بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بے حیائی کا وبال

بے حیائی کا وبال

مولانا زین العابدین اعظمی

”حضرت عبدالله بن عمر رضی الله عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا بلاشبہ الله تعالیٰ کسی بندہ کو جب ہلاک کرنا چاہتے ہیں تو اس شخص سے حیا (وشرم) کو کھینچ لیتے ہیں او رجب اس کی حیا کو کھینچ لیتے ہیں تو اس کو صرف ایسا ہی پاؤگے کہ وہ بغض سے بھرا ہوا اور لوگوں کے نزدیک نہایت مبغوض بنایا ہوا ہو گا، یعنی خود بھی سب سے بغض رکھے گا اور سب لوگ اس سے بغض رکھیں گے، جب وہ شخص اس درجہ مبغوض ہو جاتا ہے تو اس کے اندر سے امانت سلب کر لی جاتی ہے ، اب جہاں بھی موقع ملے گا، وہ خیانت ہی کرے گا اور لوگوں کے نزدیک بھی خیانت میں مشہور ہو جائے گا، پھر جب اس کا یہ وصف ہو جائے گا تو اس سے رحمت کھینچ لی جائے گی، نہ اس کے دل میں نرمی ہو گی، نہ مخلوق پر مہربان ہو گا، جب یہ حالت ہوگی تو اس کو جہاں پاؤ گے، وہ مرد ودوملعون یعنی لوگوں سے دھتکارا ہوا ملے گا کہ اس پر لعنت برستی ہوگی اور جب وہ رجیم ومردود اور ملعونیت کا پیکر بن جائے گا تو اس کی گردن سے اسلام کا حلقہ نکال لیا جائے گا، پھر وہ بے باک ہو کر اسلامی حدود کو توڑنے لگے گا۔“ (رواہ ابن ماجہ باب ذہاب الامانة:294)

اس سے معلوم ہوا کہ حیا وشرم ومروت ہی اسلام سے خارج ہونے کے لیے بڑا حجاب ہے، جب یہ حجاب اٹھ جائے گا تو بڑی بڑی قباحتیں کرتے کرتے آخر ایک دن اسلام سے ہاتھ دھو بیٹھے گا۔ ایک انتہائی صحیح حدیث میں ہے کہ حیا وشرم ایمان کا ایک عظیم شعبہ ہے، حیا کی عظمت کا پتہ اس لمبی تفصیلی حدیث سے چلا اور حیا کی اہمیت معلوم ہوئی کہ بے حیائی نے کیا کیا تباہی مچائی اور بے حیا کو کس طرح مخلوق سے بھی دور کر دیا گیا اور اس کی گردن میں لعنت کا طوق ڈال کر اسلام اور ایمان سے بے دخل کر دیاگیا اور خالق ومالک اور پروردگار وپالنہار سے اس کا تعلق منقطع کر دیا گیا۔

تشریح: امام راغب اصفہانی رحمة الله علیہ ( وفات502ھ) نے فرمایا”حیا کہتے ہیں نفس کا گندی چیزوں سے سکڑنا اور اس انقباض کی وجہ سے اس ناپسندیدہ چیز کے چھوڑنے کو۔“

صفت حیا جس طرح انسانوں کے لیے قابل مدح ہے، اسی طرح الله تعالیٰ کی ذات کے لیے بھی یہ صفت آئی ہے، جہاں نہ نفس کا شائبہ ہے اور نہ سکڑنے اور پھیلنے کا تصور ہو سکتا ہے، پس وہاں اس صفت کے لازم معنی مراد لیے جائیں گے۔

مثلاً سنن ترمذی وابوادؤد، ابن ماجہ اور مسند احمد میں ایک حدیث ان الفاظ سے وارد ہوئی ہے:
”حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ نے آں حضرت صلی الله علیہ وسلم کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ بے شک الله تعالیٰ بہت حیاء دار اور صاحب کرم ہیں، جب بندہ ان کی جانب اپنے دونوں ہاتھ پھیلا دیتا ہے تو الله تعالیٰ کو شرم آجاتی ہے کہ کیسے دونوں ہاتھوں کو خالی واپس کر دے۔“

تو یہاں حیا سے مراد قبائح کو محض ترک کرنا ہو گا اور بندہ کی مانگ کو ضرور پوری کرنا مراد لیا جائے گا، اسی طرح ایک ضعیف حدیث کے الفاظ یہ ہیں:
”بے شک الله تعالیٰ کو بوڑھے مسلمان سے شرم آتی ہے کہ کیسے اس کو عذاب دے؟!“

تو یہاں استحیی کے لازم معنی مراد ہوں گے کہ الله تعالیٰ اس مسلمان کو، جو اسلام کی حالت میں سفید بال والا ہو گیا، اس کو عذاب نہ دیں گے، پس یہاں حیا ترک عذاب کے معنی میں ہوا۔ مفردات کا مضمون توضیح کے ساتھ پورا ہوا۔

علامہ قسطلانی نے اپنی شرح بخاری میں تحریر فرمایا:
”الحیاء الف ممدودہ کے ساتھ ہے اور شریعت میں حیا اس اخلاق کو کہا جاتا ہے جو بھونڈی چیزوں سے بچنے پر آمادہ کرے اور صاحب حق کے حقوق میں کوتاہی کرنے سے باز رکھے۔“

اب حیا ایمان کا ایسا شعبہ ہے جو تمام ایمانی شعبوں کی طرف دعوت دیتا ہیکیوں کہ یہ دنیا کی رسوائی اور آخرت کی ناکامی سے ڈرانے پر اُبھارتا ہے، اس لیے صاحب حیا حکم کی بجا آوری اور ممنوعات سے پرہیز گاری کو قبول کر لیتا ہے اور جو شخص حیا کے معنی میں غور کرے، ساتھ ہی حدیث ذیل کو مدنظر رکھے تو اس کو عجیب سے عجیب تر چیزیں نظر آئیں گی۔

حدیث پاک یہ ہے:
”عبدالله بن مسعود سے مروی ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: الله تعالیٰ سے ایسی شرم کرو جو حیا کرنے کا حق ہے۔ لوگوں نے کہا کہ ہم تو الله تعالیٰ سے حیا کرتے ہیں اے خدا کے رسول اور الله تعالیٰ کے لیے حمد سزا وار ہے، آپ نے فرمایا: اتنی سی بات نہیں ہے،لیکن جیسا شرم کا حق ہے، الله تعالیٰ سے اتنی شرم کرنا یہ ہے کہ سر کی حفاظت کرے اور ان سب کی حفاظت کرے جو سر میں جمع ہیں اور پیٹ کی حفاظت کرے اور ان سب کی جس کو پیٹ نے گھیر رکھا ہے اور موت اور کہنگی کو یاد رکھے کہ ایک دن مرنا ہے اور جسم کا بوسیدہ ہو جانا ہے اور جو آخرت کو چاہے، وہ دنیا کی زینت کو چھوڑ دے اور آخرت کو، یعنی انجام کار کو پہلی زندگی پر ترجیح دے، جو ان تمام چیزوں پر عمل کر لے، اس نے الله سے شرم کرنے کا حق ادا کیا۔“ (جامع ترمذی:2/69)

آگے علامہ قسطلانی نے فرمایا:
حضرت جنید بغدادی نے فرمایا ہر آن الله تعالیٰ کی جو نعمتیں تم پر ہوتی رہتی ہیں، ان میں غور کرو اور ان نعمتوں کا جو حق تم پر الله کی طرف سے لازم ہے اور تم اس کو پورا کرنے میں کوتاہی کرتے ہو، اس کو دھیان سے سوچو تو تم میں خصلت حیا پیدا ہو گی او رحق واجب کی تقصیر سے روکنے والی یہی صفت حیا ہے ،جو ایمان کا ایک عظیم شعبہ ہے، جب تم اسی میں درماندہ ہو گئے تو ایمان کے بقیہ بہتر شعبوں کا حق کس طرح ادا کروگے؟

نعمت ِ الہٰی کو شمار کرنا چاہو تو شمار نہ کرسکو گے، تو ان کے حقوق کی ادائی نہ کرنے کی وجہ سے تم کو شرمندگی لاحق ہو گی جو مطلوب شرعی ہے اور اس میں فطری شرمندگی کافی نہ ہو گی، بلکہ تمہارے قصد واختیار سے اس کو حاصل کرنا شریعت کا مطلوب ہے۔

اس حدیث کا پہلا ٹکڑا یہ ہے کہ کسی کو ہلاک کرنے کی پہلی کڑی بے حیائی ہے، اس حیا سے مراد عام ہے کہ مخلوق سے حیا وشرم یا خالق جل مجدہ سے حیاء وشرم ہو، جب دونوں یا ایک سلب ہو جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ ہلاکت کا فیصلہ ہو چکا ہے، قبائح کا ارتکاب، بے شرمی کے گانے باجے، جنسی آلودگیاں، ان آلودگیوں کو دیکھنا، تنہا نہیں بلکہ خویش واقارب ہی نہیں، بلکہ محارم کے سامنے اس کا مشاہدہ کرنا … مخلوق سے حیا کے اٹھ جانے کی دلیل ہے۔ جب سر، پیٹ او ران سے متعلق اعضاء کی حفاظت نہیں کی گئی تو یہ خالق سے حیا وشرم اٹھ جانے کی دلیل بنی، لہٰذا خدا تعالیٰ کے یہاں سے اس پر ناراضی کا ایسا عکس پڑا کہ یہ شخص مبغوض، بلکہ مکمل مبغوض ہو گیا۔

بغض کے بعد اس کے قلب سے امانت نکال لی گئی، اسی وجہ سے خائن ہو گیا، انسانوں کے حقوق کوغصبکرنا، امانت وعہد وپیمان کوتوڑنا اس شخص کا ایسا وصف بن گیا کہ لوگ اس کو خائن کی ہی صفت سے جاننے پہچاننے لگے او رامانت میں خیانت کرنا منافق کی علاامت بتلائی گئی اور خیانت کرنے والے کو جہنم رسید فرمایا گیا ہے۔

چناں چہ عیاض بن حمار مجاشعی رضی الله عنہ کی حدیث میں، جہاں اہل جہنم کے پانچ گروہوں کو بیان کیا گیا ہے تو اس میں یہ بھی ہے:
”وہ خیانت کار بھی جہنمی ہے، جس کے سامنے معمولی مفاد ظاہر ہو تو اس کو پورا کرنے کے لیے خیانت کر ڈالے۔“ (صحیح مسلم:2/385)

خیانت کے بعد اس کے دل سے محبت مہربانی، لحاظ ومروت سب چھین لی جاتی ہے، اب اس کے سامنے صرف مفاد پرستی اور خود غرضی رہ جاتی ہے تو اس کو سب لوگ دھتکار دیتے ہیں، اس کا نام آتے ہی کان پر ہاتھ دھر لیتے ہیں، مخلوق کی طرف سے تو اس کے ساتھ یہ معاملہ ہوتا ہے اور خالق کی طرف سے اس پر لگاتار لعنت برسنے لگتی ہے اور اسلام تو دین رحمت ہے، ملعونیت کے ساتھ کہاں رہ سکتا ہے؟؟ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ایسا شخص اسلام ہی کو چھوڑ بیٹھتا ہے۔

شایدصہیونی فریب کاروں نے اس نکتہ کو سمجھ لیا ہے، اس لیے بے حیائی، عریانی اور فحاشی کو عام کرنے کی ہر تدبیراختیار کر رکھی ہے اور قوم مسلم ان کے فریب سے بے خبر، اس بے حیائی میں پھنستی چلی جاتی ہے، جس کا انجام گردنوں سے اسلام کا طوق نکل جاناہے ۔”والمعصوم من عصمہ الله“․