بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بیت المقدس اور عالم ِاسلام

ہر باطل فرقہ اپنی آواز کو مؤثر بنانے کے لیے بظاہر قرآن کریم ہی کی دعوت لے کر اٹھتا ہے، بالخصوص موجودہ زمانے میں یہ فتنہ بکثرت پھیل رہاہے ، اس لیے استاذ المحدثین حضرت مولانا شیخ سلیم الله خان صاحب نوّر الله مرقدہ کی دیرینہ خواہش تھی کہ قرآن کریم کی اردو میں ایسی جامع تفسیر منظر عام پر لائی جائے جس میں فرق باطلہ کے مستدلات کا تفصیلی علمی تعاقب کرکے اہلسنت والجماعت کا مؤقف واضح کر دیا جائے، چناں چہ اس مقصد کے پیش نظر جامعہ کے شعبہ دارالتصنیف میں حضرت کے افادات مرتب کرنے کا سلسلہ جاری ہے ، الله تعالیٰ اپنی توفیق سے اسے پایہٴ تکمیل تک پہنچائے ۔ آمین۔ (ادارہ)

﴿ولقدصدقکم اللہ وعدہ﴾:اللہ تعالی نے نصرت کا جو وعدہ فرمایا اسے سچا کر کے ہی دکھایا، مسلمان ابتدا میں غالب ہی رہے ،کفار کا لشکر میدان جنگ چھوڑ کر بھاگنے لگا تھا، لیکن مسلمانوں کے باہمی اختلاف اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی خلاف ورزی کی وجہ سے منظر نامہ تبدیل ہو گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پچاس افراد پر مشتمل تیراندازوں کی جماعت پہاڑی درے پر متعین کر دی تھی اور انہیں حکم دیا تھا کہ ہار ہو یا جیت …تم اپنی جگہ نہ چھوڑنا، جب مشرکین میدان سے فرار ہونے لگے تو مسلمان مالِ غنیمت سمیٹنے لگے، درے پر متعین جماعت کے درمیان میدان جنگ میں فتح کا منظر دیکھنے کے بعد اختلاف ہو گیا، ایک گروہ نے کہا یہاں پر کھڑے رہنے کا مقصد پورا ہو گیا، جنگ ختم ہو چکی ہے، اب ہمیں نیچے اترکر اپنے بھائیوں کے ساتھ مالِ غنیمت کے جمع کرنے میں مدد کرنی چاہیے، صحابہ کرام کا یہ باہمی اختلاف اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان مبارک کے سمجھنے میں اجتہادی خطا اور اس کے نتیجے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم مبارک کی عدولی شکست کا سبب بن گئی۔

کیا صحابہ کرام دنیا کے طلب گار تھے؟
﴿منکم من یرید الدنیا﴾سے صحابہ کرام کی اس جماعت پر تنبیہ ہے جو مالِ غنیمت جمع کرنے کے شوق میں درے سے ہٹ کر آئی تھی، کیا وہ واقعی طلب گار دنیا تھے؟ روافض ایسی آیتوں سے یہی باور کراتے ہیں اور صحابہ کرام پرطنزو تعریض کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، یادرکھیے!
1..صحابہ کرام سے خطا اجتہادی سرزد ہوئی تھی۔
2..اللہ تعالی نے معا ف فرما کر آخرت کے عدم مواخذہ کا پروانہ جاری کردیا ہے۔
3..لیبتلیکم سے معلوم ہوا منشا قدرت آزمانا تھا کہ کون اس نازک موقع پر جنگ سے فرار ہو کر الگ ہو جاتا ہے اور کون مجتمع ہو کر کفار کے خلاف سینہ سپر ہو جاتا ہے
4..جو مقدس شخصیات ان عنایات کی مستحق قرار پائیں، وہ طالب دنیا نہیں ہوسکتیں۔
5.حابہ کرام کا درے کو چھوڑ کر مالِ غنیمت جمع کرنے کے لیے نیچے آنا بھی حصول ثواب کے لیے تھا، حفاظت مورچہ کے ثواب کے بعد کفار کی تخریب و تخویف کا باعث بننا ،ان کے اموال غنیمت کو جمع کرنابھی نیکی ہے، دنیا مقصود نہیں تھی، قرینہ اس پر یہ ہے مالِ غنیمت میں ہر شریک کا حصہ ہوتا ہے، خواہ جمع کے عمل میں شریک ہو یا نہ ہو اور جمع کرنے سے حصہ بڑھ نہیں جاتا، پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے کیوں فرمایا: ﴿منکم من یرید الدنیا﴾چوں کہ حصول غنیمت میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی ظاہری طور پر خلاف ورزی لازم آرہی تھی،اس لیے یہ عمل محمود نہ ہوا اور نکیر فرمائی اور چوں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سمجھنے میں خطاء اجتہادی ہوئی اس لیے مجرم بھی نہیں کہلائے جا سکتے۔ (تسہیل بیان القرآن، اٰل عمران ،ذیل آیت:152)

صحابہ کرام پر عنایاتِ خداوندی اور اعلان معافی
﴿ولقد عفا عنکم﴾: اس جملے میں صحابہ کرام کے اشرف و افضل ہونے کا اظہار ہو رہا ہے، اللہ تعالی نے بحیثیت انسان ان سے صادر ہونے والی لغزشوں کی مغفرت کا اعلان اپنے ابدی کلام میں فرما دیا تھا، تاکہ کوئی بد بخت،بغض صحابہ کرام کا مریض، ان کی لغزشوں سے اپنے موقف کی سچائی پر استدلال نہ کر سکے، نہ ان کی ذاتِ مبارکہ پر زبان طعن دراز کر سکے، نیز ان کی لغزشیں امتِ مسلمہ کے لیے خیر کا ذریعہ بنیں، احکا م معلوم ہوئے، تکمیل ِشریعت کا عملی ِنمونہ سامنے آیا، ان حکمتوں پر علماء نے مفصل کلام کیا ہے۔اللہ تعالیٰ صحابہ کرام کے درجات بلند فرمائے اوران کے وسیلے سے ہم گناہ گاروں کی مغفرت فرمائے۔

غم انسانی جذبات میں تحمل اور حوصلہ پیدا کرتا ہے
﴿اذ تصعدون…﴾مشرکین کے اچانک عقبی حملے نے مسلمانوں کو سنبھلنے کاموقع نہیں دیا، بھگدڑ مچنے کی صورت میں ہر شخص کا جدھر منھ تھا ادھر دوڑنے لگا، اس افراتفری کی وجہ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صرف نو صحابہ کرام باقی رہ گئے، جن میں سے سات کا تعلق انصار سے تھا، جو یکے بعد دیگرے شہید ہو گئے اور دو کا تعلق قریش سے تھااور وہ حضرت طلحہ اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی الله عنہما تھے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز پر صحابہ کرام متوجہ ہوئے اور آپ کے دفاع کے لیے لپکے، ان میں سب سے پہلے آنے والے شخص حضرت ابو بکر صدیق تھے، اس جانباز جماعت میں حضرت عمر بن الخطاب اور حضرت علی بھی شریک تھے،اللہ تعالی نے اہل ایمان کو غم پر غم سے دوچار کیا،ایک غم مالِ غنیمت کے ضائع ہونے کا تھا، دوسرا غم فتح کا شکست میں تبدیل ہونے کا تھا اور اس میں حکمت یہ تھی کہ اہل ایمان میں تحمل، برداشت، مصائب سے الجھنے اور ان کا مردانہ وار مقابلہ کا عزم پیدا ہو، عزیمت کے اس درجے تک پہنچنے کے بعد کسی چیز کے پانے میں مغلوب نہ ہوں اور کسی چیز کے کھو جانے پر دل برداشتہ نہ ہوں۔

پے درپے غموں کے بعد سکونت و اطمینان
مشرکین کے غیر متوقع حملے سے اہل ایمان میں جو طبعی خوف وہراس پھیلا تھا، اسے اللہ تعالی نے سکون و اطمینان، ثابت قدمی سے بدل دیا، اس روحانی سکون کا اثر مادی جسم پر بھی ہوا، جس سے مسلمانوں کو میدانِ جنگ میں نیند اور اونگھ آنے لگی، چناں چہ حضرت ابو طلحہ فرماتے ہیں: میں ان لوگوں میں سے تھا جن پر اونگھ طاری ہو گئی اور تلوار بار بار ہاتھ سے گر جاتی تھی، مزید فرماتے ہیں میں نے سر اٹھا کر دیکھا ہر شخص اپنی ڈھال کے نیچے ہچکولے کھا رہا تھا۔(جامع البیان، اٰل عمران ،ذیل آیت:154)

حضرت عثمان پر طعن اور اس کا جواب
﴿انما استزلھم الشیطان ببعضِ ما کسبوا…﴾ اس کا مصداق کون لو گ ہیں جنہیں شیطان نے بہکا کر میدانِ قتال سے دور کر دیا تھا؟ اس میں مختلف اقوال ہیں، لیکن ان میں ایک قول یہ بھی ہے جو ابن اسحاق سے مروی ہے کہ اس سے حضرت عثمان بن عفان، حضرت عقبہ بن عثمان، حضرت سعد بن عثمان اور دو انصاری صحابہ مراد ہیں،جو غزوہ احد میں مشرکین کے دوسرے حملے میں ازراہ تحفظ مدینہ کی جانب ”جلعب“ نامی پہاڑوں کے پاس چلے، پھر تین دن کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ نے کمالِ شفقت اور حسنِ اخلاق کا اعلی مظاہرہ کرتے ہوئے فرمایا: تم بہت دور چلے گئے تھے۔ ابن جریج فرماتے ہیں اللہ تعالی نے انہیں معاف فرما دیا، لہٰذا ان کی کوئی سزا نہیں۔(جامع البیان، اٰل عمران ،ذیل آیت:55)

تفسیر ثمر قندی میں ہے، غیلان ابن جریر بیان کرتے ہیں، حضرت عثمان اور حضرت عبدالرحمن بن عوف کے درمیان بحث ہوئی، حضرت عبدالرحمن بن عوف نے کہا آپ مجھے برا بھلا کہتے ہو حالاں کہ میں بدر میں حاضر ہوا اور آپ نہیں تھے، میں نے درخت کے نیچے بیعت کی (بیعت رضوان) اور آپ وہاں نہیں تھے اور آپ جنگ احد سے منھ موڑ گئے تھے، حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں کسی غزوے میں پیچھے نہیں رہا، جہاں تک بدر میں شرکت کا معاملہ ہے تو اس کی حقیقت یہ تھی کہ اس موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی بیمار تھیں، میں ان کی تیمارداری میں مصروف تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بدر کے مالِ غنیمت میں سے اتنا ہی حصہ دیا جتنا دوسروں کو دیا، رہا درخت کے نیچے بیعت کرنے کا معاملہ تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مکہ میں مشرکین سے مذاکرات کے لیے بھیجا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں ہاتھ اپنے بائیں ہاتھ پر مار کر فرمایا تھا یہ عثمان کی بیعت ہے، جہاں تک جنگ احد میں بھاگ جانے کی حقیقت ہے اسے اللہ تعالی نے معاف کر دیا ہے، اور یہ آیت نازل فرمائی ہے: (إن الذین تولوا منکم یوم التقی الجمعٰن …الی آخرہ)(تفسیر ثمر قندی، اٰل عمران، ذیل آیت:55)

یہی جوابات حضرت عبداللہ بن عمر نے ایک معترض کو دیے تھے، جنہیں امام بخاری نے اپنی جامع میں ذکر فرمایا ہے۔(صحیح البخاری، رقم الحدیث:3699)

﴿یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَکُونُواْ کَالَّذِیْنَ کَفَرُواْ وَقَالُواْ لإِخْوَانِہِمْ إِذَا ضَرَبُواْ فِیْ الأَرْضِ أَوْ کَانُواْ غُزًّی لَّوْ کَانُواْ عِندَنَا مَا مَاتُواْ وَمَا قُتِلُواْ لِیَجْعَلَ اللّہُ ذَلِکَ حَسْرَةً فِیْ قُلُوبِہِمْ وَاللّہُ یُحْیِیْ وَیُمِیْتُ وَاللّہُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِیْرٌ، وَلَئِن قُتِلْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ أَوْ مُتُّمْ لَمَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّہِ وَرَحْمَةٌ خَیْْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُونَ، وَلَئِن مُّتُّمْ أَوْ قُتِلْتُمْ لإِلَی اللہ تُحْشَرُونَ، فَبِمَا رَحْمَةٍ مِّنَ اللّہِ لِنتَ لَہُمْ وَلَوْ کُنتَ فَظّاً غَلِیْظَ الْقَلْبِ لاَنفَضُّواْ مِنْ حَوْلِکَ فَاعْفُ عَنْہُمْ وَاسْتَغْفِرْ لَہُمْ وَشَاوِرْہُمْ فِیْ الأَمْرِ فَإِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اللّہِ إِنَّ اللّہَ یُحِبُّ الْمُتَوَکِّلِیْنَ، إِن یَنصُرْکُمُ اللّہُ فَلاَ غَالِبَ لَکُمْ وَإِن یَخْذُلْکُمْ فَمَن ذَا الَّذِیْ یَنصُرُکُم مِّن بَعْدِہِ وَعَلَی اللّہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾․(آل عمران:160-156)

اے ایمان والو! تم نہ ہو ان کی طرح جو کافر ہوئے اور کہتے ہیں اپنے بھائیوں کو جب وہ سفر پر نکلے، ملک میں ہوں یاجہاد میں، اگر رہتے ہمارے پاس تو نہ مارے جاتے، تاکہ اللہ ڈالے اس گمان سے افسوس ان کے دلوں میں اور اللہ ہی جلاتا اور مارتا ہے اور اللہ تمہارے سب کام دیکھتا ہے، اور اگر تم مارے گئے اللہ کی راہ میں یا مر گئے تو بخشش اللہ کی اور مہربانی اس کی بہتر ہے، اس چیز سے جو جمع کرتے ہیں اور اگر تم مر گئے یا مارے گئے تو البتہ اللہ ہی کے آگے اکٹھے ہو گے تم سب۔ سو کچھ اللہ ہی کی رحمت ہے جو تو نرم دل مل گیا ان کو، اگر ہوتا تو تند خو، سخت دل تو متفرق ہو جاتے تیرے پاس سے، سو تو ان کو معاف کر اور ان کے واسطے بخشش مانگ اور ان سے مشورہ لے کام میں ،پھر جب قصد کر چکا تو اس کام کا تو پھر بھروسہ کر اللہ پر ،اللہ کو محبت ہے توکل والوں سے، اگر اللہ تمہاری مد د کرے گا تو کوئی تم پر غالب نہ ہو سکے گا اور اگر مدد نہ کرے تمہاری تو پھر ایسا کون ہے جو مدد کر سکے تمہاری اس کے بعد؟ اور اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے مسلمانوں کو۔“

منافقوں کے طور طریقوں سے بچنے کا حکم
غزوہ احد میں ستر صحابہ کرام کی شہادت اور عارضی شکست کی وجہ سے صحابہ کرام شکستہ دل تھے، اس موقع پر منافقوں کو اپنی دانش وری جھاڑنے کا موقع مل گیا، اگر یہ دینی سفر میں نہ جاتے اور جہاد کے لیے سفر بستہ نہ ہوتے، ہماری مان کر ہمارے پاس ہی ٹھہر ے رہتے تو آج یہ دن نہ دیکھنا پڑتا ،موت و قتل سے بچے رہتے۔ اللہ تعالی نے اہل ایمان کو ہمیشہ کے لیے متنبہ فرمایا دیا ہے کہ اس طرح کی باتیں کافروں کی ہوتی ہیں، مؤمن راضی برتقدیر رہتا ہے اور حکم الہی کی تعمیل میں آنے والے مصائب پر صبر کرتا ہے۔

﴿لاخوانہم…﴾ سے اخوت نسبی مراد ہے، مومن اور منافق کے مابین ایمانی اخوت نہیں ہوتی اور ﴿ضربوا فی الارض﴾ سے مطلق سفر مراد نہیں بلکہ دینی سفر مراد ہے، کیوں کہ تجارت اور دنیاوی منافع کی غرض سے سفر تو خود منافقین بھی کیا کرتے تھے، لیکن دینی غرض کے سفر سے انہیں چڑ تھی، سفر میں موت آنے کی صورت میں مغفرت اور رحمت کی خاص بشارت اس کے دینی ہونے پر قرینہ ہے،اللہ تعالی نے فرمایا: ﴿لیجعل اللہ علیٰ ذلک حسرة فی قلوبہم﴾․

اگر لیجعل کا ترکیبی تعلق”قالوا“ سے قر ار دیا جائے، تو پھر اس کا مطلب یہ ہو گا کہ راہ ِ الہی میں شہید ہونے والوں کے منافق رشتہ دار جب یہ کہتے ہیں کہ یہ ہماری وجہ سے مارا گیا، اگر ہم اے زبردستی روک لیتے تو یہ جان سے نہ جاتا، اللہ تعالی ان کی ایسی باتوں کو ان کے دردوغم اور حسرت میں اضافے کا ذریعہ بنا دیتا ہے کہ ہائے ہم نے ان کو کیوں نہ روکا۔

اور اگر ”لیجعل“ کا متعلق ”لا تکونوا“ قرار دیاجائے تو پھر اس کا مفہوم ہے اے ایمان والو! تم ان منافقوں اور کافروں کی طرح مت بننا، جب تم ان کی طرح باتیں نہیں کرو گے تو ان کے دلوں میں حسرت و افسوس کا درد اٹھتا رہے گا کہ ہماری دانش وری کو کوئی اہمیت نہیں دیتا۔ (التفسیر الکبیر، اٰل عمران، ذیل آیت رقم:156)۔

اگر میں یوں کر لیتا تو یوں نہ ہوتا….کہنے کی شرعی حیثیت
ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلا تقل لو أنی فعلت لکان کذا وکذا، ولکن قل قدراللہ وما شاء اللہ فعل، فإن ”لو“ تفتح عمل الشیطان․(صحیح مسلم، رقم الحدیث:2664) یوں نہ کہو اگر میں فلاں کام کر لیتا تو ایسے ایسے ہوجاتا، بلکہ یوں کہا کرو الله تعالی نے یہی مقدر کیا ہے اور اللہ تعالی جو چاہتا ہے کرتا ہے ، کیوں کہ” اگر“ (کا لفظ)شیطان کے عمل کو کھول دیتا ہے۔منافقین نے اسی تیقن کے ساتھ کہا کہ اگر یہ ہمارے پاس ہی رہ جا تے تو موت و قتل کا شکار نہ ہوتے۔ یہ منافقین کے عقیدہ تقدیر کی نفی پر دلالت کرتا ہے، مومن تقدیر پر عقیدہ رکھتا ہے، اس کے لیے یقین و اعتماد اور اعتقاد کے ساتھ یہ کہنا کہ ”اگر میں یوں کرلیتا تو یوں ہو جاتا، جائز نہیں ہے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لفظ ”اگر“ شیطان کے عمل کو کھول دیتا ہے۔ شیطان مختلف وساوس کے ذریعے اسے اللہ تعالی سے بدگمان اور تقدیر پر سے اس کا ایمان و اعتماد ہٹا دیتا ہے، البتہ بطور تقدیر کے اور تقدیر پر ایمان رکھتے ہوئے امکانی مطلوبہ نتیجہ پالینے کے احساس کے طور پر اس طرح کا جملہ کہے تو کوئی حرج نہیں۔(دیکھیے، المفحم لما اشکل من تلخیص کتاب مسلم:6/283، دار ابن کثیر مشق،إکمال المعلم بفوائد مسلم: 8/159، دارالکتب العلمیہ، بیروت(․

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے عمدہ اخلاق کا نمونہ
صحابہ کرام کے خطاء اجتہادی سے جو جانی و مالی نقصان ہوا ،بلکہ خود آپ صلی اللہ علیہ وسلم زخمی ہوئے، اس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلب مبارک پر غبار آیا ہو گا اور یہ خیال آیا ہو گا کہ آئندہ ان لوگوں سے مشورہ نہ کیا جائے، اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی، نہایت خوب صورت پیرائے میں آپ کے عمدہ اخلاق کو رحمت الہی کا فیض قرار دے کر بتایا گیا کہ اگر آپ تند خو اور سخت دل ہوتے تو آپ کے جانثار آپ سے دور ہوجاتے، پھر ان جانثاروں کی سفارش کی گئی کہ ان سے درگزرکیجیے، ان سے مشورہ لے کر ان کی دل جوئی کیجیے۔

صحابہ کرام سے مشورہ کرنے کے حکم کی حکمت
غزوہ احد میں کبار صحابہ کرام اور خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے مدینہ منورہ میں رہ کر لڑائی کرنے کی تھی، مگر نوجوانوں کی اکثریت مدینہ سے باہر لڑنے کی حامی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی چاہت پر فیصلہ کرتے ہوئے احد کے مقام پر پڑاؤ ڈالا اور قتال فرمایا، لیکن نتیجہ سترشہید اور عارضی شکست کی صورت میں ظاہر ہوا ،اس لیے آپ نے آئندہ صحابہ کرام سے مشورہ نہ کرنے کا خیال فرمایا۔ اس آیت میں حکم دیا گیا کہ آپ صحابہ کرام سے مشورہ کریں، مشورے کے بعد آپ جو طے کریں اس پر توکل کرتے ہوئے عمل کر گزریں۔

بعض اہل علم نے فرمایا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صاحب وحی تھے، سب سے زیادہ کامل العقل اور صاحب الرائے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوکسی کے مشورے کی حاجت نہ تھی، نہ ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے امور صحابہ سے مشورے پر موقوف تھے، یہاں مشورے کا حکم صحابہ کرام کی دل جوئی اور امت کی تعلیم کی غرض سے دیا گیا ہے۔