بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تحمل و برداشت ایک اعلی انسانی قدر

تحمل و برداشت ایک اعلی انسانی قدر

محترم عبدالرشیدطلحہ نعمانی

انسانی معاشرہ ایک گل دستے کی طرح ہے، جس طرح گل دستے میں مختلف نوع کے رنگ برنگے پھول،حسن و خوب صورتی کا باعث ہوتے ہیں، بالکل اسی طرح انسانی معاشرہ بھی مختلف الخیال، مختلف المذہب اور مختلف النسل افراد سے مل کر ترتیب پاتا ہے اور اس کا یہی تنوع اس کی خوب صورتی کا سبب بنتا ہے۔چناں چہ رواداری، تحمل مزاجی،عفوو درگزر اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا جذبہ… ایسی خوبیاں ہیں جن کی وجہ سے سماج امن و امان کا گہوارہ بنتا ہے،ظلم و حق تلفی کا خاتمہ ہوتا ہے اور اس طرح ایک خوب صورت معاشرہ تشکیل پاتاہے۔اس کے برعکس عدم برداشت ایک ایسا ناسور ہے جس کے سبب معاشرے میں بدنظمی، بے عنوانی، معاشرتی استحصال، لاقانونیت اور ظلم وعداوت جیسی برائیاں جڑ پکڑتی ہیں اور پورے سماج کو تاخت و تاراج کردیتی ہیں۔غور کیاجائے تو عدم برداشت ہی کی بنا پر آج کا انسان بے چینی،حسد، احساس کمتری اور ذہنی دباوٴ کا شکار ہوتا جارہاہے۔

قوت برداشت ان اعلیٰ صفات میں سے ایک ہے جو افراد کے لیے انفرادی طور پر اور اقوام کے لیے اجتماعی طور پر فوزو فلاح،کام یابی وکام رانی،عزت و عظمت اور ترقی وسر بلندی کا ذریعہ ہے۔ تحمل وہ دولت ہے جس کی وجہ سے انسان کے نفس میں ایسی غیر معمولی طاقت پیدا ہوتی ہے جو کسی بھی حالت میں انسان پر قوت غضب کو غالب نہیں آنے دیتی۔ دین وشریعت میں حق پر ہوتے ہوئے مصائب سہنا، مظالم برداشت کرنا، تکالیف انگیز کرنا جہاں اخلاق کا اونچا معیار اور انسانیت کی بڑی معراج ہے،وہیں خودساختہ مزعومات اور من مانے نظریات پر اصرار کرنا،زبردستی انہیں تسلیم کرنے پر مجبور کرنا،خلاف ورزی پر مشتعل و برانگیختہ ہونا، پرلے درجہ کی حماقت اور نچلے درجہ کی جہالت ہے؛جس کے بے شمار نمونے بہ زعم خویش مفکرین کے ذریعہ سوشل میڈیا پرمشاہدے میں آتے رہتے ہیں۔

یہ ایک ناقابل تردیدحقیقت ہے کہ قومیں اور افراد،جب نیک بخت اور بصیرت مند ہوتے ہیں تو اپنا احتساب خود کرتے ہیں،اپنے خیالات و نظریات کو مستندو مکمل سمجھ کر،مطمئن نہیں ہوجاتے؛بلکہ ہر وقت جائزہ لیتے رہتے ہیں کہ کہیں اِن میں کوئی کھوٹ تو نہیں؟ خلاف عقل و شرع کوئی بات تو نہیں؟ لیکن افسوس صد افسوس! آج کے اس ترقی پسند دور میں جو جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے،جو خمار ذہن و دماغ پہ چھایا ہوا ہے اور جو سودا ہرسر میں سمایا ہوا ہے،بے لاگ انداز میں،بغیر کسی ہچکچاہٹ کے لکھا جائے تو وہ ہے:”حکم رانی کا جنوں،بڑائی جتانے کا فسوں اور بڑوں کو ازکار رفتہ ثابت کرنے کا شوقِ فزوں“۔ آج ہر کوئی کنویں کے مینڈک کی طرح خود کو حاکم اعلی اور عقل کل سمجھتا ہے، چار لوگ کیا تائید میں آگئے خود کو متبوع و مخدوم گمان کرنے لگتاہے۔بعض لوگ تو ایسا حاکمانہ؛ بلکہ آمرانہ مزاج رکھتے ہیں کہ تلاش کرنے پربھی عاجزی،انکساری اورفروتنی؛بلکہ اِن کی ادنی چنگاری بھی ان میں دور دور تک نظر نہیں آتی۔ اس پر طرہ یہ کہ وہ خود بھی اس طلسم سے باہر نہیں آنا چاہتے اور خودی کی خدائی میں اتنے مصروف و مگن اور انا کی خول میں اس طرح مقید و بندرہنا پسند کرتے ہیں کہ انجام کار اوقات فراموش بن بیٹھتے ہیں۔ ایسے افراد کا جب احتساب کیا جاتاہے،انہیں دیانتاََ کوئی اہم پہلو بتلایا جاتا ہے تو بیدار مغزی کا ثبوت دینے اور خندہ پیشانی کا مظاہرہ کرنے کے بجائے کینے اور حسد کو پالنے، بغض و عناد کو راہ دینے اورزندگی بھر کی دشمنی مول لینے سے بھی دریغ نہیں کرتے۔

نفسیاتی طورپرہرانسان کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ سننے سے زیادہ سنانے کوپسند کرتاہے،ماننے سے زیادہ منوانے کوترجیح دیتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر لوگ اس نیت سے نہیں سنتے کہ مخاطب کی بات کو سمجھیں؛بلکہ وہ اس لیے سنتے ہیں کہ اُنہیں جواب دینا ہوتا ہے،اس لیے یا تووہ دخل اندازی کرتے ہوئے خود بولنے لگتے ہیں یا پھر بولنے کی تیاری میں مصروف ہوجاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ آدمی صحیح معنی میں یا تو سن سکتا ہے یا بول سکتا ہے۔ ان دونوں کاموں کوجمع کرنا کسی مثبت نتیجہ تک نہیں پہنچاسکتا۔

نبی پاک صلی الله علیہ وسلم کی تحمل مزاجی
مولانا ڈاکٹر قاسم محمود لکھتے ہیں کہ کسی بھی شخص کی کام یابی اور بلندی کا راز یہ ہے کہ انتہائی جذباتی مواقع پر انتہائی عقل و دانش سے فیصلہ کرے۔ انفرادی زندگی میں تحمل اور صبر و ضبط کی ضرورت تو ہے ہی؛ لیکن اس کی اہمیت اجتماعی جگہوں میں مزید بڑھ جاتی ہے۔ اگر تحمل اور صبر و ضبط سے کام نہ لیا جائے توزندگی گزارنامشکل ہوجائے۔ اپنی شخصیت کو نکھارنے، مسائل سے نجات پانے اور خوش گوار زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ جذبات کو قابو میں رکھا جائے۔رسولِ اکرم صلی الله علیہ وسلم نے جب نبوت کا اعلان کیا تو مکہ کا سارا ماحول آپ صلی الله علیہ وسلم کے لیے اجنبی بن گیا، وہی لوگ جن کے درمیان آپ صلی الله علیہ وسلم کا بچپن اور جوانی گزری، جو آپ صلی الله علیہ وسلم کی امانت و صداقت کے بڑے مداح اور عاشق تھے،وہ آپ صلی الله علیہ وسلم کے مخالف اور جانی دشمن ہوگئے۔پھر کچھ ہی عرصے کے دوران عرب کی اجڈ قوم کے دل و دماغ میں اسلام اور آپ صلی الله علیہ وسلم کی بے پناہ محبت رچ بس گئی اور ان جانی دشمنوں نے دل و جان سے آپ صلی الله علیہ وسلم کی امارت واطاعت قبول کرلی، یقیناً اس پر انسانی عقل دَنگ رہ جاتی ہے اور حیرت کی انتہا نہیں رہتی۔ سیرت طیبہ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب کے اس تاریخی انقلاب میں جہاں رسولِ اکرم صلی الله علیہ وسلم کی شیریں زبان، اعلیٰ اخلاق، بہترین لب ولہجہ اور پیہم جدوجہد کا حصہ ہے، وہیں آپ صلی الله علیہ وسلم کا صبر و تحمل، بردباری اور قوتِ برداشت نے بھی بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ بلاشبہ صبرو تحمل کا وصف انتہائی مفید و معنی خیز ہے، اس سے سعادت و بھلائی اورسکون و اطمینان کے مواقع تو ہاتھ آتے ہی ہیں، ساتھ ہی صبر و استقامت کی راہ پر چل کر لوگوں کی قیادت و امامت کا درجہ بھی حاصل کیا جاسکتا ہے، اللہ نے اپنا یہ دستور اور قانون بہت پہلے ہی ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے: ”ہم نے ان میں سے بعض کو قائد اور امام بنایا جو ہماری باتوں سے لوگوں کو واقف کراتے تھے، یہ ان کے صبر کا بدلہ ہے۔“(انسانی زندگی میں صبر و ضبط اور تحمل و برداشت کی اہمیت)یہی وجہ ہے کہ مورخین نے صبر و ضبط اور برداشت و تحمل کو حضوراکرم صلی الله علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کا درخشاں پہلو اوراہم ترین حصہ قرار دیاہے۔اس حوالے سے نبی پاک صلی الله علیہ وسلم کے ایک دو واقعات بھی پیش خدمت ہیں:

حضرت انس رضی اللہ عنہ خادم رسول صلی الله علیہ وسلم ہیں، فرماتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کی نو سال تک خدمت کی،(عام طور پراس لمبے عرصے میں ضرور کوئی نہ کوئی بات خلاف مزاج ہو ہی جاتی ہے،اس کے باوجود) کبھی آپ صلی الله علیہ وسلم نے کسی کام کے تعلق سے مجھے اف تک نہیں کہا، نہ میرے کام پر نکتہ چینی یا عیب جوئی فرمائی۔ ایک مرتبہ تو یوں ہوا کہ کسی کام سے آپ صلی الله علیہ وسلم نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو بھیجا، مگر وہ کھیل کود میں مصروف ہوگئے، حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم خودتلاش کرتے ہوئے نکلے اور ملاقات پر کچھ نکیر نہ فرمائی اور انداز تخاطب میں بھی کوئی تبدیلی نہیں لائی؛ بلکہ رحیمانہ ومشفقانہ انداز میں اس طرح مخاطب فرمایا: ”اے اُنیس!“(چھوٹے بچوں کو بطور محبت کے اس طرح پکارا جاتا ہے) اور غصہ کرنے کے بجائے محبوبانہ انداز میں صرف استفسار فرمایا کہ وہاں نہیں گئے جہاں میں نے بھیجا تھا؟؟ذرا غور کیجیے کہ مستقل خدمت گزاروں کے ساتھ محبت و ہم دردی اور ضبط و تحمل کی اس سے بڑی کیا مثال دی جاسکتی ہے؟!

ایک اور موقع کا ذکر ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم اور صحابہ کرام مسجدِنبوی میں تشریف فرماہیں۔ ایک دیہاتی مسجد میں داخل ہوکر مسجد کے تقدس و حرمت کو پامال کردیتا ہے اورمسجد کے ایک گوشے میں پیشاب کرنے بیٹھ جاتا ہے۔ صحا بہ کرام یہ دیکھ کر سخت ناراض ہوتے ہیں اوراسے مارنے کے لیے لپکتے ہیں۔ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم صحابہ کرام کوایسا کرنے سے منع کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں: اسے چھوڑ دو اور پیار سے سمجھاؤ کہ مسجداللہ کا گھر ہے، عبادت کی جگہ ہے،قابل احترام ہے، یہاں بول وبراز نہیں کرتے!! پھر ارشاد ہوتا ہے کہ جس جگہ اس نے پیشاب کیا ہے اس جگہ پانی بہا دو۔اس کے بعدصحابہ کرام کو نصیحت فرماتے ہیں کہ ہمیں حسنِ اخلاق اور حسنِ کردار کا مظاہرہ کرنا چاہیے، آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے،دشواریاں اور مشکلات پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ (بخاری شریف)

اسلاف و اکابر کا تحمل
جہاں تک ہم نے اپنے اسلاف کو پڑھا اور دیکھا تو یہی سمجھا کہ وہ ضبط و تحمل کے کوہ گراں تھے، ان کو اپنی اصلاح کی بڑی فکر تھی، اگر کوئی انہیں ان کی غلطی بتاتا تو وہ یہ نہیں دیکھتے تھے کہ غلطی بتانے والاکون ہے؟اس کا انداز کیسا ہے؟ وہ ہمارا مخالف ہے یا موافق؟؛بلکہ اگر غلطی معلوم ہوجاتی تو علی الفورتسلیم کرلیتے اور برملا اعلان و اعتراف سے کبھی پیچھے نہیں ہٹتے۔البتہ دوسروں کو ان کی غلطی بتانے میں حکمت اور حدود کا بھرپورخیال رکھتے۔

امام ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی لکھتے ہیں:میمون بن مہران روایت کرتے ہیں کہ ایک دن ان کی باندی ایک پیالہ لے کر آئی، جس میں گرم گرم سالن تھا، ان کے پاس اس وقت مہمان بیٹھے ہوئے تھے۔اچانک وہ باندی لڑکھڑائی اور ان پر سارا شوربا گرگیا۔ میمون نے اس باندی کو مارنے کا ارادہ کیا تو باندی نے کہا اے میرے آقا! اللہ تعالیٰ کے اس قول پر عمل کیجیے (آیت) ﴿والکاظمین الغیظ﴾۔ میمون نے کہا میں نے اس پر عمل کرلیا (غصہ ضبط کرلیا) اس نے کہا اس کے بعد کی آیت پر عمل کیجیے (آیت) ﴿والعافین عن الناس﴾ میمون نے کہا میں نے تمہیں معاف کردیا، باندی نے اس کے بعد اس حصہ کی تلاوت کی: (آیت) ﴿واللہ یحب المحسنین﴾ میمون نے کہا میں تمہارے ساتھ نیک سلوک کرتا ہوں اور تم کو آزاد کردیتا ہوں۔ (الجامع لاحکام القرآن)

برصغیر کی معروف دینی درس گاہ، ام المدارس دار العلوم دیوبند کے پہلے شیخ الحدیث اور صدرالمدرسین حضرت مولانا محمد یعقوب صاحب نانوتوی ،جنھیں ان کے علوم کی وسعت اور گہرائی کی وجہ سے شاہ عبد العزیز ثانی کہا جاتا تھا،ان کے تلامذہ اور ارادت مندوں کا بیان ہے کہ جب کوئی انھیں ان کی کسی غلطی پر تنبیہ کر تا تو نہ صرف یہ کہ اس سے رجوع فرمالیتے؛بلکہ نہایت شکر گزاری کے ساتھ بار بار اس کا اعتراف کرتے۔اسی طرح معروف سیرت نگارحضرت مولانا سید سلیمان ندوی جیسی علمی و تحقیقی شخصیت نے بھی رجوع واعتراف کے نام سے مستقل ایک مضمون تحریر فرمایا تھا، جس میں اپنی متعدد آرا سے برملا رجوع کیا۔

ایک مرتبہ کانگریس اور مسلم لیگ کے اختلافات کے دوران کسی لیگی نے دارالعلوم دیوبند کی مسند حدیث اور عہدہٴ صدارت پر فائز اس عظیم ہستی کو (جسے دنیا شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی کے نام سے جانتی ہے) درس حدیث کے بعد ایک چٹھی دی؛جس میں صاف طور پر یہ لکھاہوا تھا:سنا ہے کہ آپ حرامی ہیں!

حضرت مولانا نے جیسے ہی اس چٹھی کو پڑھا تونہ پہلو بدلا،نہ غصے اور ناگواری کااظہارکیا، حتی کہ پیشانی پر بل لائے بغیرپورے اطمینان سے یوں جواب دیا:نہیں! میں حرامی نہیں ہوں۔میرے والدین کے نکاح کے گواہ آج بھی ٹانڈہ ضلع فیض آباد میں موجود ہیں۔وہاں جاکر تحقیق کی جاسکتی ہے۔

الغرض…اہل حق کا ہمیشہ یہی شعار رہا ہے کہ انہوں نے انفرادی و اجتماعی ہر موقع پر صبر و ضبط سے کام لیا اور اگر کبھی کسی مسئلے میں چوک ہوگئی توبے جا تاویل کرنے کے بجائے برملا اس سے رجوع کیا۔ یادرکھنا چاہیے کہ ہمارا صبر و تحمل، ہماری قوت برداشت ہمارے لیے ہمیشہ خیر اور اجر کا سبب بنتی ہے، دانش وروں کا ماننا ہے کہ ہر معاشرے میں انتشار و خلفشار کی بنیادی وجہ قوت برداشت کی کمی ہے، اگر انسان اسی بنیادی خامی؛ بلکہ کمزوری کے خلاف نبر د آزما رہے تو یہ دنیا رہنے کے لیے ایک پر سکون جگہ بن سکے گی ،اور سکون سے بڑھ کر انسان کو کس دولت کی ضرورت ہوسکتی ہے؟؟؟