بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

امن وسلامتی کا راستہ

امن وسلامتی کا راستہ

عبید اللہ خالد

اسلام دنیا کے انسانوں بلکہ ہر ذی روح کے لیے امن و سلامتی او رعافیت وخیریت کا طالب ہے۔ اسلام کی نورانی تعلیمات سہل وآسان اور خیر وخوبی سے لبریز ہیں۔ ان میں دنیا کا بھی فائدہ ہے اور آخرت کی لازوال اور دائمی زندگی کی کام یابی وکام رانی بھی ہے۔ اسلام نے جس معاشرے میں آنکھ کھولی اور الله تعالیٰ کی طرف انسانیت کی بھلائی وخیر خواہی کے لیے اس کا نزول ہوا، وہ معاشرہ برائیوں کی آماج گاہ بن چکا تھا اور خیر وبھلائی لوگوں میں عنقاء تھی۔ حضور اکرم صلی الله علیہ وسلم نے الله تعالیٰ کے حکم اور امر سے لوگوں پر محنت کی اور ان کو دنیا کے اسرار ورموز اورمقصد تخلیق سے آگاہ کیا، الله تعالیٰ ،جو کہ پوری دنیا کا خالق ومالک ہے، کی پہچان کروائی اور ان کے دل ودماغ کو پاک وصاف ،مُزکیُ ، مصفیٰ اورمُطَّہر بنایا۔ انہیں امن وسلامتی کا درس دیا۔ آپ کی اس محنت وسعی سے عرب کے معروف قبائل اوس وخزرج جو صدیوں سے جنگوں کا شکار چلے آرہے تھے اور کینہ وبغض کی آفت میں مبتلا تھے، آپس میں شیروشکر ہو گئے، الفت ومحبت اور بھائی چارے کی علامت بن گئے، جو ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے وہ ایک دوسرے کے محافظ ونگہبان اور غم خوار و غم گسار بن گئے۔

خیر کا یہ انقلاب صرف عرب تک محدود نہیں رہا بلکہ تھوڑے سے عرصے اور قلیل مدت میں اس کی کرنیں دنیاکے چپے چپے تک پھیل گئیں اورپوری دنیا اس کی خیرات وبرکات اور شیریں ثمرات سے مستفید ہونے گی۔ دنیا میں پیغام محبت عام ہوا، قوم وقبیلے، ذات وپات، رنگ ونسل اور عرب وعجم کی تفریق ختم ہوئی اور ایک ہی صف میں محمود وایاز کھڑے نظر آئے۔ فضیلت وبرتری کا معیار تقوی قرار پایا۔ حضرت بلال حبشی رضی الله عنہ سیدنا بلال اور حضرت سلمان فارسی رضی الله عنہ سلمان منامن أھل البیت قرار پائے۔

اسلام نے شاہ وگدا کا فرق مٹا دیا، امیر وغریب دونوں چین وسکون سے زندگی بسر کرنے لگے۔ مسلمان جہاں بھی فاتح کی حیثیت سے داخل ہوئے انہوں نے امن وسلامتی اور عافیت وخیریت کو لوگوں میں پھیلایا اور عام کیا، ان کے دکھ درد میں شریکہوئے، لہٰذا ملکوں اور شہروں کی فتوحات کے ساتھ دل بھی فتح ہوتے چلے گئے اور لوگ فوج در فوج حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ اسلام کی امن وسلامتی والی تعلیمات کا نتیجہ تھا کہ فتنہٴ تاتار جس نے اسلام کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا وہ بھی اسلامی تعلیمات سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور بالآخر اسلام نے ان کے قلوب کو فتح کر لیا اور وہ سخت جان قوم اسلام کی آفاقی تعلیمات کے سامنے سرنگوں ہو گئی۔

آج سے تقریباً تین صدی قبل جب سے اہل مغرب کے یہود ونصاریٰ کا دنیا میں غلبہ ہوا ہے تو پوری دنیا بالخصوص عالم اسلام مسلسل فتنے اور آزمائش کا شکار ہے اورجنگوں کی آماج گاہ بنا ہوا ہے۔ بے حیائی، عریانی، حیا سوز واقعات، فتنے ہر طرف بپا ہیں، دنیامیں چین وسکون عنقاء ہو گیا ہے۔ دنیا نے اپنے ذہنی اختراع سے مختلف نظام ایجاد کیے تاکہ وہ چین وسکون اور نظم وضبط کے ساتھ زندگی گزار سکیں لیکن وہ سب نظام ناکام ونامراد ہوئے او ران کی وجہ سے جو نقصان ہوا اس کا ازالہ شاید آسانی سے نہ ہوسکے۔ لہٰذا دنیا کو اسلام کے امن وسلامتی والے آفاقی نظام کی طرف رجوع کرنا چاہییجس کی بنیاد وحی پر ہے اور جو رب العالمین کی طرف سے انسانوں کے لیے نازل کردہ مکمل ضابطہٴ حیات اور دستور العمل ہے۔ دنیا کے لیے امن وسلامتی کا یہ واحد راستہ ہے۔ الله تعالیٰ ہم سب کو اسلام کی آفاقی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔

وماتوفیقي إلا بالله، علیہ توکلت وإلیہ أنیب