بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

جھوٹ معاشرہ کو تباہ وبرباد کرتا ہے

جھوٹ معاشرہ کو تباہ وبرباد کرتا ہے

مولانا خورشید عالم داؤد قاسمی

سب جانتے ہیں کہ بے بنیادی باتوں کو لوگوں میں پھیلانے، جھوٹ بولنے اور افواہ کا بازار گرم کرنے سے کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔ ہاں ! اتنی بات تو ضرور ہے کہ یہی جھوٹ ، چاہے جان کر ہو یا اَنجانے میں ہو، کتنے لوگوں کو ایک آدمی سے بدظن کر دیتا ہے، لڑائی، جھگڑا اور خون وخرابے کا ذریعہ ہوتا ہے، کبھی تو بڑے بڑے فساد کا سبب بنتا ہے اور بسا اوقات پورے معاشرے کو تباہ وبرباد کرکے رکھ دیتا ہے۔ جب جھوٹ بولنے والے کی حقیقت لوگوں کے سامنے آتی ہے، تو وہ بھی لوگوں کی نظر سے گر جاتا ہے، اپنا اعتماد کھو بیٹھتا ہے او رپھر لوگوں کے درمیان اس کی کسی بات کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔

جھوٹ کیا ہے؟
لفظ جھوٹ کو عربی زبان میں ”کذب“ کہتے ہیں۔ خلاف ِ واقعہ کسی بات کی خبر دینا، چاہے وہ خبر دینا جان بوجھ کر ہو یا غلطی سے ہو، جھوٹ کہلاتا ہے۔ (المصباح المنیر) اگر خبر دینے والے کو اس بات کا علم ہو کہ یہ جھوٹ ہے، تو وہ گناہ گار ہو گا۔

قرآن کریم میں جھوٹوں کا انجام
الله تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ انسان کوئی بات بلا تحقیق کے اپنی زبان سے نہ نکالے۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے ، تو پھر اس کی جواب دہی کے لیے تیار رہے۔ ارشاد ِ خدا وندی ہے : ﴿وَلَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَکَ بِہِ عِلْمٌ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ کُلُّ أُولَٰئِکَ کَانَ عَنْہُ مَسْئُولًا﴾․(سورة الاسراء:36)
ترجمہ:”اور جس بات کی تحقیق نہ ہو اس پر عمل درآمد مت کیا کر، کان اور آنکھ اور دل ہر شخص سے اس سب کی پوچھ ہوگی۔“

آیت ِ مذکورہ کی تفسیر میں علامہ شبیر احمد عثمانی رحمة الله علیہ فرماتے ہیں:”یعنی بے تحقیق بات زبان سے مت نکال، نہ اس کی اندھا دھند پیروی کر، آدمی کو چاہیے کہ کان، آنکھ اور دل ودماغ سے کام لے کر اور بقدر ِ کفایت تحقیق کرکے کوئی بات منھ سے نکالے یا عمل میں لائے، سنی سنائی باتوں پر بے سوچے سمجھے یوں ہی اَٹکل پچو کوئی قطعی حکم نہ لگائے یا عمل درآمد شروع نہ کرے۔ اس میں جھوٹی شہادت دینا، غلط تہمتیں لگانا، بے تحقیق چیزیں سن کر کسی کے درپے آزار ہونا یا بغض وعداوت قائم کر لینا، اباء واجداد کی تقلید یا رسم ورواج کی پابندی میں خلاف ِ شرع اور ناحق باتوں کی حمایت کرنا، اَن دیکھی، یا اَن سنی چیزوں کو دیکھی یا سنی ہوئی بتلانا، غیر معلوم اشیاء کی نسبت دعوی کرنا کہ میں جانتا ہوں، یہ سب صورتیں اس آیت کے تحت میں داخل ہیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ قیامت کے دن تمام قویٰ کی نسبت سوال ہو گا کہ ان کو کہاں کہاں استعمال کیا تھا؟ بے موقع تو خرچ نہیں کیا؟“ (تفسیر عثمانی)

انسان جب بھی کچھ بولتا ہے تو الله کے فرشتے اسے نوٹ کرتے رہتے ہیں، پھر اسے اس ریکارڈ کے مطابق الله کے سامنے قیامت کے دن جزا وسزا دی جائے گی۔ الله تعالیٰ کا فرمان ہے :﴿مَا یَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَیْہِ رَقِیبٌ عَتِیدٌ﴾ ․(سورہٴ ق:18)
ترجمہ:” وہ کوئی لفظ منھ سے نہیں نکالنے پاتا، مگر اس کے پاس ہی ایک تاک لگانے والا تیار ہے۔“

یعنی انسان کوئی کلمہ جسے اپنی زبان سے نکالتا ہے، اُسے یہ نگراں فرشتے محفوظ کر لیتے ہیں۔ یہ فرشتے اس کا ایک ایک لفظ لکھتے ہیں، خواہ اس میں کوئی گناہ یا ثواب اور خیر یا شر ہو یا نہ ہو۔

امام احمد نے بلال بن حارث مزنی  سے روایت کیا ہے کہ رسول ِ اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”انسان بعض اوقات کوئی کلمہٴ خیر بولتا ہے، جس سے الله تعالیٰ راضی ہوتا ہے، مگر یہ اس کو معمولی بات سمجھ کر بولتا ہے، اس کو پتہ بھی نہیں ہوتا کہ اس کا ثواب کہاں تک پہنچا کہ الله تعالیٰ اس کے لیے اپنی رضائے دائمی قیامت تک کی لکھ دیتے ہیں۔ اسی طرح انسان کوئی کلمہ الله کی ناراضی کا (معمولی سمجھ کر) زبان سے نکال دیتا ہے، اس کو گمان نہیں ہوتا کہ اس کا گناہ وبال کہاں تک پہنچے گا؟ الله تعالیٰ اس کی وجہ سے اس شخص سے اپنی دائمی ناراضی قیامت تک کے لیے لکھ دیتے ہیں۔ (ابن کثیر، تلخیص، از: معارف القرآن:8/143)

جھوٹ بولنا گناہ کبیرہ ہے اور یہ ایسا گناہ ِ کبیرہ ہے کہ قرآن کریم میں ، جھوٹ بولنے والوں پر الله کی لعنت کی گئی ہے۔ ارشاد ربانی ہے:﴿فَنَجْعَل لَّعْنَتَ اللَّہِ عَلَی الْکَاذِبِینَ﴾․(سورہٴ آل عمران:61)
ترجمہ:”(ہم)لعنت کریں الله کی اُن پر جو کہ جھوٹے ہیں۔“

حدیث شریف میں جھوٹ کی مذمت
جیسا کہ مندرجہ بالا قرآنی آیات میں جھوٹ اور بلا تحقیق کسی بات کے پھیلانے کی قباحت و شناعت بیان کی گئی ہے، اسی طرح احادیث ِ مبارکہ میں بھی اس بدترین گناہ کی قباحت وشناعت کھلے عام بیان کی گئی ہے۔ ہم ذیل میں چند احادیث مختصروضاحت کے ساتھ پیش کرتے ہیں

ایک حدیث میں یہ ہے کہ جھوٹ او رایمان جمع نہیں ہو سکتے، لہٰذا الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے جھوٹ کو ایمان کا منافی عمل قرار دیا ہے۔ حدیث ملاحظہ فرمائیے:
”عن صفوان بن سلیم رضي الله عنہ أنہ قیل لرسول الله صلی الله علیہ وسلم: أیکون المؤمن جبانا؟ فقال: ”نعم“ فقیل لہ: أیکون المؤمن بخیلا؟ فقال:”نعم“․ فقیل لہ: أیکون المؤمن کذابا؟ فقال:”لا“․ ( مؤطا امام مالک، حدیث:3630/824)
ترجمہ:”حضرت صفوان بن سلیم سے رضی الله عنہ بیان کرتے ہیں: الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم سے پوچھا گیا: کیا مومن بزدل ہوسکتا ہے؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے جواب دیا:”ہاں۔“ پھر سوال کیا گیا: کیا مسلمان بخیل ہوسکتا ہے؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے جواب دیا:” ہاں۔“ پھر عرض کیا گیا: کیا مسلمان جھوٹا ہوسکتا ہے؟ آپ صلی الله علیہ وسلم نے جواب دیا:”نہیں(اہل ِ ایمان جھوٹ نہیں بول سکتا)۔“

ایک حدیث شریف میں جن چار خصلتوں کو محمد عربی صلی الله علیہ وسلم نے نفاق کی علامات قرار دیا ہے، ان میں ایک جھوٹ بولنا بھی ہے، لہٰذا جو شخص جھوٹ بولتا ہے، وہ خصلت ِ نفاق سے متصف ہے۔ حدیث شریف ملاحظہ فرمائیے:”أربع من کن فیہ کان منافقا خالصا، ومن کانت فیہ خصلة منھن کانت فیہ خصلة من النفاق حتی یدعھا: إذا اؤتمن خان، وإذا حدث کذب، وإذا عاھد غدر، وإذا خاصم فجر․“ (صحیح بخاری، حدیث:34)
ترجمہ:”جس میں چار خصلتیں ہوں گی، وہ خالص منافق ہے اورجس شخص میں ان خصلتوں میں کوئی ایک خصلت پائی جائے، تو اس میں نفاق کی ایک خصلت ہے، تا آں کہ وہ اسے چھوڑ دے: جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو خیانت کرے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو دھوکہ دے او رجب لڑائی جھگڑا کرے تو گالم گلوچ کرے۔“

ایک حدیث میں آیا ہے کہ جب بندہ جھوٹ بولتا ہے، تو رحمت کے فرشتے اس سے ایک میل دور ہو جاتے ہیں:” إذا کذب العبد تباعد عنہ الملک میلا من نتن ماجاء بہ․“ (سنن ترمذی:1972)
ترجمہ:”جب آدمی جھوٹ بولتا ہے تو اس سے جو بدبو آتی ہے اس کی وجہ سے فرشتہ اس سے ایک میل دور ہو جاتا ہے۔“

ایک حدیث میں پیارے نبی صلی الله علیہ وسلم نے جھوٹ کو فسق وفجور او رگناہ کی طرف لے جانے والی بات شمار کیا ہے۔ حدیث کے الفاظ درج ذیل ہیں:”… إن الکذب یھدي إلی الفجور، وإن الفجور یھدی إلی النار، وإن الرجل یکذب حتی یکتب عندالله کذابا․“(صحیح بخاری، حدیث:6094)
ترجمہ:”… یقینا جھوٹ برائی کی راہ نمائی کرتا ہے اور برائی جہنم میں لے جاتی ہے اور آدمی جھوٹ بولتا رہتا ہے، تا آں کہ الله کے یہاں ”کذاب“ (بہت زیادہ جھوٹ بولنے والا) لکھا جاتا ہے۔“

رسول اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ایک حدیث میں جھوٹ بولنے کو بڑی خیانت قرار دیا ہے۔ خیانت تو خود ہی ایک مبغوض عمل ہے، پھر اس کا بڑا ہونا یہ کتنی بڑی بات ہے! حدیث ذیل میں ملاحظہ فرمائیں:”کبرت خیانة أن تحدث أخاک حدیثا ھو لک بہ مصدق، وأنت لہ بہ کاذب“․ (سنن ابوداؤد، حدیث:4971)
ترجمہ:” یہ ایک بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے ایسی بات بیان کرو، جس حوالے سے وہ تجھے سچا سمجھتا ہے ،حال آں کہ تم اس سے جھوٹ بول رہے ہو۔“

ایک حدیث شریف میں نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے جھوٹ کو کبیرہ گناہوں میں بھی بڑا گناہ شمار کیا ہے:”عن أبي بکرة رضي الله عنہ قال: قال النبي صلی الله علیہ وسلم: ”ألا أنبئکم بأکبر الکبائر؟“ ثلاثا، قالوا: بلی یا رسول الله! قال: ”الإشراک بالله، وعقوق الوالدین وجلس وکان متکئا فقال:ألا وقول الزور“ قال: فمازال یکررھا حتی قلنا: لیتہ سکت․“ (صحیح بخاری، حدیث:2654)
”حضرت ابوبکرہ رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”کیا میں تمہیں وہ گناہ نہ بتلاؤں جو کبیرہ گناہوں میں بھی بڑے ہیں؟ تین بار فرمایا۔ پھر صحابہٴ کرام نے عرض کیا: ہاں! اے الله کے رسول! پھر آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”الله کے ساتھ شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔ پھر آپ صلی الله علیہ وسلم بیٹھ گئے، جب کہ آپ صلی الله علیہ وسلم ( تکیہ پر) ٹیک لگائے ہوئے تھے، پھر فرمایا:” خبر دار! اورجھوٹ بولنا بھی ( کبیرہ گناہوں میں بڑا گناہ ہے)۔“

صرف یہی نہیں کہ ایسا جھوٹ جس میں فساد وبگاڑ او رایک آدمی پر اس جھوٹ سے ظلم ہو رہا ہو، وہی ممنوع ہے، بلکہ لطف اندوزی اورہنسنے ہنسانے کے لیے بھی جھوٹ بولنا ممنوع ہے۔ الله کے رسول صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”ویل للذي یحدث بالحدیث لیضحک بہ القوم فیکذب، ویل لہ، ویل لہ․“ ( سنن ترمذی، حدیث:2315)
ترجمہ:” وہ شخص برباد ہو جو ایسی بات بیان کرتا ہے، تاکہ اس سے لوگ ہنسیں، لہٰذا وہ جھوٹ تک بول جاتا ہے، ایسے شخص کے لیے بر بادی ہو، ایسے شخص کے لیے بربادی ہو۔“

جھوٹ بولنا حرام ہے
شریعت ِ مطہرہ اسلامیہ میں جھوٹ بولنا اکبر کبائر(کبیرہ گناہوں میں بھی بڑا گناہ) اور حرام ہے، جیسا کہ قرآن واحادیث کی تعلیمات سے ثابت ہے۔ الله تعالیٰ کا ارشاد ہے:﴿إِنَّمَا یَفْتَرِی الْکَذِبَ الَّذِینَ لَا یُؤْمِنُونَ بِآیَاتِ اللَّہِ وَأُولَٰئِکَ ہُمُ الْکَاذِبُونَ﴾․(سورہ النحل:105)
ترجمہ:” پس جھوٹ افترا کرنے والے تویہی لوگ ہیں، جو الله کی آیتوں پر ایمان نہیں رکھتے اور یہ لوگ ہیں پورے جھوٹے۔“

ایک دوسری جگہ ارشاد ِ خدا وندی ہے:﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُکُمُ الْکَذِبَ ہَٰذَا حَلَالٌ وَہَٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوا عَلَی اللَّہِ الْکَذِبَ إِنَّ الَّذِینَ یَفْتَرُونَ عَلَی اللَّہِ الْکَذِبَ لَا یُفْلِحُونَ﴾․(سورة النحل:116)
ترجمہ:” او رجن چیزوں کے بارے میں محض تمہارا جھوٹ زبانی دعوی ہے، ان کی نسبت یوں مت کہہ دیا کرو کہ فلانی چیز حلال ہے اور فلانی چیز حرام ہے،جس کا حاصل یہ ہو گا کہ الله پر جھوٹی تہمت لگا دو گے، بلاشبہ جو لوگ الله پر جھوٹ لگاتے ہیں، وہ فلاح نہ پاویں گے۔“

چند مواقع پر جھوٹ کی اجازت
شیخ الاسلام ابوزکریا محی الدین یحییٰ بن شرف نووی (676-631ھ) اپنی مشہور کتاب:”ریاض الصالحین“ میں” باب بیان مایجوز من الکذب“ کے تحت رقم طراز ہیں:
”آپ جان لیں کہ جھوٹ اگرچہ اس کی اصل حرام ہے، مگر بعض حالات میں چند شرائط کے ساتھ جائز ہے … اس کا خلاصہ یہ ہے کہ بات چیت مقاصد ( تک حصول) کا وسیلہ ہے، لہٰذا ہر وہ اچھا مقصد جس کا حصول بغیر جھوٹ کے ممکن ہو، وہاں جھوٹ بولنا حرام ہے۔ اگر اس کا حصول بغیر جھوٹ کے ممکن ہی نہ ہو، وہاں جھوٹ بولنا جائز ہے۔ پھر اگر اس مقصد کا حاصل کرنا”مباح“ ہے، تو جھوٹ بولنا بھی مباح کے درجے میں ہے۔ اگر اس کا حصول واجب ہے تو جھوٹ بولنا بھی واجب کے درجے میں ہے۔ چناں چہ جب ایک مسلمان کسی ایسے ظالم سے چھپ جائے، جو اس کا قتل کرنا چاہتا ہے یا پھر اس کا مال چھیننا چاہتا ہے او راس نے اس مال کو چھپا کر کہیں رکھ دیا ہو، پھر ایک شخص سے اس حوالے سے سوال کیا جاتا ہے ( کہ وہ شخص یا مال کہاں ہے؟ ) تو یہاں اس ( شخص یا مال) کو چھپانے کے لیے جھوٹ بولنا واجب ہے۔ اسی طرح کسی کے پاس امانت رکھی ہوی ہو، ایک ظالم شخص اس کو غصب کرنا چاہتا ہے، تو یہاں بھی اس کو چھپانے کے لیے جھوٹ بولنا واجب ہے۔ زیادہ محتاط طریقہ یہ ہے کہ ان صورتوں میں ”توریہ“ اختیار کیا جائے۔ توریہ کا مطلب یہ ہے کہ ( بولنے والا شخص) اپنے الفاظ سے ایسے درست مقصود کا ارادہ کرے، جو اس کے لحاظ سے جھوٹ نہ ہو، اگرچہ ظاہری الفاظ اور مخاطب کی سمجھ کے اعتبار سے وہ جھوٹ ہو۔ اگر وہ شخص ” توریہ“ سے کام لینے کے بجائے صراحتاً جھوٹ بھی بولتا ہے، تو یہ ان صورتوں میں حرام نہیں ہے۔“ (باب بیان مایجوز من الکذب، ریاض الصالحین)

جھوٹ اعتماد ویقین کو ختم کر دیتا ہے
مذکورہ بالا استثنائی صورتوں کے علاوہ ہمیں جھوٹ بولنے سے گریز کرنا چاہیے۔ جھوٹ کبیرہ گناہوں میں سے ہے، لہٰذا جھوٹ بولنا دنیا وآخرت میں سخت نقصان اور محرومی کا سبب ہے۔ جھوٹ الله رب العالمین اور نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی ناراضگی کا باعث ہے۔ جھوٹ ایک ایسی بیماری ہے، جو دوسری بیماریوں کے مقابلہ میں بہت عام ہے۔ لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کے لیے جھوٹ کا ارتکاب کرتے ہیں او راس بات کی پروا نہیں کرتے کہ اس جھوٹ سے انہوں نے کیا پایا او رکیا کھویا؟ جب لوگوں کو جھوٹے شخص کی پہچان ہو جاتی ہے، تو لوگ اس کو کبھی خاطر میں نہیں لاتے ہیں۔ جھوٹ بولنے والا شخص کبھی کبھار حقیقی پریشانی میں ہوتا ہے، مگر سننے والا اس کی بات پر اعتماد نہیں کرتا۔ ایسے شخص پر یقین کرنا مشکل ہو جاتا ہے، کیوں کہ وہ پنے اعتماد ویقین کو مجروح کر چکا ہے۔

حرف ِ آخر
جھوٹ ایک ایسی بیماری ہے جو معاشرہ میں بگاڑ پیدا کرتی ہے۔ لوگوں کے درمیان لڑائی، جھگڑے کا سبب بنتی ہے۔ دو آدمیوں کے درمیان عداوت ودشمنی کو پروان چڑھاتی ہے۔ اس سے آپس میں ناچاقی بڑھتی ہے۔ اگر ہم ایک صالح معاشرہ کافر وبننا چاہتے ہیں، تو یہ ہماری ذمے داری ہے کہ ہم لوگوں کو جھوٹ کے مفاسد سے آگاہ او رباخبر کریں،جھوٹے لوگوں کی خبر پر اعتماد نہ کریں، کسی بھی بات کی تحقیق کے بغیر اس پر ردِّ عمل نہ دیں۔ اگر ایک آدمی کوئی بات آپ سے نقل کرتا ہے تو اس سے اس بات کے ثبوت کا مطالبہ کریں۔ اگر وہ ثبوت پیش نہیں کر پاتا تو اس کی بات پر کوئی توجہ نہ دیں اور اسے دھتکاریں۔ حضرت عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں کہ :”نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم کو جھوٹ سے زیادہ کوئی عادت ناپسند نہیں تھی، چناں چہ آپ صلی الله علیہ وسلم کو اگر کسی کے حوالے سے یہ معلوم ہو جاتا کہ وہ دروغ گو ہے، تو آپ صلی الله علیہ وسلم کے دل میں کدورت بیٹھ جاتی اور اس وقت تک آپ صلی الله علیہ وسلم کا دل صاف نہیں ہوتا، جب تک یہ معلوم نہ ہو جاتا کہ اس نے الله سے اپنے گناہ کی نئے سرے سے توبہ نہیں کرلی ہے“۔ (مسند احمد، بحوالہ احیاء العلوم:3/209)