بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

توبہ کی اہمیت او راحکام

توبہ کی اہمیت او راحکام

ضبط و تحریر: ابوعکاشہ مفتی ثناء الله ڈیروی
استاد ورفیق شعبہ تصنیف وتالیف جامعہ فاروقیہ کراچی

 

حضرت مولانا عبیدالله خالد صاحب مدظلہ العالی ہر جمعہ جامعہ فاروقیہ کراچی کی مسجد میں بیان فرماتے ہیں۔ حضرت کے بیانات ماہ نامہ ”الفاروق“ میں شائع کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے ،تاکہ”الفاروق“ کے قارئین بھی مستفید ہو سکیں۔ (ادارہ)

الحمدلله نحمدہ، ونستعینہ، ونستغفرہ، ونؤمن بہ، ونتوکل علیہ، ونعوذ بالله من شرور أنفسنا، ومن سیئات أعمالنا، من یھدہ الله فلا مضل لہ، ومن یضللہ فلا ھادي لہ، ونشھد أن لا إلہ إلا الله وحدہ لاشریک لہ، ونشھد أن سیدنا وسندنا ومولانا محمداً عبدہ ورسولہ، أرسلہ بالحق بشیرا ونذیرا، وداعیاً إلی الله بإذنہ وسراجاً منیرا․

أما بعد: فأعوذ بالله من الشیطٰن الرجیم، بسم الله الرحمن الرحیم․

﴿فَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَرَہُ، وَمَن یَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَرَہُ﴾․ (سورةالزلزلة، آیت:8-7)․

صدق الله مولانا العظیم․

میرے محترم بھائیو، بزرگو اور دوستو! الله رب العزت نے یہ پوری کائنات محض اپنے فضل سے، اپنے کرم سے، اپنی قدرت سے، اکیلے اور تنہا بنائی ہے، اس کائنات کے کچھ حصے تو وہ ہیں جو آج کے انسان پر ظاہر ہیں، اور ان حصوں تک اس انسان کی پہنچ ہو چکی ہے اور آج کا انسان وہاں تک پہنچنے پر بہت خوش ہے اور وہ یہ سمجھ رہا ہے کہ اس نے بہت کچھ پالیا اور بہت حد تک وہ پہنچ گیا، جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جہاں تک آج انسان پہنچا ہے، وہ اس کے مقابلے میں جہاں تک نہیں پہنچا بہت تھوڑا سا ہے، اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے، یہ زمین جس پر ہم چلتے پھرتے ہیں او رجو الله تعالیٰ کے خزانوں سے بھری ہوئی ہے، جس پر انسان قدم رکھتا ہے ،جس پر وہ چلتا ہے، جس پر وہ دوڑتا اوربھاگتا ہے، جسے وہ اپنے اختیار اور اقتدار میں سمجھتا ہے، ابھی تو وہ اسی کے بارے میں معلومات حاصل نہیں کرسکا ہے۔ کتنی عجیب ہے یہ زمین اور کیسے عجیب ہیں الله تعالیٰ کے راز او راس کی قدرتیں کہ آپ یہاں ایک پودا لگاتے ہیں، اس پودے کا نام ہے گلاب، زمین میں کہیں ہزار ہا ہزار میٹر کھودتے چلے جائیں ،کہیں پر بھی آپ کو گلاب کے پھول کا رنگ نہیں ملے گا، کتنی ہی آپ تحقیق کریں آپ کو کہیں پر گلاب کی خوش بو نہیں ملے گی۔

لیکن ہم اپنی آنکھوں سے ایک طویل دور سے دیکھتے چلے آرہے ہیں کہ گلاب کا پودا لگتا ہے، اس میں گلاب کا پھول کھلتا ہے، اس کا ایک خاص رنگ ہے، اس کی ایک خاص خوش بو ہے، بالکل اسی کے برابر میں آپ ایک دوسرا پودا لگاتے ہیں، اس کا نام موتیا ہے تو وہاں سے اس کی خوش بو، اس کے برابر میں ایک اور پودا لگاتے ہیں، اس کا نام گیندا ہے، تو وہاں سے گیندے کا پودا نکل رہا ہے، اس کے پھول الگ، اس کی خوش بو الگ، موتیے کے پھول الگ، اس کی خوش بو الگ ، گلاب کے پھول الگ ،ان کی خوش بو الگ، یہ ساری خوش بوئیں، یہ سارے رنگ… یہ کہاں سے نکل رہے ہیں؟ کون نکال رہا ہے؟

یہ تو زمین کی بات ہے او رمیں نے بہت چھوٹی سی مثال دی ہے، ورنہ تو زمین کے خرانوں میں سونا ہے، چاندی ہے، تانبا ہے، پیتل ہے، پیٹرول ہے، ڈیزل ہے، نامعلوم کیا کیا ہیں؟

اور میں عرض کر رہا ہوں کہ جہاں تک انسان پہنچا ہے وہ ذرے سے بھی کم ہے اور جو باقی ہے وہ بہت زیادہ ہے، چاند ہے، ستارے ہیں، ساتوں آسمان ہیں، پھر عرش ہے، پھر کرسی ہے، پھر ایک آسمان اور دوسرے آسمان کے درمیان کیا کیا ہے ؟ دوسرے او رتیسرے کے درمیان کیا کیا ہے؟ ایک زمین اس کے نیچے، پھر دوسری زمین ہے، پھر تیسری ہے، پھر چوتھی ہے، سات زمینیں ہیں، ان دونوں زمینوں کے درمیان کیا ہے الله ہی جانتا ہے ۔

میرے دوستو! یہ سارا کا سارا، ہمارا یہ ایمان ہے کہ یہ الله تعالیٰ نے پیدا کیا ہے او راکیلے او رتنہا پیدا کیا ہے او راپنے امر کن سے پیدا کیا ہے، کن، ہو جا، سب ہو گیا، یہ ہے ایمان کہ ہم الله کی تمام صفات پر کہ وہ قادر مطلق ہیں وہی سب سے زیادہ عظمت والے ہیں، وہی اس کائنات کے اکیلے اور تنہا مالک ہیں، یہ ساری کائنات الله نے بنائی ہے اور اس کائنات میں الله تعالیٰ نے انسان کو، آدمی کو، بنا کر بھیجا، حضرت آدم علی نبینا وعلیہ الصلاة والسلام سے آدمیت کا سلسلہ جاری کیا او راس آدمیت کے سلسلے میں موقع بموقع ا لله رب العزت نے انبیائے کرام علیہم الصلاة والسلام کے سلسلے جاری فرمائے اور یہ پوری کائنات ، یہ دنیا، یہ سارا کا سارا سلسلہ، یہ ایک وقت محدودتک ہے کہ اس مقررہ اور محدود وقت تک یہ دنیا او رکائنات رہے گی اورجیسے الله تعالیٰ نے یہ سب کچھ اکیلے اور تنہا بنایا، ایسے ہی الله تعالیٰ اکیلے اور تنہا سب کو ختم کردیں گے، اس کا ایمان رکھنا، اس کا عقیدہ رکھنا، یہ ایک مومن کے لیے، جو اپنے آپ کو صاحب ایمان کہتا ہو ، ضرور ی ہے۔

میں عرض کر رہاہوں کہ تمام انبیائے کرام علیہم السلام موقع بموقع تشریف لائے، سب سے آخر میں امام االانبیائے سید الرسل محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ نے آکر سب سے پہلی جو دعوت دی ہے وہ ایمان کی دعوت دی ہے اور وہ ایمان کی دعوت کیا ہے ؟ وہ ایمان کی دعوت ہے:

”یاأیُّہَا النَّاسُ قُوْلُوْا لاَ الٰہَ الاّ اللّٰہُ تُفْلِحُوْا “ ․

”عن طارق بن عبدالله المحاربي قال: رأیت رسول الله صلی الله علیہ وسلم مرّ بسوق ذی المجاز، وأنا في بیاعة لي، فمّر وعلیہ حلة حمراء، فسمعتہ یقول:” یا أیھا الناس، قولوا لا إلہ إلا الله تفلحوا، ورجل یتبعہ یرمیہ بالحجارة قد أدمی کعبیہ، یعني أبا لھب․“(السنن الکبری للبیہقي، کتاب الطہارة، رقم الحدیث:361، والمعجم الکبیر للطبراني، رقم الحدیث:4582، ومسند الإمام أحمد بن حنبل، رقم الحدیث:19004)

اے لوگو! الله کی الوہیت کا اقرار کر لو، الله کے علاوہ کوئی الہ نہیں، الله اکیلے ہیں، یکتا ہیں، بے مثل ہیں، بے نظیر ہیں، وہی اس پوری کی پوری کائنات کے مالک ہیں، وہی اس کے اہل ہیں کہ ان کے سامنے سرجھکایا جائے، ان کی بندگی کی جائے، ان کی عبدیت اختیار کی جائے، اے لوگو! الله کے سوا کوئی الہ نہیں، اس کا اقرار کرو، تفلحوا، تم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کام یاب ہو جاؤ گے۔

میرے دوستو! یہ ایمان ہے اور یہ الله پر ایمان ہے۔

جتنی بھی نسبتیں ہیں وہ ساری کی ساری الله کی طرف لوٹنے والی ہیں، عزت دینے والے الله ہیں ، ذلت دینے والے الله ہیں، کا م یاب فرمانے والے الله ہیں، ناکام کرنے والے الله ہیں، صحت ہے، بیماری ہے، فائدہ ہے، نقصان ہے، سب کے مالک اور سب کا اقتدار اور اختیار الله کے پاس ہے، الله تعالیٰ کی طرف ہر حال میں بندے کو رجوع ہونا چاہیے، انابت اختیار کرنی چاہیے۔

چناں چہ جب یہ ایمان اندر ہوتا ہے او راس ایمان پر آدمی مسلسل محنت کرتا رہتا ہے، اس ایمان کو ترقی دینے کی فکرمیں لگا رہتا ہے او راس کا ایمان ترقی کر رہا ہوتا ہے تو پھر اس ایمان کا یہ تقاضا ہے کہ الله تعالیٰ اسے عمل صالح کی توفیق عنایت فرما دے۔

میں نے کئی دفعہ یہ بات عرض کی کہ بڑا آسان پیمانہ ہے، جو چاہے اپنے آپ کو اس پیمانے میں پرکھ سکتا ہے، اپنا اپنا جائزہ لے سکتا ہے، اپنا اپنا اندازہ لگا سکتا ہے کہ جب ایمان کی کیفیات اور ایمان کی حالت بہتر ہوتی ہے تو ہمارا دل نماز میں لگتا ہے، ہمارا دل سجدے میں لگتا ہے، ہمارا دل رکوع میں لگتا ہے، ہمارا دل دعا میں لگتا ہے، ہمارا دل تلاوت میں لگتا ہے، ہمارا دل خیر کے کاموں میں لگتا ہے۔

او رجب ایمان کی سطح نیچے کم او ربہت کم ہو جاتی ہے، تو میرے دوستو! پھر اعمال کرنا تو بہت دور کی بات ہے، اعمال کی بات سننا بھی ناگوار لگتا ہے، پھر نماز کی بات سننا بھی ناگوار ہوتی ہے ، صاحب ایمان ہیں، لیکن ایمان ICU کے اندر ہے، ایمان بہت کم زور ہے، یہ بات بھی یاد رکھنا کہ جو آدمی بیماری کے آخری مرحلے میں ہو، ICU میں ہو، تو کیا ہم اس کو آدمی نہیں کہیں گے؟ آدمی ہے۔ کیا اس پر خرچہ نہیں ہو رہا ہوتا؟ ہوتا ہے، لاکھوں کا خرچہ ہوتا ہے، یہ کہیں کہ بھائی! چھوڑ دیں سب اس کو، کوئی یہ بات سننے کے لیے بھی تیار نہیں ہوتا، سب کہتے ہیں، میرے والد ہیں، میری والدہ ہیں، میرے بھائی ہیں، میری بیوی ہے، میرا فلاں ہے،حالا ں کہ وہ صحت کے بالکل آخری مرحلے میں ہے ،لیکن ہم اس کو آدمی سمجھتے ہیں، ہم اس پر خرچ کرتے ہیں، ہم اس کی تیمارداری کرتے ہیں، ہم اس کی عیادت کرتے ہیں، ہم اس کے لیے دعائیں کرتے ہیں، ایسے ہی یاد رکھنا کہ اگر کسی میں ایمان بہت نچلے درجے میں چلا گیا تو وہ خدانخواستہ کافر نہیں ہے، مومن ہے، لیکن اس کا ایمان نچلے درجے کا ہے ،بہت کم زور ہے۔

ایسے ہی یہاں ایک بات اور بھی سمجھ لیں، ہمارے ہاں عام طور پر لوگوں کی زبانوں پر یہ الفاظ ہوتے ہیں، نادانی کی وجہ سے ،لاعلمی کی وجہ سے کہ مولوی صاحب یہ تو حدیث ضعیف ہے، تو آپ بتائیے کہ کیا اگر کوئی حدیث ضعیف ہے تو کیا وہ حدیث نہیں ہے؟ حدیث ہے۔

(فضائل اعمال میں ضعیف حدیث سے استدلال درست ہے، تدریب الراوی میں ہے :
ویجوز عند أھل الحدیث وغیرہم التساھل في الأسانید وروایة ما سوی من الضعیف والعمل بہ من غیر بیان ضعفہ في غیر صفات الله تعالیٰ والأحکام کالحلال والحرام وغیرھما، وذلک کالقصص وفضائل الأعمال والمواعظ وغیرھما مما لا تعلق لہ بالعقائد والأحکام․

اس کی شرح کرتے ہوئے علامہ سیوطی رحمہ الله نے امام احمد بن حنبل وغیرہ حضرات سے نقل کیا ہے:
قالوا: إذا روینا في الحلال والحرام شددّنا، وإذا روینا في الفضائل ونحوھا تساھلنا․

اس کے بعد شیخ الاسلام رحمہ الله سے نقل کیا ہے:
وذکر شیخ الاسلام ثلثة شروط: أحدھا: أن یکون الضعیف غیر شدید، فیخرج من الفرد من الکذابین والمتھمین بالکذب ومن فحش غلطہ، نقل العلائي الاتفاق علیہ، الثاني: أن یندرج تحت أصل معمول بہ․

الثالث: أن لا یعتقد عند العمل بہ ثبوتہ، بل یعتقد الإخبار ․

شیخ الإسلام رحمہ الله نے فضائل کے باب میں حدیث ضعیف کے مقبول ہونے کی تین شرطیں ذکر کی ہیں:
اس حدیث ضعیف کا ضعف بہت شدید نہ ہو۔

اس کا مضمون شریعت کے اصول ثابتہ میں سے کسی اصل معمول بہ کے تحت داخل ہو۔

اس پر عمل کرتے ہوئے یقینی ثبوت کا اعتقاد نہ رکھے، تاکہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی طرف کوئی ایسی بات منسوب نہ ہو جائے جو آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد نہ فرمائی ہو۔ (تدریب الراوی:1/252-251، قدیمی کتب خانہ)

علامہ سخاوی رحمہ الله:”القول البدیع“ میں فرماتے ہیں:
قال العلماء من المحدثین والفقہاء وغیرھم: یجوز ویستحب العمل فی الفضائل والترغیب والترہیب بالحدیث الضعیف، مالم یکن موضوعاً․(القول البدیع في الصلاة علی الحبیب الشفیع:1/258)

تو یہ جو لوگوں کو ایک مغالطہ ہے ،دھوکہ ہے، نادانی ہے، لا علمی ہے، وہ حدیث کے بارے میں یہ الفاظ منھ سے نکالتے ہیں کہمولانا! یہ تو حدیث ضعیف ہے، لیکن یاد رکھنا کہ وہ پھر بھی حدیث ہے۔

حدیث کے بارے میں یہ الفاظ ہتک آمیز انداز میں کہنا اور دھتکارتے ہوئے کہنا کہ یہ تو حدیث ضعیف ہے، بہت غلط بات ہے، ایسے الفاظ کبھی منھ سے نہیں نکالنے چاہییں، یہ اہل علم کے معاملات ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ اس حدیث کی کیاحیثیت ہے اور اس کا ضعف کس درجے کا ہے؟ (تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں، حافظ ابن تیمیہ رحمہ الله کی کتاب رفع الملام عن الأئمة الأعلام،ص:19)

بہرحال میں عرض کر رہا تھا کہ ایمان ایسی چیز ہے کہ اس کو بہتر کرنے، اس کو اعلیٰ کرنے، اس کو ترقی دینے کی ضرورت ہے او راگر خدانخواستہ ،خدا نخواستہ آدمی اپنے ایمان کی طرف سے غافل ہو جائے تو پھر وہ ایمان کم زور ہو جاتا ہے او راس کم زور ایمان کی وجہ سے پھر اعمال کی طرف رغبت نہیں ہوتی اور یہ پہچان ہے۔ یہ ایک پیمانہ ہے کہ جب آدمی نماز کی طرف راغب نہیں ہے، وہ تلاوت کی طرف راغب نہیں ہے، وہ دعا کی طرف راغب نہیں ہے، اس کا مسجد آنے کو دل نہیں چاہ رہا ہے ،اس کا نماز پڑھنے کا جی نہیں چا رہا ہے، کوئی خیر کا عمل کرنے کو جی نہیں چاہ رہا ہے تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ اسے اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہیے او رایمان کو قوی کرنے کا جو بہت سہل اور آسان طریقہ ہے، وہ یہ کہ فوراً توبہ، فوراً استغفار کرے اور یہ بات بار بار آپ سے عرض کی گئی ہے کہ توبہ الله تعالیٰ کے ہاں بہت پسندیدہ عمل ہے، الله تعالیٰ توبہ کو بہت پسند فرماتے ہیں، وہ بندہ جو گناہوں میں پھنسا ہوا ہو ، گناہوں کے دلدل کے اندر دھنسا ہوا ہو۔ لیکن وہ توبہ کرے تو فوراً الله تعالیٰ اسے معاف فرما دیتے ہیں۔

توبہ سے متعلق کچھ فضائل او راحکام نقل کیے جاتے ہیں:
ہر انسان خطا کار ہے: حدیث میں ہے آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:” کل بنی آدم خطاء، وخیر الخطائین التوابون․“ (سنن ابن ماجہ کتاب الزھد، باب ذکر التوبة، رقم الحدیث:4251، وسنن الترمذي، کتاب الزھد، رقم الحدیث:2499)

ہر آدمی خطا کار ہے، (کوئی نہیں ہے جس سے کبھی کوئی خطا اور لغزش نہ ہو ) اور خطا کاروں میں وہ بہت اچھے ہیں جو خطا کے بعد توبہ کریں اور الله کی طرف رجوع ہوں۔

توبہ سے گناہ معاف ہو جاتے ہیں:
حضرت عبدالله بن مسعود رضی الله عنہ کی روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: التائب من الذنب کمن لاذنب لہ․“

گناہ سے توبہ کر لینے والا گناہ گار بندہ بالکل اس بندے کی طرح ہے جس نے گناہ کیا ہی نہ ہو۔ (سنن ابن ماجہ،کتاب الزھد، باب ذکر التوبة، رقم:4250، والمعجم الکبیر للطبراني، رقم الحدیث:10281، والسنن الکبری للبیہقي، کتاب الشھادات، رقم الحدیث:21072)

اسی طرح ایک اور حدیث قدسی ہے: الله تعالی ٰ فرماتے ہیں:
یا ابن آدم! إنک مادعوتني ورجوتني غفرت لک علی ماکان فیک ولا أبالي، یا ابن آدم لو بلغت ذنوبک عنان السماء ثم استغفرتنی غفرت لک ولا أبالي، یا ابن آدم! إنک لو أتیتني بقراب الأرض خطایا ثم لقیتني لا تشرک بي شیئاً لأتیتک بقرابھا مغفرةً․

اے انسان جب تک تو مجھے پکارے او رمجھ سے امید رکھے، میں تجھے بخش دوں گا، جن گناہوں میں بھی تم ہو اور مجھے کچھ پرواہ نہیں

اے انسان !اگر تیرے گناہ آسمان کی بلندی تک پہنچ جائیں، پھر تو مجھ سے معافی کا طلب گار ہو تو میں تجھے بخش دوں گا او رمجھے کچھ پرواہ نہیں۔

اے انسان! اگر تو میرے پاس آئے زمین بھر کر خطاؤں کے ساتھ، پھر تو مجھ سے ملاقات کرے اس حال میں کہ تونے میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرایا تو میں ضرور تیرے پاس آؤں گا زمین بھر کر مغفرت کے ساتھ۔ (سنن الترمذي، کتاب الدعوات، رقم الحدیث:3540)

آپ صلی الله علیہ وسلم کی ایک دعا:
حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم فرمایا کرتے تھے:” اللھم اجعلني من الذین إذا أحسنوا استبشرو،ا وإذا أساؤا استغفروا․“

اے الله! مجھے اپنے ان بندوں میں سے کرد ے جو نیکی کریں تو خوش ہوں او ران سے جب کوئی غلطی او ربرائی سر زد ہو جائے تو تیرے حضور میں استغفار کریں۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب الأدب، باب الاستغفار، رقم:3820، ومسند الإمام أحمد بن حنبل، رقم الحدیث:25980)

بار بار گناہ سرزد ہو تب بھی توبہ نہ چھوڑے:
حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ کی روایت ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:إن عبداً أذنب ذنبا فقال: رب أذنبت فاغفرہ، فقال ربہ: أعلم عبدی أن لہ ربا یغفر الذنب ویأخذبہ غفرت لعبدي، ثم مکث ماشا ء الله، ثم أذنب ذنبا ، قال رب أذنبت ذنبا فاغفرہ، فقال أعلم عبدی أن لہ ربا یغفر الذنب ویأخذ بہ غفرت لعبدي، تم مکث ما شاء الله، ثم أذنب ذنبا، قال رب أذنبت ذنبا آخر فاغفرہ لي، فقال: أعلم عبدی أن لہ رباً یغفر الذنب ویأخذ بہ، غفرت لعبدي ،فلیفعل ماشاء․

الله کے کسی بندے نے کوئی گناہ کیا، پھر الله سے عرض کیا کہ اے میرے رب! مجھ سے گناہ ہو گیا، مجھے معاف فرما دیں، تو الله تعالیٰ نے فرمایا کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی رب ہے، جو گناہوں کو معاف بھی کرسکتا ہے اور گناہوں پر پکڑ بھی کر سکتا ہے، میں نے اپنے بندے کا گناہ بخش دیا اور اس کومعاف کر دیا۔ اس کے بعد جب تک الله نے چاہا وہ بندہ گناہ سے رکا رہا اورپھر کسی وقت گناہ کر بیٹھا او رپھر الله تعالیٰ سے عرض کیا اے میرے رب! مجھ سے گناہ ہوگیا تو اس کو بخش دے او رمعاف فرما دے۔ تو الله تعالیٰ نے پھرفرمایا کہ میرا بندہ جانتا ہے کہ اس کا کوئی مالک ہے، جو گناہ وقصور معاف بھی کرسکتا ہے اورپکڑ بھی سکتا ہے، میں نے اپنے بندے کا گناہ معاف کر دیا۔

اس کے بعد جب تک الله نے چاہا وہ بندہ گناہ سے رکا رہا او رکسی وقت پھر کوئی گناہ کر بیٹھا او رپھر ا لله تعالیٰ سے عرض کیا کہ اے میرے ر ب! مجھ سے گناہ ہو گیا تو مجھے معاف فرما۔

تو الله تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ میرے بندے کو یقین ہے کہ اس کا کوئی رب ہے، جو گناہ معاف بھی کرتا ہے اور سزا بھی دے سکتا ہے، میں نے اپنے بندے کو بخش دیا، اب جو اس کا جی چاہے کرے ( یعنی جتنی بار بھی گناہ کرکے اس طرح استغفار کرتا رہے گا میں اسے معاف کرتا رہوں گا)۔ (الجامع الصحیح للبخاري، کتاب التوحید، باب قول الله تعالی:﴿یریدون أن یبدلوا کلام الله﴾، رقم الحدیث:7507، والجامع الصحیح لمسلم، کتاب التوبة، باب قبول التوبة من الذنوب وإن تکررت الذنوب والتوبة، رقم :6986)

اسی طرح ایک حدیث میں ہے: ” قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم : ما أصر من استغفر، وإن عاد في الیوم سبعین مرة․“

رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: کہ جو بندہ گناہ کرکے استغفار کرے، یعنی سچے دل سے الله سے معافی مانگے، وہ اگر دن میں ستر دفعہ بھی پھر وہی گناہ کرے تو الله کے نزدیک وہ گناہ پر اصرار کر نے والوں میں نہیں ہے ۔ ( سنن أبي داؤد، أبواب الوتر، باب في الاستغفار، رقم:1516، وسنن الترمذي، ابواب الدعوات، رقم:3559، والسنن الکبری للبیہقي، رقم الحدیث:21284)

الله تعالیٰ بندے کی توبہ سے بہت خوش ہوتے ہیں:
نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: الله أفرح بتوبةعبدہ المؤمن من رجل نزل في أرض دویة مھلکة معہ راحلتہ علیھا طعامہ وشرابہ فوضع رأسہ فنام نومة فاستیقظ وقد ذھبت راحلتہ فطلبھا حتی إذا اشتد علیہ الحر والعطش أو ماشاء الله قال أرجع إلی مکاني الذی کنت فیہ فأنام حتی أموت فوضع رأسہ علی ساعدہ لیموت فاستقیظ فإذا راحلتہ عندہ علیھا زادہ وشرابہ، فالله أشد فرحا بتوبة العبد المؤمن من ھذا براحلتہ وزادہ․ (جامع الأصول في أحادیث الرسول، الکتاب الرابع في التوبة، رقم :978، والجامع الصحیح للبخاری، کتاب الدعوات، باب التوبة، رقم:6308)

الله تعالیٰ اپنے مومن بندے کی توبہ سے اس مسافر آدمی سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے جو (اثنائے سفر میں) کسی غیر آباد اور سنسان زمین پر اتر گیا ہو، جو سامان حیات سے خالی او راسباب ہلاکت سے بھرپور ہو اور اس کے ساتھ بس اس کی سواری کی اونٹنی ہو، اسی پر اس کے کھانے پینے کا سامان ہو، پھر وہ (آرام کرنے کے لیے) سر رکھ کر لیٹ جائے، پھر اسے نیند آجائے، پھر اس کی آنکھ کھلے تو دیکھے کہ اس کی اونٹنی (سامان سمیت) غائب ہے، پھر وہ اس کی تلاش میں سرگرداں ہو، یہاں تک کہ گرمی او رپیاس وغیرہ کی شدت سے جب اس کی جان پر بن آئے تو وہ سوچنے لگے کہ ( میرے لیے یہی بہتر ہے ) کہ میں اسی جگہ جا کر پڑ جاؤں (جہاں سویا تھا) یہاں تک کہ مجھے موت آجائے، پھر وہ ( اسی ارادے سے وہاں آکر) اپنے بازو پر سر رکھ کر مرنے کے لیے لیٹ جائے، پھر اس کی آنکھ کھلے تو وہ دیکھے کہ اس کی اونٹنی اس کے پاس موجود ہے اور اس پر کھانے پینے کا پورا سامان ( جوں کا توں محفوظ) ہے، تو جتنا خوش یہ مسافر اپنی اونٹنی کے ملنے سے ہو گا، خدا کی قسم! مومن بندے کے توبہ کرنے سے خدا اس سے بھی زیادہ خوش ہوتا ہے۔

کس وقت تک کی توبہ قابل قبول ہے:
حدیث میں ہے : قال رسول الله صلی الله علیہ وسلم: ان الله یقبل توبة العبد ما لم یغرغر․ الله تعالیٰ بندے کی توبہ اس وقت تک قبول کرتا ہے جب تک غر غرہ کی کیفیت شروع نہ ہو ( غرغرہ سے مراد، روح جب جسم سے نکلنے لگتی ہے تو اس وقت حلق میں ایک آواز پیدا ہوتی ہے)۔ (سنن الترمذي، أبواب الدعوات، باب في فضل التوبة والاستغفار، رقم الحدیث:3537، وجامع الأصول في أحادیث الرسول، الکتاب الرابع في التوبة، رقم الحدیث:985)

قبولیت توبہ کی شرائط اور طریقہ:
محدثین کرام نے توبہ کرنے کا طریقہ اور اس کی شرائط بیان فرمائی ہیں کہ ان باتوں کا لحاظ کرکے اگر توبہ کی جائے گی تو وہی توبہ عندالله معتبر ہو گی، بصورت دیگر پھر اس توبہ کی مثال ایسی ہوگی، جیسے ایک فارسی شاعر نے کہا ہے #
        سبحہ درکف توبہ بر لب دل پر از ذوق گناہ
        معصیت را خندہ می آید بر استغفار ما

یعنی ہاتھ میں تسبیح، زبان پر توبہ، دل ذوق گناہ سے بھرپور ہے، تو ایسی صورت میں ہمارے گناہ کو بھی ہمارے استغفار پر ہنسی آتی ہے۔

حضرت عبدالله بن المبارک رحمہ الله فرماتے ہیں:”حقیقة التوبة لھا ست علامات: توبہ کی چھ علامات ہیں :
اولھا: الندم علی ما مضی سب سے پہلی علامت یہ ہے کہ جوگناہ پہلے ہو چکے ہیں ان پر نادم اور شرمندہ ہو۔

والثانیة: العزم علی أن لا تعود․ آئندہ کے لیے انسان پکا ارادہ کرے کہ پھر دوبارہ یہ گناہ نہیں کروں گا، یعنی جس وقت توبہ کر رہا ہے اس وقت پختہ ارادہ ہو کہ آئندہ یہ نہیں کروں گا، البتہ اگرتوبہ کے بعد دوبارہ وہ گناہ سر زد ہو گیا، تو دوبارہ اسی عزم کے ساتھ توبہ کرے، لیکن ایسا نہ ہو کہ توبہ بھی کر رہا ہے زبان سے اور دل میں اس گناہ کو چھوڑنے کا ارادہ بھی نہیں ہے۔

والثالثة: أن تعمد إلی کل فرض ضیعتہ فتؤدیہ․

تیسری شرط یہ ہے کہ اگر فرائض ،نماز، روزہ، زکوٰة، حج وغیرہ چھوڑنے کا گناہ ہوا ہے تو اس کی توبہ میں ماقبل دو باتوں کے ساتھ ساتھ ایک تیسری شرط بھی ہے اور وہ یہ کہ جتنے فرائض چھوٹے ہیں ان کی قضا کرنا شروع کر دے۔ توبہ کرنے سے وہ ساقط نہیں ہوں گے، مثلاً کسی نے پانچ سال نمازیں نہیں پڑھیں اور اب توبہ کی توفیق ہو گئی، تو ان پانچ سالوں کی نمازوں کا حساب کرکے وتر سمیت ان کوتھوڑا تھوڑا کرکے پڑھنا شروع کرے۔

اسی طرح روزے ہیں، توبہ کے بعد ان کی قضا بھی لازم ہے، اسی طرح زکوٰة ہے او ران فرائض کی قضا کے حوالے سے مزیدبھی کچھ تفصیل ہے کہ کس طرح قضا کرے گا، وہ کسی مستند عالم سے دریافت کر لے۔

الرابعة: أن تعمد إلی مظالم العباد، فتؤدي إلی کل ذی حق حقہ․

او راگر وہ گناہ چوری کا ہے یا کسی پر ظلم کیا ہے، کسی کا مال غصب کیا ہے، حرام مال کھایا ہے، تو اس کی توبہ میں بھی شروع کی دو شرطوں کے ساتھ ساتھ تیسری شرط یہ ہے کہ جس کا مال چوری کیا ہے،غصب کیا ہے، وہ مال اس کو واپس کرنا ضرور ی ہے اور چوری کی صورت میں جس کی چوری کی ہے اس کو بتانا ضروری نہیں ہے کہ یہ وہ پیسے ہیں جو میں نے آپ سے چوری کیے تھے، بلکہ ہدیہ وغیرہ کے نام سے اتنا مال اس کو واپس کردے، اگر وہ خود موجود نہیں تو اس کے ورثاء کو دے دے او راگر جس سے چوری کی یا مال غصب کیا وہ معلوم ہی نہیں، اسی طرح بینک وغیرہ سے سود لیا، تو ایسی صورت میں اتنا مال بغیر نیت ثواب کے صدقہ کر دے۔

والخامسة: أن تعمد إلی البدن الذی ربیتہ بالسحت والحرام فتذیبہ بالھموم والأحزان حتی یلصق الجلد بالعظم، ثم تنشیٴ بینھما لحما طیبا إن ھو نشأ․

والسادسة: أن تذیق البدن ألم الطاعة کما أذقتہ لذة المعصیة․

جیسے نفس کو گناہوں کی لذت چکھائی ہے، ایسے ہی نیک اعمال سے جو نفس کو تکلیف ہوتی ہے، نیک اعمال کرکے نفس کو وہ تکلیف بھی چکھاؤ (شرح ابن بطال، کتاب الدعوات، باب استغفار النبي صلی الله علیہ وسلم في الیوم واللیلة:10/80، و عمدة القاري، کتاب الداعوت، باب استغفار النبي صلی الله علیہ وسلم في الیوم واللیلة)

آدمی الله تعالیٰ کی بارگاہ میں یہ عرض کرے کہ اے الله! میں نفس اور شیطان کی قید میں ہوں، میں نفس اور شیطان کی جیل میں ہوں۔ اے الله! مجھے رہائی عطا فرما، اے الله! میرا ہاتھ پکڑ لے، اے الله !مجھے نفس اورشیطان سے چھٹکارا عطا فرما، اے الله! میں توبہ کرتا ہوں۔

یہ جو الفاظ ہیں اے الله! میں توبہ کرتا ہوں، اے الله! میں توبہ کرتا ہوں، یہ الله تعالیٰ کو اتنے پسند ہیں، اتنے پسند ہیں کہ فوراً الله تعالیٰ کی رحمت کوجوش آتا ہے اور فوراً اس کو گناہوں سے باہر نکال دیتے ہیں ۔

اور میرے دوستو! جب الله تعالیٰ کسی کو اس طرح سے باہر نکال دیں، اسے نجات عطا فرما دیں تو یقینا اس کے ایمان کی کیفیات فوراً تبدیل ہو جائیں گی اور یہجو ایمان ہے توبہ کے بعد اس کی کیفیات بڑھتی ہیں اور پھر آدمی کو اعمال کی توفیق ہوتی ہے اور آدمی اس کی کوشش کرے، قرآن کریم میں الله تعالیٰ کا فرمان ہے:﴿ فمن یعمل مثقال ذرة خیرا﴾جو آدمی ذرے کے وزن کے برابر بھی کوئی خیر او رنیکی کرتاہے۔

ہمارے ہاں چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو غیراہم سمجھا جاتا ہے، کبھی غیر اہم نہ سمجھیں، آپ راستے میں جارہے کہ کوئی کانٹا پڑا ہوا ہے، آپ نے اس کو راستے سے ہٹا دیا، یہ نیکی ہے ،ہم اس کو معمولی سمجھتے ہیں۔

رزق راستے میں کہیں پڑا ہوا ہے، اندیشہ ہے لوگوں کے پیروں میں آنے کا، آپ نے اس کو اٹھا کے کہیں ایسی جگہ اوپر رکھ دیا کہ پرندے استعمال کر لیں یا کم از کم وہ لوگوں کے پیروں میں نہ آئے، اس سے الله تعالیٰ راضی ہوتے ہیں، کسی کو آپ نے ایک گھونٹ پانی پلا دیا، کسی کو ایک لقمہ کھانے کا کھلا دیا، کسی کی آپ نے چھوٹی سی ضرورت پوری کر دی، یہ چھوٹی نیکی نہیں ہے:﴿فمن یعمل مثقال ذرة خیرا یرہ ﴾جو آدمی ذرے کے وزن کے برابر بھی کوئی نیکی کرے گا اس کا بہترین انجام وہ ضرر دیکھے گا، اوراسی طرح اس کا عکس اور الٹ ہے﴿ ومن یعمل مثقال ذرة شراًیرہ﴾ جو آدمی ذرے کے برابر بھی کوئی بدی کوئی گناہ کرے گا اس کا انجام بھی وہ ضرور دیکھے گا، لیکن اس گناہ سے بچنے کا راستہ بھی الله تعالیٰ نے بتا دیا کہ اگر گناہ ہو گئے ہیں ،آدمی نادم ہو گیا ہے، شرمندہ ہو گیا ہے، توبہ کر رہا ہے تو الله تعالیٰ سارے کے سارے گناہ اس کے زائل فرما دیتے ہیں۔ الله رب العزت ہم سب کو اعمال صالحہ کی توفیق نصیب فرمائے او راعمال سیئہ اورگناہوں سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے۔

﴿ربنا تقبل منا إنک أنت السمیع العلیم، وتب علینا إنک أنت التواب الرحیم﴾․