بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بیت المقدس اور عالم ِاسلام

بیت المقدس اور عالم ِاسلام

محدث العصر سید محمد یوسف بنوریؒ

قمری سال کے آخری ماہ ذی الحجہ1389 کے اواخر میں قاہرہ میں ”مجمع البحوث الاسلامیة“کی پانچویں کانفرنس منعقد ہوئی، اس دفعہ حکومت ِ پاکستان کی وساطت سے راقم الحروف کو کانفرنس میں شمولیت کی دعوت ملی، یعنی رسمی(سرکاری) طور پر پاکستانی مندوب کی حیثیت سے جاناپڑا۔

ہوا یہ کہ جنوری 70ء کے آخر میں اسلام آباد سے وزارتِ قانون کے سیکرٹری نے ٹیلیفون کیا کہ قاہرہ میں ایک علمی کانفرنس ہورہی ہے اور آپ کو پاکستانی نمائندہ کی حیثیت سے جانا ہوگا، میں نے عذر کیا کہ میں فروری 70ء کی 4/تاریخ کو حج بیت اللہ کا عزم کرچکا ہوں، اس لیے میں کانفرنس کی شمولیت سے معذرت خواہ ہوں۔ سیکرٹری صاحب کی طرف سے اصرار ہوا اور فرمایا کہ حجِ بیت اللہ سے واپس آکر تشریف لے جائیں۔ میں نے کہا: یہ بھی مشکل ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ ہم نے تاریخ معلوم کرنے کے لیے ٹیلیگرام دلوایا ہے، یہ ہوسکے گاکہ آپ جدہ سے قاہراہ براہ راست چلے جائیں، چناں چہ دوبارہ ٹیلیفون آیا اور تاریخ معلوم ہوئی کہ 27/فروری 1970ء،21/ذی الحجہ1389ھ کو کانفرنس شروع ہوگی اور جب ٹکٹ آجائے گا تو پاکستانی سفارت خانہ جدہ بھیج دیا جائے گا، پاکستانی سفیر مقیم جدہ سے رابطہ قائم رکھیں اور ٹکٹ وصول کر کے قاہرہ چلے جائیں ۔میں نے عرض کیا کہ: یہ ممکن ہے۔ 26/فروری70ء کو پاکستانی سفیر مقیم جدہ سے ملا، معلوم ہوا کہ ایک خط آیا ہے کہ بنوری کو قاہرہ جانے پر آمادہ کریں، ٹکٹ جب پہنچ جائے گا فوراً بھیج دیں گے اور آپ فوراً اُن سے رابطہ قائم کر کے پہنچادیں۔ لیکن26/فروری تک نہ پہنچنے پرمزید تاخیر مشکل تھی، اس لیے سفیر صاحب کے مشورے سے طے پایا کہ اس ٹکٹ کے انتظار کیے بغیر قاہرہ پہنچ جانا چاہیے(بعد میں معلوم ہوا کہ سفارت خانہ کی عمارت سے نکلتے ہی ٹکٹ پہنچ گیا تھا، لیکن قیام گاہ نہ معلوم ہونے کی وجہ سے وہ نہ پہنچا سکے)۔

حج کا موسم تھا، اس زمانہ میں ہوائی جہازوں پر رش ہونے کی وجہ سے عین وقت پر سیٹ کا ملنا بہت دشوار ہوتاتھا، لیکن ”الوکالة الحسینیة“ سے مراسم وتعلقات کی وجہ سے یہ مرحلہ بآسانی طے ہوا اور27-28کی درمیانی شب میں قاہرہ پہنچ گیا۔

یہ کانفرنس تمام سابقہ مؤتمرات سے زیادہ اہم تھی اور نظم ونسق کے اعتبار سے بھی ممتاز تھی، ہر نمائندہ کے لیے مستقل کار تھی اور اس پر مثلاً وفدِ پاکستان کی چٹ لگی ہوئی تھی اور مندوب کے ساتھ ایک مرافق عالم ہوتا تھا کہ جب کسی کام کی ضرورت پیش آئے، مثلاً:ٹکٹ، ویزہ وغیرہ، وغیرہ تو وہ اِن کاموں کو انجام دے۔

جمعہ 27/ فروری سے کانفرنس کا افتتاح ہوا اور جمعرات 5/مارچ 70ء کو یہ کانفرنس ختم ہوگئی، لیکن جمعہ کو عام تعطیل ہونے کی وجہ سے کوئی خاص کام نہیں ہوا تھا، صرف جامع ازہر میں تمام مندوبین نے نماز جمعہ ادا کی تھی اور شام کو ایک بڑے اور شان دار ہوٹل میں استقبالیہ دیا گیا تھا۔ 28/فروری 70ء کی صبح10/بجے سے باقاعدہ کانفرنس شروع ہوئی، جس میں چالیس (40) ملکوں کے ایک سو نمائندوں نے شرکت کی، ”شیخ الأزھر“اور”وزیر شئون الأوقاف والأزھر“ اور ”مجمع البحوث الاسلامیة“کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالحلیم محمود نے مؤثر مقالات پڑھے۔اسی روز شام کو اور اگلے روز”کلمة الوفود“کے عنوان سے نمائندوں کو اپنے تأثرات کے اظہار کا موقع دیا گیا کہ جو کہنا چاہیں کہیں۔

یوں تو عام طور سے”مجمع البحوث“ کی جو کانفرنسیں ہوتی رہی ہیں ان میں زیادہ تر علمی مقالات جو ”مجمع البحوث“ کے اعضاء (اراکین) لکھ کر لاتے ہیں پڑھے جاتے ہیں اور مندوبین کو ان پر بحث ومباحثہ کا حق دیا جاتا ہے، لیکن اس دفعہ تمام کانفرنس میں فلسطین اور قدس کا مسئلہ خاص طور پر پیش نظر تھا، ایسا محسوس ہوتا تھا کہ اس کانفرنس کااصلی منشا یہی ہے کہ تمام عالمِ اسلامی کی رائے اس سلسلہ میں معلوم کی جائے اور اس مشکل کے حل کے لیے ان کے ذہنوں میں جو تجویزیں ہیں وہ معلوم کی جائیں اور اس طرح تمام عالم اسلام کو ان نمائندوں کے ذریعہ بیت المقدس کے مسئلہ پر متفق کیا جائے، اسی لیے اکثر مقالات کا تعلق اسی موضوع سے تھا۔…… مقالات کے موضوعات کا علم ہونے کے بعد طبعاً مندوبین کو بھی اپنے ملکوں کی طرف سے اسی موضوع پر اظہارِ خیال ضروری تھا، چناں چہ اپنی مملکتِ خدادادپاکستان کی طرف سے راقم الحروف نے بھی اسی موضوع پر اظہارِ خیال کیا، جس کاترجمہ وخلاصہ حسب ذیل ہے:

جنابِ صدر اور معزز حاضرین!

میں جمہوریہ عربیہ کا عموماً اور ادارہ”مجمع البحوث لاسلامیة“ کا خصوصاً شکر گزار ہوں ، جن کی مساعی سے ہمیں اس خالص اسلامی مسئلہ پر اظہارِ خیال کا موقع ملا، میں اپنی حکومت مملکتِ اسلامیہ جمہوریہ پاکستان، اس کے باشندوں کی طرف سے،یعنی حکومت اور پبلک دونوں کی طرف سے ہدیہ شکر پیش کرتا ہوں اور واضح الفاظ میں اعلان کرتا ہوں کہ بیت المقدس کے غاصبانہ قبضہ سے تمام عالمِ اسلامی کو بے حد صدمہ ہے اور اس صدمے میں ملتِ پاکستان کسی عربی مملکت سے پیچھے نہیں، بلکہ احتجاج کے طور پر جلسوں اور جلوسوں کے لحاظ سے شاید آگے ہو، مجاہدین ”الفتح“ ہمارے ملک میں پہنچ چکے ہیں اور بیشتر مساجد میں جمعہ کے دن مسلمان دل کھول کر اُن کی اعانت کرتے ہیں، جامع مسجد نیو ٹاؤن کراچی میں راقم الحروف بھی اس تعاون میں حصہ لیتا رہا ہے اورمدرسہ عربیہ اسلامیہ کے فاضل اساتذہ نے نہایت مؤثر انداز میں ان کی عربی تقریروں کی اردو زبان میں ترجمانی کی ہے۔

محترم حضرات!میرے خیال میں بیت المقدس کے مسئلہ کا حل صرف ایک ہی ہے اور وہ ہے اسلامی جہاد، لیکن اسلامی جہاد کے لیے جن اُمور کی ضرورت ہے، میرے ناقص خیال میں وہ حسب ذیل ہیں:

اولاً: اس جہاد کا مقصد قومیت، وطنیت، جنسیت سب سے بالاتر ہونا چاہیے اور واحد مقصد صرف اعلائے کلمة اللہ ہونا چاہیے۔

ثانیاً: حتی المقدور اسباب ووسائل اور سامانِ جنگ مہیا کرنے کے بعد اعتماد صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہو، نہ کہ اسباب ووسائل پر۔

ثالثاً: اسلامی جہاد میں استعماری طاقتوں میں سے، خواہ مغرب میں ہوں یا مشرق میں، ان دونوں میں سے کسی پر بھی اعتماد کرنے کے بجائے صرف اور محض حق تعالیٰ کے اس کلمہ پر توکل واعتماد کرنا ہوگا جس کی طرف قرآن کریم نے اشارہ کیا ہے:”لا شرقیة ولا غربیة“۔

رابعاً:ہماری زندگی میں مغربی تہذیب کے زہریلے اثر سے جو تعیُّشات سرایت کر گئے ہیں، ان کو ایک قلم چھوڑنا ہوگا، سادی زندگی، سادی معاشرت اختیار کرنی ہوگی، جب تک عیش وعشرت کی یہ زندگی ختم نہ ہوگی کام یابی موہوم ہے۔

خامساً:قرآن کریم نے جس آیت کریمہ:﴿وَأَعِدُّواْ لَہُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَیْْلِ تُرْہِبُونَ بِہِ عَدْوَّ اللّہِ وَعَدُوَّکُمْ وَآخَرِیْنَ مِن دُونِہِمْ لاَ تَعْلَمُونَہُمُ اللّہُ یَعْلَمُہُمْ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَیْْء ٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ یُوَفَّ إِلَیْْکُمْ وَأَنتُمْ لاَ تُظْلَمُونَ﴾․(الانفال:60)میں سامان جہاد کی تیاری-جس میں جہاد بالمال بھی شامل ہے۔(اس کی تفصیل زبانی بیان کی) کا حکم دیا ہے، اس کے آخر میں ارشاد ہے:

﴿وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَیْْء ٍ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ یُوَفَّ إِلَیْْکُمْ وَأَنتُمْ لاَ تُظْلَمُون﴾میں سمجھتا ہوں کہ اس آیت کریمہ میں یہ اشارہ بھی ہے کہ اگر تم جہاد فی سبیل اللہ کرو گے تو اس کے پورے پورے نتائجِ حسنہ پاؤگے اور کوئی ظالم طاقت تم پر مسلط نہ ہوسکے گی، لہٰذا کسی ظالم طاقت کاہم پر مسلط ہونا اس کی دلیل ہے کہ ہم نے کما حقہ جہاد فی سبیل اللہ کا فریضہ انجام نہیں دیا۔ میری دعا اور آرزو ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اعلا ئے کلمة اللہ کے لیے صحیح اسلامی جہاد کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

چنانچہ ”مقترحات من کلمة السید محمد یوسف البنوري وفد باکستان“ کے عنوان سے اس تقریر کا چھپا ہو ا خلاصہ عربی میں کانفرنس کے اگلے اجلاس میں تقسیم کیا گیا۔

کانفرنس کے اختتام کے بعد جمال عبدالناصر سے گورنمنٹ ہاؤس میں مندوبین کی ملاقات مقرر تھی، چناں چہ تمام مندوبین اپنی اپنی کاروں میں تنہا- اس موقع پر جو مرافقین مقرر تھے ان کو بھی علیحدہ کر دیا گیا۔ جمال عبدالناصر سے ملاقات کے لیے گئے، ملاقات ہوئی اور صدر موصوف نے سب سے پر تپاک مصافحہ کیا، اس اثناء میں جو شخص ان سے کچھ کہنا چاہتا تھا کہتا بھی تھا اور بہت اطمینان سے وہ سنتے بھی تھے۔ راقم الحروف نے ان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے متنبہ کیا کہ اگر صرف حق تعالیٰ کی ذات کی طرف اور اس کے دین کی تائید کی طرف توجہ ہوگی تو غیبی امداد ضرور آئے گی: ﴿إِن تَنصُرُوا اللَّہَ یَنصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ أَقْدَامَکُمْ﴾․(محمد:7)

”اگر تم اللہ تعالیٰ کے دین کی امداد کرو گے تو اللہ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمادے گا۔“

ملاقات کے بعد جمال عبدالناصر نے مختصر سی تقریرکی، جس کا حاصل یہ تھا:”میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ مصر آئے اور بیت المقدس کے استرداد (واپسی) کے لیے ہمدرد انہ غور وخوض کیا، جو قراردادیں آپ حضرات نے پاس کی ہیں، وہ میں نے پڑھ لی ہیں، ضرورت اس بات کی ہے کہ ان تجاویز کو عملی جامہ پہنایا جائے، اس وقت جو ہماری کوششیں کار فرما ہیں، وہ مشکل کے حل کرنے کے لیے کافی نہیں ہیں۔ ہمارا مقابلہ تنہا اسرائیل سے نہیں ہے، بلکہ پس پردہ بہت بڑی طاقت ور حکومت امریکہ سے ہے،جو اسرائیل کو ہر طرح امدادپہنچارہی ہے، ابھی کچھ دن ہوئے کہ جدید ترین بمبار طیارے امریکہ نے اسرائیل کو دیے ہیں، دنیا کے تمام یہودی اسرائیل کی کافی امداد کررہے ہیں، پانچ سو ملین ڈالر کا چندہ اسرائیل کو ابھی ابھی پہنچاچکے ہیں اور مزید پانچ سو ملین ڈالر کی امداد پہنچائی جانے والی ہے، اس لیے مسلمانوں کو اور تمام عالم اسلام کو بھی اسی طرح اس عظیم مقصد کی طرف متوجہ ہونے کی ضرورت ہے، یہ مسئلہ تنہا عرب قوموں کا نہیں، تمام عالم اسلام کا ہے، بلکہ عیسائیوں کا بھی ہے، اس لیے کہ دوہزار عیسائیوں کو بھی قدس سے نکلنا پڑا ہے، جو لوگ پناہ گزین بن کر ہمارے ملک میں آئے ہیں ان میں عیسائی بھی کافی ہیں۔ ضرورت ہے کہ تمام مسلمان متحد ہوکر ہماری طرح امداد واعانت کریں، تاکہ ہم اسرائیل کے مقابلہ کے لیے جدید ترین اسلحہ مہیا کرسکیں، اگر مسلمانوں نے کما حقہ توجہ کی تو کچھ بعید نہیں کہ آئندہ سال اس کانفرنس کے موقع پر یہ حالات بدل چکے ہوں گے“۔

آخر میں جمال عبدالناصر نے مندوبین کے اعزاز کے طور پر اپنے ساتھ ہر ایک کا یاد گار فوٹو کھنچوانے کے لیے کہا۔ راقم الحروف کی جب باری آئی توصف سے علیحدہ ہو کر پیچھے کرسی پر جابیٹھا، دو شخص آئے کہ جمال عبدالناصربلارہے ہیں کہ فوٹو لیا جائے، میں نے معذرت کی اور کہا کہ میں اس کو صحیح نہیں سمجھتا اور میرے نزدیک اس کی کوئی دینی قیمت بھی نہیں، اس لیے معذرت خواہ ہوں۔ اگلے روز پہلی فرصت میں قاہرہ سے جدہ کے لیے سیٹ مل گئی اور قاہرہ سے جدہ ہو کر مدینہ طیبہ پہنچا اور مدینہ سے مکہ مکرمہ۔ غرض جو سفر درمیان میں نا تمام رہا تھا، پورا کر کے مراجعت بالخیر ہوئی، وللّٰہ الحمد․

خوشی ہوئی کہ عین اس وقت جب کہ قاہرہ کانفرنس ختم ہوئی، جدہ میں اسلامی ممالک کے وزراء خارجہ کی کانفرنس منعقد ہوئی اور کثرت رائے سے طے پایا کہ ممالک اسلامیہ کا ایک مشترکہ پلیٹ فارم اور مشترکہ سیکرٹریٹ، جس کے ذریعہ تمام مشترکہ اسلامی مسائل حل کیے جائیں ،قائم کیا جائے۔ رباط کانفرنس میں یہ تجویز پاس ہوگئی اور اس کی تشکیل کے انتظامات بھی شروع ہوگئے۔ مزید خوشی کی بات یہ ہے کہ ہماری مملکت کے ایک معزز وزیر نے اس سلسلہ میں قابلِ قدر کردار ادا کیا اور تمام مندوبین نے اس کی تحسین کی۔ شام وعراق کی عدمِ شمولیت سے افسوس ہوا، اِن حکومتوں کا عدمِ اشتراک ان کی نیتوں کی غمازی کررہا ہے۔

آج سب سے بڑا فتنہ یہی ہے کہ اکثر ملوک وامراء کے دلوں میں شقاق ونفاق بھرا ہواہے،﴿تحسبھم جمیعا وقلوبھم شتی﴾ کا مصداق ہیں، اس لیے اعداء کے دلوں میں اُن کی ہیبت اور رعب ختم ہوگیا۔

دوسرا فتنہ علماء امت کا اختلاف ہے، جس کی وجہ سے عوام کے دلوں سے علماء کی عظمت ومحبت نکل گئی، بلکہ دین سے برگشتہ ہورہے ہیں، بلا تخصیص تمام علماء پر اس کی مسؤلیت (ذمے داری) عائد ہوتی ہے، ابھی وقت ہے، کاش! اب بھی علمائے اُمت متفق ومتحد ہو کر تمام باطل قوتوں کی سر کوبی کے لیے متحد ہوجائیں اور صرف اسلام کے جھنڈے کے نیچے جمع ہونے کی اُمت دعوت دیں۔
وما علینا إلا البلاغ المبین