بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تعارف سورت النساء

تعارف سورت النساء

 

ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذالمحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب نوّر الله مرقدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہلسنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے ۔ آمین۔ (ادارہ)

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سورة النساء
176 آیات پر مشتمل یہ سورت مدنی ہے، لیکن علامہ نحاس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ سورت بھی مکی ہے اس لیے کہ اس سورت میں آیت ﴿إِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُکُمْ أَنْ تُؤَدُّوْا الْأَمَانَاتِ إِلٰی أَہْلِہَا﴾․(النساء :58) بالاتفاق مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے، اور بعض حضرات نے یہ نکتہ بھی بیان کیا ہے کہ قرآنِ پاک میں جہاں کہیں بھی ﴿یَا أَیُّہَا النَّاسُ﴾․آیا ہے وہ مقام نزول کے اعتبار سے مکی ہوتا ہے، ان وجوہات سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ سورت مکی ہے۔

لیکن جمہور مفسرین کا مذہب یہی ہے کہ یہ سورت مدنی ہے، اور علامہ سیوطی رحمہ اللہ تعالیٰ نے علامہ نحاس رحمہ اللہ کے قول کی تردید کرتے ہوئے فرمایا:علامہ نحاس رحمہ اللہ کا مذکورہ طرزِ استدلال درست نہیں، اس لیے کہ اوّل تو ایک ایسی طویل سورت جس کا اکثر حصہ مدنی ہو اس میں ایک یا چند مکی آیات کے شامل ہو جانے سے اس پوری سورت کا مکی ہونا لازم نہیں آتا۔ پھر خود اس آیت ﴿إِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُکُم﴾ کا مکی ہونا بھی تو مسلم نہیں ہے، اس لیے کہ کسی آیت کے مکی یا مدنی ہونے کے بارے میں مفسرین کا راجح مذہب یہ ہے کہ جو آیات ہجرت سے پہلے نازل ہوئیں وہ مکی ہیں، اور جو ہجرت کے بعد نازل ہوئیں وہ مدنی ہیں، خواہ وہ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی ہوں یا بدر، حنین و خیبر وغیرہ میں یا خود مکہ مکرمہ میں ہی نازل ہوئی ہوں۔

اس لیے مذکورہ آیت اگرچہ مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہے لیکن اس کے باوجود مدنی ہے (روح المعانی، النساء) س لیے کہ یہ آیت سن 8ہجری میں مکہ مکرمہ میں فتح مکہ کے موقع پر حضرت عثمان بن طلحہ حَجَبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں (جو اس وقت تک مسلمان نہیں ہوئے تھے) نازل ہوئی تھی، جیسا کہ تفسیر طبری میں ابن جریج رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اللہ رب العزت کا یہ ارشاد ﴿إِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُکُمْ أَنْ تُؤَدُّوْا الْأَمَانَاتِ إِلٰی أَہْلِہَا﴾حضرت عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نازل ہوا، جس وقت کہ فتح مکہ کے موقع پر آپ علیہ الصلاة والسلام ان سے بیت اللہ شریف کی چابی لے کر اندر داخل ہوئے تو باہر نکلتے وقت آپ یہ آیت تلاوت فرما رہے تھے، پھر آپ نے حضرت عثمان بن طلحہ کو بلا کر چابی ان کے حوالے کر دی، راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:”میرے ماں باپ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم پر قربان ہوں، جب آپ باہر نکل رہے تھے تو یہ آیت تلاوت فرما رہے تھے، جب کہ اس سے پہلے میں نے آپ کو یہ آیت تلاوت فرماتے نہیں سنا۔“(تفسیر الطبری، النساء، ذیل آیت:58)

نیز صحیحین میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ ”جس وقت سورہٴ بقرہ و نساء نازل ہوئیں تو میں رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پاس موجود تھی۔“(صحیح البخاري، رقم الحدیث:4993) اور اس پر تمام علماء کا اتفاق ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی رخصتی ہجرت کے بعد ہوئی تھی۔(احکام القرآن للقرطبی: النساء)

علامہ قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ کہنا کہ ”قرآن پاک میں ﴿یَا أَیُّہَا النَّاس﴾ جہاں بھی آئے وہ مقام مکی ہوتا ہے“ درست نہیں اس لیے کہ سورہٴ بقرہ مدنی ہے اور اس میں ﴿یَا أَیُّہَا النَّاسُ﴾ دو جگہ آیا ہے۔(احکام القرآن للقرطبی، النساء)

وجہ تسمیہ
لفظ ”النساء“جمع کا صیغہ بغیر لفظ مفرد ہے جس کا معنیٰ ہے ”عورتیں“۔ چوں کہ اس سورت میں زیادہ تر احکام عورتوں کے متعلق بیان ہوئے ہیں، بلکہ عورتوں کے متعلق جس قدر کثیر احکام اس سورت میں بیان ہوئے ہیں کسی اور سورت میں بیان نہیں ہوئے، اس مناسبت سے اس سورت کا نام ”سورة النساء“رکھ دیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ اس سورت کا ایک اہم موضوع علم المیراث بھی ہے۔

سورہٴ نساء کی فضیلت
حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ”سورہٴ نساء میں پانچ آیات ایسی ہیں کہ مجھے ان کے بجائے دنیا اور جو کچھ دنیا میں ہے سب کچھ بھی مل جائے تو بھی مجھے پسند نہیں:

﴿إِنَّ اللَّہَ لَا یَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَّإِنْ تَکُ حَسَنَةً یُّضَاعِفْہَا وَیُؤْتِ مِنْ لَّدُنْہُ أَجْرًا عَظِیمًا﴾․ (النساء :40)

اور ﴿إِنْ تَجْتَنِبُوْا کَبَائِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنْکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ وَنُدْخِلْکُمْ مُدْخَلًا کَرِیمًا﴾․ (النساء:31)

اور ﴿إِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ أَنْ یُّشْرَکَ بِہِ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَشَاءُ﴾․ (النساء:48)

اور ﴿وَلَوْ أَنَّہُمْ إِذْ ظَّلَمُوا أَنْفُسَہُمْ جَاء ُ وْکَ فَاسْتَغْفَرُوْا اللَّہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوْلُ لَوَجَدُوْا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیمًا﴾․ (النساء:64)

اور ﴿وَمَنْ یَّعْمَلْ سُوءً ا أَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہُ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّٰہَ یَجِدِ اللّٰہَ غَفُورًا رَّحِیْمًا﴾․(النساء:110)․ (المستدرک علی الصحیحین للحاکم، رقم الحدیث:3194)

ربط
سورہٴ سابقہ سے اس سورت کا ربط تین طرح سے ہے:
سورہٴ اٰلِ عمران کا اختتام بھی تقویٰ کے مضمون پر ہوا تھا او ر اس سورت کی ابتداء بھی اسی تقویٰ کے مضمون سے ہو رہی ہے، البتہ اتنا فرق ہے کہ وہاں تقویٰ کی تعلیم خاص مؤمنین کو دی گئی تھی اور یہاں یہ حکم عام ہے جو کہ تمام نوعِ انسانی کو شامل ہے اور اس میں مؤمنین اور کفار سب داخل ہیں۔

سورہٴ اٰلِ عمران میں غزوہٴ احد کے بارے میں تفصیلی آیات نازل ہوئی تھیں اور اس سورت میں:﴿فَمَا لَکُمْ فِیْ الْمُنَافِقِیْنَ فِئَتَیْن﴾․ (النساء: 88)بھی اسی غزوہٴ احد سے متعلق نازل ہوئی ہے۔

سورہٴ اٰلِ عمران میں:﴿الَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِلّٰہِ وَالرَّسُوْلِ مِنْ بَعْدِ مَا أَصَابَہُمُ الْقَرْحُ﴾․(آل عمران:172) غزوہٴ حمراء الاسد سے متعلق تھی اور اس سورت میں ﴿وَلَا تَہِنُوْا فِیْ ابْتِغَاء ِ الْقَوْمِ﴾․ (النساء:104)کا تعلق بھی اسی غزوے سے ہے۔

خلاصہ ٴمضامین
اس سورت میں جو مضامین ذکر ہوئے ہیں وہ تین قسم کے معاملات پر مشتمل ہیں:
مسلمانوں کے باہمی معاملات، مثلاً:یتامیٰ و مساکین، زوجین و والدین، عزیز و اقارب، پڑسیوں مسافروں اور غلاموں سے متعلق احکام، میراث اور سیاسیات کا بیان، محرمات کی تفصیل، امانات لوٹانے، عدل و انصاف کرنے اور سلام و شفاعت وغیرہا کے احکام۔

مسلمانوں کے مخالفین اسلام سے معاملات، جیسے: احکامِ جہاد، احوالِ منافقین و اہل کتاب اور عقائد مشرکین کا ابطال۔

دیانات، یعنی اللہ اور بندے کے مابین معاملات، جیسے: نماز، جنابت، طہارت، تیمم، ہجرت اور توبہ کے بعض احکام۔

چونکہ شریعتِ مطہرہ میں ایک حکم کی بجا آوری کے دوسرے احکام پر اس طرح نظر رکھنا مطلوب ہے کہ ایک کی ادائیگی سے دوسرے کا ترک لازم نہ آئے، اس لیے یہ سب احکام مختلط طور پر اس سورت میں مذکور ہیں تاکہ ہر اطاعت میں دوسرے احکام کی رعایت بھی ملحوظ رہے، اور اکثر ایک مضمون کے ضمن میں دوسرے مضامین بھی آگئے ہیں، جیسے احکامِ جہاد میں صلوٰة الخوف اور کہیں کہیں ایک حکم بھی کئی کئی حکموں پر مشتمل ہے، جس طرح میراث اور محرمات میں کتنی کتنی صورتیں ہیں وغیرہ، چنانچہ تدبّر اور غور و فکر کرنے سے یہ سب مضامین اسی ترتیب سے اس سورت میں ملیں گے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم
﴿یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیرًا وَّنِسَاءً وَاتَّقُوْا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَائَلُونَ بِہِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیبًا﴾ (النساء:1)
ترجمہ: اے لوگو!ڈرتے رہو اپنے رب سے جس نے پیدا کیا تم کو ایک جان سے اور اسی سے پیدا کیا اس کا جوڑا اور پھیلائے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں، اور ڈرتے رہو اللہ سے جس کے واسطہ سے سوال کرتے ہو آپس میں اور خبردار رہو قرابت والوں سے، بے شک اللہ تم پر نگہبان ہے۔

تفسیر
تمام نوعِ انسانی کو خطاب ہے کہ اے لوگو!اپنے پرودگار کی مخالفت کرنے سے بچو جس نے تمہیں ایک جان یعنی آدم علیہ السلام سے پیدا کیا اور محض آدم و حوّاء علیہما السلام کے ایک جوڑے سے قیامت تک آنے والے انسانوں کی پیدائش کا سلسلہ جاری کیا، اور جو ذات صرف ایک جان کو تمام انسانوں کی پیدائش کا سبب بنا سکتی ہے اور اس کے نطفے سے قیامت تک آنے والے انسانوں کی پیدائش کا سلسلہ جاری کر سکتی ہے، اس کے لیے کیا مشکل ہے کہ وہ کل قیامت کے روز تمہیں قبروں سے اٹھا کر تمہارے اعمال کی باز پرس کرے، اس لیے اس کی مخالفت سے بچ کر اطاعت کی زندگی گذارو تاکہ آخرت میں سرخ رُو ہو سکو، اور اس خدا سے ڈرو جس کے نام کی قسمیں دے دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حقوق کا مطالبہ کرتے ہو، اور قرابت داری کے حقوق ضائع کرنے سے بچو، بے شک اللہ تعالیٰ تم سب کے تمام اچھے بُرے اعمال سے اچھی طرح واقف ہے۔

مطلع
قرآنِ پاک میں دو سورتیں ایسی ہیں جن کی ابتداء:﴿یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمْ﴾ سے ہوتی ہے، ان میں سے ایک تو یہی سورہٴ نساء ہے اور دوسری سورہٴ حج ہے، ان دونوں سورتوں میں چند وجوہ کی بنا پر دقیق مناسبت پائی جاتی ہے۔

سورہٴ نساء قرآن کریم کے نصفِ اول کی چوتھی سورت ہے اور سورہٴ حج نصف ثانی کی چوتھی سورت ہے۔

سورہٴ نساء میں تقویٰ کی علت :﴿خَلَقَکُمْ مِنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ﴾ (النساء:1) کو قرار دیا ہے، جو کہ خالقِ کائنات کی قدرتِ کاملہ کے ساتھ ساتھ تخلیقِ انسان کی ابتدا اور شیوع کے بارے میں بھی اس کے علمِ کامل پر دلالت کرتی ہے، اور سورہٴ حج میں:﴿إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَیْء ٌ عَظِیمٌ…الخ﴾ (الحج:1)کو تقویٰ کی علت ٹھہرایا ہے، جس کا تعلق معاد سے ہے، اور یہ فنائے عالم اور انسان کی عاقبت و انجام کے بارے میں اللہ رب العزت کے علمِ کامل کا مظہر ہے۔

پھر تقدمِ ظاہری کا اعتبار کرتے ہوئے سورہٴ نساء کو پہلے لایا گیا،کیوں کہ اس کا تعلق مبدء سے ہے اور سورہء حج کو بعد میں لایا کیونکہ اس کا تعلق معاد سے ہے۔

بہر حال ان دونوں سورتوں کی ابتداء مجموعی طور سے اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ قدرتِ کاملہ کے ساتھ ساتھ باری تعالیٰ کا علم بھی کامل ہے، اور وہ انسان کی ابتدا، انتہا، انجام اور اچھی بُری عاقبت سے بخوبی واقف ہے۔ (تفسیر کبیر، النساء، ذیل آیت:1)

﴿یَا أَیُّہَا النَّاسُ
یہ خطاب عام ہے اور آیت کے نزول کے وقت سے لے کر قیامت تک آنے والے تمام انسانوں کو شامل ہے۔

ایک تو اس وجہ سے کہ﴿النَّاسُ﴾ پر الف لام استغراق کا ہے جو کہ عموم کا فائدہ دیتا ہے، اور دوسرے اس لیے کہ یہاں تقویٰ کی علت ﴿خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ﴾ بیان کی گئی ہے جو کہ قیامت تک آنے والے سب انسانوں کو شامل ہے، اس لیے کہ سب ہی آدم علیہ السلام کی اولاد ہیں۔ اور تیسرے اس وجہ سے کہ ﴿اتَّقُوْا رَبَّکُم﴾ میں تقویٰ کی تعلیم کسی ایک جماعت، گروہ یا علاقے والوں کے ساتھ خاص نہیں،یہ تو تمام انسانوں ہی سے مطلوب ہے۔

﴿خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ
تقویٰ کی تعریف اور اس کے مراتب کی تفصیل سورہٴ بقرہ میں ﴿ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ﴾ (البقرة:2) کے ذیل میں گذر چکی ہے۔

”رب“رَبَّ یرُبُّ سے ہے جو کہ صاحب، مستحق اور مالک ہونے اور اصلاح، تربیت، حفاظت اور رعایت کرنے کے معانی میں آتا ہے۔(لسان العرب مادہ:رب)چوں کہ اللہ رب العزت کی ذاتِ بابرکات میں یہ تمام صفات بہ درجہٴ کمال پائی جاتی ہیں، اس لیے اس کا ایک نام ”رب“بھی ہے۔

خَلَقَکُمْ خَلَقَ یَخْلُقُ“ سے ہے، اور کلام عرب میں ”خلق“ کسی چیز کو اس طرح عدم سے وجود میں لانے کو کہا جاتا ہے کہ اس کی کوئی مثال یا نمونہ پہلے سے موجود نہ ہو۔چوں کہ اللہ رب العزت ہی نے تمام کائنات کو عدم سے وجود بخشا اس لیے وہی اس لائق ہے کہ اسے خالق کا نام دیا جائے۔

﴿مِنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ﴾․
نفسِ واحدہ کا مصداق اور مسئلہ تعددِ آدم:
یہاں پر ”نفسِ واحدہ“سے مراد حضرت آدم علیہ السلام ہیں، انہیں کے پہلو سے اللہ رب العزت نے حضرت حوّاء کو پیدا فرمایا، اور انہیں سے دنیا میں نسلِ انسانی کا سلسلہ جاری کیا، وہ دنیا میں پہلے انسان ہیں، ان سے پہلے دنیا میں نسلِ انسانی کا کبھی کوئی وجود نہیں رہا۔

امامیہ کا مذہب
لیکن روافض کا فرقہ”امامیہ“اس بات کا قائل ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے بھی دنیا میں ان جیسے بہت آدم گذرے ہیں، چنانچہ صاحب ”جامع الاخبار“نے نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام سے پہلے بھی ان جیسے تیس آدم پیدا کیے تھے، اور ان میں سے ہر ایک سے دوسرے آدم کے درمیان ایک ہزار سال کا فاصلہ ہوا کرتا تھا، ان سب کا زمانہ گذر جانے کے بعد پچاس ہزار سال تک یہ دنیا ویران پڑی رہی، پھر پچاس ہزار سال تک دنیا کو تعمیر کیا گیا، اور اس کے بعد حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا، اور ابن بابویہ نے ”کتاب التوحید“میں جعفر صادق رحمہ اللہ سے روایت کیا ہے کہ دنیا میں دس لاکھ آدم گذرے ہیں اور ہمارے حضرت آدم علیہ السلام ان میں سے آخری آدم ہیں، اور ”شرح الکبیر علی النہج“میں محمد بن علی باقر رحمہ اللہ سے روایت نقل کی گئی ہے کہ دنیا میں دس لاکھ یا اس سے بھی زیادہ آدم گذرے ہیں، اور ”فتوحاتِ مکیہ“میں اس سلسلے کی مذکور بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام سے چالیس ہزار سال پہلے ایک اور آدم گذرے ہیں، اور ابن بابویہ کی کتاب ”الخصائص“میں مذکور روایت سے تو یوں مفہوم ہوتا ہے کہ یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے، چنانچہ ”الخصائص“میں حضرت جعفر صادق سے روایت ہے کہ:کائنات میں کل بارہ ہزار جہان ہیں اور ان میں سے ہر ایک جہان ساتوں زمینوں اورآسمانوں سے بڑا ہے اور ان میں سے ہر ایک کی دوسرے سے مسافت اتنی زیادہ ہے کہ ایک جہان والے دوسرے جہان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ (روح المعانی، ذیل آیت:1)

ان مذکورہ روایات کی بنا پر یہ لوگ اس بات کے قائل ہیں کہ دنیا میں ہمارے جدِ اعلیٰ حضرت آدم علیہ السلام ہی تنہا ابو البشر نہیں ہیں، بلکہ ان سے پہلے بھی یہ سلسلہ جاری تھا، اور نہ صرف پہلے تھا بلکہ اب بھی جاری ہے۔(جاری)