بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اصلاحِ نفس کی ضرورت

اصلاحِ نفس کی ضرورت

مولانا محمد عاشق الہی صاحب بلندی شہریؒ

تکبر اور غرور کی مذمت
تکبر بری بلا ہے، یہی ابلیس کے ملعون ہونے کا سبب بنا ہے قرآن مجید میں الله تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿ إِنَّ اللّہَ لاَ یُحِبُّ مَن کَانَ مُخْتَالاً فَخُورا﴾․(سورة النساء:36) ”بے شک الله دوست نہیں رکھتا اُس شخص کو جو اپنے آپ کو بڑا سمجھے اور شیخی کی باتیں کرے۔“

اس آیت میں ان لوگوں کی مذمت فرمائی ہے جو اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں اور دوسروں کو حقیر جانتے ہیں، فخر، کبر اور نخوت کے نشے میں بھرے رہتے ہیں۔ لفظ ” مختال“ خیلاء سے ماخوذ ہے او رباب افتعال سے اسم ِ فاعل کا صیغہ ہے، یہ لفظ اپنے کو بڑا سمجھنے، اِترانے، آپے میں پھولے نہ سمانے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ اپنے کو بڑا سمجھنا یہ دل کا بہت بڑا روگ ہے اور اکثر گناہ اسی وجہ سے ہوتے ہیں، شہرت کا طالب ہونا، اعمال میں ریا کاری کرنا، بیاہ شادی میں دنیا داری کی رسمیں برتنا اور یہ خیال کرنا کہ ایسا نہ کیا تو” لوگ کیا کہیں گے؟“… یہ سب تکبر ہے۔

ناحق پر اصرار کرنا، حق کو ٹھکرانا، غلط بات کہہ کر غلطی واضح ہوجانے پر حق قبول نہ کرنا، شریعت پر چلنے میں خفت محسوس کرنا، گناہوں کو اس لیے نہ چھوڑنا کہ معاشرے والے کیا کہیں گے، یہ سب تکبر سے پیدا ہونے والی چیزیں ہیں۔ ایک صحابی نے عرض کیا:

”یا رسول الله (صلی الله علیہ وسلم) ایک آدمی پسند کرتا ہے کہ اُس کا کپڑا اچھا ہو، جوتا اچھا ہو کیا یہ تکبر ہے؟ آپ نے فرمایا الله جل شانہ جمیل ہے جمال کو پسند فرماتا ہے، تکبر یہ ہے کہ حق کو ٹھکرائے اور لوگوں کو حقیرجانے۔“ ( مسلم شریف، کتاب الایمان، رقم الحدیث:147) ”مختال“ کی مذمت کے ساتھ ”فخور“ کی مذمت بھی فرمائی ہے، لفظ ”فخور“ فخر سے ماخوذ ہے، شیخی بگھارنا، اپنی جھوٹی تعریفیں کرنا، لفظ فخر اس سب کو شامل ہے، بہت سے لوگوں کو یہ مرض بھی ہوتا ہے کہ مال یا علم یا عہدہ کی وجہ سے نشہ میں چور رہتے ہیں۔ شیخی بگھارتے ہیں او رفخر کرتے ہیں، اُن کا ذہن اس طرف نہیں جاتا کہ اُن کے پاس جو کچھ ہے الله تعالیٰ نے دیا ہے اور یہ کہ وہ الله کے عاجز بندے ہیں ،جو کچھ نعمتیں الله تعالیٰ نے ان کو عطا فرمائی ہیں اس انداز میں لوگوں کے سامنے ان کا مظاہرہ کرتے ہیں جیسے ان کے حاصل ہونے میں ان کا کمال شامل ہے اور جن کے پاس وہ چیزیں نہیں اُن سے اپنے کو بلند اوربر تر سمجھتے ہیں او راپنے خالق ومالک کو بھول جاتے ہیں، اُس نے جس کو دیا ہے اپنے فضل سے عطا فرمایا ہے او رجس کو نہیں دیا اُس میں حکمت ہے، بندہ کا مقام یہ ہے کہ اپنے کو عاجز سمجھے اور شکر گزار رہے اور ا لله کے دوسرے بندوں کو حقیر نہ سمجھے۔

آج کل ٹخنوں سے نیچا کپڑا پہننے کا بھی بہت زیادہ رواج ہے، حدیث شریف میں اس پر سخت وعید آئی ہے، حضرت عبدا لله بن عمر رضی الله تعالیٰ عنہما سے روایت ہے کہ ”رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص تکبر کرتے ہوئے اپنا کپڑا گھسیٹ کر چلا الله تعالیٰ اُس کی طرف نظر ِ رحمت سے نہ دیکھے گا۔“ (بخاری، کتاب اللباس، رقم الحدیث:5783)

حضرت ابو سعید خدری رضی الله تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول الله صلی الله علیہ وسلم سے سنا ہے کہ ”مومن کا تہہ بند آدھی پنڈلیوں تک ہونا چاہیے ( اور) اس میں اُس پر کوئی گناہ نہیں کہ آدھی پنڈلیوں اور ٹخنوں کے درمیان ہو او رجو اس کے نیچے ہو وہ دوزخ میں لے جانے والا ہے اور الله تعالیٰ قیامت کے دن اُس کی طرف نظرِ رحمت سے نہیں د یکھے گا جس نے اپنا تہہ بند اِتراتے ہوئے گھسیٹا۔“ (أبوداود، کتاب اللباس، رقم الحدیث:4093)

کپڑا ٹخنوں سے نیچے لٹکانے کا گناہ صرف تہہ بند ہی میں نہیں، بلکہ دوسرے کپڑوں میں بھی ہے، جیسے کرتا، پاجامہ وغیرہ کو اگر کوئی ٹخنوں سے نیچے لٹکالے تو یہ بھی اسی ممانعت میں شامل ہیں۔

”قال النبي صلی الله علیہ وسلم الإسبال في الإزار والقمیص والعمامة، من جر منھا خیلاء لم ینظر الله إلیہ یوم القیامة“․(أبوداودکتاب اللباس، رقم الحدیث:4094)

حضرت جابر بن سلیم رضی الله تعالیٰ عنہ کو آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے جو نصیحتیں فرمائیں، اُن میں سے یہ بھی ہے: ” وإیاک وإسبال الإزار، فإنھا من المخیلة، وإن الله لا یحب المخیلة․“

”تہہ بندکو لٹکانے سے پرہیز کرو، کیوں کہ یہ تکبر کی وجہ سے ہوتا ہے اور بے شک الله تعالیٰ تکبر کو پسند نہیں فرماتا۔“ ( أبوداود، کتاب اللباس، رقم الحدیث:4084)

آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے ”إنھا من المخیلة“ فرما کر ان لوگوں کی بات کی تردید فرما دی جو ٹخنوں سے نیچا کپڑا پہنتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ تکبر کی وجہ سے نہیں پہنتے، جو لوگ ٹخنوں سے نیچے کپڑا پہنتے ہیں اُونچا کپڑا پہن لیں تو اس میں اپنی اہانت سمجھتے ہیں او رجو لوگ اُونچا کپڑا پہنتے ہیں ان کو حقیر جانتے ہیں، یہی تو تکبر ہے، یہ لوگ کسی بھی طرح آدھی پنڈلی تک تہہ بند باندھ کر بازار میں جا کر دکھا دیں، دیکھو! نفس گوارا کرتا ہے یا نہیں؟ اس سے پتہ چل جائے گا کہ ٹخنوں سے نیچا پہننا تکبر ہی کے لیے ہے یا نہیں؟! سابقہ اُمتوں میں سے ایک شخص کے بارے میں رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ وہ تکبر سے اپنے تہہ بند کو گھسیٹتا ہوا جارہا تھا لہٰذا اس کو زمین میں دھنسا دیا گیا، وہ قیامت تک زمین میں دھنستا چلا جائے گا۔“ (بخاری، کتاب اللباس،رقم الحدیث:5789)

لوگوں نے کہیں یہ حدیث سن لی کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کی لنگی نیچے ہو جاتی تھی، اس کو لوگوں نے پاجامہ تہبند اور دوسرے لباسوں کے ٹخنے سے نیچے پہننے کے جواز کی دلیل بنالی، یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کا اتباع کرتے ہیں۔

پہلی بات یہ ہے کہ رسول الله صلی الله علیہ وسلم کا صریح ارشاد (کہ جو کپڑا ٹخنے سے نیچا ہو وہ دوزخ میں جانے کا ذریعہ ہے ) چھوڑ کر حضرت ابوبکر صدیق رضی الله عنہ کی پیروی کرنے کا کیا جواز ہے؟ پھر کیا حضرت ابوبکر صدیق رضی الله تعالیٰ عنہ کی پیروی کے لیے یہی ایک کام رہ گیا ہے ؟ انہوں نے تو الله کی راہ میں سارا مال خرچ کرنے کے لیے رسول الله صلی الله علیہ وسلم کی خدمت میں لا کر پیش کر دیا تھا، آپ تو ایک چوتھائی بھی خرچ کرنے کو تیار نہیں!

نیز حدیث شریف میں یوں ہے کہ جب رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص تکبر کے طور پر اپنا کپڑا گھسیٹتا ہوا چلے قیامت کے دن الله تعالیٰ اُس کی طرف نظرِ رحمت سے نہ دیکھے گا تو حضرت ابوبکر صدیق  نے عرض کیا کہ:” یا رسول الله! إزاري یسترخي إلا أن أتعاھدہ“ کہ میرا تہہ بند ڈھیلا ہو کر نیچے ہو جاتا ہے، ہاں! میں اگر اس کا خاص اہتمام کروں تو نہیں ہوتا تو اس پر آنحضرت صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا”إنّک لست ممن یفعلہ خیلاء“ تم ان میں سے نہیں کہ جو اس کام کو ازراہ ِتکبر کرتے ہیں۔ (مشکوٰة شریف، کتاب اللباس، رقم الحدیث:4369) حضرت ابوبکر کا تہہ بندبے دھیانی میں سرک جاتا تھا، پھر رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ان کے بارے میں تصریح فرما دی اورگواہی دے دی کہ تم ان میں سے نہیں ہو جو اس کام کو تکبر کی وجہ سے کرتے ہیں ،اب وہ لوگ اپنے ظلم کی خود ہی داد دیں جو حضرت ابوبکر رضی الله تعالیٰ عنہ کے اتباع کا دعویٰ کرتے ہیں، قصدا کپڑا خریدتے وقت یہ سوچ کر خریدتے ہیں کہ ٹخنہ سے نیچا سلوانا ہے،پھر درزی کے پاس ٹخنے سے نیچا سلوانے کے لیے ناپ دیتے ہیں، پھر قصداً ٹخنے سے نیچا پہنتے ہیں اور اُونچا پہننے میں کسر شان سمجھتے ہیں، ان کا یہ سارا عمل اور حضرت ابوبکر رضی الله تعالیٰ عنہ کے تہہ بند کا بے دھیانی میں لٹک جانا کیا ایک ہی بات ہے؟ ایسی بے تکی باتوں سے کیا گناہ کرنا حلال ہو جائے گا؟ انسان گناہ کو گناہ سمجھ کر کرے تو توبہ کی توفیق ہو جاتی ہے، لیکن انیچ پینچ کرکے اسے حلال ہی سمجھ لے تو گناہ گار ہی مرتا ہے۔

ہمارے ایک دوست نے پتلون پہننا چھوڑ دیا، پرانے پتلون رکھے ہوئے تھے، وہ مجھ سے کہنے لگے کہ ان کا کیا کروں؟ میں نے کہا کٹوا کر ٹخنوں سے اُونچی کر لو اور اس کے بعد پہنو اور پہنتے وقت آگے پیچھے کرتے کا دامن بھی ڈھک لینا! یہ سن کر وہ ہنس پڑے، اُن کی ہنسی یہ ظاہر کر رہی تھی کہ جب ٹخنے سے نیچا نہ رہا او رکرتے کا دامن بھی ڈھک گیا تو وہ پتلون ہی کہاں رہا؟ پتلون کا تو مقصد ہی اِترانا اور دھڑکو چمکانا اور اُبھرا ہوا دکھانا ہے۔

مسلمانو! کیا مصیبت ہے کہ لباس اور وضع قطع میں اسلام کا طریقہ چھوڑ دیں او رکافروں کی وضع قطع اور سج دھج اختیار کریں! ہمارا دین علیحدہ ہے، دشمنوں کا دین علیحدہ ہے۔ دشمنانِ اسلام کا طریقہ ہم سے مختلف ہے ! ان کے یہاں تو دو چار تصورات وتوہمات کے علاوہ دین ہے ہی نہیں۔

ہمارا دین کامل ہے، مکمل ہے، جامع ہے، زندگی کے ہرشعبے پر حاوی ہے، لہٰذا ہمیں اپنے دشمن کی طرف نظریں اُٹھا کر دیکھنے اور اُن جیسا بننے کی کیا ضرورت ہے؟ کیسی بے غیرتی ہے کہ وہ ہماری وضع قطع اور لباس اور معاشرت اختیار کرنے کو تیار نہیں او رہمارے فیشن کے دلدادہ بھائی اُن کے سانچے میں ڈھل رہے ہیں! قرآنِ مجید میں فرمایا﴿وَلاَ تَرْکَنُواْ إِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُواْ فَتَمَسَّکُمُ النَّار﴾ (سورة ھود:113)” اور اُن لوگوں کی طرف مائل نہ ہو جاؤ جنہوں نے ظلم کیا، ورنہ تمہیں دوزخ کی آگ پکڑ لے گی۔“

”تکبر“ بڑا بننے کا نام ہے، اس کی سزا بھی ذلت والی ہے۔ حضرت عمر وبن شعیب رحمة الله علیہ اپنے باپ دادا سے روایت کرتے ہیں ،رسول الله صلی الله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ” تکبر کرنے والوں کا حشر قیامت کے دن چیونٹیوں کی طرح ہو گا ( جسم چیونٹیوں کے برابر ہوں گے) صورتیں انسانوں کی ہوں گی، ہر طرف سے ان پر ذلت چھائی ہوئی ہوگی، ان کو دوزخ کے جیل خانہ کی طرف چلایا جائے گا، اُن پر آگوں کو جلانے والی آگ چڑھی ہوگی، اُن کو دوزخیوں کے جسم کا نچوڑ پلایا جائے گا ( جس کا نام) طینة الخبال ہے۔“ (مشکوٰة شریف، کتاب الآداب، رقم الحدیث:5112)

یہ بات جو مشہور ہے ”مار گھٹنا پھوٹے آنکھ“ اس کے پیچھے ایک قصہ ہے اور وہ یوں ہے کہ ایک چوہدری صاحب تھے مجلس میں بیٹھے تو اپنی خوب تعریفیں کرتے تھے، بعض باتیں بہت ہی بے تکی ہوتی تھیں او رتعریف کے موڈ میں انہیں یہ بھی پتہ نہ رہتا کہ میری اس بات کو لوگ قبول بھی کریں گے یا نہیں ! جب بے تکی باتیں کرتے تھے تو لوگ حیرت زدہ ہو کر پوچھتے تھے کہ واہ میاں! یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ چوہدری نے ایک ذہین آدمی کو اس بات پر ملازم رکھا کہ جب میں کوئی بے تکی بات کہوں تو آپ اسے ٹھیک ثابت کر دیا کریں، ملازم صاحب نے کام شروع کر دیا، ایک دن چوہدری صاحب نے اپنی تعریف شروع کر دی او راپنے شکار کرنے کا قصبہ بیان کیا، ڈینگیں مارتے ہوئے یوں فرمایا کہ آج جو ہم شکار کے لیے گئے تو ایک ہرن نظر آگیا، اُسے جو گولی ماری تو گھٹنا توڑتے ہوئے آنکھ پھوڑتی ہوئی نکل گئی!

حاضرین ِ مجلس نے فورا کہا کہ واہ میاں! کہاں گھٹنا او رکہاں آنکھ ؟ گھٹنے میں گولی لگ کر آنکھ میں کیسے لگی! وہ صاحب فوراً بول پڑے کہ ”چوہدری صاحب کا فرمانا ٹھیک ہے، بات یہ ہے کہ جب چوہدری صاحب نے گولی ماری تھی وہ ہرن اُس وقت اپنے گھٹنے سے آنکھ کو کھجا رہا تھا“ دیکھو! انسان میں اپنی تعریف کے کس قدر جذبات ہیں، صحیح کرنے کے لیے تنخواہ دار نو کر رکھے۔

بادشاہوں کو یہ مرض تھا کہ اپنی تعریفیں کروانے کے لیے اپنے دربار میں شاعروں کو رکھتے تھے، شاعر اِن کی تعریف میں آسمان وزمین کے قلابے ملاتے تھے او راِسی کی روٹی کھاتے تھے، یہی شعراء جب کسی بات پر بگڑ جاتے تھے تو پھر ہجو اورمذمت میں بھی انتہا کر دیتے تھے، نہ جھوٹی تعریف سے خوش ہوتے، نہ ہجو کی نوبت آتی، خود سری اور خود ستائی بُرا مرض ہے۔