بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

حضرت صفیہ رضی الله عنہا

حضرت صفیہ رضی الله عنہا

محترم فرید الله مروت

رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی چھ پھوپھیاں تھیں جو عبدالمطلب بن ہاشم کی اولا دتھیں ۔ عاتکہ امیمہبیضاء برہ صفیہ اور ارویٰ۔ ان میں حضرت صفیہ رضی الله عنہا بالاتفاق ایمان لائیں۔ یہ حواری رسول حضرت زبیر بن العوام رضی الله عنہ کی والدہ تھیں۔

نام ونسب
آپ کا نام صفیہ رضی الله عنہا ہے اور نسب جو رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا ہے وہی ان کا ہے۔ کیوں کہ یہ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کی پھوپی اور عبدالمطلب کی بیٹی تھیں۔

نکاح
زمانہٴ جاہلیت میں ابوسفیان بن حرب کے بھائی حارث بن حرب سے ان کی شادی ہوئی۔ جس سے ایک لڑکا پیدا ہوا،حارث کی وفات کے بعد آپ عوام بن خویلد کے نکاح میں آئیں۔ ان سے تین لڑکے ہوئے، زبیر، سائب، عبدالکعبہ۔

اسلام وہجرت
رسول الله صلی الله عیہ وسلم کی پھوپھیوں میں سے صرف انہی کے اسلام لانے پر مؤرخین کا اتفاق ہے۔ گو حضرت اروی اور حضرت عاتکہ وغیرہ کو بھی ابن سعد نے اسلام لانے والوں کے ذیل میں لکھا ہے۔ لیکن حقیقت یہی ہے کہ سوائے ان کے عمات ِ آں حضرت صلی الله علیہ وسلم میں دوسروں کا اسلام لانا بالیقین ثابت نہیں ہے۔ ابن اثیر کا فیصلہ بھی یہی ہے اور یہ ایسی خصوصیت ہے جوان کے شرف وامتیاز میں بہت کچھ اضافہ کرتی ہے۔

ہجرت کے متعلق صرف اتنا معلوم ہے کہ انہوں نے حضرت زبیر رضی الله عنہ کے ساتھ ہجرت کی۔ ابن سعد نے اس ذیل میں جو کچھ لکھا ہے وہ صرف یہ ہے کہھاجرتْ الی المدینة․

عام حالات
آپ رضی الله عنہا کئی غزوات میں شریک ہوئیں۔ غزوہٴ خندق میں ان کا استقلال نسوانی جرأت کی حیرت انگیز مثال ہے۔ جب آن حضرت صلی الله علیہ وسلم مجاہدین کے ساتھ جہاد کے لیے روانہ ہوئے تو حضرت حسان رضی الله عنہ کے ساتھ ایک قلعہ میں جس کو اُطُم اور فارع بھی کہتے ہیں، ٹھہرا دیا او رحضرت حسان رضی الله عنہ ( مدّاح رسول الله صلی الله علیہ وسلم) چوں کہ اپنی پرانی تکلیف کی وجہ سے جنگ میں شرکت نہ کرسکتے تھے۔ لہٰذا ان کو خواتین کی حفاظت کے لیے متعین کر دیا۔

یہ موقع ایسا تھا کہ عورتیں تنہا تھیں، صرف حضرت حسان رضی الله عنہ کی موجودگی چنداں مفید نہ تھی۔ اس لیے یہودیوں نے میدان خالی دیکھ کر مسلمانوں کی مشغولیت سے فائدہ اُٹھانا چاہا۔ چناں چہ ایک یہودی قلعہ کے دروازہ تک پہنچ گیا اور کان لگا کر باتیں سننے لگا کہ موقع پائے تو حملہ کرے۔ حضرت صفیہ رضی الله عنہا نے دیکھ لیا۔ چوں کہ طبیعت کی دلیر تھیں۔ اس لیے فوراً حضرت حسان رضی الله عنہ سے بولیں ”اُتر کر اس کو قتل کرڈالو“ انہوں نے جواب د یا کہ اگر میں اس قابل ہوتا تو آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ نہ ہوتا۔ واقعہ یہ ہے کہ اس سے قبل حضرت حسان رضی الله عنہ ایک مرض میں مبتلا رہ چکے تھے۔ جس کی وجہ سے جسمانی کم زوری کے علاوہ دل بھی اتنا ضعیف ہو گیا تھا کہ اس قسم کی جرأت نہ کرسکے اور معذوری ظاہر کرنے لگے۔ بہرحال حضرت صفیہ رضی الله عنہا کی جرأت اس جواب سے کم نہ ہوئی، اُٹھیں اور ایک خیمہ کی چوب اُکھاڑ کر اس جاسوس کے سر پر اچانک وار کیا۔ یہودی اس کے صدمہ سے جانبر نہ ہو سکا۔ اب یہ حضرت حسان رضی الله عنہ سے مخاطب ہوئیں کہ جاؤ اور اس کا سر کاٹ کر قلعے کے نیچے یہودیوں میں پھینک آؤ، حضرت حسان نے اس کی تعمیل کی۔ اس عمل سے یہودیوں کو یقین ہو گیا کہ قلعہ پر حملہ کرنا خطرہ سے خالی نہیں۔ اور معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بھی کچھ فوج مسلمانوں کی متعین ہے۔

جنگ اُحد،جنگ خندق سے پہلے ہوئی تھی۔ حضرت صفیہ رضی الله عنہا جنگ اُحد میں بھی شریک ہوئیں اور اس موقع پر بھی اپنی جرأت کی قابل رشک مثال قائم کر دی۔

آں حضرت صلی الله علیہ وسلم نے ان کو دیکھا تو حضرت زبیر رضی الله عنہ کو بلا کر ہدایت فرمائی کہ یہ حضرت حمزہ رضی الله عنہ کی نعش نہ دیکھنے پائیں، کیوں کہ نعش کی حالت بہت خراب ہے او رکسی طرح اس قابل نہ تھی کہ ایک عورت اور وہ بھی ماں جائی بہن دیکھ کر ضبط کرسکے۔ حضرت زبیر رضی الله عنہ بہ تعمیل ارشادان کے پاس آئے او رکہا ”اماں! رسول الله صلی الله علیہ وسلم آپ کو واپس ہونے کا حکم دیتے ہیں۔ بولیں ”کیوں؟ مجھے تو معلوم ہوا کہ میرے بھائی کو مثلہ کیا گیا ہے۔ خدا جانتا ہے کہ یہ مجھے پسند نہیں، تاہم میں ضرور صبر کروں گی اور ان شاء الله ضبط سے کام لوں گی“۔

حضرت زبیر رضی الله عنہ نے جو کچھ سنا تھا آں حضرت صلی الله علیہ وسلم سے بیان کر دیا۔ یہ سن کر آپ نے اجازت دے دی۔ پھر حضرت صفیہ رضی الله عنہا اپنے سگے بھائی کی لاش پر آئیں،جسم کے ٹکڑے اپنی آنکھوں سے دیکھے ،مگر اتنا ضبط کیا کہ کچھ نہ بولیں اور صرف انا الله وانا الیہ راجعون کہہ کر دعائے مغفرت مانگنے لگیں۔ جب یہ چلی گئیں تو آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کے حکم سے حضرت حمزہ رضی الله عنہ دفن کیے گئے۔

فضل وکمال
صاحب دّرِ منثور لکھتے ہیں:” وہ ایک فصیح شاعرہ تھیں او رتمام عرب کے نزدیک قول، فعل، حسب، نسب اور بزرگی کے لحاظ سے خاص امتیاز کی مالک تھیں“۔

جب عبدالمطلب کی وفات ہو گئی تو حضرت صفیہ رضی الله عنہا نے اپنی بہنوں اور بنی ہاشم کی عورتوں کی ایک مجلس میں،جس میں ہر ایک نے اپنے فوت شدہ سردار کو یاد کیا اور ان کی تعزیت میں شعر پڑھے ،حضرت صفیہ رضی الله عنہا کے مرثیے کے بعض اشعار یہ ہیں #
        أَرِقْتُ لصوت نائحة بلیل ……علی رجل بقارعة الصعید
        ففاضت عند ذلکم دموعي……علی خدي کمنحدر الفرید
        علی رجل کریم غیر وغل……لہ الفضل المبین علی العبید
        علی الفیاض شیبة ذی المعالی……أبیک الخیر وارث کل جود
        صدوق فی المواطن غیر نکس……ولا شحب المقام ولا سنید
        طویل الباع أروع شیظمي……مطاع في عشیرتہ حمید
        رفیع البیت أبلج ذی فضول……وغیث الناس فی الزمن الجرود
        کریم الجد لیس بذی وصوم……یروق علی المسوَّدِ والحسود
        عظیم الحلم من نفر کرام……خضارمة ملاوثة أسود
        فلو خلد امرؤ لقدیم مجد……ولکن لا سبیل إلی الخلود
        لکان مخلدا أخری اللیالی……لفضل المجد والحسب التلید

”میں رات کو ایک نوحہ کرنے والی کی آواز سے رواٹھی، جو قارعة الصعید میں ایک مرد کریم پر رو رہی تھی اور اس حال میں میرے آنسو مسلسل موتیوں کی طرح رخساروں پر بہنے لگے، ایسے مرد کریم کی (وفات پر) افسوس کرتے ہوئے، جو بیہودہ نہ تھا اور اس کی بزرگی دور دور عیاں تھی، وہ عالی خاندان، کشادہ ابرو، صاحب فضائل اور قحط سالی میں لوگوں کے لیے ابر تھا پس کاش انسان اپنی قدیم بزرگی کی وجہ سے ہمیشہ رہتا ،لیکن ہمیشگی کی کوئی صورت نہیں، اگر ایسا ہوتا تو اپنی فضیلت اور قدیم شرافت کی وجہ سے یہ بہت زمانہ تک زندہ رہتا“۔

رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی وفات پر جو مرثیہ کہا ہے اس کے چند شعر یہ ہیں #
        وکنت یا رسول الله کنت رجاء نا……وکنت بنا برا ولم تک جافیا
        وکنت رحیما ھادیا معلما……لیبک علیک الیوم من کان باکیا
        فدی لرسول الله أمي وخالتی……وعمي وخالي ثم نفسي ومالیا
        فلو أن رب الناس أبقی نبینا……سعدنا ولکن أمرہ کان ماضیا
        علیک من الله السلام تحیة……وأدخلت جنات من العدن راضیا

”یا رسول الله( صلی الله علیہ وسلم) آپ صلی الله علیہ وسلم ہماری امید تھے، آپ صلی الله علیہ وسلم ہم پر احسان کرتے تھے، ظالم نہ تھے، آپ رحم دل، رہبر او رمعلم تھے، آج ہر رونے والے کو آپ صلی الله علیہ وسلم پر رونا چاہیے۔ رسول الله صلی الله علیہ وسلم پر میر ی ماں، خالہ، چچا او رماموں قربان ہوں، پھر میں خود او رمیرا مال بھی۔ کاش کہ خدا ہمارے نبی کو زندہ رکھتا تو ہم کیسے خوش قسمت تھے، مگر اس کا حکم ہو کر رہنا تھا۔آپ صلی الله علیہ وسلم پر الله کی طرف سے سلام ہو اور آپ صلی الله علیہ وسلم جناتِ عدن میں داخل ہوں۔“

حافظ ابن حجر نے ”الاصابہ“ میں ایک شعر حضرت صفیہ رضی الله عنہا کا حضرت حمزہ رضی الله عنہ کے مرثیہ کے متعلق نقل کیا ہے۔ جس سے ان کی بلاغت وقدرت کلام کا اندازہ ہوتا ہے۔ اس شعر میں جناب رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو مخاطب کرکے کہتی ہیں #
        إن یوماً أتیٰ علیک لیوم……کُوِّرَتْ شمسي وکان مضیئا

”آج آپ صلی الله علیہ وسلم پر وہ دن آیا ہے جس میں آفتاب سیاہ ہو گیا ہے، حالاں کہ اس سے پہلے وہ روشن تھا۔“

بقول بعض مؤرخین حضرت صفیہ رضی الله عنہا سے چند احادیث بھی مروی ہیں، مگر یہ قول پایہٴ تحقیق کو نہیں پہنچا۔

وفات
73 سال کی عمر میں ،بزمانہٴ خلافت حضرت عمر فاروق رضی الله عنہ، ہجرت کے بیسویں سال حضرت صفیہ رضی الله عنہا نے وفات پائی۔ جنت البقیع میں دفن ہوئیں۔