بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

توبہ، انابت اور دعا ۔۔۔ انسانی تہذیب وتمدن پر اسلام کا احسان

توبہ، انابت اور دعا
انسانی تہذیب وتمدن پر اسلام کا احسان

مولانا محمد حسن حسنی ندوی

 

قرآن کریم کا واضح اور صاف اعلان ہے:
”کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھا سکتا او رانسان کو صرف اپنی ہی کمائی ملے گی اور یہ کہ انسان کی سعی بہت جلد دیکھ لی جائے گی، پھر اسے پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔“ (النجم:38 تا40)

اس واضح اور دو ٹوک اعلان نے انسان کو عزم وحوصلہ بخشا، اس کے اندر قوت وجرأت پیدا کی، ذوق وشوق سے اپنی نیا کو پار لگانے کا جذبہ عطا کیا، اس کے اندر خو داعتمادی بحال کی، یہ یقین حاصل ہوا کہ اسے اپنے کیے دھرے کا بدلہ خود ملنا ہے، یہ انسانی فطرت ہے کہ وہ اپنے کام پر انعام خود چاہتا ہے، بھلے وہ دوسرے کو اس میں شریک کر لے، اس کے لیے اس سے بڑی خوش خبری کیا ہوسکتی تھی کہ اس کی کوشش رائیگاں نہیں جائے گی، برائی سے اس کو روکنے کے لیے یہ بات کافی تھی کہ اپنے کرتوت کو اسے خود بھگتنا ہو گا، نہ کوئی اس کے لیے کفارہ بنے گا، جیسا کہ محرف شدہ عیسائیت نے اعلان کیا کہ انسان پیدائشی فطری گناہ گار اور حضرت مسیح علیہ السلام اس کے گناہوں کا کفارہ ہیں او راسی طرح نہ کوئی انسان اور جانور اس کے پچھلے کرتوتوں کو لے کر بدہیئت او رمبتلائے عذاب ہو کر دنیا میں ظاہر ہو گا، جیسا کہ ہندوستان کے قدیم مذاہب کا آواگون(تناسخ) کا عقیدہ وفلسفہ تھا، جس کی رو سے انسان کو پنی سزا بھگتنا ہی بھگتنا تھا، اس کے فکر وعقیدے کے مطابق اس کا اگلا جنم درندے، چرندے، یہاں تک کہ کتا، بلی، سور وغیرہ اوربھوت پریت یا بدہیئت انسان یا مصیبت زدہ شخص کی شکل میں ہوتا ہے اوراچھے اعمال کی صورت میں اس کا اگلا جنم اچھی حیثیت سے ہوتا ہے۔

اسلام کے اس واضح اعلان نے کہ انسان کو اپنی کوششوں کا بدلہ خود ملتا ہے، اپنے کیے دھرے کا انجام خود دیکھتا ہے، جیسے کہ ایک دوسری جگہ واضح الفاظ میں یہ بتا دیا گیا ہے :

”سو جو کوئی ذرہ بھر بھی نیکی کرے گا اسے دیکھ لے گا، اور جس نے ذرہ بھر بھی بدی کی ہوگی اسے بھی دیکھ لے گا۔“ (الزلزال)

پیغمبر اسلام، سردار انسانیت،سیّدنا محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے یہ بھی واضح کر دیا کہ گناہ، خطا، لغزش ،تقصیر، کوتاہی انسان کا خاصہ ہے۔ شیطان کے بہکانے سے اس کے نقش میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے، لیکن جو اس بگاڑ کو بگاڑ، غلطی کو غلطی سمجھ کر اپنے پیدا کرنے والے، پوری دنیا کا نظام چلانے والے اپنے مالک حقیقی، ایک معبود برحق کا خیال کرکے کہ اس کے سامنے گڑ گڑائے، روئے، نادم وشرمندہ ہو اور تہیہ کرے کہ یہ غلطی وہ اب نہیں دہرائے گا تو الله تعالیٰ اس کی غلطی کو معاف کر دیتا ہے، چاہے وہ جتنی بڑی غلطی ہو۔ البتہ غلطی کا تعلق دوسرے انسان سے بھی ہوتا ہے جیسے کسی کی ناحق جان لینے میں وہ شریک رہا او رکسی کی زمین ، جائیداد ہڑپ کی یا کوئی الزام لگا کر کسی کو ذلیل کرنے کا کام کیا یا اس میں شریک رہا یا ماں باپ کی حق تلفی کی یا پڑوسی کو تکلیف دی، خواہ پڑوسی کا تعلق کسی مذہب ،کسی نسل، کسی برادری سے ہو، اسے ایسا معاملہ صاف کرنا پڑے گا، تب اس کی ندامت الله کے یہاں قبول کی جائے گی، اسی ندامت کا نام توبہ ہے، جو الله کو اتنا پسند ہے کہ وہ بندہ کو ایسا پاک وصاف کر دیتا ہے جیسے اس نے کوئی گناہ اور لغزش کی ہی نہیں، ایک حدیث میں صاف الفاظ میں ہے۔ ” گناہ سے توبہ کرنے والا بے گناہ کی طرح ہے۔“

اور:” تم سب خطا کار ہو، تم میں سے بہتر خطا کار توبہ کرنے والے لوگ ہیں۔“

چوں کہ انسان سے خطا اور غلطی ہو ہی جاتی ہے، شیطان اس کو گڑھے میں گرانے کے لیے ہروقت مستعد اور چوکنا رہتا ہے۔ الله تعالیٰ نے دن میں پانچ اوقات میں نماز کا نظام بنا کرتوبہ اور ندامت کا ایک پورا یومیہ لائحہ عمل دے دیا کہ نماز میں آدمی اپنی عاجزی، بے بسی، درماندگی، ندامت، انابت ورجوع ،استعانت ، طلب ہدایت ومغفرت اور بندگی کا ثبوت فراہم کرتا ہے، جو اس نظام کے بغیر کرنا چاہے تو نہ کرسکے۔ الله تعالیٰ نے توبہ کے عمل کواتنا آسان کرکے عام بھی کر دیا، اسی طرح نماز کی صحیح طور پر ادائی گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے او رانسان پاک صاف ہو کر رات بسر کرتا ہے۔

صرف یہی نہیں کہ توبہ او رانابت سے گناہ معاف کر دیا جاتا ہے، بلکہ توبہ اور انابت کو بندگی اور اعلیٰ درجہ کی عبادت قرار دیا گیا، جس سے توبہ کرنے والا درجات عالیہ او رمنازل رفیعہ پر فائز ہوتا ہے اور قرآن مجید میں اس کے ایک شان دار مستقبل کی بھی پیشین گوئی کر دی گئی ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:﴿یَہْدِی إِلَیْہِ مَن یُنِیبُ﴾کہ جو اس کی طر ف رجوع وانابت کرتا ہے تو اس کو راہ ِ راست پر ڈال دیتا ہے۔) سورہٴ توبہ کی ایک آیت میں توبہ کرنے والوں کا ذکر بڑی برگزیدہ جماعت کے ساتھ کیا گیا ہے اور صرف ذکر ہی نہیں کیا گیا، بلکہ برگزیدہ افراد کی مختلف جماعتوں وطبقات کا ذکر کرتے ہوئے اس نورانی فہرست کی ابتدا توبہ کرنے والی جماعت سے کی گئی ہے۔

توبہ کی قبولیت اور توبہ کرنے والوں کی عندالله مقبولیت اور دنیوی نظام پر مرتب ہونے والے توبہ کے حیرت انگیز اثرات کی ایک اعلیٰ مثال حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی بھی ہے کہ جب حضرت یونس علیہ السلام نے دعوت وتبلیغ، اصلاح معاشرہ اور ازالہ منکرات کے کام میں یہ محسوس کیا کہ انہوں نے حجت تمام کردی ہے اور یہ قوم ماننے والی نہیں، ایسی صورت میں عذاب کے سوا کوئی راستہ نہیں رہ جاتا، اس لیے یہ جگہ چھوڑ دینا ہی مناسب ہے، جیسا کہ انبیائے کرام او ران کی قوموں کے ساتھ ہوتا آیا ہے۔ چناں چہ حضرت یونس علیہ السلام روانہ ہو گئے، مگر عذاب ٹل گیا، اس لیے کہ اس کے بعد حضرت یونس علیہ السلام کی قوم نے ایسی توبہ کی اور وہ ندامت وانابت پیش کی کہ الله تعالیٰ کو رحم آیا اور قوم کو ہدایت مل گئی، ساتھ میں حضرت یونس علیہ السلام کو بھی تنبیہ ہوئی کہ انہیں اتنی جلدی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ حضرت یونس علیہ السلام کو بھی اس کا احساس ہوا، مگر اب وہ نکل چکے تھے۔ قرآن حکیم نے قوم یونس علیہ السلام کی تعریف کرتے ہوئے کہا ہے : ”جب وہ لوگ ایمان لے آئے، ہم نے ان پر سے رسوائی کے عذاب کو دنیاوی زندگی میں دور کر دیا اور ان کو ایک وقت خاص تک خوش عیشی دے دی۔“ (یونس:98)

چوں کہ وہ جلیل القدر نبی تھے، اس لیے ان کی اس جلد بازی پر گرفت ہوئی او ران کو دریا میں مچھلی کے پیٹ میں ایک عرصہ گزارنا پڑا، وہاں ان کی انابت الله کو اتنی پسند آئی کہ ان کو بطن حوت میں زندگی کی ساری سہولیات فراہم کر دیں او رپھر الله نے مچھلی کو حکم دیا کہ انہیں ساحل دریا پر چھوڑ آئے، وہ عافیت وسلامتی کے ساتھ بطن حوت سے نکل کر اپنی قوم کے پاس پہنچے اور اس موقع کی ان کی انابت کے الفاظ کو الله نے وہ قبولیت بخشی کہ تاقیامت اس میں وہ تاثیر پیدا کر دی کہ دنیا کے کرب وہول اور آخرت کے کرب وہول دونوں سے نجات کے لیے انابت کے یہ الفاظ بڑے کار گر ہو گئے ، وہ الفاظ تھے:﴿لَا إِلَہَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَکَ إِنِّی کُنْتُ مِنَ الظَّالِمِینَ﴾․

اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ توبہ کے واقعات اورانابت کی کیفیات کا ظہور اُمم واقوام کی تاریخ میں انفرادی واجتماعی طور پر ہوتا رہا ہے، اور یہی وہ چیز ہے، جو الله کی رحمت کو متوجہ کرتی رہی، جس کی وجہ سے دنیا کا نظام قائم ودائم ہے ، توبہ کا عمل الله کو اس قدر پسند ہے کہ بڑے بڑے اعمال وافعال پر جو بدلہ وانعام ملتا ہے، وہ ایک توبہ اور ایک کیفیت انابت پر ہی حاصل ہوجایا کرتا ہے۔ شرک وکفر ایسے سنگین جرائم اور گناہ ہیں کہ الله جل شانہ نے ان کے متعلق صاف فرما دیا کہ اسے الله معاف نہیں کرے گا، چاہے کسی گناہ کو بھی معاف کر دے۔ (سور نساء:48)

پھر بھی اگر مشرک وکافر شرک وکفر سے توبہ کرتا ہے اور الله کی وحدانیت وکبریائی کا اقرار کرتا ہے اور توحید کو اختیار کرتا ہے اور سچے دل سے لا الٰہ الا الله کہتا ہے اور اقرار کرتا ہے کہ پیغمبر صلی الله علیہ وسلم کی تعلیمات اس کے لیے اس کے رب کی عطا کردہ تعلیمات ہیں، اور وہی الله زندگی بخشنے والا ہے اور موت دینے والا ہے او رمرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہو کر اسی کے پاس لوٹنا ہے او رکارخانہ کائنات اسی کا بنایا ہوا ہے اور پورا نظام اس کی ہی مرضی اور مشیت سے چل رہا ہے، کوئی اس کا اس میں شریک وسہیم اور مشیر نہیں، وہ خالق ہے اور سب مخلوق، سب کچھ اسی ایک الله رب العالمین کے اختیار میں ہے تو یہ اقرار واعتراف ایک لمحے میں انسان کو ان بلندیوں پر پہنچا دیتا ہے کہ ملائکہ بھی رشک کرنے لگتے ہیں، یہی انسان جس کو کفر اور شرک کی گندگی نے آلودہ کر رکھا تھا، گندگی بھی اس گندگی کی طرح نہ تھی جو جسم پر لگ جاتی ہے اورپانی سے یا مٹی وغیرہ سے اس کو صاف کر لیا جاتا ہے، یہ گندگی دل اور دماغ کی گندگی تھی، جس نے پورے جسم کو آلودہ کر رکھا تھا، یہ اوپر کی بجائے اندر سرایت کیے ہوئے تھی، اس کی صفائی توحید وایمان سے ہی ممکن تھی ، الله تعالیٰ نے یہ تاثیر توبہ اورانابت میں رکھی کہ اس کے نتیجہ میں توحیدو ایمان ملا اور انسان ایسا صاف ستھرا ہو جاتا ہے کہ اس کے پچھلے سب کرتوت ، معاصی اور فسوق بھی دُھل جاتے ہیں او راس کے انقلابی اقرار سے اس کی نئی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔

” إنما المشرکون نجس“ (بے شک مشرکین پلید ہیں ) اگر کہا گیا ہے اور حرم کی حدود میں ان کو جانے سے روکا گیا ہے تویہ کسی نسل، قوم، ملک یا لسانی تعصب کی وجہ سے نہیں، صرف شرک کی اس گندگی کی وجہ سے جس کا چشمہ دل ہوتا ہے اور وہ اس سے جسم کے ہر عضو کو پہنچتی رہتی ہے، اگر وہ توبہ کرکے اور انابت الی الله اختیار کرکے اس گندگی کو دور کر لیتا تو وہ چوں کہ بذات خود پلید نہیں تھا، اس لیے نہ صرف یہ ممانعت کا فور ہو جاتی ہے، بلکہ اسے عزت واحترام کے ساتھ وہاں داخلہ ملتا ہے اور وہ اپنے مالک سے قریب اور اس کا محبوب ہو جاتا ہے،توبہ کا یہ درجہ اور مقام ہے جو الله نے انسانیت کو عطا کیا، پیغمبر انسانیت صلی الله علیہ وسلم نے اس کو اور کھول کر بیان کیا۔

مولانا سیّد ابوالحسن علی ندوی تحریر فرماتے ہیں:
”محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے یہ طے فرما دیا کہ گناہ اور لغزش وخطا انسانی زندگی کا ایک عارضی وعبوری وقفہ ہوتا ہے، جن میں انسان اپنی نادانی وسادگی، کوتاہ نظری اور بعض اوقات نفس وشیطان کے بہکانے سے مبتلا ہو جاتا ہے اور خیر وصلاح،گناہوں کا اعتراف واقرار او ران پر ندامت اس کی اصل فطرت او رجوہر انسانیت ہے اور الله تعالیٰ کی طرف رجوع اورخشوع وخضوع او رگناہوں کے عدم ارتکاب کا عزم محکم انسان کی شرافت ونجابت کی دلیل اور حضرت آدم علیہ السلام کی میراث ہے۔ محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ایسے مسلمان گناہ گاروں کے سامنے( جو معصیت کی دلدل میں گلے گلے تک دھنسے اور ڈوبے ہوئے ہیں ) توبہ کا وسیع دروازہ کھول دیا اور لوگوں کو اس کی طرف کھلے عام بلایا او رتوبہ کی فضیلت اتنی تفصیل سے بتائی کہ اس کے پیش نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے دین کے اس رکن عظیم کو پھر سے زندہ واستوار کیا اور اسی لیے آپ کے دوسرے اسمائے گرامی کے ساتھ آپ صلی الله علیہ وسلم کا ایک اسم شریف ”نبی توبہ“ بھی ہے، آپ صلی الله علیہ وسلم نے توبہ کو ایک اضطراری وسیلہ ہی نہیں بتایا، جس کے ذریعہ انسان تلافی مافات کر لیتا ہے، بلکہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے توبہ کا مقام اتنا اونچا کیا کہ وہ افضل ترین عبادت اورتھوڑے سے وقت میں قرب وولایت کے انتہائی درجات تک پہنچے کا آسان راستہ بتا دیا، جس پر بڑے بڑے عابدوں، زاہدوں اور ان پاکیزہ نفوس کو بھی جو گناہوں سے محفوظ رہے ہیں، رشک آتا ہے۔“

توبہ وانابت کے ساتھ ایک دوسری چیز دعا ہے، یہ بھی انسانیت کے لیے ایک بڑا عطیہ خدا وندی اور انعام ربانی ہے، اس میں انسان کو مساوات کاعظیم سبق ملتا ہے، انسان کو اپنے خالق ومالک، الہ واحد احکم الحاکمین سے قرب کا احساس پیدا ہوتا ہے، اسے اپنے رب سے مناجات وہم کلامی کا شرف حاصل ہوتا ہے، اس کے لیے نہ وقت کی قید ہے او رنہ کسی خاص جگہ کا تعین ، اس سے ہٹ کر کہ وقت او رجگہ کا تعین اپنا اثر اس طور پر دکھایا بھی کرتے ہیں کہ الله کو صاف ستھری جگہ پسند ہے تو جو جگہ جتنی صاف ستھری ہے، الله نے اس کو دوسری جگہوں پر فوقیت دے دی، جیسے بیت الله شریف (کعبہ مشرفہ) اور اس کے قریب کی جگہیں وغیرہ اور بعض اوقات جس کو الله نے دوسرے اوقات پر فضیلت دی، جیسے شب قدر، جمعہ کی خاص ساعت، رات کاآخری حصہ وغیرہ، لیکن اس میں بھی جو اثر تعلق مع الله دکھاتا ہے وہ اثر سب پر بھاری پڑتا ہے، الله کو یہ پسند ہے کہ اس سے زیادہ سے زیادہ مانگا جائے اور اور یہ سمجھ کر مانگا جائے کہ وہ سب کچھ جاننے والا ہے، جو اس کے دل ودماغ میں ہے۔ اور وہ سب سننے والا ہے، جو اس کی زبان پر ہے۔ وہ قریب ہے، مانگنے والے کو دیتا ہے، دیتے وقت وہ مانگنے والے کی مصلحت اور فائدہ کو دیکھتا ہے، کبھی وہ ہی دے دیتا ہے جو اس نے مانگا اور کبھی وہ اس کے عوض کوئی تکلیف وپریشانی کو دور کر دیتا ہے، جو اس کے علم میں نہیں آئی تھی او رکچھ چیزیں وہاں دے گا جب مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کرے گا اور اس وقت اسے یہ تمنا ہوگی کہ اس کی ساری مانگیں آج کے ہی دن پوری کی جائیں۔

اسی طرح الله کو یہ پسند ہے کہ ہر چیز اسی سے مانگی جائے او رہر ضرورت اسی کے سامنے رکھی جائے اور اس کو یہ پسند ہے کہ اس سے بلا استحقاق مانگا جائے، بڑی سے بڑی چیز مانگی جائے، مگر ایسی چیز مانگنا پسند نہیں جس میں دوسرے انسان کا نقصان ہو او راپنی ذات کا فائدہ، یہ حسد کی ایک قسم ہے، جسے حرام کیا گیا ہے کہ دوسرے کو جو نعمت اور فضل ملا ہو وہ اس سے چلا جائے اور اسے مل جائے، اس کو یہ پسند ہے کہ آدمی جو خیر اپنے لیے مانگ رہا ہے، اس میں دوسرے کو بھی شریک کرے اور اس پر تو وہ بہت خوش ہوتا ہے کہ خیر دوسرے کے لیے پہلے مانگ لے تو مانگنے والے کی یہ مانگ اس کے لیے جلدی پوری ہوتی ہے، اپنے لیے او راپنے ساتھ دوسروں کے لیے ہدایت کی دعا اس کی پسندیدہ دعا ہے اور ایسی دعا جس کی نہ صرف تعلیم دی گئی، بلکہ اس سورة کو کم از کم پنج وقتہ نمازوں میں ہر رکعت میں پڑھا جانا تھا، اس دعا کا پابند کر دیا، آدمی سمجھ کر اس دعا کو ان اوقات میں ہی پڑھ لیا کرے تو دوسروں کا بہی خواہ بنے بغیر نہیں رہ سکتا، وہ دعا یہ ہے :﴿اہدِنَا الصِّرَاطَ المُستَقِیْمَ،صِرَاطَ الَّذِیْنَ أَنعَمتَ عَلَیْہِمْ غَیْرِ المَغضُوبِ عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّالِّیْن﴾․

قرآن مجید میں او ربھی جامع دعائیں سکھلا دی گئی ہیں او رپھر پیغمبر انسانیت سیّد محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے دعاؤں کا ایک ذخیرہ امت کے لیے چھوڑا ہے، جس میں اس کی دینی ودنیوی ضروریات کی تکمیل کے ساتھ، انسانیت کی فلاح وبہبود اورحاکم و رعیت کے مفادات کا لحاظ، عمر کے مختلف مراحل کا خیال، زندگی کے نشیب وفراز کا دھیان اور انفرادی واجتماعی انسانی فکر نمایاں ہوتی ہے، حیرت ہوتی ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے دعاؤں کے اندر بھی انسانی حقوق کا کس باریک بینی سے نہ صرف خیال رکھا، بلکہ امت کو ان حقوق کی طرف دعاؤں کے ذریعہ بھی توجہ دلائی ہے۔