بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

اسلام کی عالم گیر دعوت

اسلام کی عالم گیر دعوت

ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر

یہ دنیا دارالعمل ہے۔ اس میں انسان کو اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اپنے رب اور خالق کی عبادت کرے اور اس کی مرضی اور احکام کے مطابق دینی زندگی گزارے۔ چناں چہ الله تعالیٰ نے بندوں کوعبادت کا طریقہ سکھانے او راپنی مرضیات اور نامرضیات کا علم ،ان کو فلاح وبہبود کا راستہ بتلانے کے لیے انبیائے کرام علیہم السلام کا سلسلہ جاری فرمایا او ران پر کتابیں اور صحیفے نازل فرمائے اور ان کو حکم دیا کہ وہ الله کے بندوں کو اس ہدایت کی طرف دعوت دیں۔ انبیائے کرام علیہم السلام نے اپنے اپنے زمانے میں اپنی امت کو دعوت دی اور اپنے قول اور عمل سے ان کو اپنے رب کی عبادت کرنے کا طریقہ سکھایا، انہیں کام یابی کے اصول بتلائے، خود بندوں کے ایک دوسرے پر جو حقوق ہیں، ان کی تعلیم دی اور ان کے آپس کے جھگڑوں میں فیصلہ فرمایا۔

ارشاد باری ہے:
ترجمہ:” جب لوگ ابتداً ایک ہی دین پر تھے ( پھر ان میں باہم اختلاف پیدا ہوا) تو الله تعالیٰ نے نبیوں کو بھیجا، خوش خبری سنانے والے اور ڈرانے والے اور ان کے ساتھ سچی کتاب بھی نازل فرمائی، تاکہ لوگوں کے مابین ان باتوں میں فیصلہ کریں جن میں وہ اختلاف کریں۔“ (سورہٴ بقرہ)

اور چوں کہ ہر پیغمبر کی بعثت کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ الله کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے، اس لیے ہرپیغمبر نے اپنی دعوت میں اپنی امت کو یہ جملہ فرمایا:
﴿فَاتَّقُوا اللَّہَ وَأَطِیعُونِ﴾
ترجمہ:” پس تم الله سے ڈرو او رمیری اطاعت اختیار کرو۔“

ہر پیغمبر نے اپنی امت کو توحید کی دعوت دی اور ان کا تعلق اپنے خالق حقیقی سے جوڑا، انہیں نیک اعمال اور نیک اخلاق کی تعلیم دی اورمعاشرے کی اصلاح کی طرف پوری پوری توجہ دی، ان میں نیکیوں کو پھیلایا اور ان کے اچھے نتائج کی خوش خبری دی اور انہیں بُرے اعمال سے روکا اور ان کے برے نتائج سے انہیں آگاہ کیا۔

قرآن کریم اور احادیث نبویہ سے یہ بات بھی ثابت ہے کہ سابق انبیائے کرام علیہم السلام کی دعوت اپنی اپنی قوم، قبیلے اور شہر تک محدود تھی، چناں چہ حضرت ہود علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:﴿وإلی عاد أخاھم ھودا﴾․ (الأعراف:25)
ترجمہ:” اور ہم نے قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا۔“

حضرت صالح علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: ﴿وَإِلَیٰ ثَمُودَ أَخَاہُمْ صَالِحًا﴾․ (الاعراف:73)
ترجمہ:” اور ہم نے قوم ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا۔“

حضرت شعیب علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:
﴿وإلی مدین اخاھم شعیبا﴾
ترجمہ:”اور ہم نے اہل مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا۔“

اسی طرح حضرت موسی اور حضرت عیسی علیہما السلام کو بنی اسرائیل کی طرف مبعوث کیا گیا اور انہوں نے اپنی قوم کو آسمانی ہدایت کی طرف دعوت دی۔ ان تمام انبیائے کرام علیہم السلام کے آخر میں الله تعالیٰ نے حضرت محمد مصطفی صلی الله علیہ وسلم کو ایک عالم گیر دعوت دے کر بھیجا۔ جو کسی خاص قوم یا ملک کے لیے نہ تھی، بلکہ اقوام عالم اور قیامت تک آنے والے انسانوں کے لیے تھی، اس عالم گیر دعوت کو قرآن کریم نے مختلف انداز میں پیش فرمایا۔

نبی کریم  صلی الله علیہ وسلم کی رسالت کی عمومیت کو اس طرح بیان فرمایا:
ترجمہ:” آپ کہہ دیجیے اے لوگو! میں رسول ہوں الله کا، تم سب کی طرف، جس کی حکومت ہے آسمانوں اور زمین میں، کوئی بھی عبادت کے لائق نہیں اس کے سوا،وہی زندہ کرتا ہے، وہی مارتا ہے ، سو ایمان لاؤ الله پر اور اس کے بھیجے ہوئے نبی امی پر، جو کہ یقین رکھتا ہے الله پر اور اس کے سب کلاموں پر اور اس کی پیروی کرو، تاکہ تم راہ پاؤ۔“ (سورہ اعراف:158)

سورہ بقرہ میں تمام انسانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
ترجمہ: اے لوگو! بندگی کرو اپنے رب کی، جس نے تم کو پیدا کیا اور ان کو جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم پرہیز گار بن جاؤ۔“ (سورہ بقرہ:21)

اسی طرح قرآن کریم نے اہل کتاب ( یہود ونصاریٰ کو اس عالم گیر دعوت کی طرف بلاتے ہوئے فرمایا:
ترجمہ:”اے اہل کتاب! ایمان لاؤ اس کتاب پر جو ہم نے نازل کی ( یعنی قرآن کریم) تصدیق کرتی ہے اس کتاب کی جو تمہارے پاس ہے۔“ (النساء:47)

اسی طرح قرآن کریم میں بیسیوں آیات ایسی ہیں جن میں اسلام کی عالم گیر دعوت کو بیان کیا گیا ہے اور یہ بھی اعلان کیا گیا ہے کہ اب قیامت تک کے لیے تمام انسانوں کے لیے یہی راہ نجات ہے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ:”اور جو کوئی اسلام کے سوا کسی اور دین کو چاہے گا سو وہ اس سے ہر گز قبول نہ ہو گا اور وہ آخرت میں خسارہ پانے والوں میں ہو گا۔“ (آل عمران:85)

چوں کہ اسلام عالم گیر دعوت ہے، اس لیے نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے اسے عربوں تک محدود نہیں رکھا، بلکہ اپنے زمانے کے ملوک عالم کو اس کی دعوت دی اور فارس، روم، مصر وغیرہ کے بادشاہوں کے پاس اپنے نمائندے بھیجے اور ان کو اسلام کی طرف دعوت دی۔ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم چوں کہ خاتم الانبیاء صلی الله علیہ وسلم ہیں، آپ کے بعد کوئی نبی آنے والا نہ تھا، اس لیے اس عالم گیر دعوت کا فریضہ آپ صلی الله علیہ وسلم کی امت پر ڈالا گیا۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :
ترجمہ:” تم سب امتوں سے بہتر ہو جو بھیجی گئی لوگوں(کی ہدایت) کے لیے، حکم کرتے ہو اچھے کاموں کا اور منع کرتے ہوں بُرے کاموں سے اور ایمان لاتے ہو الله پر۔“ (آل عمران:110)

لہٰذا یہ امت کسی خاص قوم ونسب یا مخصوص ملک واقلیم میں محصور نہیں، بلکہ اس کا دائرہ دعوت وعمل کل عالم اور انسانی زندگی کے تمام شعبوں کو محیط ہے۔ گویا اس کا وجود ہی اس لیے ہے کہ دوسروں کی خیر خواہی کرے اورجہاں تک ممکن ہو انہیں جنت کے دروازوں پر لاکھڑا کرے۔

آج قرآن کریم کی یہ آیات امت محمدیہ سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ وہ اپنے اس فریضہ کو بجالائیں اور دین اسلام پر خود عمل کریں اور اس کی دعوت کو اقوام عالم تک پہنچائیں اور انہیں کفر وضلالت کے اندھیروں سے نکال کر اسلام کی روشنی اور اجالے میں لائیں، وگرنہ قیامت کے دن پوری امت کو اس کوتاہی کا جواب دینا ہو گا۔ الله ہمیں اور پوری امت کو دعوت کے فرض کو بجالانے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)