بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اصلاحِ معاشرہ اور ہماری ذمہ داری!

اصلاحِ معاشرہ اور ہماری ذمہ داری!

مولانا مفتی ابوالقاسم نعمانی

ہر مسلمان مرد وعورت کی ذمہ داری ہے کہ ایمان وعقیدہ کی درستگی کے ساتھخود بھی نیک اعمال کا خوگر ہو، برائیوں سے پرہیز کرے اور دوسروں کوبھی صالح بنانے کی کوشش کرے، اچھائیوں کو پھیلانے او ربرائیوں کومٹانے کی فکر او رجد وجہد کرے۔

الله جل شانہ نے قرآن پاک میں اس امت کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا:﴿کُنتُمْ خَیْْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْہَوْنَ عَنِ الْمُنکَرِ وَتُؤْمِنُونَ بِاللّہِ﴾․ (سورہٴ آل عمران:110)
ترجمہ:” تم لوگ بہترین امت ہو ،جو لوگوں کو نفع رسانی کے لیے پیدا کی گئی ہے، تم اچھائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے روکتے ہو اور خود بھی ایمان والے ہو۔“

حضرت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا:﴿کلکم راعٍ وکلکم مسئول عن رعیتہ․“ (بخاری)
ترجمہ:” تم سب ذمہ دار ہو او رتم سب سے اپنے ماتحتوں کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔“

ان سب ارشادات سے معلوم ہوا کہ ہر مسلمان کی پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ اپنے ایمان اور عقیدہ کی درستگی کے ساتھ اپنے اعمال، اخلاق، عادات او رمعاملات کو شریعت وسنت کے مطابق بنانے کی کوشش کرے، لیکن صرف اپنے ایمان اور اعمال کی فکر کافی نہیں، بلکہ درجہ بدرجہ اپنے اہل خانہ، اہل وعیال، اہل محلہ، اہل شہر ،بلکہ تمام لوگوں کو نیکی کی راہ پر لانے کی فکر کرے۔ الله تعالیٰ نے سورہ ”والعصر“ میں زمانے کی قسم کھا کر فرمایا ہے کہ تمام انسان خسارے اور نقصان میں ہیں، سوائے ان کے جو ایمان والے ہوں، اچھے کام کریں، آپس میں ایک دوسرے کو صحیح بات کی تلقین کریں اور آپس میں ایک دوسرے کو صبر واستقامت کی تاکید کریں۔

ایمان کا ادنیٰ درجہ
رسول الله صلی ا لله علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم میں سے جو شخص بھی کسی منکر (غلط کام) کو دیکھے اسے اپنے ہاتھ سے مٹائے، اگر اس کی طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے نکیر کرے، اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو دل سے مٹائے، یعنی دل میں برائی کو دیکھ کر کڑھن پیدا ہو اور اس برائی کو ختم کرنے کی فکر کرے اور یہ ایمان کا ادنیٰ درجہ ہے۔ اور ایک روایت میں ہے کہ اس سے نیچے ایمان کا معمولی درجہ بھی نہیں ہے۔“ (مسلم شریف)

اس حدیث سے معلوم ہواکہ یہ ذمہ داری بلا امتیاز ہر امتی کی ہے کہ اپنی آنکھیں کھلی رکھے۔ حالات کا جائزہ لے اور اپنے ارد گرد جہاں بھی کوئی عملی، اخلاقی برائی نظر آئے اس کو ختم کرنے کی پوری کوشش کرے۔

امر بالمعروف ونہی عن المنکر
اسی عمل کو قرآن وسنت کی زبان میں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے عنوان سے بیان کیا گیا ہے او رجگہ جگہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی تاکید فرمائی گئی ہے او راس عمل میں کوتاہی برتنے پر سخت وعیدیں بیان کی گئی ہیں۔

ایک حدیث میں فرمایا گیا:
ترجمہ:” فرمایا کہ قسم اس ذات کی جس کے قبضہ میں میر ی جان ہے! تم ضرو ربالضرور امر بالمعروف او رنہی عن المنکر کرتے رہو ،ورنہ بہت جلد الله تعالیٰ اپنے پاس سے تمہارے اوپر عذاب بھیجے گا، پھر تم اس سے دعائیں مانگو گے اورتمہاری دعائیں قبول نہیں ہوں گی۔“ (ترمذی)

ایک دوسری حدیث میں ارشاد ہے:
ترجمہ:” فرمایا کہ جو شخص بھی ایسی قوم میں ہو جن میں گناہ کیے جارہے ہوں اور وہ اس کے مٹانے پر قادر ہوں او رپھر بھی نہ مٹائیں ان کو الله تعالیٰ ان کے مرنے سے پہلے عذاب میں مبتلا کر دے گا۔“ (ابوداؤد وابن ماجہ)

معاشرہ کی حالت زار
اس وقت عام طور پر مسلم معاشرہ کی جو صورت حال ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے، سب سے اہم عبادت نماز سے غفلت عام ہے، نشہ بازی ، جوا، سٹہ اور طرح طرح کی مخرب اخلاق او رتباہ کن عادتوں میں معاشرہ کا بڑا طبقہ مبتلا ہے، شادی کے موقع پرفضول خرچی، جہیز اور لایعنی رسوم کی پابند ی کی وجہ سے کتنے گھرانے تباہ ہو رہے ہیں، ملٹی میڈیا موبائل کے غلط استعمال سے نوجوان طبقہ بے حیائی اور فحاشی کا شکار ہو رہا ہے۔

گھروں میں ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی ہو رہی ہے، یہ او راس جیسی متعدد عملی او راخلاقی خرابیوں میں معاشرہ تباہ ہو رہا ہے۔

دوسری طرف ان جیسی خرابیوں کے ازالہ کے لیے، امر بالمعروف، نہی عن المنکر، یعنی اصلاح معاشرہ کے لیے جیسی مسلسل او رمنظم جدوجہد کی ضرورت ہے اس میں بھی عام طور پر کوتاہی ہو رہی ہے، جس کے نتیجہ میں امت میں عام طور پر بے چینی ، پریشانی پھیلی ہوئی نظر آتی ہے۔

ہماری ذمہ داریاں
ان حالات میں تمام مسلمانوں او رخاص طور پر علمائے کرام، ائمہ مساجد، متولیان مساجد، بستی او ربرادری کے ذمہ دار افراد کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ معاشرہ کی اصلاح کے لیے خود محنت کریں او راس سلسلہ میں کی جانے والی کوششوں کے ساتھ عملی اور فکری تعاون پیش کریں۔

یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ معاشرہ کی اصلاح اوررسم ورواج کو ختم کرنے کی محنت بہت قیمتی عمل ہے۔ الله تعالیٰ نے یہ کام انبیاء علیہم الصلوٰة والسلام سے لیا ہے۔ جب بھی دنیا میں بگاڑ پیدا ہوا الله تعالیٰ نے اپنے کسی برگزیدہ بندہ کو نبوت سے سرفراز فرما کر قوم کی اصلاح کے لیے مبعوث فرمایا۔

داعی کے اوصاف
اب جب کہ الله کے آخری پیغمبر، خاتم النبیین، حضرت محمد رسول الله صلی الله علیہ وسلم دنیا میں آ چکے اور آپ نے تبلیغ دین کا کام امت کے حوالہ فرما کر انہیں یہ ہدایت دی کہ جن لوگوں تک دین کی تعلیمات پہنچیں وہ دوسروں تک پہنچائیں، تو اب ختم نبوت کی برکت سے الله تعالیٰ نے یہ سعادت امت کے علماء، مشائخ، مصلحین، ائمہ اور فکر مندافراد کو عطا فرمائی ہے۔ اس لیے جو حضرات بھی اس سلسلہ میں اپنی صلاحیت، محنت او روقت صرف کریں یہ ان کے لیے موجب سعادت ہے۔ خوش دلی او ربشاشت کے ساتھ اس کام میں لگنا چاہیے اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس راہ میں مخالفت اور طعن وتشنیع کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے الله تعالیٰ نے سورہ ”والعصر“ میں اس بات کی بھی تاکید فرمائی ہے کہ اپنے ایمان وعقیدہ کی درستگی اور اعمال صالحہ کے اہتمام کے ساتھ ایک دوسرے کو حق بات کی تلقین کریں تو اس بات کی بھی تلقین کریں کہ حق کی اشاعت کی راہ میں آنے والی دشواریوں او رمشکلات پر صبر کریں اور استقامت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ ساتھ ہی ساتھ اس بات کا بھی خیال رکھنا ہے کہ جس خیر کی دعوت دی جائے خود اس پر عمل کی کوشش کی جائے او رجس منکر سے دوسروں کو روکا جائے خود بھی اس سے پرہیز کیا جائے۔

الله تعالیٰ نے قرآن میں ان لوگوں پر نکیر فرمائی ہے جو دوسروں کو نیکی کا حکم دیں اور خود اس پر عمل پیرا نہ ہوں۔
ارشاد خدا وندی ہے: ﴿أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنسَوْنَ أَنفُسَکُم﴾؟(البقرہ:44)
ترجمہ:”کیا تم لوگوں کو نیکی کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے کو بھلا دیتے ہو؟“

حاصل یہ ہے کہ معاشرہ کا فساد اپنی انتہا کو پہنچ چکا ہے، جس کے نتیجہ میں امت بے چینی، پریشانی، ذلت، نکبت اور زبوں حالی میں مبتلا ہے، اس لیے اس صورت حال کو بدلنے کے لیے ہر رخ سے محنت کرنا ضروری ہے اور یہ محنت وقتی اور محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ پوری لگن ودل چسپی کے ساتھ جاری رہنی چاہیے۔