بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

بدر کا سبق

بدر کا سبق

مولانا خالد سیف الله رحمانی

رمضان المبارک کا دوسرا عشرہٴ جہاں اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اور عفو ودرگذر کا ہے، وہیں اس سے اسلامی تاریخ کا ایک عظیم الشان واقعہ بھی متعلق ہے، رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نبوت سے سرفراز ہونے کے بعد تیرہ سال مکہ میں مقیم رہے، ان تیرہ سالوں میں پہلے تین سال تو خاموش دعوت میں گذرے اور دس سال آپ نے اعلانیہ لوگوں تک دعوت حق پہنچائی، یہ پورا عرصہ اس طرح گذرا کہ کوئی صبح اور کوئی شام ایسی نہ تھی، جس میں آپ خلق خدا کی ہدایت کے لئے فکر مند نہ رہتے ہوں اور آہ سحر گاہی سے خالی ہو اور جس میں آپ نے بندگان غفلت شعار کی رشد وہدایت اور نجات کے لیے دعائیں اور التجائیں نہ کی ہوں، لیکن اہل مکہ نے اپنے دلوں کے دروازے آپ مقفل کر رکھے تھے اور کسی بھی طور پر حق کو قبول کرنے کے لیے آمادہ نہیں تھے، اس عرصہ میں آپ نے انفرادی ملاقاتیں بھی کیں، اجتماعی خطاب بھی فرمایا، حج کے اجتماع اور عکاظ کے میلے میں بھی تشریف لے گئے اور طائف پہنچ کر بھی زخم کھائے، چوٹیں سہیں اور اللہ کا پیام پہنچایا، لیکن کچھ برگزیدہ نفوس کو چھوڑ کر ہر طرف سے جحود وانکار کی ہی صدائیں بلند ہوتی رہیں۔

خدانے مدینہ کے حق میں یہ بات مقدر رکھی تھی کہ مکہ میں اسلام کا جو سورج طلوع ہوا ہے، وہ مدینہ میں مہر نیم روز بن کر چمکے اور اپنی عالم تاب کرنوں سے دنیا کے کونے کونے کو ضیاء بار کرے، چناں چہ اہل مدینہ نے اسلام کے لیے اپنی آنکھیں بچھائیں اور اپنے دل پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وسلم کے قدموں پر نثار کر دیے، اس طرح آپ نے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی اور اسلام کی سر بلندی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا، اہل مکہ کو یہ بات گوارا نہ تھی کہ جس پودے کو انہوں نے اپنی دانست کے مطابق اُکھاڑ پھینکا ہے، مدینہ کی خاک میں اس کی نشوو نما ہو اور وہ ایک سایہ دار درخت بن کر پھلے اور پھولے ، اس لیے اب اہل مکہ نے مدینہ پر یلغارشروع کی، چناں چہ ہجرت کے دوسرے ہی سال رمضان المبارک میں بدر کے میدان میں پہلا معرکہ ہوا، یہ عجیب منظر تھا، مسلمان صرف تین سو تیرہ تھے، ان میں بہت سے لوگوں کو ہتھیار بھی میسر نہیں تھا، سواریاں جو اس زمانہ میں جنگ کے لئے بہت اہم سمجھی جاتی تھیں، اکثر لوگ اس سے بھی محروم تھے، غذا کی بھی شدید قلت کا سامنا تھا، مجاہدین فاقہ مستی سے گذر رہے تھے، مدینہ کی آب وہوا زیادہ بہتر نہ تھی، اس لیے صحت مندی کے اعتبار سے بھی اہل مکہ ان سے فائق تھے، بلکہ وہ انصار مدینہ کو اس اعتبار سے حقیر جانتے تھے، دوسری طرف اہل مکہ کی فوج ایک ہزار افراد پر مشتمل تھی، جن میں سوسواروں کا ایک خصوصی دستہ تھا، عتبہ بن ربیعہ، قریش کے سپہ سالار اعظم تھے ، ہر دن دس اونٹ کھانے کے لیے ذبح کیے جاتے تھے، گویا مادی اعتبار سے ان دونوں فوجوں میں کوئی تناسب نہ تھا۔

آپ صلی الله علیہ وسلم جب مدینہ سے باہرنکلے تو اپنے دو خبر رساں آگے روانہ کردیے، جن کے ذریعہ قریش کی نقل وحرکت کی خبر آپ کو ہوتی رہتی تھی، بدر پہنچ کر حضرت خباب  کے مشورہ پر آپ نے آگے بڑھ کر چشمہ پر قبضہ کرلیا اور جو دوسرے کنویں تھے، انہیں بیکار کردیا، تاکہ پانی اپنے قابو میں رہے ، پانی پر اگر چہ مسلمانوں کا قبضہ تھا، لیکن آپ کی رحمت عامہ نے اسے گوارا نہیں کیا کہ اپنے جانی دشمنوں کو بھی پانی سے محروم کریں، اس لیے اہل کو بھی پانی لینے کی عام اجازت تھی، صحابہ نے غزوہ بدر کی شب رات میں آرام کیا، لیکن امیر قافلہ محمد عربی صلی الله علیہ وسلم کی پوری شب بارگاہ الٰہی میں دُعا والتجا کرتے گذری ، صبح ہوئی، تو لوگوں نے نماز ادا کی اور آپ صلی الله علیہ وسلم نے نماز کے بعد جہاد پر خطبہ ارشاد فرمایا ، ہدایات دیں اور جنگی حکمت عملی کے مطابق فوج مرتب فرمائی، مہاجرین جو ساٹھ نفوس پر مشتمل تھے، کا جھنڈا حضرت مصعب بن عمیر کودیا گیا ، انصار میں سے قبیلہ خزرج کے علم بردار حضرت خباب بن منذر ہوئے اور اوس میں حضرت سعد بن معاذ کو یہ شرف عطا فرمایا گیا، پھر آپ نے ان کی صفیں درست کیں۔

اس درمیان حضرت حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ اور حضرت ہذیل  دو صحابی آپہنچے ، انھیں راستہ میں کافروں نے روکا تھا کہ تم مسلمانوں کی مدد کو جارہے ہو، انھوں نے انکار کیا اور وعدہ کیا کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ شریک نہیں ہوں گے، عین اس وقت جب جنگ شروع ہوا چاہتی تھی، خدمت اقدس میں حاضر ہوئے، وہ شریک جہاد ہونے کو بے چین تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صورت حال عرض کی، تو آپ نے وعدہ پورا کرنے کا حکم دیا اور فرمایاکہ ہمیں صرف اللہ کی مدد چاہیے، ادھر معرکہ کار زار گرم ہوا اور ادھر آپ خدا کی چوکھٹ پر جھک گئے ، میدان جنگ کے کنارے ایک چھوٹا سا چھپر ڈال دیا گیا تھا، یہیں حضرت سعد بن معاذ شمشیر بکف کھڑے تھے کہ اگر کوئی دشمن خدا ادھر کا رُخ کرے تو اس کا سر قلم کردیا جائے، آپ اسی چھپرے کے نیچے بارگاہ ربانی میں ہاتھ پھیلائے ہوئے ہیں، پیکر رحمت سراپا عجز وفروتنی اور خضوع وبندگی کی تصویر بنا ہوا ہے، اللہ تعالیٰ سے عرض کرتے ہیں کہ الٰہا! آپ نے جو وعدہ فرمایا تھا، اسے آج پورا فرمائیے، دعا میں آپ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر آج یہ چند نفوس ہلاک کردیے گئے تو زمین پر پھر کبھی تیری بندگی نہ ہوسکے گی، بار بار شانہٴ مبارک سے چادر گرجاتی اور آپ کو احساس تک نہ ہوتا، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی اس بے تابی اور خدا کے سامنے آہ وزاری کو دیکھ کر بے چین سے ہوئے اور عرض کیا کہ اللہ آپ کی دُعا کو رد نہیں فرمائے گا!

پہلے عرب کے قدیم دستور کے مطابق انفرادی مقابلے ہوئے اور مسلمانوں کا پلہ بھاری رہا، پھر عام حملہ شروع ہوگیا، کفار کا بھروسہ اپنی طاقت پر تھا اور مسلمانوں کا اللہ تعالیٰ کی نصرت پر، چناں چہ فتح یاب ہوئے، ستر اہل مکہ قتل ہوئے اور اتنے ہی قید، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان قیدیوں کے ساتھ بہت ہی اکرام کا معاملہ فرمایا، صحابہ خود بھوکے رہے اور انہیں کھلایا، رخصت کرتے ہوئے آپ نے ہر ایک کو نیا جوڑا عنایت فرمایا، جو پڑھے لکھے لوگ تھے، ان کے لیے دس مسلمان بچوں کو پڑھانا فدیہ قرار دیا گیا اور دوسرے لوگوں سے مالی فدیہ وصول کیا گیا ، یہ اسلام اور کفر کا پہلا باضابطہ معرکہ تھا، جس نے مستقبل پر گہرے اثرات ڈالے۔

بدر کے اس معرکہ میں کئی سبق آموز پہلو ہیں، جو قیامت تک مسلمانوں کے لیے نقش راہ بنے رہیں گے:

٭…پہلی بات یہ ہے کہ غزوہء بدر سے پہلے طویل عرصہ آپ نے خالصةدعوت میں صرف فرمایا، پھر نبوت کے پندرہویں سال یہ معرکہ جہاد گرم ہوا، اس سے معلوم ہوا کہ فطری ترتیب مسلمانوں کی دوسری اقوام کے مقابے میں یہی ہے کہ پہلے ان پر دین کی حجت تمام کرنے کی کوشش کی جائے اور تبلیغ حق میں کوئی کسر نہ چھوڑی جائے، جب حجت تمام ہونے کے باوجود کافروں کی طرف سے سرتا بی پیش آتی ہے، تو مسلمانوں کی طرف نصرتِ الٰہی متوجہ ہوتی ہے۔

٭…دوسرے:اس جہاد سے صحابہ کے جذبہ قربانی اور فدا کاری وجاں نثاری کی تصویر بھی سامنے آتی ہے، حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ قوم بنی اسرائیل لاکھوں کی تعداد میں تھی، پھر بھی اس نے قوم عمالقہ سے جہاد کرنے سے انکار کردیا تھااور گستاخانہ حضرت موسی علیہ السلام سے کہا: آپ اور آپ کے رب قتال کریں، ہم یہیں بیٹھیں گے:﴿ فَاذْھَبْ أَنْتَ وَرَبُکَ فَقَاتِلا إِنَّاھٰھُنَا قَاعِدُوْن﴾َ (المائدة )لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت کااثر تھا کہ صحابہ نے تعداد کی کمی اور ظاہری اسباب نہ ہونے کے باوجود آپ کی آواز پر لبیک کہا ، بلکہ عرض کیا کہ اگر آپ ہمیں سمندر میں کود جانے کا حکم دیں، تو ہمیں اس سے بھی عذر نہ ہوگا، اس سے صحابہ کی عظمت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نتیجہ خیز اور اثر انگیز تربیت کا اندازہ ہوتا ہے۔

٭…آ پ نے غزوہ بدر سے پہلے صفیں آراستہ کیں، فوج کو مختلف دستوں میں تقسیم کیا اور ان کے الگ الگ کمانڈر مقرر کیے، دشمن کی نقل وحرکت جاننے کے لیے خفیہ خبر رساں مقرر کیے، پانی کے چشموں پر پیش قدمی کر کے قبضہ فرمایا، یہ تمام باتیں تدبیر کے قبیل سے ہیں، پس معلوم ہوا کہ ظاہری اسباب سے آنکھیں موند لینا، تدبیر سے تعلق توڑ لینا اور صرف تقدیر پر تکیہ کرلینا توکل نہیں ، بلکہ بے عملی اور نا سمجھی ہے، سنت یہ ہے کہ ظاہری تدابیر اور اسباب کو اختیار کرتے ہوئے پھر نتیجہ خدا پر چھوڑ دیا جائے اور خدا کا جو بھی فیصلہ ہو اس پر راضی رہا جائے۔

٭…عین معرکہ قتال کے وقت دورفقاء حاضر خدمت ہوئے، اس وقت مسلمان قلت تعداد سے دوچارتھے اور ایک ایک فرد کی اہمیت تھی، لیکن اس کے باوجود آپ نے ایفائے عہد کو ترجیح دی اور مسلمانوں کے ساتھ شریک جنگ نہ ہونے کا جو وعدہ ان لوگوں نے کیا تھا، آپ نے اس پر قائم رہنے کا حکم دیا، اس سے ایفا ئے عہد کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ ایسے نازک وقت میں بھی آپ نے اس سے پہلو تہی نہیں برتی۔

٭…غزوہ بدر کے موقع پر ایک طرف فوجیں آمنے سامنے ہیں اور دوسری طرف آپ کی پیشانی خدا کے سامنے جھکی ہوئی ہے اور دست دُعا بارگاہ ربانی میں اٹھا ہوا ہے، یہ اس پورے واقعہ کی اصل روح ہے کہ مؤمن کا اصل بھروسہ خدا کی طاقت پر ہونا چاہیے ،نہ کہ اپنی طاقت پر، وہ قوت بازو سے فتح نہیں پاتا، بلکہ نصرت الٰہی سے فتح یاب ہوتا ہے، اس کا اصل ہتھیار دُعا ہے اور یہی ہتھیار ہے جو اَن ہونی کو ہونی اور ناممکن کو ممکن بنادیتا ہے۔

٭…ان واقعات سے ایک سبق دشمنوں کے ساتھ حسن سلوک اور فیاضی کا ملتا ہے، میدان جنگ میں پانی کے چشمے آپ کے قابو میں تھے، اگر آپ دشمنوں کو پانی لینے سے روک دیتے تو ان کی جنگی قوت کمزور پڑسکتی تھی، لیکن آپ نے ان پر پانی بند نہیں فرمایا۔ جو لوگ قید ہوکر آئے ، یہ وہی تھے جنھوں نے مکہ میں آپ کو تکلیف پہنچانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی، لیکن آپ نے ان کے ساتھ حسن سلوک اور مدارات کا معاملہ فرمایا، مسلمانوں نے خود بھوکے رہ کر انہیں کھلایا اور باعزت طریقہ پر نئے جوڑوں میں انھیں رخصت کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ دشمنوں کے ساتھ بھی حسن سلوک اور بدخواہوں کے ساتھ خیر خواہی اسوہ نبوی ہے، یہ کافی نہیں کہ جو ہمارے ساتھ بہتر سلوک کرے ہم بھی اس کے ساتھ بہتر سلوک کریں، بلکہ اسلامی کردار یہ ہے کہ جو پتھرپھینکے اس پر پھول برسایا جائے اور جو کانٹے بچھائے اس کے لیے آنکھیں فرش راہ کی جائیں۔

اہل مکہ میں جو لوگ پڑھے لکھے تھے تعلیم کو آپ نے ان کا فدیہ مقرر فرمایا، اس سے اسلام میں علم کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ علم تو دشمنوں سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے، چناں چہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”الحکمة ضالة المؤمن“کہ حکمت مومن کا گم شدہ مال ہے ،جہاں مل جائے حاصل کیا جائے اور اس میں کسی ذہنی تحفظ سے کام نہ لیا جائے۔