بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

الله تعالیٰ ہمارے ملک کے حال پر رحم فرمائے!

الله تعالیٰ ہمارے ملک کے حال پر رحم فرمائے!

عبید اللہ خالد

نبی اکرم صلی الله علیہ وسلم اس دنیا میں الله تعالیٰ کے فرستادہ بن کر اسلام کی دعوت لے کر آئے تو آپ کو دشوار ترین مراحل اور حالات سے گزرنا پڑا، آپ کے رشتہ دار اور قبیلے وکنبے کے لوگ بھی آپ کے جانی دشمن بن گئے، آپ کو طرح طرح کی تکالیف اور ایذائیں دی گئیں، وقت کے ساتھ ان مشکلات میں اضافہ ہوتا رہا، لیکن آپ نے الله تعالیٰ کے پیغام اور حکم کو بجالالانے میں ہمت نہیں ہاری ، دین حق کی دعوت کے لیے مسلسل کوشاں رہے، ظلم وستم سہہ کر الله تعالیٰ کے پیغام کو انسانوں تک پہنچاتے رہے، رفتہ رفتہ الله تعالیٰ کی مدد ونصرت شامل حال ہوتی رہی،حالات آہستہ آہستہ تبدیل ہوتے رہے، آپ کے جاں نثار صحابہ کی تعداد میں اضافہ ہوتا رہا، ایک وقت آیا کہ اسلام کا چاند بدر کامل بن کر دنیا کے نقشے پر اپنی تابانیاں بکھیرنے لگا ، اس کی ضیا پاشیوں نے کرہٴ ارض کے ہر خطے کو روشن کرنا شروع کیا اورپوری دنیا اس کے نور سے مستفید اور منور ہونے لگی۔

عرب وعجم، مشرق ومغرب غرض دنیا کا ہر خطہ اس کی مبارک روشنی سے مستفید ہونے لگا، ہمارا خطہ برصغیر پاک وہند بھی الله تعالیٰ کی اس رحمت سے فیض یاب ہوا ، کئی مسلم حکم رانوں نے یہاں حکم رانی کی اور اولیاء الله نے لوگوں کو دین رحمت کی تعلیمات سے بہرہ ور کیا ، الله تعالیٰ سے تعلق قائم کرکے اس کے احکام کو ادا کرنے کی تلقین کی اور ان میں اسلامی تعلیمات کو سیکھنے اور ان پر عمل کرنے کا جذبہ او رماحول پیدا کیا، یہاں کے باسیوں کی ایک بڑی تعداد نے اسلام قبول کیا او راسلام کے آغوش رحمت میں جگہ پائی۔ برصغیر پر انگریزی تسلط کے بعد آزادی کی تحاریک کے نتیجے میں پاکستان وجود میں آیا تو یہ بھی درحقیقت یہاں کے اہل الله اور نیک حکم رانوں کے ان نیک اثرات کا اثر تھا جو اس خطے میں انہوں نے اپنے نیک اعمال اور پاکیزہ اوصاف وخصال سے قائم کیے تھے، پاکستان کا جود اُمت مسلمہ کے کسی ایک فرد کی نہیں بلکہ مسلمانوں کے گزشتہ اور موجودہ لوگوں کی کثیر تعداد کی مبارک وبلند محنتوں اور کاوشوں کا ثمر ہے۔

اب موجودہ لوگوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اس کی ترقی وسربلندی کے لیے محنت وکاوش کریں، اسے مضبوط ومستحکم بنائیں، اس کی نظریاتی وجغرافیائی سرحدات کی حفاظت کریں اور اسے درپیش چیلنجز سے نکالنے میں کردار ادا کریں ۔ اس وقت نظریاتی، معاشی اور ملّی وقومی حوالے سے جو مشکلات اس کو لاحق ہیں ان مشکلات کو دور کرنے میں پوری دیانت، قوت وطاقت او ربھرپور جدوجہد کے ساتھ اپنا کردار ادا کریں، تاکہ ہماری موجودہ اور آئندہ نسلیں الله تعالیٰ کے عطاکردہ دین رحمت سے مستفید ہوں اور اس پاک سر زمین میں رہ کر وہ خود بھی احکام خداوندی پر عمل پیرا ہوں اور دوسروں کے لیے بھی رحمت کا سامان اور ذریعہ بن سکیں۔ الله تعالیٰ اس ملک کی حالت پر رحم فرمائے اوراسے درپیش چیلنجز سے نکال کر ترقی کی شاہ راہ پر گام زن فرمائے۔ آمین!