بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

تحفظ ختم نبوت

تحفظ ختم نبوت

مولانا زر محمد
استاد جامعہ فاروقیہ کراچی

سرور کائنات آقائے نامدار”خاتم النبیین والمرسلین“آمنہ کے لعل، محمد مصطفی ،احمد مجتبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کائنات میں کوئی انسان ایسا نہیں، جو تخت نبوت پر سج سکے اور تاج امامت و رسالت جس کے سر پر ناز کرسکے۔ وہ ایک ہی ہے جس سے کائنات میں ختم نبوت کی تکمیل ہوئی، یہی مومن کا ایمان ہے اور یہی اسلام کا عقیدہ ہے، اس لیے اس عقیدہ میں چودہ سو سال سے کبھی امت دو رائے کا شکار نہیں ہوئی، لیکن دوسری طرف یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حق کی باطل کے ساتھ کش مکش ہمیشہ سے جاری رہی ہے۔
        ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
        چراغ مصطفوی سے شرار بولہبی

محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں دوسرے فتنوں کی پیشن گوئی فرمائی تھی، وہیں جھوٹے مدعیان نبوت کے ظہور کی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی۔ سب سے پہلے آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منصب پر ڈاکہ ڈالنے والے مسیلمہ کذاب نے نبوت کا دعوی کیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام خط لکھا تھا کہ "میں اور آپ مل کر دونوں نبی بنتے ہیں اور آدھی زمین تمہاری آدھی میری”۔ جوابا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھا “میں تو تنکے پر بھی شراکت کے لیے تیار نہیں ہوں، چہ جائیکہ نبوت کی شرکت پر تیار ہوجاؤں۔“ اس کے بعد حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں اسلامی جہاد کا آغاز ہی مسیلمہ کذاب کے مقابلے میں جنگ یمامہ سے ہوا، خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اس لشکر کے سپہ سالار تھے، جس میں مسیلمہ کذاب اپنے تیس ہزار لشکر سمیت جہنم رسید ہوا، خود مسیلمہ کذاب کو حضرت وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ(جو حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے قاتل تھے اور پھر مشرف باسلام ہوچکے تھے)نے نیزہ مارا تھا اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے مسیلمہ کے قتل میں مدد کی تھی۔ (ابن کثیر 117/8)

یمامہ ہی میں بنو تغلب کی ایک عیسائی”سجاح“نامی عورت نے بھی نبوت کا دعوی کیا تھا، مسیلمہ کذاب سے ملاقات کے بعد اس عورت نے مسیلمہ سے نکاح کیا، مسیلمہ نے پوچھا مہر کیا دیں؟ تو کہنے لگی:دو نمازیں معاف کردیں، مسیلمہ کذاب نے دو نمازیں معاف کردیں۔

اسی عرصے میں (آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرمانے سے کچھ دن قبل) یمن کے اسود عنسی نے بھی نبوت کا دعوی کیا تھا، حضرت فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم پر اسے قتل کردیا۔

ختم نبوت کی اہمیت
ختم نبوت کا عقیدہ تمام کتب الٰہیہ، تمام انبیائے کرام اور تمام ادیان سماویہ کا متفق علیہ اور اجماعی عقیدہ رہا ہے، امام زین الدین ابن نجیم رحمة الله علیہ نے” الاشباہ و النظائر“ ص 102 پر لکھا ہے کہ جس شخص کو یہ معلوم ہی نہ ہو کہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری نبی ہیں وہ مسلمان نہیں، اس لیے کہ یہ عقیدہ ضروریات دین میں سے ہے۔ امت محمدیہ میں سب سے پہلے اجماع جو ہوا وہ اسی مسئلہ پر ہوا کہ مدعی نبوت کو قتل کیا جائے۔ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا فتوی ہے:
”آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد مدعی نبوت سے (تصدیق کے ارادے سے) دلیل طلب کرنا یا معجزہ مانگنا بھی کفر ہے، کیوں کہ یہ مطالبہ عقیدہ ختم نبوت میں شک کے مترادف ہے۔“

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں اسلام کے تحفظ اور دفاع کے لیے جتنی جنگیں لڑی گئیں، ان میں شہید ہونے والے صحابہ کرام کی کل تعداد 259 ہے اور عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ و دفاع کے لیے اسلام کی تاریخ میں پہلی جنگ جو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی خلافت میں مسیلمہ کذاب کے خلاف یمامہ کے میدان میں لڑی گئی، اس ایک جنگ میں شہید ہونے والے صحابہ اور تابعین کی تعداد 1200 ہے، جن میں 700 صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین تو قرآن کریم کے حافظ و عالم تھے، جو صحابہ کرام میں”اہل قرآن“کے لقب سے مشہور تھے۔

حضرت امیر شریعت رحمہ اللہ فرمایا کرتے تھے :
”بخاری، مسلم، ترمذی، ابوداود، نسائی، ابن ماجہ اور حدیث کی تمام کتابوں کی جان عقیدہ ختم نبوت ہے، تفسیر اور اصول تفسیر، حدیث و اصول حدیث، فقہ واصول فقہ، علم عقائد و کلام وغیرہ تمام مذہبی علوم و فنون کی روح ختم نبوت ہے۔“

حدیث پاک ہے:
”حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری امت میں تیس جھوٹے مدعی نبوت پیدا ہوں گے۔ ہر ایک یہی کہے گا کہ میں نبی ہوں، حالاں کہ میں خاتم النبیین ہوں، میرے بعد کوئی کسی قسم کا نبی نہیں۔“

حدیث پاک کے مطابق قیامت تک تیس دجال پیدا ہوں گے، ابھی تک ایسے جھوٹوں کی تعداد ہزاروں سے متجاوز ہے۔ جنہوں نے کسی نہ کسی انداز میں نبوت کا دعوی کیا، مگر قادیانی کی طرح جھوٹے مدعیان نبوت جن کی قوت قائم ہوچکی ہو اور جن کی جماعت اور پارٹی بن چکی ہو، ان کی تعداد ابھی تیس تک نہیں پہنچی (ملعون مرزا غلام احمد قادیانی تک تقریبا 23جھوٹوں کی کہانی پہنچی ہے) لہٰذا ابھی قیامت تک اس طرح کے کچھ اور فتنے بھی رونما ہوں گے۔ سب سے آخری دجال اعظم (کانا دجال) کا فتنہ ہوگا۔

گذشتہ چند صدیوں کے دوران بعض خانہ سازاور جھوٹی نبوت کے دعوے داروں کو کو اپنے گروہ بنانے اور اپنے فاسد اثرات پھیلانے کے خاصے مواقع میسر آئے۔

بیسویں صدی کے طلوع ہوتے ہی متحدہ ہندوستان کے صوبہ پنجاب، تحصیل بٹالہ، ضلع گورداسپور، قصبہ قادیان میں نبوت کا جھوٹا دعوی کرنے والوں میں برطانیہ کا خود کاشتہ پودا، انگریزکا پروردہ اور نمک خوار مرزا غلام احمد قادیانی بن غلام مرتضی کانام سرفہرست ہے۔ انگریز نے مسلمانوں میں تفرقہ ڈالنے، جہاد کو حرام اور انگریز کی اطاعت کو مسلمانوں پر فرض قرار دلوانے کے لیے اپنے مذموم اغراض اور خواہشات فاسدہ کے پیش نظر اسے پروان چڑھایا۔ یہ اتنا بداخلاق شخص تھاکہ معمولی معمولی باتوں پر بدزبانی پر اتر آتا تھا، اپنے مخالفین کو ولد الحرام، کنجری کی اولاد، کافر، جہنمی کہنا اس کا صبح شام کا وطیرہ تھا۔ قادیانی ان تیس دجالوں میں سے ایک تھا، جس نے دین اسلام کے سرسبز و شاداب باغیچہ کو اجاڑنے کی کوشش کی۔

قادیانی کا یہ فتنہ اٹھا تو اس کی پشت پر ریاست برطانیہ کا باوسائل ہاتھ تھا، ملکی قانون جھوٹوں کا محافظ تھا اور دوسری طرف غلام ہندوستان کے بے وسیلہ مسلمان، مگر جب مقابلہ ہوا تو غلامان ِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف ایمان کی پختگی، عقیدے کے زور ونظریہ کی قوت سے صاحبان طرہ و دستار کو چاروں شانے چت کیا۔ علماء نے ڈٹ کر اس عظیم فتنے کا مقابلہ کیا، اس سلسلے میں تمام مکاتب فکر کے علماء جنہوں نے علمی اور عملی جدوجہد کی اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں وہ تاریخ کا ناقابل فراموش باب ہے۔

چناں چہ صرف قادیانیت کی تردید میں مسلمانوں نے تقریبا ایک ہزار کتابیں لکھی ہیں۔

علمائے کرام کی ایک آواز پر 1954ء میں ہزاروں جوانوں نے زندگیاں قربان کر دیں اور تحفظ ختم نبوت کی جنگ میں ثابت کردیا کہ جان دینا کوئی معنی نہیں رکھتا، یہ سلسلہ چلتا رہا ،حتی کہ اہل اسلام کی نوے سالہ جدوجہد اور عظیم الشان تحریک کے بعد7 ستمبر 1974ء میں پاکستان کی قومی اسمبلی میں علماء کی جدوجہد سے متفقہ طور پر قادیانیوں اور لاہوری مرزائیوں کو ذوالفقار علی بھٹو کے عہد حکومت میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا، مگر قادیانیوں نے اس فیصلے کو قبول نہیں کیا اور آج تک سادہ لوح مسلمانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ:

ہم کلمہ پڑھتے ہیں، مسلمانوں کے سلاسل (قادریہ، نقشبندیہ وغیرہ) کی طرح ہمارا سلسلہ احمدیہ ہے ،پھر ہم مسلمان کیوں نہیں؟

فتنہ قادیانیت کی سب سے بڑی خرابی اور اس برائی کی جڑ یہ ہے کہ اس فتنہ کو ہمیشہ عیسائیوں اور یہود کی سرپرستی حاصل رہی اور اس نے اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں کو گم راہ کرنے کا بیڑا اٹھایا، زن، زر اور زمین اس کے سب سے بڑے ہتھیار رہے ہیں اور متفقہ مسائل و عقائد میں شکوک وشبہات اور بحث و مباحثہ کے ذریعے مسلمانوں کے ایمان کو متزلزل کرنا اس کا طریقہ کار رہا ہے۔

آج بھی مرزائی خفیہ طریقے سے بھولے بھالے مسلمانوں کے دین و ایمان پر ڈاکہ ڈالتے ہیں اور انہیں راہ حق سے ہٹانے کی سرتوڑ کوششیں کرتے ہیں۔ قادیانیوں کے اس دجل و فریب سے آگاہ ہونا اور مسلمانوں کو بچانا ازحد ضروری ہے۔

اللہ تعالی ہم سب کو عقیدہ ختم نبوت پر جمنے کی توفیق نصیب فرمائے اور ہر شیطانی فتنے سے محفوظ فرمائے۔آمین!