بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بد گمانی … معاشرتی بگاڑ کی اصل جڑ!

بد گمانی … معاشرتی بگاڑ کی اصل جڑ!

مولانا طارق نعمان گڑنگی

معاشرے کے اندر مختلف قسم کی برائیاں پائی جاتی ہیں، ان برائیوں کی جڑ کو ختم کرنا ہو گا، تب جاکر ہمارا معاشرہ درست ہو گا اور امن وسلامتی نظر آئے گی۔ آج دنیا میں تمام مذاہب امن وسلامتی کے دعوے پیش کرتے ہیں ،بیشتر تحریکیں اور تنظیمیں فروغ انسانیت اور الفت ومحبت کا دم بھرتی ہیں، بلکہ ان چیزوں کو بطور شناخت اور لیبل پیش کرتی ہیں ،مگرحقیقت یہ ہے کہ ان ساری چیزوں کا جو تصور مذہب اسلام میں موجود ہے وہ نہ کسی اور مذہب میں پایا جاتا ہے اور نہ دنیا کی کسی تحریک او رتنظیم میں۔ کسی بھی مرض کا جو علاج آسمانی نسخہ میں موجود ہو گا وہ کسی بھی انسان کے وضع کردہ نسخہ میں نہیں ہو سکتا۔

کوئی نہیں جانتا کہ امن وسلامتی دراصل باہمی مضبوط روابط، انسانیت اور آپسی محبت وانسیت سے فروغ پاتی ہے۔ جس معاشرے میں بھی انسانیت اور آپسی محبت وانسیت کا جس قدر وجود ہو گا اسی کے بقدر وہاں امن وسلامتی کے آثار ملیں گے او رجس سر زمین پر یہ چیزیں مفقود ہوں گی وہاں اسی کے بقدر امن وسلامتی کا وجود بھی خطرے میں ہو گا۔

یہ عام مشاہدے کی بات ہے کہ جس محلہ اور گاؤں میں لوگوں کے باہمی تعلقات مستحکم ہوتے ہیں وہاں آپسی محبت وانسیت کی حکم رانی ہوتی ہے، وہاں انسانیت کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں او رجہاں انسانیت کا وجود ہوتا ہے وہاں لوگ ایک دوسرے کا پاس ولحاظ رکھتے ہیں، ایک دوسرے کی عزت وآبرو کی مکمل حفاظت کرتے ہیں، وہاں پر کسی پر کیچڑاچھالنا تو دور کی بات بلکہ دوسرے پر اچھالے گئے کیچڑ کو صاف کرنے کی مکمل کوشش کرتے ہیں اورجس معاشرے میں یہ خوبیاں پیدا ہو جاتی ہیں وہی معاشرہ امن وسلامتی کا گہوارہ کہلاتا ہے۔ اس کے برعکس جس معاشرے میں آپسی کشیدگی ہو، دلوں میں بغض وحسد کا آتش فشاں پھٹ رہا ہو، جہاں پر بدظنی کی لہر پائی جاتی ہو، وہاں آپسی محبت وانسیت کی روح مر جاتی ہے اور اخوت وبھائی چارگی کا جذبہ ختم ہوجاتا ہے ایسے معاشرے میں پھر انسانیت کا تصور عبث ہے او راس کی امید حماقت نہیں تو او رکیا ہے ؟ بلاشبہ اس معاشرے میں جہنم کا ماحول نظر آئے گا اور وہاں امن وسکون کا دور دور تک نام ونشان نہ ہو گا، بلکہ وہاں رنجشوں کی بھٹی ہر وقت دہکتی ہو گی، جو تعلقات کو جلا کر خاکستر کرنے کے لیے کافی ہے۔ وہاں نفرت وبدظنی کی آندھی ہو گی ،جو اخوت وبھائی چارگی کو بنیاد سے ختم کرنے کے لیے کافی ہے۔ وہاں ایک دوسرے کے پیچھے پڑنے کا ایسا گھناؤنا ماحول ہو گا جس سے انسانیت پناہ مانگتی ہو گی۔ انہی امراض سے بچنے کے لیے قرآن حکیم نے بدظنی سے بچنے کا حسین نظریہ پیش کیا ۔ارشاد باری تعالی ہے: ترجمہ: اے ایمان والو! بہت سی بد گمانیوں سے بچو۔ یقین مانو کہ بعض بد گمانیاں گناہ ہیں۔ اور بھید نہ ٹٹولا کرو اور نہ تم میں سے کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی بھی اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانا پسند کرتا ہے؟ تم کو اس سے گھن آئے گی اور الله سے ڈرتے رہو، بے شک الله توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے۔ (سورة الحجرات) حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: تم بد گمانی سے بچو، اس لیے کہ بد گمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے۔ ( بخاری، مسلم)

قرآن وحدیث نے آخر بدظنی سے اس قدر دور رہنے کی تاکید کیوں کی ہے ؟ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ بدظنی ایک بری چیز ہے اور اس سے بڑے بڑے خطرات وجود میں آتے ہیں۔ یہ تاکید اس لیے بھی کی گئی تاکہ صالح معاشرے کی تشکیل ممکن ہو سکے۔ یہ تاکید اس لیے بھی کی گئی کہ امن وسکون کا ماحول بن پائے۔ چناں چہ اسلام نے متعدد طرق سے لوگوں کو حسن ظن کی ترغیب دی اور بدظنی کی مذمت کرتے ہوئے اس کی ہلاکت خیزیوں کو اجاگر کیا، تاکہ لوگ اس سے بچنے کی ہر ممکن تدبیر اختیار کریں۔ ظن کے معنی ہیں: گمان کرنا۔سوء ظن کا مطلب اہل خیر او راہل صلاح وتقویٰ کے بارے میں ایسا گمان رکھنا جو بے اصل ہو، اسی لیے اس کا ترجمہ بدگمانی سے کیا جاتا ہے۔ حدیث میں اس کو کذب الحدیث ( سب سے بڑا جھوٹ) کہہ کر اس سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: تم بدگمانی سے بچو، کیوں کہ بد گمانی سب سے بڑا جھوٹ ہے اور عیبوں کی ٹوہ مت لگاؤ اور نہ جاسوسی کر واور نہ دوسرے کا حق غصب کرنے کی حرص اور اس کے لیے کوشش کرو، نہ ایک دوسرے سے حسد کرو، نہ باہم بغض رکھو، نہ ایک دوسرے کو پیٹھ دکھاؤ اور اے الله کے بندو! تم بھائی بھائی ہو جاؤ۔ (امام مسلم رحمہ الله نے اس حدیث کو باب تحریم الظن کے تحت ذکر کیا ہے۔ یعنی بد گمانی کو حرام کاموں میں شمار کیا ہے ) عموماً بد گمانی کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کی عیب جوئی میں لگ جائے ہیں، جب کہ عیب جوئی نہایت گٹھیا خصلت ہے۔

ایک مسلمان کی صفت یہ ہے کہ جب کسی کے اندر کوئی عیب دیکھ بھی لے تو اس کو چھپانے کی کوشش کرے۔ نبی پاک صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: جو کسی کا عیب چھپائے گا تو الله تعالیٰ قیامت کے دن اس کا عیب چھپائے گا۔ مگر جو شخص کسی کے عیب ظاہر کرنے میں لگ جاتا ہے تو وہ گویا فتنہ وفساد کو جنم دینے میں لگ جاتا ہے۔

حضرت امیر معاویہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا، آپ فرماتے تھے کہ : اگر تو مسلمانوں کے عیبوں کی تلاش میں رہے گا تو ان کے اندر بگاڑ پیدا کرے گا یا قریب ہے کہ تو ان کے اندر فساد پیدا کر دے گا۔ (ابوداؤد)

قرآن وسنت سے ہمیں یہی معلوم ہوا کہ اصل بگاڑ کی جڑ بدگمانی ہے، بدگمانی ہی کی وجہ سے سب خرابیاں وجود میں آتی ہیں ،قتل وغارت یا ڈاکہ زنی جیسے جرائم ہوں، ان کے پیچھے اگر چھپی ہوئی کوئی چیز ہے تو یہی بد گمانی وغیبت ہے۔ الله تعالیٰ ہم سب کو بد گمانی اور اس سے پیدا ہونے والی تمام برائیوں سے محفوظ رکھے۔ آمین !