بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلویؒ

حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلویؒ

محترم عرفان احمد عمرانی

عالم اسلام جید علمائے کرام، بزرگان دین سے محروم ہوتا جارہا ہے۔ الله کے نیک بندوں کا سایہ اٹھ رہا ہے ،اس پر فتن دور میں مسلمان الله والوں کی وفات سے یتیم ہو رہے ہیں ، برصغیر میں جید علماء کی وفات کسی سانحہ سے کم نہیں، 13/اگست کو ہندوستان کی سرزمین میرٹھ میں قطب الاقطاب شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریا کے صاحب زادے محترم الحاج حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی اپنے خالق حقیقی سے جاملے، انا لله وانا الیہ راجعون!

عالم اسلام کے روحانی پیشوا، شیخ المشائخ، پیر طریقت، رہبر شریعت، حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی رحمہ الله کئی ماہ سے علیل تھے۔ ایک ماہ سے میرٹھ کے پرائیویٹ ہسپتال میں داخل تھے منگل13/اگست کی دوپہر، الله کو پیار ہو گئے۔ حضرت مولانا طلحہ کاندھلوی نے 78 سال عمر پائی ، نمازجنازہ جمعیت علماء ِہند کے امیر مولانا ارشد مدنی دامت برکاتہم نے پڑھائی۔ نماز جنازہ میں ایک لاکھ سے زائد افراد نے شرکت کی اور آپ کو حضرت مولانا محمد یحییٰ(دادا) کے برابر میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی عالم باعمل اور ملت اسلامیہ کے عظیم دینی راہ نما تھے۔ صرف ہندوستان میں ہی نہیں، پاکستان، بنگلہ دیش، عرب ممالک سمیت، دنیا بھر میں قابل احترام شخصیت تھے۔ آپ رحمہ الله جامعہ مظاہر العلوم سہارن پور کے سرپرست اور خانوادہ کاندھلوی کے علماء کی اصلاحی اور روحانی وراثت کے سچے امین تھے۔

حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی حضرت شاہ عبدالقادر رائے پوری سے تربیت وسلوک کے لیے بیعت ہوئے، اجازت وخلافت اپنے والد حضرت شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا سے حاصل کی، الله رب العزت نے حضرت کاندھلوی کو تواضع وخدمت کا جذبہ اور روحانیت کا جوہر عطا فرمایا تھا، آپ رحمہ الله صاحب سیرت وکردار اور سادہ لوح شخصیت کے مالک تھے۔ پوری زندگی دین اسلام کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ کثرت ذکر واذکار، احیائے سنت واشاعت دین وشریعت میں مستغرق ہے۔ آپ دارالعلوم دیوبند کے تاحیات رکن شوریٰ، جامعہ مظاہر العلوم سہارنپور کے رکن شوریٰ وسرپرست رہے ،خانوادہ مدنی سے آپ کو تعلق وراثت میں حاصل ہوا تھا،شیخ العرب والعجم حضرت مولانا حسین احمد مدنی نے آپ کو بچپن میں پیر جی کا لقب دیا تھا ،جو بعد میں ہندوستان میں مقبول عام ہوا۔

حضرت مولانا طلحہ کاندھلوی کی ہندوستان کی سیاست پر بھی گہری نظر تھی۔ حضرت مولاناطلحہ کاندھلوی عالم اسلام کی مجموعی صورت حال پر غم زدہ رہتے ، شام، فلسطین، افغانستان، عراق ،برما اور کشمیر میں مسلمانوں پر ظلم وستم قتل وغارت پر ہمیشہ دکھی رہتے او رتمام مجالس میں مسلمانوں پر رحم کی دعا فرماتے۔

ہندوستان میں مسلمانوں پر ہونے والے آئے روز مظالم کے خلاف آواز بھی اٹھاتے اور الله سے مدد ونصرت کی دعا بھی فرماتے۔ حضرت ہر عمل میں سنت پر عمل فرماتے اورخلاف سنت کاموں پر سخت ناراضگی کا اظہار فرماتے۔

اپنے وعظ ونصیحت میں سنتوں پر عمل پیرا ہونے کی ترغیب دیتے۔ حضرت کی سیاست پر گہری نظر ضرور تھی، مگر ان کے بیان خالصتاً دینی مسائل پر ہوتے۔ اصلاحی بیان فرماتے، ذکر واذکار پر زیادہ توجہ دیتے، نوجوانوں کو تبلیغی جماعت کے ساتھ وقت لگانے کی ہدایت فرماتے۔

حضرت مولانا طلحہ کاندھلوی رحمہ الله پاکستان کئی بار آئے، علمائے کرام سے ملاقاتیں اور مدارس کے دورے کیے، اسی طرح کئی بار حج بھی کیے او رمکہ مکرمہ، مدینہ منورہ کے علاوہ بھی کئی سعودی شہروں کے دورے کیے، جامعة الازہر مصر نے آپ کو خصوصی اعزاز سے نوازا تھا۔

حکومت ہند اسلامی دینی امور پر آپ سے مشاورت کرتی تھی۔ حکومتی مسلم بورڈ کے رکن بھی رہے، آپ نے کسی مصلحت کے بجائے خالصتاً شریعت کو ترجیح دی۔ سابق ہندوستانی وزیراعظم اندرا گاندھی کے دور میں آپ پر سختی بھی کئی گئی، پابندیوں کا سامنا بھی کرنا پڑا، مگر حکومت آپ کو دباؤ میں نہ لاسکی۔ حضرت مولانا طلحہ کاندھلوی رحمہ الله کی وفات پر پاکستان میں بھی گہرے رنج وغم کا اظہار کیا گیا اور آپ کی وفات کو موت العالم موت العالم اور عالم اسلام کے لیے عظیم سانحہ قرار دیا گیا۔ جید عالم دین کی وفات سے ایک خلا پیدا ہو جاتا ہے اور یہ خلا مدتوں پورا نہیں ہو پاتا۔

الله تعالیٰ ہر دور میں اپنے محبوب بندے دنیا میں بھیجتا رہتا ہے او ریہ نیک بندے تبلیغ دین، قرآن وحدیث کی تعلیم کے فروغ کے لیے اپنے فرائض سرانجام دیتے رہے ہیں اور اب بھی جید نامور علماء اور بے شمار گم نام مشائخ عظام ، شیوخ الحدیث، اساتذہ الله کے دین کی خدمت کر رہے ہیں ، وراثت انبیاء کا حق ادا کر رہے ہیں۔

برصغیر کے علمائے کرام کا اشاعت اسلام کے لیے تاریخی اور ناقابل فراموش کردار ہے۔ ان علمائے کرام نے حق وصداقت کے لیے قربانیاں بھی دیں۔ باطل کے سامنے ڈٹ گئے اور ہمیشہ اسلام کا پرچم بلند رکھا، علمائے کرام کا ہندوستان کے ہندو ماحول میں الله کے دین کی حفاظت کرنا علم دین کا چراغ روشن رکھنا معمولی بات نہیں۔ بے حیائی فحاشی، اور فتنوں کے دور میں لوگوں کی اصلاح کرنا، شریعت کے مطابق زندگی گزارنے کے لیے ترغیب دینا اور انہیں الله کی طرف بلانے کا فریضہ انجام دے رہے ہیں۔

پاکستان میں سیکولر لابی اور قادیانی فتنہ کی سرگرمیوں کے مقابلہ میں عقیدہ ختم نبوت، ناموس رسالت کے تحفظ کے لیے ہر میدان میں علمائے کرام متحرک ہیں اور رہیں گے، یہی اکابر کا مشن ہے۔

حضرت مولانا محمد طلحہ کاندھلوی رحمہ الله کا دینی وعلمی اور روحانی کردار وخدمات ناقابل فراموش ہیں۔ الله رب العزت حضرت مولانا طلحہ کاندھلوی رحمہ الله کے درجات بلند فرمائے اور انہیں اپنے جوار ِ رحمت میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین !