بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تزکیہٴ نفس… ضرورت واہمیت

تزکیہٴ نفس… ضرورت واہمیت

مفتی عبدالله قاسمی

اللہ تبارک وتعالی نے اس کائنات کومختلف اضدادکامجموعہ بنایا ہے، یہاں ایک طرف روشنی اورنورونکہت کی فراوانی ہے تودوسری طرف ظلمت وتاریکی کی دبیزچادربھی،ایک طرف یخ بستہ اورزمہریری ہوائیں ہیں تودوسری طرف بادسموم کے جھونکے بھی،ایک طرف خوشی ومسرت کے جاں نوازنغمے ہیں تو دوسری طرف درد والم کے افسانے بھی،ایک طرف خیروخوبی کا سرسبز وشاداب گلستان ہے تودوسری طرف شراوربرائی کامیدان بھی،ابتدائے آفرینش سے لے کرآج تک یہ دونوں متضاداورمختلف کیفیات کی کشمکش اس کائنات رنگ وبومیں جاری ہے اوریہ سلسلہ تاقیامت جاری رہے گا۔

جب کائنات میں بکھری ہوئی چیزوں کویوں ہی چھوڑ دیا جائے، اوران کی تہذیب وتنقیح پرتوجہ مبذول نہ کی جائے،توان چیزوں کے منفی پہلوخودبخوداجاگرہوجاتے ہیں اوران کی زشت روئی وبدنمائی نگاہوں کے سامنے آجاتی ہے،مثلاایک گلشن ہے، اس کی خوبی یہ ہے کہ وہ سرسبزوشاداب ہو،اس کے پھول اورپتیاں ہرے بھرے ہوں،اس کاغنچہ وگل لوگوں کودعوت نظارہ دیتاہو،اس گلشن میں لگے ہوئے درخت پھل داراورفرحت بخش ہوں، تاہم گلشن میں یہ لطافت اورخوبی پیداہونے کے لیے ضروری ہے کہ ایک مالی کاانتظام کیاجائے،اوروہ مالی گلشن کی مسلسل نگہداشت کرے،زائدگھاس جوغنچہ وگل کی نشوونماکے لیے نقصان دہ ہے اس کودورکرے،پیاسے درختوں کو سیرابی فراہم کرے،پھول پتیوں کوخوش نمااورخوش منظربنانے کے لیے جوچیزیں معاون اورمددگارہوتی ہیں ان کی فراہمی کویقینی بنائے،جب یہ ساری محنتیں بروئے کارلائی جائیں گی اوراس گلشن کوسدابہاررکھنے کے لیے سرمایہ کی ایک معتدبہ مقدارخرچ کی جائے گی تب ہی اس گلشن کی خوب صورتی وزیبائی برقراررہ سکے گی،اورزائرین کے لیے فردوس قلب ونظرثابت ہوگی اورگلشن کی برائی اوراس کاسلبی پہلویہ ہے کہ وہ ویران اورغیرآبادہو،اس کے پھول اورپتیاں جھڑی ہوئی ہوں،اس کے پودے خشک اورسوکھے ہوں،تاہم گلشن کے اس منفی اوربرے پہلوکوسامنے لانے کے لیے مستقل محنت اورجدوجہدکی ضرورت نہیں ہے؛بلکہ جومحنتیں گلشن کوسرسبزوشاداب رکھنے کے لیے صرف کی جارہی تھیں ان کوچھوڑدیاجائے،چنددنوں کے بعد خود ہی گلشن اجڑجائے گا،اس کے پھول پتیاں جھڑجائیں گی اوراس کامنفی رخ سامنے آجائے گا۔اسی طرح ایک عمارت کولیجیے،عمارت کاحسن اوراس کی خوبی یہ ہے کہ وہ پختہ اورمضبوط ہو،اس کارنگ وروغن جاذب قلب ونظر ہو، ہر قسم کی عصری سہولیات سے آراستہ ہو،لیکن اس پہلوکوبروئے کار لانے کے لیے ضروری ہے کہ ایک بہترین انجینئر اورمعمارکاانتخاب کیا جائے، عمارت کی تعمیرکے لیے جن چیزوں کی ضرورت پڑتی ہے ان کوفراہم کیاجائے،اچھے سے اچھے کاریگرکی خدمات لی جائیں اورایک بڑا خطیر سرمایہ اس کے پیچھے لگایاجائے،پھرجب عمارت تیارہوگئی ہوتواس عمارت کی آب وتاب کوبرقراررکھنے کے لیے متعددملازمین کی خدمت لینا ضروری ہے،جوروزانہ اس کے فرش کوصاف کریں،گردوغبارکی جوتہیں جم جاتی ہیں ان کاازالہ کریں،فضائی آلودگی کی وجہ سے جوبدبواورتعفن پھیل جاتاہے اس کو دور کریں، جب یہ ساری محنتیں صرف کی جائیں گی توعمارت کاحسن وجمال قابل دیدہوگااوراس کی چمک دمک نگاہوں کوخیرہ کرے گی اورعمارت کامنفی پہلویہ ہے کہ وہ کمزورہو،اس کارنگ وروغن پھیکاساہو،گردوغبارکی دبیزتہہ اس پرجمی ہوئی ہو،کیڑے مکوڑے اورمکڑی کے جالوں کااس میں بسیرا ہو، ظاہر ہے کہ اس منفی پہلوکوسامنے لانے کے لیے نہ محنت اورجدوجہدکی ضرورت ہے، نہ اس کے پیچھے کثیررقم صرف کرنے کی؛بلکہ جوکوشش عمارت کی تعمیراوراس کی آب وتاب کوبرقراررکھنے کے لیے صرف کی جارہی تھی اس کوچھوڑدیاجائے توخودبخودعمارت کایہ منفی پہلواجاگرہوجائے گااورعمارت کی آب وتاب رخصت ہوجائے گی۔

انسان بھی چوں کہ اس کائنات رنگ وبوکاہی ایک فردہے؛بلکہ اعلی اوراشرف فردہے اوراس کوساری مخلوق پرتفوق اورامتیازحاصل ہے؛اس لیے حضرت انسان بھی اس قدرتی دستورسے مستثنی نہیں ہے،اس تناظرمیں ہم کہہ سکتے ہیں کہ انسان کے اندربھی خیراورشردونوں مادے ودیعت کردیے گئے ہیں،اس میں جہاں اچھائی اورنیکوکاری کے صالح جذبات پائے جاتے ہیں،وہیں اس میں برائی اورشرانگیزی کے منفی رجحانات بھی پائے جاتے ہیں؛غالباقرآن کریم نے اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:اورمیں اپنے نفس کوبری قرارنہیں دیتا،بے شک نفس بہت حکم کرتاہے برائی کا،مگرجس پرمیرارب مہربانی فرمائے،بے شک میرارب بخشنے والامہربان ہے۔(یوسف:53)الغرض مذکورہ بالاتفاصیل سے یہ بات روزروشن کی طرح عیاں ہوگئی کہ اصلاح نفس اورتہذیب اخلاق کے لیے محنت اورجدوجہداولین شرط ہے،مسلسل مجاہدہ اورریاضت اخلاق وکردارکی تعمیرکابہترین ضامن ہے؛ لیکن اگراس حوالہ سے غفلت اورلاپرواہی سے کام لیاجائے،نفس کے مکر وفریب سے بے اعتنائی اورچشم پوشی برتی جائے توپھرانسان کانفس مزید سرکش ہوجاتاہے اورانسان کوتباہی وبربادی کے راستے پرڈال دیتاہے؛اس لیے نفس کی اصلاح اوراس کے تزکیہ پرتوجہ دیناہرمومن کی شرعی ذمہ داری ہے۔

شریعت کی ہدایات کوپامال کرنااورمرضیات الہی کے خلاف قدم اٹھاناگناہ کہلاتاہے،گناہ کی بہت سی صورتیں ہیں،لیکن تمام گناہوں کامنبع ومصدرمحض دوچیزیں ہیں:شہوت اورغضب،اللہ تبارک وتعالی نے ہرانسان کے اندریہ دونوں مادے رکھے ہیں،انسان کے اندرشہوت کاعنصررکھنے کا مقصدیہ ہے کہ وہ ان اعمال صالحہ کی طرف راغب ہوجن پرخدائے وحدہ لاشریک لہ نے جنت کی خوش خبری سنائی ہے اورجن پرعظیم اجروثواب کاوعدہ کیاگیاہے اورغضب کاعنصررکھنے کامقصدیہ ہے کہ انسان ان گناہوں سے بچے جن پراللہ تبارک وتعالی نے عذاب اوردردناک انجام کی خبردی ہے،یہ دونوں عناصرجوہرانسان کوعطاکیے گئے ہیں وہ صرف اخروی فائدے کی حد تک ہی محدودنہیں ہے؛بلکہ اگر بصیرت اورشعوروآگہی کی دولت سے فائدہ اٹھاکراس کاجائزہ لیاجائے تومعلوم ہوتاہے کہ بہتراورمنظم طورپرزندگی گزارنے کے لیے بھی ان دونوں عناصرکاانسان کے اندرہوناضروری ہے، اگریہ دونوں عناصر انسان کے اندرنہیں ہوتے توزندگی کی گاڑی رک جاتی، جدوجہداورحرکت وعمل کاکوئی نام ونشان نہیں ہوتااورانسان کی مثال ان نباتات اورجمادات سے مختلف نہیں ہوتی جوبے شعورہیں اوراپنی جگہ ساکن ہیں۔منفعت بخش اورتعمیری سرگرمیوں کی طرف نہ انسان کامیلان ہوتانہ ہی ان کوانجام دینے کے لیے جہدوعمل کاجذبہ پیداہوتا،اسی طرح نقصان دہ اورمضرت رساں امورسے بچنے کی رغبت ہوتی، نہ اس کے لیے وہ کسی قسم کی سنجیدگی کامظاہرہ کرتا،توذراسوچیے کہ شہوت اورغضب کاجوجوہرانسان کے اندرپایاجاتاہے وہ کس قدراہمیت کاحامل ہے اوراس کے پیچھے کتنی مصلحتیں کارفرماہیں،لیکن یہی شہوت جب اپنے حدودسے تجاوزکرتی ہے اوراپنے مخصوص دائرہ کارسے باہرقدم رکھتی ہے تویہ انسان کے لیے دنیا وآخرت دونوں کی تباہی وبربادی کاپیش خیمہ ثابت ہوتی ہے،چناں چہ اس شہوت کی وجہ سے جہاں انسان کودوپیسے کافائدہ نظرآتاہے توبلاجھجھک جھوٹ بولتاہے،فریب اوردھوکہ دہی سے کام لیتاہے،امانت میں خیانت کرتا ہے، صنفی خواہش کی تکمیل کے لیے ناجائزذرائع تلاش کرتاہے،مال کی ہوس میں حلال وحرام کافرق بھول جاتاہے،منصب وجاہ کی دوڑمیں اخلاقی اقدار کو پامال کرتاہے اورجب یہی غضب حداعتدال سے تجاوز کر جاتا ہے، تو انسان مختلف گناہوں میں مبتلاہوجاتاہے،چناں چہ جب اس کوکوئی ناگوار بات کسی بھائی سے پیش آجائے توگالم گلوچ پراترآتاہے،اس کی پیٹھ پیچھے برائیاں بیان کرتاہے،اس کے عیوب ونقائص کی ٹوہ میں رہتا ہے، اس کوذلیل ورسواکرنے اوراس کونیچادکھانے کی کوشش میں لگا رہتاہے اورجب ان گناہوں سے اس کے برہم جذبات کی تسکین نہ ہوتووہ اسے قتل کردینے پرآمادہ ہوجاتاہے،آپ گناہوں اورمعاصی میں غور کریں گے توآپ کونظرآئے گاکہ ان کے پیچھے بنیادی طورپریہی دوعوامل :شہوت اورغضب کارفرماہیں،جوحداعتدال سے بڑھ گئے ہیں،جن کے نتیجے میں یہ بغاوت وسرکشی پراترآیاہے اوراللہ کے حکم کوپامال کر رہا ہے، اس لیے جوشخص تزکیہ نفس کاخواہش مندہے ،اعمال واخلاق کی اصلاح کا خواہاں ہے تواسے بنیادی طورپران دونوں جذبات پرقابوپانے اوران کو حد اعتدال پررکھنے کی ضرورت ہے۔

چاندسورج کی طرح یہ ایک سدابہارحقیقت ہے کہ کوئی بھی عمل، خواہ اچھاہویابراہو،اسی وقت وجودمیں آتاہے جب کہ پہلے دل میں اس کاارادہ پایاجائے اوراس عمل کی تکمیل کاعزم مصمم انسان کرلے،چناں چہ انسان جوبھی گناہ کرتاہے اوراللہ جل شانہ کی مرضیات کے خلاف قدم اٹھاتاہے توپہلے دل میں شیطان کی طرف سے اس گناہ کاخیال ڈالاجاتاہے،پھراگرانسان گندے خیالات کی رومیں بہہ جاتاہے اوراپنے نفس کی لگام پرکنٹرول نہیں کرپاتا تو اس سے وہ گناہ سرزدہوجاتاہے،شیطان کی طرف سے انسان کے دل میں جوبرے اورگندے خیالات آتے ہیں وہ پانچ طرح کے ہوتے ہیں: ہاجس،خاطر،حدیث النفس،ہم اورعزم،اگردل میں برائی اورگناہ کا خیال اچانک آگیااورچلاگیاتواسے ہاجس کہتے ہیں،اگربرائی کاخیال آنے کے بعدکچھ دیرباقی رہاتواسے خاطرکہتے ہیں اوراگرخیال دل میں آیااوراس گناہ کوانجام دینے نہ دینے کاجذبہ پیداہوگیاتواسے حدیث النفس کہتے ہیں اوراگرگناہ کاخیال دل میں آیااوراسے انجام دینے کاداعیہ قوی ہوگیااوراس گناہ سے بچنے کاداعیہ کمزورہوگیاتواسے ہم کہتے ہیں اوراگرگناہ کاخیال دل میں آنے کے بعداس کوانجام دینے کاپختہ عزم کرلیاتواسے عزم کہتے ہیں۔اس امت محمدیہ پراللہ جل شانہ کاخاص فضل اوراحسان ہے کہ پہلے چارطرح کے خیالات ووساوس کواس نے معاف کردیاہے اوران کوقابل مواخذہ جرم نہیں قراردیاہے،آپ صلی الله علیہ وسلم کاارشادگرامی ہے:اللہ تبارک وتعالی نے میری امت سے ان وساوس کومعاف کردیاہے،جودل میں آتے رہتے ہیں،ہاں!اگروسوسہ پرعمل کرلے یاکلام کرلے (تویہ قابل مواخذہ ہے)البتہ اگرگناہ کاعزم وارادہ پایاجائے، گناہ کوانجام دینے کے لیے منصوبہ بندی اورتیاری ہوتویہ قابل گرفت ہے اوراللہ جل شانہ کے یہاں اس کی بازپرس ہوگی۔

وسوسے اوربرے خیالات انسان کے دل میں آتے رہتے ہیں اورشیطان جوانسان کاازلی دشمن ہے وہ برابروسوسے اورگندے خیالات کی راہ سے انسان کوبھٹکانے کی کوشش میں لگارہتاہے،اب یہ بندہٴ مومن کی ذمہ داری ہے کہ وہ وساوس کودفع کرے اورشیطانی خیالات کواپنے دل میں جگہ نہ دے،وساوس سے بچنے کے لیے مندرجہ ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں، ان شاء اللہ اس سے دلوں کوسکون اورقرارنصیب ہوگا اور گناہوں سے بچنے میں یہ ممدومعاون ثابت ہوگا:

٭… اگردل میں کسی گناہ اوربرائی کاخیال آئے توبندہٴ مومن کواللہ کی پناہ طلب کرنی چاہیے اوراسے:”اعوذباللہ من الشیطان الرجیم“ پڑھناچاہیے،ارشاد باری تعالیٰ ہے:اگرآپ کوکوئی وسوسہ شیطان کی طرف سے آئے تواللہ کی پناہ طلب کرلیاکریں،بلاشبہ وہ خوب سننے والااورخوب جاننے والاہے۔(الاعراف:200)ظاہرہے کہ جب بندہ ٴ مومن کواللہ کی پناہ مل جائے گی توشیطان کاپورالاؤلشکرمل کربھی انسان سے گناہ نہیں کراسکتااورشیطان لعین کی ساری تدبیریں خاک میں مل جائیں گی۔

٭…اگربرے خیالات بندہ مومن کے دل میں آتے ہیں تواسے چاہیے کہ وہ فورااسے جھٹک دے اوراس کوکوئی اہمیت نہ دے اوراس کے لیے بہتریہ ہوگاکہ وہ فوراوضوکرے اورذکراللہ میں مشغول ہوجائے،اگرخلوت وتنہائی میں ہوبآوازبلنداللہ کاذکرکرے،یہاں تک کہ اس گناہ کاخیال دل سے نکل جائے۔

٭…برے خیالات اورشیطانی وسوسوں سے بچنے کاایک طریقہ یہ بھی ہے کہ بندہٴ مومن ہمہ وقت اپنے آپ کوکسی نہ کسی کام میں مشغول رکھے،خالی اوربے کارنہ بیٹھے ،خاص طورسے جب وہ لوگوں کی نگاہ سے دور بند کمرے میں خلوت میں بیٹھاہو؛کیوں کہ ایسے وقت شیطان کودل میں برے خیالات ڈالنے کاموقع مل جاتاہے اورانسان چوں کہ خالی ہوتاہے اس لیے بہت جلداس کااثرقبول کرلیتاہے۔

٭…بزرگان دین جوشیطان کے ہتھکنڈوں سے واقف ہوتے ہیں،روحانی بیماریوں سے بھی وہ بخوبی واقف ہوتے ہیں،وہ فرماتے ہیں کہ اگرکسی کوبرے خیالات ستاتے ہوں اورکثرت سے اس کے دل میں گناہوں کاخیال آتاہوتووہ ہرنمازکے بعدسات مرتبہ سبحان الملک القدوس القہارپڑھنے کااہتمام کرے اوراس کے بعدسورہٴ ابراہیم کی یہ آیت بھی پڑھے:﴿إِن یَشَأْ یُذْہِبْکُمْ وَیَأْتِ بِخَلْقٍ جَدِیدٍ﴾ (ابراہیم:19) اگرچاہے تم سب کوفناکردے اور(تمہاری جگہ )نئی مخلوق پیدا فرمادیں، تواس سے بھی ان شاء اللہ برے خیالات سے حفاظت ہوگی اورگناہوں سے بچنے میں یہ ممدومعاون ثابت ہوگا۔

اللہ تبارک وتعالی سے دعاء ہے کہ ہمیں شیطان اورنفس کے مکر وفریب سے محفوظ فرمائے اورایمان وعمل صالح کے ساتھ زندگی بسرکرنے کی توفیق نصیب فرمائے،آمین ثم آمین۔