بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

امیر المومنین حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کرم الله وجہہ فضائل ومناقب

امیر المومنین حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کرم الله وجہہ فضائل ومناقب

مولانا حافظ عبدالودود شاہد

باب العلم سیّدنا حضرت علی المرتضیٰ رضی الله عنہ کے فضائل ومناقب اور کردار وکارناموں سے تاریخ اسلام کے اوراق روشن ہیں، جس سے قیامت تک آنے والے لوگ ہدایت وراہ نمائی حاصل کرتے رہیں گے۔

حضرت سعدبن ابی وقاص سے روایت ہے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم نے حضرت علی  سے فرمایا کہ :” تم میری طرف سے اس مرتبے پر ہو، جس مرتبے پر حضرت ہارون علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام کی طرف سے تھے، مگر بات یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہ ہو گا۔“ (بخاری ومسلم)

آپ کا نام علی، لقب حیدر ومرتضیٰ، کنیت ابوالحسن اور ابو تراب ہے، آپ کا نسب حضور صلی الله علیہ وسلم کے بہت قریب ہے، آپ کے والد ابو طالب او رحضور صلی الله علیہ وسلم کے والد ماجد حضرت عبدالله دونوں بھائی بھائی ہیں، آپ کی والدہ فاطمہ بنت اسد تھیں۔ ماں باپ دونوں طرف سے آپ  ہاشمی ہیں۔ سیدنا حضرت علی کرم الله وجہہ، میں ہاشمی سرداروں کی تمام خصوصیات موجود اور چہرے سے عیاں تھیں۔ عبادت وریاضت کے آثار بھی چہرے پر موجود تھے، چہرے پر مسکراہٹ او رپیشانی پر سجدے کے نشان … معمولی لباس زیب بدن فرماتے، آپ  کا عبا او رعمامہ بھی سادہ تھے، گفت گو علم وحکمت اور دانائی سے بھرپور ہوتی … بچپن سے نہ صرف حضور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ رہے، بلکہ آپ صلی الله علیہ وسلم ہی کی آغوش ِ محبت میں پرورش پائی، آپ نے ان کے ساتھ بالکل فرزند کی طرح معاملہ کیا او راپنی دامادی کا شرف بھی عطا فرمایا، حضور صلی الله علیہ وسلم کی سب سے چھوٹی اور لاڈلی بیٹی خاتون ِ جنت سیدہ حضرت فاطمة الزہرا کے ساتھ آپ کا ناح ہوا اور ان سے آپ کی اولاد ہوئی، صحابہ کرام  میں جو لوگ اعلیٰ درجے کے فصیح وبلیغ او راعلی درجے کے خطیب اور شجاعت وبہادری میں سب سے فائق مانے جاتے تھے ان میں آپ کا مقام ومرتبہ بہت نمایاں تھا، خلیفہ چہارم سیدنا حضرت علی المرتضی میدان ِ جنگ میں تلوار کے دھنی اور مسجد میں زاہد ِ شب بیدار تھے، مفتی وقاضی اور علم وعرفان کے سمندر تھے، عزم وحوصلہ میں ضرب المثل، خطابت وذہانت میں بے مثل، حضور صلی الله علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور داماد، فضیلتیں بے شمار، سخی وفیاض، دوسروں کا دکھ بانٹنے والے، عابد وپرہیز گار، مجاہد وجاں باز ایسے تھے کہ نہ دنیا کو ترک کیا، نہ آخرت سے کنارہ کشی فرمائی، ان سب کے باوجود نہایت سادہ زندگی گزارتے، نمک، کھجور، دودھ، گوشت سے رغبت تھی، غلاموں کو آزاد کرتے، دورِ خلافت میں بازاروں کا چکر لگا کر قیمتوں کی نگرانی فرماتے، گدا گری سے لوگوں کو روکتے تھے، جب نماز کا وقت آتا تو آپ کے بدن پر لرزہ طاری ہو جاتا اور چہرے پر زردی چھا جاتی، کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا:

”اس امانت کی ادائیگی کا وقت ہے، جسے الله تعالیٰ نے آسمانوں، زمین اور پہاڑوں پر اتارا تو وہ اس بوجھ کو اٹھانے سے عاجز ہو گئے۔“

آپ  میں عجز وانکساری نمایاں تھی، اپنے عہد ِ خلافت میں بازاروں میں تشریف لے جاتے، وہاں جو لوگ راستہ بھول ہوئے ہوتے انہیں راستہ بتاتے، بوجھ اٹھانے والوں کی مدد کرتے، تقوی اور خشیت الہٰی آپ میں بہت زیادہ تھی، ایک بار آپ ایک قبرستان میں بیٹھے تھے کہ کسی نے کہا: اے ابوالحسن! یہاں کیوں بیٹھے ہوئے ہیں؟ فرمایا:” میں ان لوگوں کو بہت اچھا ہم نشین پاتا ہوں، یہ کسی کی بد گوئی نہیں کرتے اور آخرت کی یاد دلاتے ہیں“۔

ایک مرتبہ آپ قبرستان تشریف لے گئے اور وہاں پہنچ کر قبر والوں کی طر ف متوجہ ہو کر فرمایا:”اے قبر والو! اے بوسیدگی والو! اے وحشت وتنہائی والو! کہو کیا خبر ہے؟ کیا حال ہے؟ ہماری خبر تو یہ ہے کہ تمہارے جانے کے بعد مال تقسیم کر لیے گئے اور اولادیں یتیم ہو گئیں، بیویوں نے دوسرے شوہر کر لیے، یہ تو ہماری خبر ہے، تم بھی اپنی خبر سناؤ! اس وقت حضرت کمیل آپ کے ہمراہ تھے، وہ بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت علی نے فرمایا: اے کمیل! اگر ان (مردوں) کو بولنے کی اجازت ہوتی تو یہ جواب دیتے کہ بہترین سامان ِ آخرت پرہیز گاری ہے۔ اس کے بعد حضرت علی رونے لگے اور فرمایا:” اے کمیل! قبر اعمال کا صندوق ہے اور موت کے وقت یہ بات معلوم ہوتی ہے۔“

ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ  کے اصرار پر ضرار اسدی نے سیدنا حضرت علی کرم الله وجہہ کے اوصاف وصفات بیان کرتے ہوئے کہا:

”الله کی قسم! حضرت علی المرتضیٰ بڑے طاقت ور تھے، فیصلے کی بات کہتے تھے اور انصاف کے ساتھ حکم دیتے، علم وحکمت ان کے اطراف سے بہتے، دنیا او راس کی تازگی سے متوحش ہوتے تھے، رات کی تنہائیوں اور وحشتوں سے انس حاصل کرتے تھے، روتے بہت تھے اور فکر میں زیادہ رہتے تھے، لباس انہیں وہی پسند تھا جو کم قیمت ہو اور کھانا وہی مرغوب تھا جوادنیٰ درجے کا ہو، ہمارے درمیان بالکل مساویانہ زندگی بسر کرتے تھے او رجب ہم پوچھتے تو جواب د یتے تھے، باوجود یہ کہ ہم ان کے مقرب تھے، مگر ان کی ہیبت کے سبب ان سے بات کرنے کی جرأت نہیں ہوتی تھی، وہ ہمیشہ اہل ِ دین کی تعظیم کرتے او رمساکین کو اپنے پاس بٹھاتے تھے، کبھی کوئی طاقت ور اپنی طاقت کی وجہ سے ان سے ناجائز فائدہ اٹھانے کی امید نہ کر سکتا تھا اور کوئی کم زور ان کے انصاف سے مایوس نہیں ہوتا۔“

ایک موقع پر حضور صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:”علی! سب سے اچھا فیصلہ کرنے والے ہیں۔“

سیدنا حضرت علی المرتضی  غزوہٴ تبوک کے علاوہ تمام غزوات میں شریک ہوئے، ہر معرکے میں سیدنا حضرت علی نے اپنی شجاعت وبہادری اور فدا کار ی کا لوہا منوایا، بدر واحد، خندق وحنین او رخیبر میں اپنی جرأ ت وبہادری کے خوب جوہر دکھائے … ہجرت کی شب حضور صلی الله علیہ وسلم کے بستر مبارک پر آرام فرما ہوئے اور آپ نے آخری وقت میں حضور صلی الله علیہ وسلم کی تیمار داری کے فرائض انجام دیے اور دیگر صحابہ کرام کے ہمراہ آپ کو ”غسل نبوی“ کی سعادت بھی نصیب ہوئی … آپ”عشرہ مبشرہ“ جیسے خوش نصیب صحابہ کرام میں بھی شامل ہیں،جنہیں حضور صلی الله علیہ وسلم نے دنیا میں ہی جنت کی بشارت وخوش خبری دی اور خلافت ِ راشدہ کے اعلیٰ منصب پر فائز ہوئے ،آپ کو بچپن میں قبول ِ اسلام کی سعادت نصیب ہوئی اوربچوں میں سے سب سے پہلے آپ ہی دولت ِ ایمان سے منور ہوئے، آپ  کو ”السابقون الاولون“ میں بھی خاص مقام اور درجہ حاصل ہے۔

آپ”بیعت ِ رضوان“ میں شریک ہوئے اور ”اصحاب الشجرہ“ کی جماعت میں شامل ہوئے، جن کو الله تعالیٰ نے قرآن مجید میں راضی ہونے او رجنت کی بشارت وخوش خبری دی، آپ ”اصحاب ِ بدر“ میں سے بھی ہیں، جن کی تمام خطائیں الله تعالیٰ نے معاف کر دیں، مکی زندگی میں حضور صلی الله علیہ وسلم کے ساتھ ہر قسم کے مصائب ومشکلات کو جھیلتے رہے… حضور صلی الله علیہ وسلم نے آپ صلی الله علیہ وسلم کو اپنا ”مواخاتی بھائی“ بنایا اور حضور صلی الله علیہ وسلم نے آپ کو اپنے ساتھ وہی نسبت دی جو حضرت موسی علیہ السلام کو حضرت ہارون علیہ السلام سے تھی۔

خلیفہ سوم سیدنا حضرت عثمان غنی کی شہادت کے بعد حضرت علی  تین ماہ کم پانچ سال تک تخت ِ خلافت پر متمکن رہنے کے بعد عبدالرحمن بن ملجم خارجی کے ہاتھوں زخمی ہونے کے بعد 21/رمضان المبارک کو جامِ شہادت نوش فرماکر شہادت کے اعلیٰ درجے پر فائز ہوئے۔

مناقب ِ مرتضوی بہ زبان ِ اصحاب نبوی
٭…فاروق ِ اعظم نے فرمایا: حضرت علی  کو تین خوبیاں ایسی نصیب ہوئیں، اگر مجھے ان میں ایک بھی مل جاتی تو میرے لیے دنیا ومافیہا سے بہتر ہوتیں۔ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اپنی لخت ِ جگر سیدہ فاطمہ کا ان سے نکاح فرمایا۔ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے انہیں مسجد میں سکونت عطا کی۔ خیبر میں علم (جھنڈا) انہیں عطا کیا۔
٭… سیدہ عائشہ نے فرمایا: حضرت علی سے زیادہ علم سنت کا جاننے والا کوئی نہ تھا۔
٭… ابن ِ مسعود نے فرمایا: ہم لوگ آپس میں کہا کرتے تھے کہ حضرت علی اہل ِ مدینہ میں سب سے زیادہ معاملہ فہم ہیں۔
٭… ابن ِ عباس نے فرمایا: مدینہٴ منورہ میں فصل ِ قضایا اور علم ِ فرائض میں حضرت علی  سے زیادہ علم رکھنے والا کوئی نہ تھا۔