بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

انسان کا اصلی مقصد حیات

انسان کا اصلی مقصد حیات

محترم جاوید شیخ

الله تعالیٰ نے اس کائنات میں انسان کوجو شرف ومرتبہ اور قدرومنزلت عطا کی ہے دنیا کی دیگر مخلوقات اس عزت افزائی سے محروم ہیں۔ انسان کی ذرہ نوازی کی ابتداء اس وقت ہوئی جب الله تعالیٰ نے فرشتوں کے سامنے انسان کو پیدا کرنے اور اسے زمین میں اپنا خلیفہ اور نائب بنا کر بھیجنے سے متعلق اپنے ارادے کا اظہار فرمایا، جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے” اور جب کہا تیرے رب نے فرشتوں سے کہ میں زمین میں اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں۔“ (البقرہ)
پھر انسان کی تخلیق کے بعد اس کی عزت افزائی اور فضیلت بیان کرنے کے لیے فرشتوں کو حکم دیا گیا کہ اس انسان ( حضرت آدم علیہ السلام) کو سجدہ کرو۔ گویا کہ الله کی وہ مخلوق جوسالہا سال سے اسی کی عبادت اور ریاضت اور بند گی رب میں مصروف ومشغول تھی اسے بظاہر ایک چھوٹی سی مخلوق کے سامنے جھکنے کا حکم دے کر اس کی تعظیم وتفضیل بیان کرنا مقصود تھا۔ اس کائنات میں الله رب العزت نے کوئی شے بے کار وعبث پیدا نہیں کی، بلکہ ہر چیز اپنا مقصد ِ وجودرکھتی ہے۔ بالکل اسی طرح انسان کو پیدا کرنے، اسے دنیا میں بھیجنے اوراتنے بڑے جہاں میں بسانے کا بھی ایک خاص مقصد ہے۔ اس مقصد کو بیان کرتے ہوئے الله تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:”اور میں نے جنوں او رانسانوں کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا۔“ (سورة الذاریات)
گویا انسان کی تخلیق کا مقصد رب کی عبادت اور اس کی بندگی ہے۔ مطلب یہ کہ انسان اپنے شب وروز الله کے بتائے ہوئے طریقوں کے مطابق بسر کرے۔ ہر اس کام کو کرنا اس کے لیے جائز ہو گا جس کی اجازت رب نے اسے عطا کی ہے اور ہر اس کام سے بچنا واجب ہو گا جس سے احتیاط کا حکم دیا ہے۔ اس طور پر انسان کے لیے رزق کا حصول، کھانے پینے کی نعمتوں سے لطف اندوز ہونے، ضروریات زندگی کی تکمیل کرنے، اپنی جائز خواہشات کو پورا کرنے کی اجازت ہے ،لیکن یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ یہ سارے امور دین کے اصولوں اور طریقوں کے مطابق انجام دیے جائیں گے۔ امام ابن تیمیہ رحمہ الله عبادت کا مفہوم بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:” عبادت ایک جامع لفظ ہے، یعنی ہر وہ کام جو الله تعالیٰ کو پسند ہو، خواہ اس کا تعلق ظاہر سے ہو یا باطن سے، اسے عبادت کہا جاتا ہے، جیسا کہ حدیث میں ہے انسان جو لقمہ اپنی بیوی کے منھ میں ڈالتا ہے وہ بھی موجب ثواب ہے۔“ (فتح البیان)
انسان کو مقصد ِ حیات یاد دلانے اور اس پر کار بند رکھنے کے لیے ہر دور میں انبیاء علیہم السلام آتے رہے۔ سورہٴ نحل میں رب تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:” اور تحقیق ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا او راس کے ذریعے ہم نے سب کو خبر دار کر دیا کہ الله کی بندگی اختیار کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو، اس کے بعد ان میں سے بعض کو الله نے ہدایت دے دی اور بعض پر گم راہی مسلط کر دی ہے۔“ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس دنیا میں جیتے ہوئے انسان پر یکساں حالات نہیں رہتے۔ لیل ونہار کے گزرنے کے ساتھ انسان کی زندگی میں تغیر وتبدل اورمختلف حالات کا سامنا ہوتا ہے۔ الله کا مطلوب انسان وہی ہے جو زندگی میں ہر موڑ پر ، ہر قسم کے حالات میں، رب کی بندگی بجا لاتا رہے، اسی سے آس لگائے، اسی کے سامنے عاجزی کا اظہار کرے، ہر کیفیت میں رب کی عطا اور اس کی رضا پر راضی رہ کر، اس کی عبادت او ربندگی کرتا رہے۔ گویا کہ پھر جب بندہ رب کی عبادت کا مفہوم سمجھ کر زندگی گزارنا شروع کرتا ہے تو پھر اس کا جینا اورمرنا فقط رب العالمین کے لیے قرار پاتا ہے۔
طبرانی میں روایت ہے، حضرت براء رضی الله عنہ فرماتے ہیں، رسول کریم صلی الله علیہ وسلم نے ارشا فرمایا:”جانتے ہو ایمان میں سب سے مضبوط عمل کون سا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ نماز، فرمایا بے شک نماز کا تو کیا کہنا ہے، لیکن اس کا دائرہ دوسرا ہے۔ ہم نے عرض کیا تو پھر روزے، آپ صلی الله علیہ و سلم نے اس پر بھی یہی فرمایا، یہاں تک کہ ہم نے جہاد کا نام لیا تو اس پر بھی آپ صلی الله علیہ وسلم نے یہی ارشاد فرمایا، اس کے بعد فرمایا سب سے مضبوط عمل یہ ہے کہ خدا ہی کے لیے دوستی اور خدا ہی کے لیے دشمنی، اس کے نام پر محبت اور اسی کے نام پر بغض رکھنا۔“ کیوں کہ مقصد ِ حیات بندگی رب ہی ہے۔ اگر انسان کی زندگی سے اپنے خالق کی عبادت او ربندگی کو خارج کر دیا جائے تو پھر اس کے اشر ف المخلوقات کہلانے او رخود کو افضل المخلوقات سمجھنے کی کوئی وجہ باقی نہیں رہتی۔
سیدنا ابوہریرہ رضی الله عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:”بے شک الله تعالیٰ فرماتا ہے، اے ابن آدم ! میر ی عبادت کے لیے اپنے آپ کو فارغ کرلے، میں تیرا سینہ مال داری اور غنی (بے نیازی) سے بھر دوں گا او رتیری محتاجی کو تجھ سے دور کردوں گا۔ اگر تونے ایسا نہ کیا تو تیرے دونوں ہاتھوں کو دنیا کے دھندوں او رکاموں سے بھر دوں گا اور تیری محتاجی کو بھی دور نہ کروں گا۔“ (جامع ترمذی) اب ضرورت اس امر کی ہے کہ انسان اپنے مقصد ِ حیات کو سمجھتے ہوئے اپنے رب سے تعلق کو مضبوط کرے، کیوں کہ اسی میں بندے کی معراج بھی ہے او رہمیشہ کے لیے کام یابی بھی۔