بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اسلام کے مقابلہ میں بیمار ذہنیتوں کا کردار

اسلام کے مقابلہ میں بیمار ذہنیتوں کا کردار

مولانا ڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی

 

اسلام کی حقیقت او راس کی روح سے نا آشنا افراد اکثر یہ سوال کرتے ہیں کہ دین متین کا وہ کون سا محور ہے، جو تمام تہذیبی وتمدنی فلسفوں اور نظریات پر حاوی ہے ، ادیان وملل کا تقابلی مطالعہ کرنے والوں اور غیر جانب داری کے ساتھ مذاہب کا علم رکھنے والوں سے یہ حقیقت پوشیدہ نہیں ہے کہ مذہب اسلام کی تعلیمات ہی وہ تعلیمات ہیں جنہیں بقا ودوام حاصل ہے، چناں چہ جب اس کی تعلیمات سدا بہار، فطرت ِ انسانی سے ہم آہنگ اور قریب تر ہیں تو ان کا یہ فطری حق ہے کہ ہر زمانے میں انہیں بروئے کار لایا جائے، ہر طرح کی ترمیم واصلاحات سے انہیں محفوظ رکھا جائے اور سخت سے سخت حالات اور وقتی وعارضی منافع ومصالح کے سامنے، ان کی فعالیت اور برتری کو ثابت کیا جائے۔

مذہب اسلام کی تعلیمات کو بعض ان مذاہب کی تعلیمات پر قیاس نہیں کیا جاسکتا جو اپنی اصلی او رحقیقی شکل میں روئے زمین پر گنتیکے چند دن باقی رہیں، پھر تبدیل وتحریف کا شکار ہو گئیں یا اپنے عہد کے ساتھ رخصت ہو گئیں، اسلام کی تعلیمات تو زمانے کے دست وبرد سے محفوظ ہیں او رمحفوظ رہیں گی، کیوں کہ رب قدیر نے ہر طرح کے تغیرو تبدل سے ان کی حفاظت وصیانت کی ذمہ داری خود لے لی ہے ، اسی حقیقت کو الله تبارک وتعالیٰ نے اس آیت کریمہ میں آشکار کیا ہے :﴿إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ﴾․ حجر:9)( کہ اس قرآن کو ہم ہی نے نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کے محافظ ہیں)۔

ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ مذہب ِ اسلام جس زندگی کو تشکیل دینا چاہتا ہے اس کا معنی ومفہوم سائنس وٹیکنالوجی اور تہذیبی ترقیات کے اس دور میں دیگر تہذیبی وثقافتی او رمعاشرتی وسماجی مفاہیم کے ساتھ خلط ملط ہو گیا ہے، حتیٰ کہ یہ صورت حال اب ان مسلم تعلیم یافتہ طبقوں کے یہاں بھی دیکھنے کو مل رہی ہے جنہوں نے شریعت ِ اسلامی کا عملی تجربہ نہیں کیا ہے او ر اسلام کے مثالی معاشرے میں زندگی گزارنے کا انہیں موقع ملا، جب کہ ان کا یہ دعوی ہے کہ ہم نے حیرت انگیز ٹیکنالوجی اور اس کی ایجادات واکتشافات اور سائنس کے میدان میں مادی تہذیبوں کی رفتاروں کا مشاہدہ کیا ہے۔

دراصل بات یہ ہے کہ ان کے دلوں میں یہ احساس گھر کرچکا ہے کہ ”اسلام“ موجودہ کا روان ِ زندگی کا ساتھ نہیں دے سکتا اور نہ مہذب ومثقف انسانوں کی ضروریات زندگی کی تکمیل میں ہاتھ بٹا سکتا ہے، کیوں کہ اس کے اندر ”جدیدیت کی روح“ بالکل مفقود ہے اور اس کے پاس نت نئے مسائل کا حل موجود نہیں ہے، نئے نئے چیلنجوں سے پنجہ آزمائی اور حملوں کا منھ توڑ جواب دینے کی اس میں طاقت وقوت نہیں ہے، ایک طرف تو یہ بات ہے، دوسری طرف ان کے لیے شریعت اور اس کے حاملین پر یلغار کرنے او ران پر رجعت پسندی، تنگ زاویہ ٴ فکر اور محدودیت کا الزام تراشنے کی گنجائش بھی نکل آتی ہے۔ جس نے ان کو نت نئے سوالوں کا جواب دینے سے عاجز کر دیا ہے، جو ذہنی آزادی، اخلاقی بے راہ روی، مردوزن کو مساوات کا درجہ دینے او ران کو، طرزِ عمل او رکسبِ معاش میں ایک پوزیشن پر لاکھڑا کرنے کی وجہ سے پیدا ہو رہے ہیں۔

مسلمانوں کے یہ طبقے جو بظاہر اسلام کے نام لیوا نظر آتے ہیں، لیکن بباطن اسلام سے اس درجہ بدظنی رکھتے ہیں کہ اسے درویشوں اور فقیروں کادین گردانتے ہیں، آج ان کا حال یہ ہو گیا ہے کہ وہ احساس ِ کم تری کا شکار ہو رہے ہیں، خود کو توبے وقعت وبے حیثیت کر ہی رہے ہیں، ساتھ ہی ساتھ مثالی افراد کی تاریخ کو بھی داغ دار کرنے کی ناکام کوششیں کر رہے ہیں، جن کو اسلام نے گندے ماحول، وحشیانہ سلوک، غیر فطری طرزِ عمل، انتہائی درجے کی ذلت وپستی او ران جیسے دیگر بدترین احوال سے نکالا تھا، جہاں یہ اپنی زندگی کے شب وروز بسر کر رہے تھے۔

یہ جماعتیں اسلام کے ہمہ گیرا حسانات کو فراموش نہ کیے جانے کے باوجود فراموش کرنے کی سعی نامشکور کر رہی ہیں، کیا انہیں وہ دن یاد نہیں جب انسان ظالمانہ محکومی وغلامی کے بوجھ تلے دباجارہا تھا، روم وایران کی متمدن ریاستوں میں قسم قسم کی شقاوتیں اور تیرہ بختیاں ان کا نصیب بن گئی تھیں، یہودیت ونصرانیت کے علم برداروں اور دیگر حاملی مذاہب کے مابین معرکہ آرائیاں اور خانہ جنگیاں چھڑی ہوئی تھیں، جن میں ہزاروں بے گناہ لوگ جاں بحق ہوئے، ایسے نازک مرحلے میں اسلام نے جو مثالی اورتاریخی رول ادا کیا ہے او رجو درخشاں کا رنامے اور زریں خدمات انجام دیے ہیں، کیا انہیں فراموش کیا جاسکتا ہے؟

قرآن مجید نے اسی صورت حال اور آپس میں دست وگریبان جماعتوں اور قوموں کا نقشہ اپنے معجزانہ اسلوب میں یوں کھینچا ہے : ﴿وَاذْکُرُوا نِعْمَتَ اللَّہِ عَلَیْکُمْ إِذْ کُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَیْنَ قُلُوبِکُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِہِ إِخْوَانًا وَکُنتُمْ عَلَیٰ شَفَا حُفْرَةٍ مِّنَ النَّارِ فَأَنقَذَکُم مِّنْہَا﴾․ (آل عمران:103) (الله کا انعام اپنے اوپر یاد رکھو، جب تم باہم دشمن تھے تو اس نے تمہارے قلوب میں الفت ڈال دی، سو تم اس کے انعام سے آپس میں بھائی بھائی بن گئے او رتم دوزخ کے گڑھے کے کنارے پر تھے تو اس نے تمہیں بچالیا)۔

آج بکثرت یہ دیکھنے کو مل رہا ہے کہ الله تعالیٰ نے جنہیں دولت اسلام نے نوازا ہے اور اسلامی تعلیمات کے مطالعہ کی توفیق دی ہے ان لوگوں کے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہو رہا ہے کہ کیا اسلام، علم وٹیکنالوجی کے اس نئے دور میں بھی لائق تنفیذ اور قابل عمل ہے؟ چناں چہ وہ علمائے اسلام اور داعیان ِ عظام پر قدیم صالح او رجدید نافع کی روشنی میں کوتاہ فہمی ، زمانے کے بدلتے ہوئے حالات سے ناواقفیت وناتجربہ کاری او رتہذیبی وتمدنی معاشرہ کی تشکیل میں ناکامی کا الزام تراشتے پھرتے ہیں، چناں چہ انہوں نے اپنے مشاہدات او رمفروضہ خیالات کو ایمان وایقان کی دولت سے مالامال شخص پر لازم کرنے کا جواز نکال لیا ہے اور اس ”معتدل اسلام“ کو پیش کرنے میں کوتاہی نہیں برتی، جو حالات زمانہ او ربیمار ذہنیتوں کے تقاضوں کے عین مطابق او ران سے ہم آہنگ ہو۔ اور ان کی تمنا یہ ہے کہ ”امت ِ مسلمہ “ گردش دوراں اور مصائب زمانہ کے زد میں آجائے، وہ اس امت کے خاتمہ کے لیے غیر معمولی کوشش کرنے سے باز نہیں آرہے ہیں، جسے الله تعالیٰ نے ”خیرامت“ کے لقب سے سرفراز فرماکر پوری دنیا کی قیادت وامامت اور راہ نمائی وہدایت کے لیے اس صفحہٴ ہستی پر مبعوث فرمایا ہے اور جنگل کے خودروسبز گھاس کی طرح بے یارومدد گار نہیں چھوڑا۔

ان ہی فرسودہ افکار وخیالات او رکھوکھلے مظاہر کے نتیجہ میں مسلم معاشرے میں، ایسے کم زور عقائد رکھنے والی جماعتیں وجود میں آگئی ہیں جو شریعت ِ اسلام او راس کی ثقافت کو داغ دار کرنے میں کوشاں ہیں، یورپی قائدین نے اپنے تخریبی منصوبے کے استحکام کی خاطران کا استحصال کیا اور وہ مسلمان کی معنوی صلاحیت کو مسخ کرنے او رمذہب اسلام کی صاف وشفاف شکل وصورت کو بگاڑنے او راس کی روشن وتاب ناک شریعت کو بدصورت بنانے میں مصروف ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان تخریبی افکار وخیالات کا دائرہ ان منصوبوں کو عملی جامعہ پہنانے میں معاون ہوتا چلا جارہاہے۔

آج قرآن وحدیث میں تحریف وتبدیل کرنے کی جو بدترین کوشش کی جارہی ہیں او راس ناپاک مقصد کو پورا کرنے کے لیے جو ایک زبردست مالی بجٹ تیار کیا جارہا ہے، وہ اس میدان میں ہونے والی زبردست سرگرمیوں اور ان کے سنجیدہ اعمال کی سب سے بڑی دلیل ہے۔

مقام افسوس ہے، بلکہ زیادہ صحیح تر لفظوں میں یہ کہنے کو جی چاہتا ہے کہ جگر کو چاک کر دینے والی بات ہے کہ مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اپنے دشمن وحریف”اہل مغرب“ کی کوششوں اور سرگرمیوں کو تیز کرنے، ان کی نکمی ومعمولی پونجی کو بڑھاوا دینے میں ان کی شریک وسہیم ہے، جب کہ اس کا دیوالیہ نکل چکا ہے اور اس کا کھوٹ دو دو چار کی طرح ہر صاحب بصیرت کے نزدیک عیاں او ربے نقاب ہو گیا ہے۔

﴿یُرِیدُونَ لِیُطْفِئُوا نُورَ اللَّہِ بِأَفْوَاہِہِمْ وَاللَّہُ مُتِمُّ نُورِہِ وَلَوْ کَرِہَ الْکَافِرُونَ ﴾․ (صف:8) (وہ الله کے نور کو اپنے منھ کی پھونکوں سے گل کرنا چاہتے ہیں، جب کہ الله تعالیٰ اپنا نور پورا کرکے رہے گا، اگرچہ منکرین ناپسند کریں)۔

مغربی سام راج، جو مسلم ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کر رہا تھا، اس کی یہی تمنا رہتی ہے کہ مسلمان ہمیشہ غلامی ومحکومی کی زندگی گزارتا رہے، تاکہ وہ علم وثقافت کے اعلیٰ ترین مقام پر فائز ہونے کے بارے میں کچھ سوچ بھی نہ سکے او راس کا احساس دروں او ران کی باطنی کیفیات بڑے بڑے اہم امور کے سلسلے میں بالکل ہی ختم ہو جائیں، اس مقصد کو پایہٴ تکمیل تک پہنچانے کے لیے انہوں نے ایک مخصوص نصاب تعلیم وضع کیا ہے ،جس کا زندگی کے تمام میدانوں میں، حتی کہ معاشی مسائل میں بھی فائدہ نظر نہیں آرہا ہے، اُمت مسلمہ کو نقصان پہنچانے اور اس کو احساس کم تری کے آخری درجہ میں لانے کی جو جان توڑ او رانتھک کوششیں مغربی سام راج او ران کے ہم نواؤں نے کی ہیں، وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، لیکن اسے شومیٴ قسمت نہ کہا جائے تو اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ سام راجیت کے خاتمے اور ملکوں کی آزادی کے باوجود وہ قومیں جو مدتوں مغربی سام راج کے زیر سایہ زندگی گزارتی رہیں، وہ اس دور کے انسانی معاشرے کے ناپسندیدہ متروکہ اشیاء سے بھی بے تعلق نہ ہو سکیں اور کماحقہ ان کو مبغوض ومکروہ بھی نہ تصور کر سکیں۔

اگر عالم ِ اسلام اپنے فطری علوم ومعارف اور قدرتی وسائل سے مالا مال نہ ہوتا تو سام راجی افراد کی مصنوعی ایجاد کردہ قحط سالیوں سے دو چار ہو جاتا، لیکن انہوں نے اس کے بجائے مسلمانوں کو ان کے ایمان وعقائد سے برطرف کرنے کی ہر ممکنہ کو ششیں کیں، کبھی شریعت میں تحریف وتبدیل اور خرد برد کرکے ، تو کبھی معاشرتی نظام میں لاقانونیت وبدنظمی پھیلا کر، کبھی معاشی وتجارتی معاملات میں سود کے استعمال کوناگزیر ضرورت قرار دے کر اورکبھی شخصی منافع اور دنیاوی مصالح کی بنیاد پر تمام تر تعلقات قائم کرکے ، کبھی مسلم عورتوں کو گھروں سے نکال کر شاہراہوں پر لاکھڑا کرکے، تو کبھی سیاسی واقتصادی امور میں ان کو حصہ دلا کرکے، حتی کہ الیکشنوں اور رفاہ ِ عامہ کے کاموں اور سرکاری دفاتر میں ملازمت دے کر، کوئی کہاں تک گنائے، خلاصہ یہ کہ عورتوں کو مردوں کے ساتھ تمام شعبہائے زندگی میں سہیم وشریک کرکے مسلم قوموں کے عقائد وایمان او ران کی غیرت کو ختم کرنے کی انہوں نے سعی پیہم اور جہد مسلسل کی ہے۔

اس طرز کہن کے ذریعہ مادی طاقتوں سے لیس مغربی کیمپ مسلم ممالک کو شکار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اوراب وہ ایسے اسلام نما معاشرہ کی تشکیل کے درپے ہیں جو صرف چندظاہری شکل وصورت ہی میں اسلام کی نمائندگی کرے اور عقائد او رایمانی اصولوں کا اسلامی تعلیمات کی ہمہ گیری اورعقائد کی برتری سے اس کا کوئی تعلق نہ ہو۔

اس طرح مغربی کیمپ اقوام تاریخ اسلام کیشبیہ بگاڑ نے میں کام یابی وشاد کامی کی راہ پر گام زن ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ مذہب اسلام کی تہذیب وثقافت او راس کی کتاب وشریعت کو ختم کرنے میں ناکام رہی رہیں اور رہیں گی، کیوں کہ اس دین کی بقا وتحفظ اور دیگر ادیان پر اس کے تفوق وبرتری اور غلبہ وتسلط کی ذمہ داری خود خالق ِ کائنات نے لے لی ہے، جیساکہ ارشاد ربانی ہے:﴿ہُوَ الَّذِی أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَیٰ وَدِینِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّینِ کُلِّہِ وَکَفَیٰ بِاللَّہِ شَہِیدًا﴾․ (فتح:28) (وہی وہ ذات ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھمبعوث فرمایا، تاکہ اسے ہر دین پر غالب کرے اور الله تعالیٰ بطور گواہ کے کافی ہے)۔