بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حضرت مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان شہید رحمة الله علیہ

حضرت مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان شہید رحمة الله علیہ

مولانا محمد احمد حافظ

23/ صفر المظفر1442ھ10/اکتوبر2020ء ہفتہ کی شام کراچی میں الم ناک سانحہ رونما ہوا… رئیس المحدثین حضرت مولانا سلیم الله خان رحمة الله علیہ کے فرزند گرامی، وفاق المدارس کے رکن مجلس عاملہ اور جامعہ فاروقیہ کراچی کے مہتمم مولانا ڈاکٹر عادل خان کو سفاک دہشت گردوں نے شہید کر دیا، آپ کے ساتھ آپ کے ڈرائیور بھائی مقصود بھی شہید ہو گئے۔انالله وإنا إلیہ راجعون، ان لله ما اخذ ولہ ما اعطیٰ، وکل شیءٍ عندہ باجل مسمیٰ!

بہت بڑا سانحہ ہے، جب سے یہ وقوعہ گزرا ہے، دل ودماغ اپنے حواس قائم رکھنے میں عاجز نظر آرہے ہیں۔ اس سانحے اور نقصان کی گہرائی اور گیرائی پر نظر جاتی ہے تو فکر واحساس بھی کچھ دیر کے لیے معطل نظر آتے ہیں۔ محض پاکستان کے علماء ومشائخ، سیاسی، سماجی، حکومتی اور تجارتی حلقوں میں نہیں، بلکہ عالمی سطح پر آپ کے مظلومانہ قتل کو محسوس کیا گیا ہے، علمائے فلسطین، علمائے عراق، علمائے اہل سنت ایران، عالم اسلام کی مایہ ناز شخصیت شیخ عوامہ حفظہ الله سمیت علماء ترکیہ، علمائے ملائیشیا نے آپ کے ورثا اور متعلقین سے تعزیت کی ہے۔

مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان شہید رحمة الله علیہ گونا گوں خوبیوں کے مالک تھے۔ صاحب علم وفضل ، نفیس ونستعلیق، اخلاق ومروت کے پتلے ، جرأت وبسالت کے پیکر،، ہفت زبان تھے، درس وتدریس اور خطابت میں ملکہ تامہ حاصل تھا، قیادت وسیادت کی فطری صلاحیتوں سے بہرہ ور تھے۔ مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید رحمة الله علیہ نہ صرف دینی علوم میں یکتائے روز گار تھے، بلکہ جدید تعلیم بھی حاصل کی تھی۔ آپ کو اردو، عربی، فارسی، انگلش سمیت کئی زبانوں پر عبور حاصل تھا، آپ بہترین معلم، خطیب اور ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ علوم القرآن، علوم الحدیث، تعارف اسلام، اسلامی دُنیا، اسلامی معاشیات، اخلاقیات، فقہی مسائل، آیات واحکام القرآن اور احکام فی الاحادیث، مقاصد شریعہ، تاریخ اسلام، خاص کر تاریخ پاکستان اور اردو اور عربی ادب جیسے موضوعات میں دل چسپی رکھتے تھے۔ آپ نے1977 ء میں اپنے والد گرامی کی قائم کردہ دینی درس گاہ جامعہ فاروقیہ سے سند فراغت حاصل کی، کراچی یونی ورسٹی سے 1976ء میں بی اے ہیومن سائنس،1978ء میں ایم اے عربک اور 1992 میں اسلامک کلچر میں پی ایچ ڈی کی۔ آپ کچھ عرصہ امرکا میں مقیم رہے جہاں ایک بڑا اسلامی سینٹر قائم کیا۔ ملائیشیا کوالالمپور کی مشہور یونی ورسٹی جامعہ اسلامیہ مالیزیا، میں 2010ء سے 2018ء تک کلیہ معارف الوحی اور انسانی علوم میں بطور پروفیسر خدمات انجام دیں۔ طلبہ آپ کے طرز تدریس کے گرویدہ تھے، آپ سے سند حدیث، سند قراء ات کے متمنی رہتے۔2018ء میں ریسرچ اور تصنیف وتحقیق میں ملائیشیا ہائیر ایجوکیشن کی جانب سے فائیواسٹا ر رینکنگ ایوارڈ سے نوازا گیا، یہ ایوارڈ آپ کو صدر کے ہاتھوں دیا گیا۔ آپ جہاں بھی گئے چند ہی دنوں میں اپنے اخلاق سے لوگوں کو گرویدہ کر لیا، واپس آئے تو پیچھے والوں کے لیے مشک بوسنہری یادیں چھوڑے آئے…
        جس غنچہ لب کو چھیڑ دیا خندہ زن ہوا
        جس گل پہ ہم نے رنگ جمایا چمن ہوا

آپ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کی مجلس عاملہ کے رکن اور وفاق المدارس کی مالیاتی، نصابی اور دستوری کمیٹی جیسی بہت سی اہم کمیٹیوں کے رکن بھی رہے۔ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے رکن مجلس عاملہ ہونے کی حیثیت سے انہوں نے گراں قدر خدمات انجام دیں۔ وفاق کے اجلاسات میں ان کی رائے بہت وقیع ہوتی ، وہ اہم ترین فیصلوں میں برابر شریک رہتے۔ آپ نہ صرف وفاق المدارس، بلکہ تمام اہل دین کے لیے بہت بڑی ڈھال تھے۔

نگہ بلند، سخن دل نواز… رزم حق وباطل میں فولاد اور حلقہ یاراں میں بریشم کی طرح نرم۔ بلا کے خطیب تھے، آپ جب لب کشا ہوتے تو سامعین کی نبضیں ان کی مٹھی میں ہوتی۔ اردو ،عربی اور انگریزی میں یکساں مہارت کے ساتھ بیان کر لیتے۔ ان کی خطابت محض الفاظ کی جادونگری نہ ہوتی، بلکہ علم، مطالعہ ومشاہدہ اور دلیل سے مرکب ہوتی ، طرز استدلال ایسا ہوتاکہ سامع قائل او رگھائل ہو تا چلا جاتا۔ ملائیشیا میں ایک مرتبہ کرسمس کے موقع پر جامع سلطان احمد شاہ میں الوہیت مسیح کے رد میں طویل انگریزی خطاب کیا، جو علمی اور عقلی دلائل سے بھرپور تھا۔ آپ کی انگریزی خطابت کی خصوصیت یہ تھی کہ اس کا سمجھنا انگریزی کے ایک مبتدی کے لیے بھی آسان تھا۔ رہی عربی تو جانیے کہ پاکستان میں سب سے پہلے عربی معہد آپ نے جامعہ فاروقیہ میں قائم کیا، عربی زبان میں مجلہ ”الفاروق“ جاری کیا۔ گزشتہ تعلیمی سال سے جامعہ فاروقیہ فیز ٹو میں ابتدائی درجات سے لے کر دورہ حدیث تک مکمل عربی زبان میں تدریس شروع کرادی تھی۔

اخیر عرصہ میں آپ نے اپنی زندگی کے مصروف ترین اوقات گزارے ۔کسے معلوم تھا کہ بہت کم وقت میں اپنے حصے کا کام کر جانا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں پچھلے کچھ عرصہ سے توہین رسالت اور توہین صحابہ کے واقعات تسلسل سے ہو رہے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں ان واقعات میں شدت آئی ہے۔ یہ حالات مولانا ڈاکٹر عادل خان شہید رحمةالله علیہ جیسے حساس انسان کے لیے ناقابل قبول تھے۔ چناں چہ انہوں نے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے دفاع ناموس رسالت اور ناموس صحابہ کے لیے قافلہ ترتیب دیا، ملک بھر میں دفاع صحابہ کی عظیم الشان پرامن ریلیاں منظم کیں، عوامی سطح پر بیداری پیدا کی۔ آپ اہل سنت مسالک کے اتحاد ویک جہتی کے لیے بھی کوشاں رہے اور اس میں کام یابی حاصل کی۔ بہت سے لوگوں کو ڈھارس بندھی تھی کہ انہیں آپ کی شکل میں ایک ایسا قائد مل گیا ہے جو ان کا بے لوث غم خوار وہم درد ہے۔ اہل مدارس ہوں یا دینی جماعتوں کے کارنان… سب انہیں ایک مربی وسرپرست کے روپ میں دیکھ رہے تھے۔

ملکی حالات جیسے کہ ہیں سب کے سامنے ہیں، اہل تعلق کو آپ کی حفاظت کے حوالے سے فکر مندی رہنے لگی تھی، کراچی جیسا شہر، جہاں کسی بھی اُبھرتے ہوئے عالم دین کو، خصوصاً ایسا عالم جو اجتماعیت کی علامت بن جائے، اسے کبھی برداشت نہیں کیا گیا۔ مگر وہ جس مشن پر کام کررہے تھے اور انہوں نے جس راستے کو اپنے لیے چنا تھا، وہاں اندیشہ ہائے دور دراز کا کیا کام؟… چناں چہ وہ ”عشق میں تیرے کوہ غم سرپہ لیا اب جو ہو سو ہو!“ کے مصداق اس راستے پر بے خوف وخطر اور بے پرواہو کر چلے۔ انہوں نے جامعہ بنوریہ میں جید علماء کی ایک مجلس میں ایسے ہی محبت بھرے مطالبے کے جواب میں شان دار الفاظ میں حاضرین کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا، انہیں بھی غیرت، ہمت، جرات اور استقلال وعزیمت کا سبق دیا، انہوں نے کہا کہ ”کچھ ساتھی کہہ رہے ہیں کہ ہمارے علماء تیزی سے چلے جارہے ہیں، کیا ہو رہا ہے ؟ … میں نے کہا بات یہ ہے کہ میں اپنے گھر اسے بلاتا ہوں، جس سے مجھے محبت ہوتی ہے۔الله انہیں بلا رہے ہیں، جن سے الله رب العزت کو محبت ہے او رہمیں اس پر فخر ہے۔ آپ نے اس دنیا سے جانا ہے … مجھے بھی جانا ہے … ایمان کے ساتھ جارہے ہیں … اور الله کی نسبت کے ساتھ جارہے ہیں … دین کا کام کرتے ہوئے جارہے ہیں … آج کے زمانے میں حالات کا جو تقاضا ہے اس کا مقابلہ کرتے ہوئے جارہے ہیں … مجھے اس موت پر فخر ہے!“

یہ الفاظ ان کی شہادت کے ساتھ امر ہو گئے، انہوں نے اپنے پروردگار سے جو وعدہ کیا تھا اس پر اپنے لہو سے مہر صداقت ثبت کر دی۔ حقیقت یہ ہے کہ ان پر زندگی کی حقیقت آشکارا ہو چکی تھی، موت ہی زندگی کی سب سے بڑی محافظ ہے، انہوں نے اپنے طرز عمل سے بتا دیا کہ … #
        جان دے دی میں نے ان کے نام پر
        عشق نے سوچا نہ کچھ انجام پر

بلاشبہ وہ راہ عزیمت کے راہی تھے، الله تعالیٰ ان کی شہادت کو قبول فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین!