بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تخلیق آدم و حوّا اور درس مساوات

تخلیق آدم و حوّا اور درس مساوات

 ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب نوّر الله مرقدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہلسنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے ۔ آمین۔ (ادارہ)

محدثین و فقہائے اہل سنت و الجماعت کا مذہب ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام ہی اس کائنات میں حیاتِ انسانی کا مبدء ہیں، ان سے پہلے کبھی کہیں نسل انسانی کا کوئی وجود نہیں رہا، ہاں! یہ ضرور ہے کہ ان سے پہلے اور کچھ مخلوقات جن و ملائکہ وغیرہ موجود تھے۔(روح المعانی، ذیل آیت:1) قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ نے جہاں تخلیق آدم کے بارے میں اپنے ارادے کا ذکر فرشتوں سے فرمایا ہے، ان آیات کا سیاق بھی بتلاتا ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام ہی دنیا میں پہلے انسان ہیں اور ان سے پہلے کسی اور آدم کا دنیا میں وجود نہیں رہا، چناں چہ ارشاد ہے:

﴿وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلَائِکَةِ إِنِّیْ جَاعِلٌ فِیْ الْأَرْضِ خَلِیفَةً قَالُوْا أَتَجْعَلُ فِیْہَا مَنْ یُّفْسِدُ فِیْہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَاءَ وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ قَالَ إِنِّیْ أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ․ وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاء َ کُلَّہَا ثُمَّ عَرَضَہُمْ عَلَی الْمَلَائِکَةِ فَقَالَ أَنْبِئُوْنِیْ بِأَسْمَآء ِ ہَؤُلَآء ِ إِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ․ قَالُوْا سُبْحَانَکَ لَا عِلْمَ لَنَا إِلَّا مَا عَلَّمْتَنَا إِنَّکَ أَنْتَ الْعَلِیْمُ الْحَکِیْمُ․ قَالَ یَا آدَمُ أَنْبِئْہُمْ بِأَسْمَآئِہِمْ فَلَمَّا أَنْبَأَہُمْ بِأَسْمَآئِہِمْ قَالَ أَلَمْ أَقُلْ لَکُمْ إِنِّیْ أَعْلَمُ غَیْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَأَعْلَمُ مَا تُبْدُوْنَ وَمَا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ﴾․ (البقرة:33-30)
ترجمہ: اور جب کہا تیرے رب نے فرشتوں کو کہ میں بنانے والا ہوں زمین میں ایک نائب، کہا فرشتوں نے:کیا قائم کرتا ہے تو زمین میں اس کو جو فساد کرے اس میں اور خون بہائے ؟اور ہم پڑھتے رہتے ہیں تیری خوبیاں اور یاد کرتے ہیں تیری پاک ذات کو ،فرمایا:بے شک مجھ کو معلوم ہے جو تم نہیں جانتے اور سکھلا دیے اللہ نے آدم کو نام سب چیزوں کے، پھر سامنے کیا ان سب چیزوں کو فرشتوں کے، پھر فرمایا: بتاؤ مجھ کو نام ان کے اگر تم سچے ہو، بولے پاک ہے تو، ہم کو معلوم نہیں، مگر جتنا تو نے ہم کو سکھایا، بے شک تو ہی ہے اصل جاننے والا، حکمت والا، فرمایا: اے آدم! بتا دے فرشتوں کو ان چیزوں کے نام، پھر جب بتا دیے اس نے ان کے نام، فرمایا: کیا نہ کہا تھا میں نے تم کو کہ میں خوب جانتا ہوں چھپی ہوئی چیزوں کو آسمانوں کی اور زمین کی اور جانتا ہوں جو تم ظاہر کرتے ہو اور جو چھپاتے ہو۔

ان آیات میں غور کرنے سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ دنیا میں پہلے کوئی انسان، کوئی آدم نہیں گذرا ،بلکہ اب حضرت آدم علیہ السلام کی صورت میں اللہ تعالیٰ پہلی بار انسان کو اپنا خلیفہ بنا کر دنیا میں مبعوث فرما رہے ہیں، اس لیے کہ اگر پہلے بھی دنیا میں کئی آدم گذر چکے تھے اب ہمارے حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش کے وقت دوبارہ ان الفاظ میں فرشتوں کے سامنے اس بات کو ذکر کرنا ہی بالکل بے محل تھا، کیوں کہ ان آیات کا اسلوب تو یہ بتاتا ہے کہ اللہ رب العزت اپنے ایک ایسے ارادے کو وجود بخشنا چاہتے ہیں جس کا پہلے کوئی تصور ہی نہ تھا۔

اور اگر بالفرض پہلے بھی کئی آدم گذر چکے تھے تو فرشتوں کو تو یہ سوال آدمِ اول کی پیدائش کے وقت کرنا چاہیے تھا، نہ کہ آدمِ آخر کی پیدائش کے وقت، جب اس وقت یہ سوال نہیں کیا تھا تو اب اس کی نوبت کیوں پیش آئی؟ اور اگر اس وقت سوال کر لیا تھا تو اللہ رب العزت نے اسی وقت اس کی حکمت بھی سمجھا دی ہو گی تو اب دوبارہ سوال کرنے کا کوئی جواز ہی نہ تھا۔

خلاصہ یہ کہ حضرت آدم علیہ السلام ہی دنیا میں حیات انسانی کا نکتہ آغاز ہیں، ان سے پہلے کوئی اور آدم نہیں گذرا، باقی رہی وہ روایات جو امامیہ مذہب کی تائید میں پیش کی گئی ہیں تو ان کے بارے میں علامہ آلوسی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ سب روایات خیالی دنیا کی باتیں ہیں، ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ (روح المعانی، النساء، ذیل آیت:1)

البتہ امام بیہقی رحمہ اللہ کی کتاب ”کتاب الاسماء والصفات“ میں مذکور حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک موقوف روایت سے نہ صرف حضرت آدم علیہ السلام، بلکہ دیگر انبیاء کا تعدد بھی مفہوم ہوتا ہے، روایت کے الفاظ یہ ہیں:

”یہ زمینیں ہیں، جس میں سے ہر زمین میں ایک نبی ہے تمہارے نبی کی طرح اور آدم ہے حضرت آدم (علیہ السلام) کی طرح اور نوح ہے حضرت نوح کی طرح اور ابراہیم ہے حضرت ابراہیم کی طرح اور عیسیٰ ہے حضرت عیسیٰ کی طرح۔“ (کتاب الاسماء والصفات للبیہقی، رقم الحدیث:831)

حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محدثین کے اصول سے یہ روایت شاذ ہے اور اسے صحیح اور قابلِ اعتبار شمار نہیں کیا گیا۔ (معارف القرآن، للکاندھلوی، الطلاق، ذیل آیت:12)

امام بیہقی رحمہ اللہ نے اس روایت کے راویوں کے معتبر ہونے کے باعث اسناد کو قابلِ اعتبار تو کہا ہے، لیکن محدثین اور اصولیین کے مسلمہ قانون کے پیشِ نظر یہ حدیث دیگر احادیثِ معروفہ کے خلاف ہے، اس لیے شاذ اور معلول ہے اور احادیثِ شاذہ کو محدثین نے حجت نہیں سمجھا۔ (کتاب الاسماء والصفات، باب ماذکر فی الساق، رقم الحدیث:831)

انسانوں میں طبقاتی تقسیم
﴿خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ﴾ یہ آیت مبارکہ نقشِ ہستی پر وحدتِ انسانی کے اس تصور کو دوبارہ زندہ کرتی ہے جسے نوعِ انسانی صدیوں سے بھلا چکی تھی اور انسانیت نسلی، مذہبی اور قبائلی طبقات میں بٹ کر رہ گئی تھی اور ان طبقات میں باہمی فرق اتنا ہی تھا جتنا کہ انسان و حیوان، آقا وغلام اور عابد و معبود کے درمیان ہوتا ہے، اسی وجہ سے نمرود و فرعون نے خدائی کا دعویٰ کیا تھا، بہت سے فراعنہ مصر کا خیال تھا کہ وہ سورج دیوتا ”راع“ (RE) کا مظہر اور مجسمہ ہیں، یہود و نصاریٰ اپنے آپ کو خدا کی اولاد اور محبوب سمجھتے تھے، جیسا کہ خود قرآنِ پاک نے ان کے قول کو نقل کیا ہے:

﴿وَقَالَتِ الْیَہُودُ وَالنَّصَارٰی نَحْنُ أَبْنَآء ُ اللّٰہِ وَأَحِبَّاؤُہُ﴾․ (المائدة: 18)
ترجمہ:اور کہتے ہیں یہود اور نصاریٰ ہم بیٹے ہیں اللہ کے اور اس کے پیارے۔

ہندوستان میں دو خاندانوں کو ”سورج بنسی“(آفتاب زادے) اور ”چندر بنسی“(مہتاب زادے) کہا جاتا تھا، ایران کے کسریٰ کو یہ زعم تھا کہ ان کے رگوں میں الٰہی خون گردش کر رہا ہے، کسریٰ پرویز کی تعریف یہ کی جاتی تھی کہ :”وہ خداؤں میں انسان لا فانی اور انسانوں میں خدائے لا ثانی ہے“۔ قیاصرہ روم بھی خدا سمجھے جاتے تھے، چینی اپنے شہنشاہ کو آسمان زادہ سمجھتے تھے، ان کا اعتقاد تھا کہ آسمان نر اور زمین مادہ اور شہنشاہ ”ختا اول“ اس جوڑے کی پہلی اولاد ہے، عرب اپنے سوا سب کو عجم (بے زبان) کہتے تھے۔

اور ہندوستان میں رائج ہندو مذہب تو طبقاتی اختلافات او ر نسلی امتیازات کی سدرة المنتہیٰ کو پہنچا ہوا تھا، ذلت و شرافت اور شعبہ ہائے زندگی کی تمام ذمہ داریاں، پیشے اور مراتب و مناصب سب کچھ موروثی تھا، انسان کی شرافت کا معیار برہمن اور ذلت کا معیار شودر کے گھر میں پیدا ہو جانا ہی تھا، اس مذہب کے ماننے والے ذات پات اور طبقات کی پابندیوں میں جکڑے ہوئے تھے، اس طبقاتی تقسیم کے مدون اول ”منو جی“نے تین سو قبل مسیح میں اپنی مشہور کتاب ”منو شاستر“لکھی ،جس میں اس نے ہندوؤں کو چار طبقات میں اس طرح تقسیم کیا تھا:
1..برہمن:یعنی مذہبی پیشوا۔
2..چھتری:یعنی فوجی طبقہ اور لڑنے والے لو گ۔
3..ویش:یعنی زراعت اور تجارت پیشہ لوگ۔
4..شودر: ان کا کوئی خاص پیشہ نہیں ہوتا اور یہ دوسرے طبقات کے لوگوں کے صرف خادم ہوتے ہیں۔

ان طبقات میں باہمی فرق کی خلیج کس قدر وسیع تھی؟ اس کا اندازہ ”منو شاستر“کے درج ذیل اقتباس سے لگایا جا سکتا ہے:

”قادر مطلق نے دنیا کی بہبود و ترقی کے لیے اپنے منھ سے اور اپنے بازوؤں سے اور اپنی رانوں سے اور اپنے پیروں سے برہمن، چھتری، ویش اور شودر کو پیدا کیا ہے۔“

”جب کوئی برہمن پیدا ہوتا ہے تو وہ دنیا میں سب سے اعلیٰ مخلوق ہوتا ہے، وہ بادشاہ ہے کل مخلوقات کا اور اس کا کام ہے شاستر کی حفاظت۔“

”جو کچھ دنیا میں ہے وہ برہمن کا مال ہے، کیوں کہ وہ خلقت میں سب سے بڑا ہے، کل چیزیں اس کی ہیں۔“

”جس برہمن کو رگ دیدیا ہو وہ گناہ سے بالکل پاک ہے، اگرچہ وہ تینوں عالم کا ناس ہی کیوں نہ کر دے یا کسی کا بھی کھانا کیوں نہ کھالے۔“

”سزائے موت کے عوض برہمن کا صرف سر مونڈا جائے گا، لیکن اور ذات کے لوگوں کو سزائے موت دی جائے گی۔“

”دس سال کی عمر کا برہمن اور سو سال کی عمر کا چھتری گویا آپس میں باپ بیٹے کا تعلق رکھتے ہیں، لیکن دونوں میں برہمن باپ ہے۔“

باقی رہے اچھوت شودر تو وہ اس ہندوستانی سماج میں شہری اور مذہبی قانون کی رُو سے جانوروں سے پست اور کتوں سے زیادہ ذلیل تھے، جیسا کہ اسی منو شاستر میں ہے:

”اگر کوئی شودر کسی دِوِج کے ساتھ ایک جگہ بیٹھنا چاہے تو بادشاہ کو چاہیے کہ اس کی سرین کو دغوا دے اور اسے ملک بدر کر دیا جائے یا اس کی سرین کو زخمی کر دے۔“

”اگر کوئی شودر کسی برہمن کو ہاتھ لگائے یا گالی دے تو اس کی زبان تالو سے کھینچ لی جائے۔“

”کتے، بلی، مینڈک، چھپکلی، کوے اور شودر کے مارنے کا کفارہ برابر ہے۔“

غرض کہ ایک ہی باپ (آدم) کی اولاد میں یہ طبقاتی تقسیم اس قدر گھناؤنی صورت اختیار کر چکی تھی کہ انسانوں کے ایک طبقے سے تو اس کے بنیادی اور فطری حقوق تک چھین لیے گئے تھے اور ایک طبقے کو الوہیت کے مقام تک پہنچا دیا گیا تھا۔

اسلام کی روشن تعلیمات سے محرومی کی وجہ سے یہ طبقاتی تقسیم آج بھی دنیا کے مختلف خطوں میں موجود ہے، مغرب کے ظلمت کدوں سے اٹھنے والی روشن خیالی کی صدائیں آج تک اپنے درمیان کالوں اور گوروں میں مساوات پیدا نہیں کر سکیں۔

اسلام کا درسِ مساوات
دین اسلام دنیا بھر کے تمام انسانوں کو وحدت اور مساوات کا درس دیتا ہے اور اچھوت چھات ذات پات، طبقہ واریت اور انسان پرستی کے تصور کو ختم کرتا ہے اور کالے گورے، غریب امیر اور شاہ و گدا کے تمام تر امتیازات کو مٹا کر محمود و ایاز کو ایک صف میں لا کھڑا کرتا ہے، وہ تمام انسانوں کو ایک باپ (آدم علیہ السلام) کی اولاد بتلا کر انہیں آپس میں برابری اور ایک دوسرے کے حقوق کی رعایت کا درس دیتا ہے، جیسا کہ اس آیت میں اللہ رب العزت کا ارشاد مبارک ہے:

﴿یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ وَّخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیرًا وَّنِسَاءً وَاتَّقُوْا اللَّہَ الَّذِیْ تَسَائَلُونَ بِہِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیبًا﴾․ (النساء:1)
ترجمہ:”اے لوگو!ڈرتے رہو اپنے رب سے، جس نے پیدا کیا تم کو ایک جان سے اور اسی سے پیدا کیا اس کا جوڑا اور پھیلائے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں اور ڈرتے رہو اللہ سے جس کے واسطہ سے سوال کرتے ہو آپس میں اور خبردار رہو قرابت والوں سے۔“

اور ایک جگہ ارشاد ہے:
﴿یَا أَیُّہَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّأُنْثَی وَجَعَلْنَاکُمْ شُعُوبًا وَّقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوْا إِنَّ أَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ أَتْقَاکُمْ﴾․(الحجرات: 13)
ترجمہ :”لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے، تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو (اور) خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیز گار ہے۔“

اور حضور سرور دو عالم صلی الله علیہ وسلم سے بھی اسی قسم کا ایک ارشاد مبارک منقول ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں:
”اے لوگو!خبردار رہو، بے شک تمہارا رب ایک (اور) تمہارا باپ (بھی) ایک ہے، خبر دار!کسی عربی کو عجمی پر اور کسی عجمی کو عربی پراور کسی گورے کو کالے پر اور کسی کالے کو گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں (ہاں) مگر تقویٰ کی بنا پر۔(مسند احمد، رقم الحدیث:23885) (یعنی جو اللہ تعالیٰ سے جس قدر ڈرتا ہو گا اس کا مقام اللہ تعالیٰ کے ہاں اتنا ہی بلند ہو گا)۔

پھر اسلام جس طرح محکوم کو حاکم کی فرماں برداری کا حکم دیتا ہے اسی طرح حاکم کو بھی محکوم کے حقوق کی رعایت کا پابند بناتا ہے۔ اور اسلام نے اس کا جس قدر اہتمام کیا ہے وہ اس واقعے سے خوب ظاہر ہو جاتا ہے کہ سرورِ دو عالم صلی الله علیہ وسلم مرض الوفات میں ہیں اور جس تاکید سے اہم العبادات، یعنی نماز کا حکم دیتے ہیں، اسی تاکید سے غلاموں کے حقوق کی رعایت کا بھی حکم دیتے ہیں، چناں چہ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم اپنے مرض الوفات میں ارشاد فرما رہے تھے کہ ”نماز اور غلاموں کے حقوق کو اچھی طرح ادا کرو“ (ام سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں) اور جب تک کہ آپ علیہ الصلاة والسلام کی زبان مبارک جاری رہی آپ مسلسل اسی بات کو دہراتے رہے۔ (سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث:1625)

اور ایک جگہ آپ صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:”تم سب آدم کی اولاد ہو اور آدم (کو) مٹی سے (پیدا کیا گیا) ہے۔“ (سنن ابی داؤد، رقم الحدیث:5116)جس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جب تمام انسان ایک ہی باپ کی اولاد ہیں اور ان سب کا مادہ تخلیق (ایک ہی شے یعنی)مٹی ہے ،جس کی حقیقت پاؤں تلے روندا جانا ہے تو پھر انہیں یہ کیسے زیب دیتا ہے کہ وہ تفاخر کی روش اختیار کریں اور ایک دوسرے پر اپنی فوقیت ظاہر کریں۔

حضرت حوّاء علیہا السلام کی کیفیتِ تخلیق
﴿وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا﴾
یہاں پر ”زَوْجَہَا“سے مراد حضرت حوّاء علیہا السلام ہیں، علامہ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ :”اللہ تعالیٰ نے انہیں حضرت آدم علیہ السلام کی پشت کی جانب میں بائیں پسلی سے اس وقت پیدا کیا جس وقت کے وہ سو رہے تھے۔“(تفسیر ابن کثیر، النساء، ذیل آیت:1)

صحیحین کی بعض روایات سے بھی مفسرین کے اس قول کی تائید ہوتی ہے، مثلاً صحیح بخاری میں ہے آپ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا کہ: ”عورتوں سے اچھا برتاؤ کرو، بے شک عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے۔“ (صحیح البخاری رقم الحدیث:3331)

علامہ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس حدیث شریف میں لفظ ”خُلِقَتْ“”اُخْرِجَتْ“کے معنیٰ میں ہے، یعنی جس طرح گٹھلی سے کھجور کا درخت نکلتا ہے، حضرت حوّاء علیہا السلام کو بھی آدم علیہ السلام کی پسلی سے اسی طرح نکالا گیا۔ (فتح الباری، ذیل حدیث:3331)

اور حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ”حضرت حوّاء علیہا السلام کو حضرت آدم علیہ السلام کی اس پسلی سے پیدا کیا گیا جسے ”قُصَیْرٰی“کہا جاتا ہے اور جوہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”قُصَیْرٰی“کوکھ کے پاس والی پسلی ہے۔“(عمدة القاری ، ذیل حدیث:3331)

اور علامہ عینی رحمہ اللہ تعالیٰ صحیح بخاری کی حدیث بالا کی شرح میں فرماتے ہیں کہ :”جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو ایک زمانے تک جنت میں ٹھہرائے رکھا تو انہیں (اکیلے پن کی وجہ سے) وحشت محسوس ہونے لگی جس پر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور اپنی تنہائی کی شکایت کی، اس کے بعد جب وہ سوئے تو انہوں نے خواب میں ایک حسین عورت کو دیکھا، پھر جب وہ بیدار ہوئے تو اس عورت کو اپنے پاس بیٹھے ہوئے پایا تو پوچھا کہ آپ کون ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ میں حوّاء ہوں، اللہ تعالیٰ نے مجھے اس لیے پیدا کیا ہے کہ میں آپ کے لیے اور آپ میرے لیے سکون کا باعث ہوں۔“(عمدة القاری، ذیل حدیث:3331)

تفسیر خازن میں بھی اس جیسا مضمون ذکر کیا گیا ہے۔

اور علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ:”حضرت آدم علیہ السلام جب بیدار ہوئے تو حضرت حوّاء کو اپنی بائیں جانب بیٹھے ہوئے پایا۔“ (فیض الباری، ذیل حدیث:3331)

ایک شبہے کا ازالہ
ابو مسلم اصفہانی کہتے ہیں کہ :﴿وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا﴾ میں ”مِنْہَا“سے مراد ”مِنْ جِنْسِہَا“ہے، یعنی اللہ تعالیٰ نے جس شے سے ”نفس واحدہ“یعنی آدم علیہ السلام کو پیدا کیا، براہِ راست اسی سے (یعنی مٹی) سے حضرت حوّاء کو بھی پیدا کیا اور یہ بات کہ انہیں پسلی سے پیدا کیا گیا تھا درست نہیں، اس لیے کہ اللہ جل شانہ جب حضرت حوّاء کو بھی آدم علیہ السلام کی طرح مٹی سے پیدا کرنے پر قادر ہے تو پھر انہیں پسلی سے پیدا کرنے کا کیا فائدہ؟

لیکن یہ مذہب نصِ قرآن و حدیث اور جمہور کے خلاف ہونے کی وجہ سے باطل ہے، وہ اس طرح کہ یہاں پر اللہ رب العزت نے ﴿خَلَقَکُمْ مِّنْ نَّفْسٍ وَّاحِدَةٍ﴾ میں تمام نسل انسانی کی پیدائش کو حضرت آدم علیہ السلام سے جوڑا ہے، لیکن اگر ابو مسلم کے قول کو صحیح مان لیا جائے تو اس سے یہ لازم آئے گا کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو ”نفس واحدہ“ کے بجائے ”نفسین“یعنی دو نفسوں سے پیدا کیا ،جو کہ نص قرآنی کے صریح خلاف ہے۔

باقی یہ کہنا کہ جب باری تعالیٰ حضرت حوّاء کو براہِ راست مٹی سے پیدا کرنے پر قادر ہیں تو پھر انہیں پسلی سے پیدا کرنے میں کیا فائدہ تھا؟

اس کا جواب یہ ہے کہ اس طرزِ تخلیق میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے بارے میں جان دار کا جان دار سے بطریقِ توالد پیدا ہونا متعارف ہے، لیکن وہ اس کا پابند نہیں ہے، بلکہ وہ اس پر بھی قادر ہے کہ جان دار سے جاندار کو بلا طریقِ توالد پیدا کر دے اور یہ اس کی قدرتِ کاملہ پر ایک اور مضبوط دلیل ہے۔

پھر سوال یہ ہے کہ اگر باری تعالیٰ کے حضرت حوّاء کو مٹی سے پیدا کرنے پر قادر ہونے کی وجہ سے کسی اور طرز سے پیدا کرنا بے فائدہ ہے تو اللہ جل شانہ نے باقی تمام انسانوں کو براہِ راست مٹی سے کیوں پیدا نہیں کیا؟ جس طرح وہ آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کرنے پر قادر ہے اسی طرح وہ باقی سب انسانوں کو بھی تو مٹی سے پیدا کر سکتا ہے۔ پھر دوسرے انسانوں میں اس نے بالواسطہ تخلیق کا طریقہ کیوں جاری کیا؟ اب جو جواب باقی تمام انسانوں کے بالواسطہ پیدا کرنے کے بارے میں ہوگا وہی جواب ہم حضرت حوّاء علیہا السلام کے بواسطہ آدم علیہ السلام پیدا کیے جانے کے بارے میں دیں گے۔ (روح المعانی، النساء، ذیل:1)

نیز گذشتہ عنوان کے تحت ذکر کی گئی احادیثِ صحیحہ میں بھی تو اس بات کی صراحت ہے کہ عورت کو پسلی سے پیدا کیا گیا ہے۔(جاری)