن مستقبل کی ضمانت دی جاسکتی ہے، یہ تو ایک خاندان اور گھر کے افراد کی بات ہوئی، اب ایک گھر کے ساتھ دوسرا گھر بھی ہوتا ہے، جسے پڑوسی کہتے ہیں۔ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ”حضرت جبرئیل علیہ السلام مجھے پڑوسی کے ساتھ حسن سلوک کی اتنی بار تاکید کرتے رہے کہ مجھے گمان ہوا شاید ایک پڑوسی کا دوسرے پڑوسی کے وارث ہونے کا حکم نازل ہو جائے۔“ پڑوسی کے ساتھ صرف حسن ِ سلوک ہی نہیں، بلکہ پڑوسی اگر تکلیف پہنچائے تو اس کی تکلیف کو بھی برداشت کرنے کا حکم ہے۔ حضور صلی الله علیہ وسلم سے ایک عورت کے متعلق پوچھا گیا کہ وہ رات کو قیام کرتی ہے ، دن کو روزہ رکھتی ہے ، صدقہ وخیرات بھی بہت کرتی ہے، لیکن اپنے پڑوسیوں کو زبان سے تکلیف پہنچاتی ہے، تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس میں کوئی بھلائی نہیں، وہ جہنم میں جائے گی۔ دوسری عورت کے متعلق پوچھا گیا کہ وہ صرف فرائض وواجبات وغیرہ پابندی سے ادا کرتی ہے اور ضروری احکام بجالاتی ہے، لیکن تکلیف وغیرہ کسی کو نہیں دیتی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: وہ جنت میں جائے گی۔ (الادب المفرد للبخاري)

جب ہر آدمی اپنے پڑوسی کے حقوق ادا کرنے والا بن جائے گا اور آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی ہدایت کے مطابق اپنے پڑوسی کی عزت اورجان ومال کی حفاظت اپنا فریضہ سمجھے گا تو پوری آبادی آرام وچین کی زندگی سے سرشار ہو گی۔ پڑوس جس طرح مکان کے اعتبار سے ہوتا ہے، اسی طرح دکان، دفتر، زمین دارہ وغیرہ بھی ہوتا ہے تو وہاں بھی ان حقوق کا خیال رکھنا ضرور ی ہے۔ اسی طرح دفاتر میں ماتحتوں پر اپنے افسر بالا کی جائز اطاعت لازم ہے۔ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” خبردار! تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور وہ نگہبان اپنی رعیت کے بارے میں مسئول ہے “ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ نگہبان ماتحت ملازمین کو خلاف ِ شریعت کام کا حکم نہ دے، اگر حکم دے تو ماتحت ملازمین پر اس کی اطاعت ضروری نہیں،بلکہ مخالفت واجب ہے، کیوں کہ ارشاد ہے کہ ”خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت نہیں ہے۔“

نگہبان اور افسر اپنے ماتحت ملازمین کو بے جاتنگ نہ کرے، دستور کے مطابق ان سے ڈیوٹی لے، خلاف شریعت کام کا حکم نہ کرے، الله تعالیٰ کے محاسبے سے خوف کرے، اگر افسر کی غفلت ولاپروائی سے ماتحتوں نے کوئی غلط کام کیا تو الله تعالیٰ کے حضور وہ جواب دہ ہو گا اور اگر خود اسی نے ان سے کوئی غلط کام کرایا تو اس کے لیے بھی وہ عندالله جواب دہ ہو گا تو دونوں طرف سے حقوق ہیں، اگر وہ صحیح ادا کیے جائیں اور دونوں طرف سے حق تلفی نہ ہو تو ایک صاف ستھرا،پاکیزہ ماحول اور پُرامن زندگی نصیب ہوسکتی ہے، نزاع اور جھگڑا پیدا ہونے کا امکان بہت کم ہے۔

ایک مسلمان دوسرے مسلمان سے اپنی عزت وآبرو، جان ومال کے لحاظ سے محفوظ ہو، ایک دوسرے سے بغض ونفرت کی بجائے الفت و محبت ہو ۔آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کی زبان مبارک سے ایک مسلمان کی یہی تعریف بیان فرمائی گئی ہے کہ ”مسلمان وہ ہے کہ اس کہ ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں“۔ اسلام تو ذمیوں کے جان ومال اور عزت وآبرو کا تحفظ کرتا ہے او رمسلمانوں کے درپے آزار ہونے سے سختی کے ساتھ روکتا ہے۔

الله تعالیٰ نے صحابہ کرام کی صفت ارشاد فرمائی ہے کہ ”آپس میں نرم ہیں، کفار کے مقابلے میں سخت ہیں“ اسی طرح ہر وہ قوت جو اسلام کو کم زور کر رہی ہو ، اس کا مقابلہ کرنا ایمان کی دلیل ہے۔ مسلمانوں کے آپس میں حقوق یا غیر مسلموں کے ساتھ حسن ِ سلوک کا سبق اس لیے ہے کہ مسلمان آپس کے جنگ وجدل اور نزاع سے محفوظ رہیں، تاکہ خلاف ِ اسلام طاقتوں کے مقابلے میں مضبوط ہوں اور غیر مسلموں کے ساتھ حسن سلوک کا حکم اس لیے ہے کہ وہ اسلام کی طرف راغب ہوں۔