بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بد زبانی سے اجتناب

بد زبانی سے اجتناب

مولانا سحبان محمود

بسم الله الرحمن الرحیم، الحمدلله رب العالمین، والعاقبة للمتقین، والصلوٰة والسلام علی سیدنا محمد وعلی آلہ واصحابہ اجمعین․ اما بعد: عن سفیان بن عبدالله الثقفی رضي الله عنہ قال: قلت: یا رسول الله! ما أخوف ماتخاف علیّ، قال: فاخذ بلسان نفسہ وقال: ھذا․ رواہ الترمذي․

یعنی ترمذی شریف میں حضرت سفیان بن عبدالله رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ میں نے حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ اے الله کے رسول! میرے حق میں سب سے زیادہ خطرناک چیز کون سی ہے؟ تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک پکڑ کر فرمایا کہ یہ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر زبان کی حفاظت نہ کی گئی تو یہ انسان کے لیے بڑی خطرناک ثابت ہوگی۔

اس حدیث میں زبان کی حفاظت یعنی بد زبانی سے اس کو محفوظ رکھنے کی ہدایت بیان کی گئی ہے۔ کیوں کہ ایک مسلمان کی شان بد زبانی جیسی غیر مہذب باتوں سے بہت اُونچی ہونی چاہیے، اس کی زبان سے حق وصداقت، بہبودی اور خیر خواہی او رنیکی او ربھلائی کے سوا کوئی بات نہ نکلے، حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو شخص الله تعالیٰ اور روز جزا پر ایمان رکھتا ہے اس کو چاہیے کہ وہ اچھی بات زبان سے نکالے، ورنہ خاموش رہے۔ یعنی الله تعالیٰ اور روز قیامت پر ایمان رکھنے کا یہ تقاضا ہے کہ اس کی زبان سے خیر کے سوا کچھ اور نہ نکلے ۔کیوں کہ ایمان یہ بتاتا ہے کہ جیسا کرے گا ویسا بھرے گا، اگر کوئی دوسرا تمہیں برا کہے تو تم اپنی زبان سے اس کو برا نہ کہو، بلکہ خاموش ہو جاؤ۔ کیوں کہ اگر آج نہیں توکل اس کو اس کی سزا مل کر رہے گی، جو جہنم ہے، جیسا کہ ایک حدیث میں ہے کہ ایک صحابی نے آپ سے نصیحت کی درخواست کی تو آپ نے زبان کی طر ف اشارہ کرکے فرمایا کہ اس کو قابو میں رکھنا، اس پر انہوں نے حیرت سے دریافت کیا کہ کیا ہم سے زبان سے کہی ہوئی باتوں پر بھی مؤاخذہ ہو گا؟! تو آپ نے فرمایا کہ اس زبان کی کارگزاریاں تو انسان کو اوندھے منھ جہنم میں ڈال دیں گی۔ ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک صحابی نے حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم سے مختصر مگر جامع نصیحت کی درخواست کی تو آپ نے ان کو تین نصیحتیں فرمائیں ان میں سے ایک یہ تھی کہ ایسی بات زبان سے نکالنا جس سے دوسرے دن معافی مانگنا پڑے، مطلب یہ ہے کہ ناشائستہ اور نازیبابات کہنے کے بعد خود ایک شریف اور مہذب انسان دل دل میں پچھتاتا ہے، پھر اپنی شرافت کی وجہ سے مخاطب سے اس کی معافی مانگتا ہے، اس سے بہتر یہ ہے کہ شروع سے ہی اپنی زبان کو قابو میں رکھا جائے اور بد زبانی سے پوری طرح اجتناب کیا جائے۔ بخاری شریف میں روایت ہے کہ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ مسلمان نہ طعنہ دیتا ہے، نہ لعنت بھیجتاہے، نہ بد زبانی کرتا ہے اور نہ فحش کلامی یعنی بیہودہ گوئی کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ باتیں مسلمان کی شان اور اسلام کے تقاضوں کے خلاف ہیں، اس لیے ان کو چھوڑ دینا ضروری ہے۔ قرآن کریم میں اچھی بات کے فوائد وثمرات اور بدگوئی کے نقصانات کی طرف بڑے بلیغ انداز میں اشارہ فرمایا گیا ہے، چناں چہ سورہٴ بنی اسرائیل میں ارشاد ہے کہ ( اے پیغمبر!) میرے بندوں سے فرما دیجیے کہ وہ بات زبان سے نکالیں جو سب سے اچھی ہو بے شک شیطان آپس میں لڑوا دیتا ہے، بے شک شیطان انسان کا کھلا دشمن ہے۔ الله تعالیٰ نے حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم کے ذریعہ امت مسلمہ کو یہ پیغام دلوایا، اس سے اس عمل یعنی خوش کلامی کی اہمیت اور اس کا بلند مرتبہ معلوم ہوا، پھر خوشی کلامی کے فوائد وثمرات کی طرف اشارہ فرمایا کہ اس سے آپس میں، میل ملاپ، مہرومحبت اور الفت ویگانگت پیدا ہوتی ہے اور بد زبانی وبدگوئی کے برے نتائج کی طرف بھی اشارہ کر دیا کہ اس سے آپس میں پھوٹ پیدا ہوتی ہے اور شیطان اسی گھات میں رہتا ہے کہ بد زبانی کے ذریعہ سے لوگوں میں غصہ، نفرت ، حسد او رنفاق کے بیج بودے، اس لیے الله کے بندوں کوچاہیے کہ اچھی بات زبان سے نکالیں، اچھے انداز اور لہجہ میں کہیں اور نرمی سے کہیں کہ آپس میں محبت پیدا ہو۔ اسی لیے ایک حدیث شریف میں بد زبانی سے بچنے کو صدقہ قرار دیا گیا ہے۔ یعنی جس طرح کسی حاجت مند کو صدقہ دے کر اس کی حاجت روائی کی جاتی ہے جس سے اس کے زخم مند مل اور دل خوش ہو جاتا ہے، اسی طرح بد زبانی سے اجتناب کرکے کسی سے نرم لہجہ میں خوش کلامی سے بات کر لی جائے تو اس کا دل بھی خوش ہو جاتا ہے اور اس کو ایسا ثواب ملتا ہے صدقہ کرنے کا، کیوں کہ کسی مسلمان کے دل کو خوش کر دینا بھی صدقہ ہے۔

بد زبانی صرف یہ نہیں ہے کہ کسی کو بُرا بھلا کہہ دیا یا اس کو گالی دے دی یا برے القاب سے اس کو پکار لیا، بلکہ بد زبانی کی بہت سی صورتیں ہیں اور ان تمام صورتوں پر قرآن کریم اور حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم نے ایسی پابندیاں لگائی ہیں جن پر پوری طرح عمل کرنے کے بعد پورا معاشرہ بدزبانی کی برائی سے پاک وصاف ہو جائے گا۔

بد زبانی کی ایک صورت یہ ہے کہ شرم وحیا والی باتوں کو یا نفرت انگیز اور گھناؤنی چیزوں کو یا شرم ناک قسم کی بیماریوں کو صاف صاف اور کھلے الفاظ میں اپنی زبان سے علی الاعلان کہنا۔ اس کو بھی الله تعالیٰ نے پسند نہیں فرمایا ۔قرآن کریم میں ارشاد ہے کہ الله تعالیٰ بری بات کو پکار کے کہنے کوپسند نہیں فرماتا۔ شرافت وتہذیب کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ایسی باتوں کو زبان سے نہ نکالا جائے، چناں چہ شریف گھرانوں میں شرم وحیا والی او رگھناؤنی چیزوں کا نام زبان سے لینا بھی گالی سمجھا جاتا ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے کہ : الله تعالیٰ شرمیلا اور حیا دار ہے۔ اسی لیے اس نے قرآن کریم میں ایسی چیزوں کا نام صاف نہیں لیا، بلکہ ضرورت کے موقع پر تشبیہات اور کنایات سے کام لیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ صاف صاف نام لینے سے اس چیز کی برائی اور قباحت دل سے نکل جائے گی، جو رفتہ رفتہ شرافت اور غیرت کو تباہ وبرباد کردے گی اور انسان میں اصل تو شرافت وغیرت کا ہی جوہر ہے۔ اسی طرح قرآن کریم میں مرض”برص“ کا نام صاف صاف نہیں لیا گیا، بلکہ اس کو لفظ ”سوء“ سے تعبیر کیا، جس کے معنی برائی یا عیب کے ہیں، فرمایا:﴿تَخْرُجْ بَیْضَاءَ مِنْ غَیْرِ سُوءٍ﴾ یعنی حضرت موسی علیہ السلام کو ید بیضاء کا معجزہ عطا کیا گیا تو فرمایا کہ اے موسیٰ! اپنے ہاتھ کو پکڑ کر اپنی بغل میں رکھ لو، پھر نکالو تو یہ ہاتھ بغیر کسی بیماری اور عیب کے سفید چمکتا ہوا نکلے گا۔

بد زبانی کی دوسری صورت گالی گلوچ او ربُرا بھلا کہنا ہے، یہ صورت عموماً غصہ اور ناراضی کے وقت پیش آتی ہے یا لڑائی جھگڑے کے وقت، بد زبانی کی یہ وہ بدترین صورت ہے جس میں انسان انسانیت، شرافت اور تہذیب کی حدود کو پھلانگ کر حیوانیت اور درندگی کے جیون میں آجاتا ہے۔ یہ بد زبانی مختلف انداز سے رونما ہوتی ہے، بعض اوقات انسان کسی کے ماں باپ کو برُا بھلا کہتا ہے، کبھی اس کے خاندان اور نسب میں عیب نکالتا ہے، کبھی اس کے عیبوں کو ظاہر کرکے طعنے دیتا ہے، کبھی اس پر جھوٹی تہمتیں لگاتا ہے او رکبھی کھلے ہوئے بہتان تراشتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ تمام باتیں احسان وشرافت ، حق وانصاف اور تہذیب وتمدن کے خلاف ہیں، اسی لیے اسلام نے ان کو ایسا عظیم گناہ قرار دیا ہے جس کو الله تعالیٰ بھی ہزاروں معافیوں کے باوجود اس وقت تک معاف نہیں فرمائیں گے جب تک صاحب ِ حق معاف نہ کرے۔ ان تمام صورتوں کو اسلام نے حرام ٹھہرایا ہے۔ چناں چہ بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے ماں باپ کو گالی دے، صحابہ نے عرض کیا کہ اے الله کے رسول! کیا کوئی اپنے ماں باپ کو گالیاں دے سکتا ہے؟ فرمایا کہ جب کوئی دوسرے کے ماں باپ کو گالیاں دے گا تو وہ پلٹ کر اس کے ماں باپ کو گالیاں دے گا۔ دوسری حدیث میں ارشاد ہے کہ جو مسلمان ہے وہ طنز وتشنیع نہیں کرتا اور دوسری حدیثوں میں تہمت لگانے اوربہتان باندھنے کو بدترین گناہ قرار دیا گیا ہے۔

بد زبانی کا وبال او راس کا عذاب آخرت میں جو ہو گا ، ہو گا، لیکن دنیوی زندگی میں بھی اس کے منحوس اثرات ونتائج سے انسان محفوظ نہیں رہتا، چناں چہ لوگ بد زبان آدمی سے ملنا جلنا چھوڑ دیتے ہیں اور اس کو معاشرہ میں عزت کی نظر سے نہیں دیکھاجاتا،آخرت میں بھی وہ بدترین لوگوں میں سے ہوگا۔ بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ الله تعالیٰ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے برا وہ شخص ہو گا جس کی بد زبانی کے خوف سے لوگ اس کو چھوڑ دیں۔ ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا کہ بد زبانی جس چیز میں داخل ہو جائے تو اس کو بد نما او رعیب دار بنا دیتی ہے اور جس چیز میں حیا ہو تو اس کو زینت دے دیتی ہے۔ بد زبان شخص کو دنیا میں جاہل، وحشی، غیر مہذب او رمتکبر کے القاب سے لوگ یاد کرتے ہیں، جب کہ آخرت میں بھی اگر الله تعالیٰ نے معاف نہ فرمایا تو برا عذاب اس کو دیا جائے گا۔ حدیث شریف میں ہے کہ ایک صحابی نے اپنے غلام کو ماں کی گالی دے دی، حضوراکرم صلی الله علیہ وسلم کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ ناراض ہوئے اور فرمایا کہ تم میں ابھی تک جاہلیت کا اثر باقی ہے۔ دوسری حدیث میں ہے کہ مدینہ منورہ میں دو عورتیں تھیں، ایک بڑی عبات گزار اور شب بیدار کہ دن میں روزہ اورر ات کو نماز، لیکن ذرا زبان کی تیز تھیں، دوسری بس بقدر ضرورت نماز روزہ اور عبادات کرلیتیں ، لیکن بد زبانی سے محفوظ تھیں، حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم نے ان دوسری بی بی کو جو بد زبان نہ تھیں جنتی فرمایا اور پہلی کے بارے میں ایسا نہیں فرمایا۔ اس کی وجہ بالکل ظاہر ہے کہ بد زبانی سے دوسروں کو ایذا اور تکلیف پہنچتی ہے اور کسی مسلمان کو تکلیف پہنچانا حرام ہے، جب تک وہ خود معاف نہ کر ے وہ گناہ معاف نہ ہو گا۔

اس سے معلوم ہو گیا کہ بد زبانی کے اندر گالی گلوچ ، لعنت ملامت، طعن وتشنیع، کو سنا اور بد دعائیں دینا ،عیب جوئی ونکتہ چینی اور ہر قسم کی دل آز ار اور دل خراش باتیں داخل ہیں۔ یہ بد زبانی انسان کبھی خود اپنے حق میں بھی کرتا ہے کہ اپنے آپ کو، اپنے کاروبار کو او راپنے استعمال میں آنے والی چیزوں کو کوستا ہے، ان پر لعنت بھیجتا ہے اور بد دعائیں دیتا ہے، خواتین میں یہ بات عموماً دیکھی جاتی ہے، حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم نے اس سے بھی سختی کے ساتھ روکا ہے، چناں چہ مسلم شریف میں روایت ہے کہ حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنی ذات کو، اپنے مال متاع کو اور اپنے اہل وعیال کو کو سامت کرو، ممکن ہے کہ وہ قبولیت کی گھڑی ہو اورتمہارا کو سنا لگ جائے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہو گیا کہ اپنی اولاد اور اپنے بال بچوں کے حق میں بھی بد دعا نہیں کرنی چاہیے، اسی طرح ان کے ساتھ بد زبانی بھی نہیں کرنی چاہیے کہ پھر وہ خود اس کو اپنی عادت بنالیں گے اور بد زبانی کی برائی ان کے دل سے نکل جائے گی۔

اسلام نے صرف انسانوں سے ہی بد زبانی کو حرام نہیں ٹھہرایا، بلکہ بے شعور اور بے جان مخلوق کو بھی برا بھلا کہنے کی اجازت نہیں دی، انسان کو جب کسی چیز سے نقصان پہنچتا ہے تو وہ اس کو برا بھلا کہنے لگتا ہے، چناں چہ اگر کوئی زمانہ کی مصیبتوں میں گرفتار ہو جائے تو زمانہ کو برا بھلا کہتا ہے، حضوراکرم صلی الله عیہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے ، جیسا کہ بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ الله تعالیٰ فرماتا ہے کہ ابن آدم زمانہ کو برا بھلا کہتا اور اس پر لعن طعن کرتا ہے، حالاں کہ زمانہ تو میرے قبضہٴ قدرت میں ہے، جس طرف چاہتا ہوں اس کو پھیر دیتا ہوں، مطلب یہ ہے کہ زمانہ کو برا بھلا کہنا گویا خود الله تعالیٰ کو برا بھلا کہنا ہے، جو کسی حال میں جائز نہیں ۔ ابوداؤد شریف کی روایت میں ہے کہ ایک مرتبہ کسی شخص کی چادر ہوا کے جھونکے سے اُڑگئی تو اس نے ہوا پر لعن طعن شروع کر دی، حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم نے اس کو روکا اور فرمایا کہ ہوا کو برا بھلا مت کہو، کیوں کہ یہ ہوا الله تعالیٰ کے حکم کے تابع اور اس کی فرماں بردار ہے۔ اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ ہوا کو برا بھلا کہنا گویا، ہوا چلانے والے کو برا بھلا کہنا ہے۔ اس لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

ابوداؤد شریف کی ایک اور حدیث میں ہے کہ ایک سفر میں کسی عورت نے اپنی اس اونٹنی پر لعنت بھیجی جس پر وہ سوار تھی تو آپ صلی الله علیہ وسلم نے اس کو سزا دینے کے لیے اونٹنی اس سے لے لی، یعنی اس پر سوار نہ ہونے دیا او رفرمایا کہ جس پر اس نے لعنت بھیجی ہے اب اس سے فائدہ حاصل نہ کرے۔

اسلام نے بد زبانی سے اجتناب کو اس قدر اہمیت اس لیے بھی دی ہے کہ اس سے معاشرہ میں الفت ومحبت پیدا ہوتی ہے، جو قومی زندگی میں قوت وعظمت اور شان وشوکت کی بنیاد ہے، جب کہ بد زبانی میں مبتلا قوم آپس کی دشمنی، باہمی خوں ریزی اور جنگ وجدال میں پھنس کر اپنی وحدت اوراپنی عظمت کو کھو بیٹھتی ہے۔ کیوں کہ بد زبانی کا سلسلہ اگر شروع ہو جائے تو قتل وقتال سے پہلے ختم نہیں ہوتا، کوئی کسی کو ایک گالی دیتا ہے تو وہ دو گالیاں اس کو دے دیتا ہے، اگر کوئی کسی کے باپ کو برا کہے تو سامنے والا اس کے ماں باپ اور پورے خاندان کو گالیوں سے نواز دیتا ہے، پھر جواب اورجواب در جواب کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو کر، جنگ وجدال تک پہنچا دیتا ہے۔ اسی کی طرف حضو راکرم صلی الله علیہ وسلم نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ کسی مسلمان کو گالی دینا بد ترین گناہ ہے اور اس سے قتل وقتال کرنا تو کفر تک پہنچا سکتا ہے۔ الله تعالیٰ ہم سب کو اس سے محفوظ رکھیں۔ آمین!