بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اصلاح کی طرف پہلا قدم… توبہ

اصلاح کی طرف پہلا قدم… توبہ

مفتی محمد شفیع رحمہ الله تعالیٰ

جو شخص یہ چاہتا ہے کہ ا س کی باطنی دنیا صحت مند ہو، دل کے امراض دور ہو جائیں، اس کے نتیجے میں اسے رضائے خدا وندی حاصل ہو اور وہ عذاب جہنم سے محفوظ رہے تو اس کی راہ کا پہلا قدم”توبہ“ ہے۔

عام طور پر لوگوں کے ذہن میں ”توبہ“ کا مفہوم یہ ہے کہ صرف زبان سے ”استغفرالله ربی من کل ذنب واتوب الیہ“ کا ورد کر لیں، حالاں کہ یہ بڑی سخت غلط فہمی ہے۔ توبہ کی حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اپنے پچھلے گناہوں پر حسرت و ندامت ہو، حتی الامکان اس کے تدارک کی فکر کی جائے اور آئندہ کے لیے گناہوں سے بچنے کا مکمل عزم ہو۔

امام غزالی رحمہ الله نے اس بات کوبڑی اچھی طرح سمجھایا ہے وہ فرماتے ہیں کہ اس دنیا میں ”خیر اور ”شر“ ملے جلے رہتے ہیں، اس میں ”تقوی “ کے دواعی بھی موجود ہیں اور فسق وفجور کے بھی، بہت سی چیزیں ایسی ہیں جو آپ کو نیکی کی ترغیب دیتی ہیں اور بہت سی وہ ہیں جو آپ میں گناہ کرنے کا داعیہ پیدا کرتی ہیں، آپ کا فرض یہہے کہ گناہ کے دواعی کو مغلوب کرکے نیکی کے دواعی کو اس پر غالب کر دیں۔

امام غزالی رحمہ الله فرماتے ہیں کہ اس کی مثال اس ”سونے“ کی سی ہے جس میں کھوٹ ملا ہوا ہو، ظاہر ہے کہ ایسے سونے سے آپ اس وقت تک کام نہیں لے سکتے، جب تک کہ سونے کو کھوٹ سے الگ نہ کر لیں، جس کا واحد ذریعہ آگ کی تپش ہے، یہ آگ کی تپش ہی سونے کو کھوٹ سے جدا کرتی ہے۔

امام غزالی رحمہ الله فرماتے ہیں کہ بالکل اسی طرح انسان کے ”نیک“ کو ”بد“ سے ممتاز کرنے کے لیے بھی ”تپش“ کی ضرورت ہے، یہ ”تپش“ جو انسان کو کھوٹ سے نجات عطا کرتی ہے ، دو طرح کی ہے، ایک عذاب جہنم کی تپش، کیوں کہ مومن کے لیے جہنم کی آگ بھی درحقیقت کھوٹ ہی کو الگ کرنے کے لیے ہو گئی، محض جلانا مقصد نہیں ہو گا، بلکہ پاک صاف کرکے جنت میں داخل کرنا مقصود ہو گا، بخلاف کافروں کے کہ انہیں دائمی طور پر جلنے ہی کے لیے جہنم میں ڈالا جائے گا۔اسی لیے قرآن کریم نے فرمایا: ﴿وھل نجٰزی الا الکفور﴾ (سورة السباء:17)

دوسری قسم کی ”تپش“ حسرت وندامت کی تپش ہے، یہ ایسی آگ ہے جو اس دنیا میں کھوٹ کو پگھلاسکتی ہے۔امام غزالی رحمہ الله فرماتے ہیں کہ انسان کو کھوٹ سے نجات حاصل کرنے کے لیے ان دو قسموں میں سے کسی ایک قسم کی آگ میں جلنا ضروری ہے، اب اگر وہ چاہے تو جہنم کی آگ کو اختیار کرلے اور اگر یہ بات اسے مشکل معلوم ہوتی ہے، چناں چہ واقعتا بھی یہ بڑی مشکل ہے… تو اس کے سوا چارہ نہیں کہ اسی دنیا میں اپنے دل کے اندر حسرت وندامت کی تپش اور سوزش پیدا کرے، اسی تپش اور سوزش کا نام ”توبہ“ ہے۔ اسی لیے حدیث میں ارشاد فرمایا گیا:”توبہ ندامت ہی کا نام ہے۔“

توبہ کے تین درجے
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ندامت کس طرح پیدا ہو؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ندامت پیدا کرنے کا واحد ذریعہ ”علم“ ہے، کیوں کہ جب تک آدمی کو یہ معلوم نہ ہو کہ میں نے جو کام کیا ہے وہ غلط یا مضر تھا، اسے اپنے کیے پر کبھی پشیمانی نہیں ہوگی، جس شخص کو یہی پتہ نہ ہو کہ جو چیز میں نے کھائی ہے وہ زہر تھی، اسے ندامت کیسے ہو؟ ندامت اسی وقت ہوسکتی ہے جب اسے یہ علم ہو کہ میں نے زہر کھایا ہے اور یہ میرے لیے مہلک ہے۔

بالکل اسی طرح جب تک آدمی کو یہ علم نہ ہو کہ جو کام میں نے کیا ہے وہ بُرا ہے، ناجائز یا عذاب جہنم کا موجب ہے، اس وقت تک اسے اپنے اس فعل پرندامت نہیں ہوسکتی، لہٰذا اگر ”ندامت“ کی تپش پیدا کرنی ہے تو اس کا پہلا راستہ یہ ہے کہ گناہ کے گناہ ہونے کا علم پیدا کیا جائے او رعلم بھی محض رسمی اور لفظی علم نہیں، بلکہ ایسا علم جو دل میں فکر آخرت ، خوف خدا اورگناہ کی لذت سے زیادہ اس کی نفرت پیدا کرے۔ اسی لیے قرآن کریم نے الله سے ڈرنے کو علم کی علامت قرار دیا ہے۔ ارشاد بار ی تعالیٰ ہے:

”الله کے بندوں میں سے جاننے والے ہی اس سے ڈرتے ہیں۔“

جس شخص کے دل میں خوف خدا اور فکر آخرت نہ ہو او رجسے گناہوں کی تباہ کاری کا علم یقین حاصل نہ ہو ، وہ علم نہیں، بدترین جہل ہے۔

مولانا رومی رحمہ الله فرماتے ہیں:
        جان جملہ علم ہا این است وایں
        کہ بدانی من کیم دریوم دیں؟
(تمام علوم کا خلاصہ اور حاصل یہ ہے کہ تم جان لو کہ روز حشر میرا کیا حال ہو گا؟)

جب تک گناہوں کے بارے میں یہ یقینی علم حاصل نہ ہو کہ وہ ظاہری طور پرکتنے ہی نظر فریب کیوں نہ ہوں، حقیقت میں آگ کے انگارے ہیں، قرآن کریم کی اصطلاح میں انسان عالم نہیں کہلا سکتا او رنہ اس کے بغیر توبہ کی حقیقت حاصل ہوسکتی ہے۔

اس علم کو پیدا کرنے کا طریق یہ ہے کہ قرآن وسنت میں غور کرکے گناہوں کے وبال اور عذاب کا استحضار پیدا کیا جائے او ران کی تباہ کاریوں کو مراقبہ کے ذریعے ذہن میں خوب اچھی طرح جمایا او ربٹھایا جائے۔ شیخ ابن حجر ہیثمی رحمہ الله نے ایک مستقل کتاب میں گناہوں کی فہرست جمع کر دی ہے، جس میں تین سو گناہ کبیرہ شمار کیے ہیں، اس کا اردو ترجمہ بھی چھپ گیا ہے۔

حافظ زین الدین بن نجیم رحمہ الله تعالی اور حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ الله تعالیٰ کی بھی اس موضوع پر مستقل کتابیں ہیں اور اردو میں حکیم الامت حضرت مولانا تھانوی رحمہ الله نے اپنی تصانیف اور بالخصوص ’جزاء الاعمال“ میں اس پہلو کو واضح فرمایا ہے۔ ان کتابوں کا مطالعہ مذکورہ ”علم“ کے حاصل کرنے کے لیے مفید ہو گا۔

اس ”علم“ کے بعد توبہ کا دوسرا درجہ ”ندامت“ ہے، ظاہر ہے کہ جب کسی شخص کو کسی ناجائز فعل کے تباہ کن ہونے کا یقینی علم حاصل ہوجائے گا تو اگر اس نے ماضی میں وہ ناجائز فعل کیا ہے تو اس کو لازماً اپنے کیے پر ”ندامت“ او ر پشیمانی ہو گی۔

اس کے بعد تیسرا درجہ ”تدارک“ ہے، جس کے لیے دو کام کرنے ضروری ہیں: اول آئندہ گناہ نہ کرنے کا پختہ عزم، دوم ماضی میں جو گناہ ہوئے ہیں، اگر وہ حقوق العباد سے تعلق رکھتے ہیں تو ان کی حتی المقدور ادائی، مثلاً اگر کسی کا مال غصب کیا ہے تو اسے واپس کیا جائے، کسی کو ہاتھ یا زبان سے تکلیف پہنچائی ہے تو اس کے بدلے کے لیے تیار ہوکر اس سے معافی کی درخواست کرنا وغیرہ۔

او راگر وہ گناہ حقوق الله سے تعلق رکھتا ہو تو جن گناہوں کا قضایا کفارہ سے تدارک ممکن ہو، ان کا اسی طرح تدارک کرنا، مثلاً اگر نمازیں یا روزے چھوڑ دیے ہیں تو ان کی قضا کی جائے یا اگر قسم کھا کر توڑی ہے تو اس کا کفارہ ادا کیا جائے او راگر گناہ ایسا ہے کہ شریعت میں قضایا کفارہ کے ذریعہ اس کا تدارک ممکن نہیں ہے تو الله تعالیٰ سے پوری عاجزی کے ساتھ استغفار کرنا۔

حضرت تھانوی نوّرالله مرقدہ کے یہاں ان تمام چیزوں کا خاص اہتمام کیا جاتا تھا اور وہ ہمیشہ توبہ کے وقت سابقہ گناہوں کے تدارک کی ہرامکانی کوشش کو کام میں لانے کی تلقین فرماتے تھے۔ اگر اس طریقے پر گناہوں سے توبہ کی جائے تو بقول حضرت تھانوی رحمہ الله کے ایک شخص چند لمحوں میں ولی کامل بن سکتا ہے۔ اس لیے کہ حدیث میں سرکار دو عالم صلی الله علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:
”گناہ سے توبہ کرنے والا ایسا ہے جیسے وہ شخص جس نے کبھی گناہ ہی نہ کیا ہو۔“ توبہ کا یہ دروازہ ہر شخص کے لیے اس وقت تک کھلا ہوا ہے جب تک نزع کی کیفیت اس پر طاری نہیں ہو جاتی، اس کے بعد توبہ قبول نہیں ہوتی۔