بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بھنڈی کے غذائی خواص

بھنڈی کے غذائی خواص

محترمہ نسرین شاہین

بھنڈی بے شمار طبّی فوائد کی حامل سبزی ہے، جس کی وجہ سے ماہرین نے اسے ہیرا سبزی قرار دیا ہے۔ مصر میں اس کی ایک خاص ڈش ”ناف“ تیار کی جاتی ہے۔ بھنڈی لیس دار سبزی ہے، جو نہ صرف انسانی صحت کے لیے فائدہ مند ہے، بلکہ اس سے کئی بیماریوں کا علاج بھی ممکن ہے۔

ابتدا میں بھنڈی ایتھوپیا میں اُگائی گئی تھی۔ یہ سبزی وہاں سے شمالی افریقا، پھر عرب اور آخر میں ہندوستان پہنچی۔ اسے قدیم مصر میں بھی کاشت کیا جاتا تھا۔ اسپین کے ایک مسلمان ادیب کی تحریروں میں بھنڈی کے ابتدائی حوالے ملتے ہیں۔ اس نے1216ء میں مصر کا دورہ کیا تھا۔ وہاں اس نے بھنڈی کے پودے لگے ہوئے دیکھے، جن کا اس نے اپنی تحریروں میں تفصیل سے تذکرہ کیا ہے۔ اس کے مطابق مصر کے باشندے کچی پھلیاں کھاتے ہیں اور ان سے کھانا بھی تیار کرتے ہیں۔

امریکیوں نے سترہویں صدی میں پہلی بار بھنڈی دیکھی تھی، جسے لوزیانا میں رہنے والا ایک فرانسیسی پناہ گزین اپنے ساتھ لایا تھا۔1652ء میں برازیل کے لوگ بھنڈی کے پودوں سے واقف ہو چکے تھے۔ امریکا میں سُوپ بنانے والی بڑی کمپنیوں کے لیے ہزاروں ٹن بھنڈیاں کاشت کی جاتی ہیں۔ اسے ایشیا اور افریقہ کے بیش تر ممالک میں بھی کاشت کیا جاتا ہے۔ بھنڈی پاکستان اور ہندوستان کے لوگوں کی مرغوب غذا ہے۔

بھنڈی ایک جھاڑی نما پودا ہے، جس کی اونچائی120 سینٹی میٹر ہوتی ہے۔ اس کی پتیاں دل کی شکل کی ہوتی ہیں۔ بھنڈی سبز رنگ کی ہوتی ہے، مگر اس کے ڈنٹھل کا رنگ زردی مائل سبز ہوتا ہے۔ بھنڈی کی شکل مخروطی انگلیوں جیسی ہوتی ہے۔ اس میں لعاب پیدا کرنے والا مادہ ہوتا ہے، اسی لیے اس کا ذائقہ لعاب دار او رپھیکا ہوتا ہے۔

بھنڈی کی دنیا میں 8 سے 10 اقسام پائی جاتی ہیں۔ کچھ علاقوں میں یہ سبز کے علاوہ سرخ رنگ میں بھی ہوتی ہے او را س کا سرخ رنگ پکانے کے بعد ختم ہوجاتا ہے، لیکن سرخ رنگ ہونے کے باعث اس کے ذائقے میں کوئی کمی نہیں آتی۔ بھنڈی کی صرف کچی پھلیاں ہی کھائی جاتی ہیں ، خواہ انہیں پکایا جائے یا بُھونا جائے۔ بعض ممالک میں بھنڈی کی پھلی کے بجائے اس کے بیج کھائے جاتے ہیں۔ بھنڈی کے بیجوں سے تیل بھی نکالا جاتا ہے، جو کھانا پکانے کے لیے بہترین تصور کیا جاتا ہے۔ بھنڈی کے بیج بھونے بھی جاتے ہیں اورانہیں کافی کے متبادل کے طور پراستعمال کیا جاتا ہے۔ بھنڈی کی سال میں عموماً دو فصلیں ہوتی ہیں۔ پہلی فصل کا بیج فروری یا مارچ میں بویا جاتا ہے۔ دوماہ میں یہ پھل دینے لگتی ہے۔ فصل جولائی، اگست تک رہتی ہے۔ دوسری فصل کا بیج بارش کے موسم میں بویا جاتا ہے، جو اکتوبر ،دسمبر میں تیار ہو جاتی ہے۔

بھنڈی کی کاشت پاکستان کے تمام علاقوں میں کی جاتی ہے، خاص طور پر پنجاب، سندھ اور سرحد میں اس کی کاشت زیادہ ہوتی ہے۔ جاپان، امریکا اور یورپ کے گرم علاقے، بنگال، میکسیکو، نائجیریا، سوڈان، ویت نام ، چین اور ہندوستان، غرض کہ یہ دنیا بھر میں کاشت کی جاتی ہے۔ اس کا مزاج سردتر ہے، مگر بعض حکما کے نزدیک معتدل ہے۔

بھنڈی کا پودا تیزی سے بڑھتا ہے۔ گرمی کا موسم اس کے لیے زیادہ موزوں نہیں ہوتا۔ پھلیاں تین سے پانچ روز میں تیار ہو جاتی ہیں۔ بھنڈی گھروں میں بھی کاشت کی جاسکتی ہے،اس کی بہت اچھی پیدوار ہوتی ہے۔ بھنڈی کو موسم گرما میں ٹھنڈی آب وہوا میں کھلے آسمان تلے اُگایا جاسکتا ہے، لیکن بہترین نتائج کے لیے اسے کسی سایہ دار جگہ میں اُگانا چاہیے۔

بھنڈی کے غذائی اجزا میں نمی 88 فی صد، چکنائی2.2 فی صد، ریشہ1.2 فی صد، نشاستہ (کاربوہائڈریٹ)7.7 فی صد، کیلشیم5.9 فی صد، فاسفورس،5.8 فی صد، فولاد 1.5 گرام، میگنیزئیم38 گرام، پوٹاشئیم220 گرام، سوڈئیم1 ملی گرام، جب کہ تانبا اور آیوڈین قلیل مقدار میں ہوتی ہے۔ اس میں گلوکوس، لیکٹوز (LACTOSE)، مالٹوز(MAL TOSE)، سکروز (SUCROSE)، فرکٹوز (FRUCTOSE)، او رحیاتین الف اور ج (وٹامنز اے اور سی) پائی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ اس میں مانع تکسید اجزا(ANTIOXIDNTS) بھی پائے جاتے ہیں۔ بھنڈی کے فوائد دیکھتے ہوئے غذائی ماہرین اسی لیے اسے ہیراسبزی بھی کہتے ہیں۔

بھنڈی طبّی خواص کی حامل سبزی ہے۔ اس کے غذائی اجزا نہ صرف انسانی صحت کے لیے مفید ہیں، بلکہ یہ کئی بیماریوں کا علاج بھی ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق بھنڈی کھانے سے ذہنی خلفشار او رجسمانی کم زوری کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ معدے کا زخم (السر) او رجوڑوں کے درد میں کمی آتی ہے۔ بھنڈی کھانے سے پھیپڑوں کے تعدیے (انفیکشن) اور گلے کی خراش بھی جاتی رہتی ہے۔ بھنڈی معدے کے مرض سے بچاؤ کے ساتھ کو لیسٹرول کم کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہوتی ہے۔ یہ سبزی جسم میں مدافعتی نظام کو مضبوط کرنے میں بھی معاون ہے۔ بھنڈی میں ریشے کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے، جو خون کی شکر کو قابو میں رکھنے میں موثر ہے۔

بھنڈی میں نشاستے(کاربوہائڈریٹ) کی مقدار زیادہ نہیں ہوتی، جیسا کہ آلو وغیرہ میں ہوتی ہے۔ اس کو کھانے سے خون میں شکر کی مقدار نہیں بڑھتی، اس لیے یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بہترین ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ بھنڈی کھانے سے زکام سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ بھنڈی میں ایسے غذائی اجزا شامل ہیں، جو منھ کے سرطان سے بچاتے ہیں۔ بھنڈی وہ واحد سبزی ہے، جس میں حیاتین ج بڑی مقدار میں موجود ہے۔ اس میں حیاتین الف بھی ہوتی ہے، جس سے آنکھوں کی روشنی تیز او رجِلد کی صحت بہتر ہوتی ہے۔

حیاتین کے علاوہ کئی نمکیات بھی بھنڈی میں پائے جاتے ہیں، جیسا کہ فولاد، کیلشیم، میگنیزئیم وغیرہ۔ فولاد سے خون بنتا ہے اور کیلشیم سے ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں۔ ماہرین صحت کہتے ہیں کہ بھنڈی کو اپنی روز مرہ کی غذاؤں میں شامل کرکے بے شمار فوائد حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ بھنڈی سے وزن گھٹانے میں بھی مدد ملتی ہے۔ یہ سبزی کئی بیماریوں سے دور رکھتی ہے۔ بھنڈی کو چاہے سالن کے طور پر پکایا جائے، تیل میں فرائی کیا جائے یا بھون کر کھایا جائے، ہر لحاظ سے مفید ہے۔

ترکی میں بھنڈی کے پودے کے پتوں کو طبی مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ پتوں کو کچل کر ان کا پیسٹ بنایا جاتا ہے، جو جلن اور درد کم کرنے کے لیے کام آتا ہے۔ بھنڈی سارا سال ہی دست یاب ہونے والی سبزی ہے۔ اسے گھروں میں گملوں اور صحن میں بھی اُگایا جاسکتا ہے۔