بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تعلیمی اداروں میں اخلاقی تعلیم کا فقدان!

تعلیمی اداروں میں اخلاقی تعلیم کا فقدان!

محترم سجاد سعدی

علم بیش بہا قیمت اور لازوال دولت ہے، جس میں انسان کی تمام تر ترقی او ربڑائی کا راز مضمر ہے، اچھے سماج اور پاکیزہ معاشرے کی تشکیل کے لیے تعلیم ہی ایسا ذریعہ ہے جس کی اہمیت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تمام قومیں اور حکومتیں تعلیم کے فروغ پر کثیر سرمایہ صرف کر رہی ہیں، تاکہ جہالت وناخواندگی کا خاتمہ ہو، شہر سے لے کر گاؤں تک علم کی روشنی پھیلے، فطری تہذیب وتمدن پروان چڑھے، معاشرتی اور سماجی زندگی میں خوش گوار تبدیلیاں آئیں، امن وآشتی، اخوت ورواداری کی نئی صبح طلوع ہو اور نئی نسل زیور تعلیم سے آراستہ ہو کر، خود اعتمادی کے ساتھ، اپنے کام یاب مستقبل کی تعمیر کرسکے۔

آج قومی اور سرکاری سطح پر تعلیم کے فروغ کے لیے بہت کچھ کام ہو رہا ہے، قدم قدم پرسرکاری اور غیر سرکاری ادارے قائم ہو رہے ہیں، تاکہ لوگوں میں تعلیم کے حصول کا شعور بیدار ہو اور آسانی سے گاؤں گاؤں او رگھر گھر تعلیم پہنچ سکے۔ اس میں شبہ نہیں کہ تعلیمی بیداری مہم نے لوگوں کے فکروشعور پر تعلیم کی حد تک اچھے اثرات مرتب کیے، جگہ جگہ اسکول اور کالج وجود میں آئے، بچوں اور بڑوں میں تعلیم کا شوق پیدا ہوا، چناں چہ نئی نسلوں نے معیاری تعلیم کا گراف اتنی بلندیوں پر پہنچا دیا جس کا کل تک تصور ممکن نہ تھا۔

اس حقیقت کے باوجود کہ علم کو بہت حد تک فروغ حاصل ہوا، عالمی سطح پر علمی میدان میں جو ترقیات رونما ہوئیں اس نے نئی نئی ایجادات کے ذریعہ علوم وفنون کی بے شمار قسمیں پیدا کر دیں، جس نے علم کو ایک صنعت اور ملکہ میں تبدیل کردیا، ان فنی وتکنیکی علوم نے عالم گیر سطح پر اپنی قدر وقیمت اس طرح منوالی کہ اس کے بغیر علمی ترقی کا تصور ممکن نہیں رہا، اسکول، کالج اور یونی ورسٹیاں علوم وفنون کی ان نئی قسموں کی دریافت وتعلیم میں لگ گئے۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تعلیمی اداروں سے اخلاقی تعلیم کا خاتمہ ہو گیا ،یا یوں کہیے کہ جب اخلاق کو ایک واہمہ اور جذباتی کم زوری کا نام دے کر زندگی کے تمام شعبوں اور تعلیمی اداروں سے نکال دیا گیا تو رشتوں کا احترام، انسانی تہذیب کی فطری پابندیاں، مذہبی اور اخلاقی رواداریاں بھی رفتہ رفتہ ختم ہوتی گئیں اور اخلاقی تعلیم کے فُقدان سے انسان کی سماجی او رمعاشرتی زندگی پر ایسے اثرات مرتب ہونے لگے جس کو دیکھتے ہوئے یہ سوال کیا جاسکتا ہے کہ آج کے دور میں تعلیمی اداروں میں رائج تعلیم نصاب کیا ایک انسان کو اچھا انسان بنانے کے لیے کافی ہے ؟ حالات کا وسیع مشاہدہ اس کا جواب نفی میں دیتا ہے اور اگر ہم پرنٹ میڈیا اور الیکٹرونک ذرائع ابلاغ سے معلوم کریں تو وہ آج کے جرائم کی طویل فہرست کا تصویری البم ہمارے سامنے رکھ دے گا۔

اور جب اس سنگین صورت حال کا سنجیدگی سے تجزیہ کریں گے تو نتیجہ یہ نکلے گا کہ ان تمام مجرمانہ سرگرمیوں کے در پردہ کسی پڑھے لکھے انسان کا ہاتھ ہے، اس کی سینکڑوں مثالیں ہمارے سامنے ہیں، تعلیم تو ایک قیمتی جوہر ہے، جس سے انسانی زندگی کا معیار بلند ہوتا ہے، حیات بخش بہاریں آتی ہیں، مگر ہم دیکھتے ہیں کہ جیسے جیسے تعلیم فروغ پارہی ہے امن وسکون درہم برہم ہو رہا ہے، انسانی اقدار پامال ہو رہے ہیں، بھائی چارگی کے آپسی رشتے ٹوٹ کر بکھر رہے ہیں، ظلم وستم، لوٹ مار، قتل وخوں ریزی، ڈکیتی اور چور بازاری، اغوا اور عصمت دری کے واقعات بڑھتے جارہے ہیں، رشوت خوری جیسے گھنا ؤنے جرائم فیشن بن رہے ہیں، بے حیائی، عریانیت اور فحاشی تہذیب کا حصہ ہوتی جارہی ہیں۔

اس تناظر میں اگر ماضی کا آج کی مہذب اور تعلیم یافتہ دنیا سے موازنہ کیا جائے تو بلاشبہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ کل انسانیت او رانسانی قدروں کا احترام تھا اور آج ترقی کے نام پر انسانیت کا قتل عام ہے، ہر طرف چیخ وپکار ہے، ظلم وستم کا دل خراش منظر ہے، تحریکیں اور توڑ پھوڑ عروج پر ہے، نفرت اور تعصب کی گرم بازاری ہے، امن وقانون کے محافظ خود حفاظتی دستوں کے محتاج ہیں۔ تعلیم تو تہذیب وتمدن کی نمائندہ ہے، ثقافت وکلچر کی محافظ ہے، اچھے سماج اور بہتر معاشرے کی ضمانت ہے، مثالی فکر وعمل کی علم بردار ہے، انسانی شرافت کا بلند معیار ہے، محبت واخلاق کا سرچشمہ ہے ، رواداری اوربھائی چارگی کی علامت ہے، امن وسکون کا مظہر ہے۔

مگر افسوس! تعلیم عام ہونے کے باوجود آج کا ماحول سلگ رہا ہے، معاشرہ نفرت وتعصب کی گھٹن سے دو چارہے، انسانی شرافت کی قبا تارتار ہوتی جارہی ہے، گویا: تعلیم تیرے جوہر اصلی کو کھا گئی، آب ِ حیات پی کے تجھے موت آگئی۔ آخر ایسا کیوں؟ صرف اور صرف اس لیے کہ ہم نے تعلیمی اداروں سے اخلاقی تعلیم کو ختم کر دیا ہے، اگر ان حالات پر سنجیدگی سے غور نہیں کیا گیا، معاشی اوراقتصادی تعلیم کے ساتھ تعلیمی اداروں میں اخلاقیات کو جگہ نہ دی گئی تو انسانی معاشرے کا ہر فرد یہ کہنے پرمجبور ہو گا #
        وہ اندھیرے ہی بھلے تھے کہ قدم راہ پہ تھے
        روشنی لائی ہے منزل سے بہت دور ہمیں