بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تعلیمی اداروں میں اخلاقی تعلیم کیوں ضروری ہے؟

تعلیمی اداروں میں اخلاقی تعلیم کیوں ضروری ہے؟

مولانا عبدالرحمن ساجد الاعظمی

علم بیش قیمت اور لا زوال دولت ہے، جس میں انسان کی تمام تر ترقی اور بڑائی کا راز مضمر ہے، اچھے سماج اورپاکیزہ معاشرے کی تشکیل کے لیے تعلیم ہی ایسا ذریعہ ہے جس کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تمام قومیں او رحکومتیں تعلیم کے فروغ پر کثیر سرمایہ صرف کر رہی ہیں، تاکہ جہالت وناخواندگی کا خاتمہ ہو، شہر سے لے کر گاؤں تک علم کی روشنی پھیلے ، فطری تہذیب وتمدن پروان چڑھے، معاشرتی اور سماجی زندگی میں خوش گوار تبدیلیاں آئیں، امن وآشتی، اخوت ورواداری کی نئی صبح طلوع ہو اور نئی نسل زیور تعلیم سے آراستہ ہو کر، خود اعتمادی کے ساتھ اپنے کام یاب مستقبل کی تعمیر کرسکے۔

آج قومی اور سرکاری سطح پر تعلیم کے فروغ کے لیے بہت کچھ کام ہو رہا ہے، قدم قدم پر سرکاری اور نیم سرکاری ادارے قائم ہو رہے ہیں، تاکہ لوگوں میں تعلیم کے حصول کا شعور بیدار ہو اور آسانی سے گاؤں گاؤں او رگھر گھر تعلیم پہنچ سکے۔

اس میں شبہ نہیں کہ تعلیمی بیداری مہم نے لوگوں کے فکر وشعور پر تعلیم کی حد تک اچھے اثرات مرتب کیے، جگہ جگہ نرسری، کانوینٹ، اسکول او رکالج وجود میں آئے، بچوں اور بڑوں میں تعلیم کا شوق پیدا ہوا، چناں چہ نئی نسلوں نے معیاری تعلیم کا گراف اتنی بلند یوں پر پہنچا دیا، جس کا کل تک تصور ممکن نہ تھا۔

اس حقیقت کے باوجود کہ علم کو بہت حد تک فروغ حاصل ہوا، عالمی سطح پر علمی میدان میں جو ترقیات رونما ہوئیں، اس نے نئی نئی ایجادات کے ذریعہ علوم وفنون کی بے شمار قسمیں پیدا کر دیں، جس نے علم کو ایک صنعت اور ملکہ میں تبدیل کر دیا، اس فنی وتکنیکی علوم نے عالم گیر سطح پر اپنی قدروقیمت اس طرح منوالی کہ اس کے بغیر علمی ترقی کا تصور ممکن نہیں رہا، اسکول، کالج اور یونی ورسٹیاں، علوم وفنون کی ان نئی قسموں کی دریافت وتعلیم میں لگ گئے، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تعلیمی اداروں سے اخلاقی تعلیم کا خاتمہ ہو گیا، یا یوں کہیے کہ جب اخلاق کو ایک واہمہ اور جذباتی کم زوری کا نام دے کر زندگی کے تمام شعبوں اور تعلیمی اداروں سے نکال دیا گیا تو رشتوں کا احترام، انسانی تہذیب کی فطری پابندیاں، مذہبی اور اخلاقی رواداریاں بھی رفتہ رفتہ ختم ہوتی گئیں اور اخلاقی تعلیم کے فقدان سے انسان کی سماجی اورمعاشرتی زندگی پر ایسے اثرات مرتب ہونے لگے، جس کو دیکھتے ہوئے یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ آج کے دور میں تعلیمی اداروں میں رائج تعلیمی نصاب کیا ایک انسان کو اچھا انسان بنانے کے لیے کافی ہے؟ حالات کا وسیع مشاہدہ اس کا جواب نفی میں دیتا ہے اور اگر آپ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک ذرائع ابلاغ سے معلوم کریں تو وہ آج کے جرائم کی طویل فہرست کا تصویری البم آپ کے سامنے رکھ دے گا۔

او رجب آپ اس سنگین صورت حال کا سنجیدگی سے تجزیہ کریں گے تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ ان تمام مجرمانہ سرگرمیوں کے درپردہ کسی پڑھے لکھے انسان کا ہاتھ ہے، اس کی سینکڑوں مثالیں ہمارے سامنے ہیں، تعلیم تو ایک قیمتی جوہر ہے، جس سے انسانی زندگی کا معیار بلند ہوتا ہے، حیات بخش بہاریں آتی ہیں، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ جیسے جیسے تعلیم فروغ پارہی ہے، امن وسکون درہم برہم ہو رہا ہے، انسانی اقدار پامال ہو رہے ہیں، بھائی چارگی کے آپسی رشتے ٹوٹ کربھکر رہے ہیں، ظلم وستم ، لوٹ مار، قتل وخوں ریزی، ڈکیتی اور چور بازاری، اغوا اور عصمت دری کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں، رشوت خوری جیسے گھناؤنے جرائم فیشن بن رہے ہیں، بے حیائی، عریانیت اور فحاشی تہذیب کا حصہ ہوتی جارہی ہیں۔

اس تناظر میں اگر ماضی کا آج کی مہذب او رتعلیم یافتہ دنیا سے موازنہ کیا جائے تو بلاشبہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ کل انسانیت او رانسانی قدروں کا احترا م تھا اور آج ترقی کے نام پر انسانیت کا قتل عام ہے، ہر طرف چیخ وپکار ہے، ظلم وستم کا دل خراش منظر ہے، تحریکیں اور توڑ پھوڑ عروج پر ہے، نفرت اور تعصب کی گرم بازاری ہے، امن وقانون کے محافظ خود حفاظتی دستوں کے محتاج ہیں، ان حالات کو دیکھ کر یہی کہا جاسکتا ہے : #
        یوں قتل سے بچوں کے وہ بد نام نہ ہوتا
        افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی

تعلیم تو تہذیب وتمدن کی نمائندہ ہے، ثقافت وکلچر کی محافظ ہے، اچھے او ربہتر معاشرے کی ضمانت ہے، مثالی فکر وعمل کی علم بردار ہے، انسانی شرافت کا بلند معیار ہے، محبت واخلاق کا سرچشمہ ہے، رواداری او ربھائی چارگی کی علامت ہے، امن وآشتی کا مظہر ہے۔

مگر افسوس ! تعلیم عام ہونے کے باوجودآج کا ماحول سلگ رہا ہے، معاشرہ نفرت وتعصب کی گھٹن سے دو چار ہے، انسانی شرافت کی قباتارتا ہوتی جارہی ہے، گویا:
        تعلیم تیرے جوہر اصلی کو کھا گئی
        آبِ حیات پی کے تجھے موت آگئی

آخرایسا کیوں؟ صرف اور صرف اس لیے کہ ہم نے تعلیمی اداروں سے اخلاقی تعلیم کو ختم کر دیا ہے، اگر ان حالات پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا، معاشی اور اقتصادی تعلیم کے ساتھ تعلیمی اداروں میں اخلاقیات کو جگہ نہ دی گئی تو انسانی معاشرے کا ہر فرد یہ کہنے پر مجبور ہوگا : #
        وہ اندھیرے ہی بھلے تھے، جو قدم راہ پہ تھے
        روشنی لے گئی منزل سے بہت دور مجھے